Kitab Nagri Urdu Novels
February 6, 2025 at 10:14 AM
قلبِ جنون 🥀💕
قسط نمبر 3
ازقلم آفرین شبیر۔۔۔۔۔۔
Hello ladies and gentalments this is caption speaking ....
آج کی فلائٹ میں آپ سب کا ویلکم ہے ہمارا کریو آپ سب کا بہت خیال رکھے گا لیکن آپ سب سے ایک ریکویسٹ ہے اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیں تاکہ اڑان کہ دوران کوئی مسلہ نہ ہو۔۔۔۔
ہوائی جہاز میں کیپٹن کی آواز پہ ارحا نے جلدی سے سیٹ بیلٹ باندھی تھی۔۔۔۔وہ دو بار فیملی کہ ساتھ جہاز کا سفر کر چکی تھی لیکن اکیلے میں پہلی بار تھا۔۔۔۔۔آنکھیں بند کرتے اسنے خود کو یقین دلایا کہ وہ کرسکتی ہے ابھی تک تو سب اچھا اچھا تھا۔۔۔۔۔وہ بس اسلام آباد جائے گی ایک دن رک کہ اگلے دن واپس آجائے گی۔۔۔۔اسنے اپنا پلین بنا لیا ہوا تھا۔۔۔
ساری سیٹ مکمل بھر گئی تو جہاز کا دروازہ بند ہوگیا۔۔۔۔ ارحا کا دل ایک پل کو رک کہ چلا تھا۔۔۔
ائرہوسٹیس ادھر ادھر پیسینجر کو چیک کرنے لگی تھی۔۔۔اپنے ساتھ بیٹھے ایک بوڑھے انکل کو دیکھ اسنے مسکرانے پہ اکتفا کیا۔۔۔۔۔وہ شخص بھی اسے دیکھ مسکرایا۔۔۔۔۔
وہ کسی بچے کی طرح خوش ہورہی تھی اسے کسی سے بات نہیں کرنی پڑی کسی نے اسے ٹوکا نہیں ۔۔۔۔ اگلے 5 منٹ بعد جہاز اڑان بھڑنے کہ لیے چلنا شروع ہوا اپنے کھڑکی سے باہر دیکھا تو وہ چل رہا تھا ۔۔۔ ارحا نے ہاتھوں کو مضبوطی سے بند کیا آہستہ آہستہ وہ تیز ہونے لگا ارحا کہ ماتھے پہ پسینہ آنا شروع ہوا اچانک اسکی خوشی خوف میں بدلنے لگی تھی۔۔۔۔۔جہاز میں ایک دم تیز آواز آنے لگی اور ساتھ ہی ارحا کی چینخیں بھی عروج پہ پہنچ گئی وہ ساری ایئر ہوسٹیس گھبراتی اسکی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
میم میم آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔" ایک لڑکی نے آگے بھڑ کہ اسکا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔۔ وہ حواس باختہ تھی۔۔۔۔
ننننہہہں۔۔۔" اسنے اتنا بولتے اپنی سیٹ بیلٹ کھولی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔وہ جو سوچ رہی تھی پورا سفر کرئے گی شروع میں ہی وہ گھبرا گئی تھی۔۔۔۔۔وہ اٹھ کہ دروازے کی طرف جاتی ایک ہوسٹیس نے اسکا بازو تھاما ۔۔
میم کہاں جا رہی ہوں آپ۔۔۔۔۔" انھیں سمجھ نہ آیا کہ ہوا کیا اسے۔۔۔۔
اتاروووووو۔۔۔۔۔ مجھےےےےے مجھے نہیں اڑنااااااا۔۔۔
وہ بےتہاشا روتی چلی جارہی تھی رونے سے اسکی آواز میں اور لڑکہراہٹ پیدا ہوئی۔۔۔۔کہ سامنے والوں کو اسکی آدھی اٹکی باتیں تک سمجھ آئی تھی. ۔۔۔سب لوگ پریشانی سے اسے دیکھ رہے تھے.
ان ہی میں ائرہوسٹس کہ ہیڈ تک موجود تھے۔۔۔۔ جو اسکا شور سن آگئے تھے۔۔۔سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔
آپ ان کہ ساتھ ہیں۔۔۔۔" ہیڈ ہوسٹس نے اس بوڑھے انکل سے پوچھا تو اسنے نہ میں سر ہلا دیا۔۔۔۔
دیکھیں میم ایسے آپ نہیں اتر سکتی ہیں۔۔۔۔جہاز اڑ چکا ہے۔۔۔۔
ارحا نے تو اسکی سنی ہی نہیں جہاز نے اپنے پنکھ سے تھوڑا ترچھا ہو کہ رفتار پکڑی وہی ارحا کی دوبارہ چینخ گونجی سب نے اپنے کانوں میں انگلی ڈالی تھی۔۔۔۔
مجھے اتارووووووو۔۔۔۔۔مجاے۔۔" وہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی کہ بات بھی مکمل نہ ہو سکی۔۔۔۔۔
بیٹا چپ کر جاو۔۔۔۔۔" اس بزرگ نے ارحا کو دیکھ کہا اسے اس معصوم بچی پہ رحم آیا۔۔۔۔
اااااننننکل مجھے نننننہین جانا۔۔۔۔ میرے ڈیڈدددد۔۔۔ کوو. فونننن کر۔۔۔ دین۔,۔۔" وہ بزرگ سے مخاطب تھی. سب. ایک دوسرے کو دیکھنے لگی تھے۔۔۔۔۔۔
میم ہم اڑان بھر چکے ہیں آپ کیسے جائیں واپس ۔۔۔۔ ہیڈ ہوسٹیس نے اسکی عقل پہ ماتم کیا تھا۔۔۔۔
مجھے نہیننننن پتتاااااا مجھےےےےے واپسسس چھوڑوووو۔" وہ ضدر انداز میں بولتی دروازے کی طرف جاتی جب اس لڑکی نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔۔۔۔
چھوڑووو مجھےےےےے ڈیییڈووووو ممماااااا۔۔۔۔" وہ اس لڑکی کی بازوں میں بےقابو ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
جب وہ کسی سے سمبھلی نہیں تو ایک ائیر ہوسٹس نے پائلٹ سے کونٹکٹ کرنا چاہا۔۔۔۔وہ بھاگی بھاگی کنٹرول روم کی طرف گئی وہ مضبوط دروازہ کھولا تو سامنے دو پائلٹ بیٹھے جہاز کو مینج کررہے تھے۔۔۔۔جس میں ایک کیپٹن تھا دوسرا پائلٹ ۔۔۔۔۔
سر پیچھے ایک لڑکی کافی شور مچارہی ہے آپ دیکھ لیں ہم سے تو نہیں سمبھل رہی۔۔۔۔۔" ہوسٹیس کافی پریشان تھی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
Any problem caption sultan...."
دور بیٹھے ہیڈ آفس میں بھی ہوسٹیس کی بات چلی گئی تھی تو وہ کیپٹین سے مخاطب ہوئے۔۔۔۔۔
I don't know, sir. I will see and then I will tell you. What is the problem?
وہ کہتا اپنا نیلا کوٹ وہی لٹکا کہ وائٹ شرٹ کہ بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کرتا ہوسٹیسٹ کہ پیچھے چلا۔۔۔۔۔ساتھ وہ اس پائلٹ کہ کندھے پہ ہاتھ رکھنا نہ بھولا۔۔۔۔۔
پیچھے والی سائڈ پہ آیا۔۔۔۔تو ایک تماشا تھا جو لگ چکا تھا لوگ اپنی اپنی سیٹیس سے اٹھ کر اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے جو مسلسل رونے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
کیا ہورہا ہے" وہ ان کہ قریب آتا بولا تو ہیڈ نے ارحا کی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔سلطان نے اس مکمل دیکھا تھا۔۔۔
مججججھےےےے جااااننننا ہے واپس۔۔۔۔۔" ارحا نے اٹکتے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔۔
کیسے میم اب تو جہاز اڑ چکا ہے اب تو آپ اپنی منزل تک ہی پہنچیں گی۔۔۔۔۔" سلطان نے ادب سے اسے مخاطب کیا۔۔۔۔۔
مجھےے ڈرررر لگ رہا ہے دروازہ کھولیں مجھے واپس جااااننننااا ہےےےےے آپ مجھے یہیییی اتار دیں۔۔۔۔ پھر خود آگے چلیں جائیں۔۔۔۔" وہ ایسے بول رہی تھی جیسے وہ جہاز میں نہیں بس میں بیٹھی ہے۔۔۔۔۔سلطان کہ ساتھ باقی سب نے بھی حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔جس کا شاید دماغ گھوم۔چکا تھا۔۔۔۔
یہ جہاز ہے کوئی گاڑی نہیں جو جیسے مرضی گھوما لی۔۔۔۔اور اگر میں نے یہاں آپ کو اتارا تو آپ گھر جانے کی بجائے سیدھا جنت یا دوذزخ کا رخ کریں گی۔۔۔۔ " اسنے تنظہ کہا ارحا نے معصوم سی پریشان صورت بنا کہ اسے دیکھا۔۔۔۔۔پھر کھڑکی سے باہر دیکھا ۔۔۔
مجھے ڈرررر لگگگ رہااااا ہےےےے اتار دیںںننن مجھےے ایسےےےے ہی جہازززززز نیچھیے لےےے جائییںنن میںنن جلدی سے اتر جاوںنن گی۔۔۔۔۔" سلطان کہ ساتھ باقی سب نے بھی اسکی عقل پہ ماتم کیا ۔۔۔۔۔
ادھر آئیں۔۔۔۔" سلطان نے اسکا بازو تھاما اور اپنے ساتھ گیٹ تک لے گیا ہیڈ ہوسٹیسٹ بھی اس کہ پیچھے گیا۔۔۔۔اور باقی ہوسٹیسٹ پیسینجرز کو دیکھنے لگ گئی۔۔۔۔
وہ۔اسے لیتا مین دوڑ تک لایا اور بنا کسی کی اجازت کہ ڈور اوپن کردیا۔۔۔ پیچھے کھڑے ہیڈ ہوسٹیسٹ نے اس بگڑے کیپٹن کو دیکھ ماتھا پیٹ لیا ۔۔جو کبھی بھی کچھ بھی کر جانے کا حوصلہ رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک تیز ہوااا کا جھونکا آیا جیسے وہ کسی ہوا کہ ڈھیر میں گر گئے ہوں۔۔۔۔۔۔ ایک اندھیرا دوسرا اتنی تیز ہوا ۔۔۔۔ارحا کہ خوف میں اضافہ ہوا۔۔۔۔۔ اس نے مڑتے خود کو سلطان کہ سینے میں چھپایا۔۔۔۔۔۔
بندددددد کککککرییکں۔۔۔۔۔ ڈددددر لگ رہاااااا۔۔۔" وہ جو اسے ڈرانے ہی لایا تھا تاکہ وہ بات سنیں انکی۔۔۔۔اسکی نرم سی گرفت کو اپنے گرد محسوس کر اسکا کپکپانا دیکھ ڈھیلا پڑا ۔۔۔۔پیچھے کھڑے ہیڈ نے شرارتن آنکھوں پہ ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔۔وہ جو سمجھ رہی تھی ابھی تو جہاز اٹھا اسے کیا خبر تھی کہ وہ 36000 فٹ اونچائی پہ آچکے ہی۔۔۔۔۔
اب جائیں نہ آپ دیکھیں دروازہ بھی کھول دیا ہے۔۔۔۔" تھورا سے دروازہ بند کرتے اسنے اسے چھیڑا تھا۔۔۔۔۔ارحا نے چہرہ گھوما کہ اس طرف دیکھا پھر سختی سے آنکھیں بند کرتے اسنے سینے میں دوبارہ چہرہ چھپایا۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ سلطان کہ چہرے پہ آئی جیسے کسی بچے کو ڈرا کہ آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے ہیڈ سے کہتے دروازے کو مکمل بند کروایا۔۔۔۔۔۔۔خود اسکے گرد حصار بناتا اسے لیے پیچھے ہوا۔۔۔۔۔۔وہ اب بڑی طرح کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔ ایسے جیسے اسکے ہاتھ واہبریشن موڈ پہ ہوں۔۔۔۔۔سلطان نے اسکی کمر کو سہلاتے اسے مضبوطی سے خود سے لگایا۔۔۔۔۔
پھر ہیڈ کی طرف دیکھا جو خونخوار نظروان سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اسنے دانتوں کی نمائش کی جیسے کہ رہا ہو میں نے تھوڑا سا ایڈوینچر ہی کروایا تھا نہ۔۔۔۔۔۔ہیڈ ہوسٹیسڑ نے نہ میں سر ہالایا۔۔
ٹھیک ہیں آپ۔۔۔۔۔" سلطان نے چہرہ جھکا کہ اسے دیکھا جو اسے اپنا ٹیڈی بیئر سمجھے چپک ہی گئی تھی۔۔۔۔۔ارحا نے نہ میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
ڈییییڈوووو کووو بلائییں۔۔۔۔" اسنے نئی فرمائش کی۔۔۔۔۔
اگر آپ کہ ڈیڈو آسمانوں میں رہتے ہیں تو میں بلا سکتا ہوں کیونکہ زمین والوں کو یہاں آنے کہ لیے ٹکٹ لینی پڑے گی۔۔۔۔"
ارحا نے اسے دیکھ چہرہ اونچا کیے سلطان نے چہرہ جھکا کہ۔۔۔۔۔ دونوں کہ چہرے قریب آگئے تھے ارحا ایک دم کرنٹ کھا کہ پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اب آپ۔اپنی سیٹ پہ بیٹھے بس کچھ منٹ کا سفر ہے اسکے بعد آپ اپنے مقام پہ ہوں گی۔۔۔۔۔۔" سلطان کی ہدیت پہ اسنے سر نہ میں ہلایا۔۔۔۔۔۔
میںنننن نہیں ننن بیٹھووووںن گئییی وہاں۔۔۔۔۔" اسنے ہاتھوں کو ملاتے رک رک کہ بولا۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔ " جواب ہیڈ ہوسٹر کی طرف سے آیا۔۔۔۔۔
وووہہہہہ مزاااققققق بناااائیییںنننن گےے سببببب۔۔۔۔۔" اسنے دھیمے لہجے میں وجہ بتائی۔۔۔۔۔سلطان اور کامران ہیڈ ہسٹیسٹ نہ ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔وہ سمجھ گئے وہ ایک احساس کمتری کی شکار لڑکی ہے جو اکیلے نکل آئی ہے گھر سے۔۔۔۔۔۔
کیا آپ کا یہ پہلا سفر ہے جہاز کا۔۔۔۔" سلطان کہ استفسار پہ اسنے نہ میں سرر ہلایااااا پھر اپنی انگلیوں سے 3 کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔
پھر ایسا بیہویو کیوں کررہی ہیں جیسے پہلا ہو۔۔۔۔" سلطان نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔۔۔
وہہہہ میرراا........ "
پلیز جلدی بولیں ہمیں اور بھی کام ہیں۔۔۔۔" اسکی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب کامران نے ٹوکا ۔۔۔۔۔وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔دونوں نے اسکی خاموشی نوٹ کی۔۔۔۔۔
بولیں۔۔۔۔" سلطان نے اسکی خاموشی دیکھ بولنے کا کہا تو اسنے نہ میں سر ہلایا دیا آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئی۔۔۔۔وہ۔ایک بار پھر اس احساس سے دو چار ہوئی۔۔۔۔۔
کیا آپ ہکلی ہیں۔۔۔۔۔" کامران کی بات پہ سلطان نے اسے آنکھیں دیکھائی تو اسنے اپنی الفاظ درست کرنے چاہیے لیکن ارحا پہلے ہی سر ہاں میں ہلا چکی تھی۔۔۔۔۔۔
او سوری ۔۔۔۔" کامرا معزرت کرتے سلطان کو اشارہ کرتے وہاں سے نکل چکا تھا۔۔۔۔۔
مممیںننن۔۔۔۔۔۔۔یہہہہہااااں ہہہیییی بیئیٹھھ جاوںننن۔۔۔" اسنے زمین کی طرف اشارہ کیا یہاں اسے ایسا لگ رہا تھا وہ گھر میں ہے۔۔۔۔۔سلطان نے زرا تحمل سے اسکی بات سنی تھی۔۔۔۔
نہیں مس آپ یہاں نہیں بیٹھ سکتی اصولوں کہ خیلاف ہے۔۔۔۔ آپ کو اپنی جگہ پہ ہی بیٹھنا ہوگا۔۔۔۔۔ " سلطان کی بات پہ اسنے ناک منہ چڑھایا۔۔۔۔۔
میرے پاس ایک آیڈیا ہے۔۔۔۔رکیں۔۔۔۔" سلطان وہاں سے غائب ہوا پھر اگلے ہی لمحے وہ ہاتھ میں ہیڈفون لیے آیا۔۔۔۔۔۔
آئیں میرے ساتھ۔۔۔۔" سلطان نے اسے چلنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہیں چلی۔۔۔۔۔۔سلطان نے رک کہ اسے دیکھا جو کسی کشمکش میں مبتلہ تھی۔۔۔۔۔۔
چلیں ۔۔۔کوئی کچھ نہیں کہتا میں ہوں جواب دینے کہ لیے۔۔۔۔" ارحا نے اسکی بات سلطان کو دیکھا اسے وہ الفاظ بلکل اپنے ڈیڈو جیسے لگے جب وہ ہمیشہ اسکی ڈھال بن جایا کرتے تھے۔۔۔
سلطان آگے بڑھ گیا۔۔۔۔وہ بھی گئی لوگ انھیں ہی دیکھ رہے تھے اسے لگا تھا سب ہنسیں گے لیکن کسی نے کوئی جملہ تک نہ بولا۔۔۔۔۔اسنے اپنے سامنے چلتے ہوئے 5 فٹ 11 انج کہ۔اس شخص کو دیکھا وہ اسکہ سینے تک آرہی تھی سفید شرٹ اور نیلی ڈریش پینٹ میں کندھوں پہ بیج لگائے وہ کافی پرکشش شخصیت کا مالک تھا لیکن اسے وہ سنو وائٹ کا پرنس لگا۔۔۔۔۔صرف اسکے سفید اور نیلے ڈریس کی وجہ سے اسے ہر سفید اور نیلا کا کنٹراس اسے سنو وائٹ کی یاد دلاتا تھا۔۔۔۔۔ جو اسے بہت پسند تھی۔۔۔۔
ارحا کو اسکی جگہ پہ بیٹھا کہ سلطان نے اسکہ کانوں میں ہیڈ فون لگائے اور میوزک پلیر اون کردیا۔۔۔۔۔
اب تم نے کسی کو نہیں دیکھنا صرف آنکھیں بند رکھنی ہیں اور اسکا والیم بڑھا لو۔۔۔۔۔ٹھیک ہے" اسنے کانوں پہ ہاتھ رکھ کہ وہ اسے ہدایت دے دہا تھا ارحا نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
وہ میوزک۔چلا کہ چلا گیا اور ارحا آنکھیں بند کیے بیٹھی رہی۔۔۔۔۔۔
وہ واپس جاتے اپنا کونٹلولر سمبھال چکا تھا۔۔۔
Caption sultan speaking sir.....
کیا ایشو ہوا تھا سلطان۔۔۔۔" ہیڈکوئٹر سے آواز آئی۔۔۔۔
یہ سمجھ لیں کوئی بچی بھولے بھٹکے گھر سے دور آگئی تھی۔۔۔۔۔" سلطان نے اسکا چہرہ یاد کرتے تسلی دی سامنے والے کو۔۔۔۔
افف یہ مشرقی لڑکیاں۔۔۔بڑی ہی نہیں ہوتی کبھی بچی ہی بنی رہتی ہیں۔۔۔ ۔۔۔۔" ہیڈکوائٹ آفیسر نے افسوس سے کہا۔۔۔۔۔
یہی تو انکی خوببصورتی ہوتی ہے سر کہ وہ معصوم ہوتی ہیں۔۔۔۔" سلطان کو اچھا نہ لگا تھا اسطرح کا کومنٹ وہ اسکی۔موم کا پاکستان تھا۔۔۔کیسے کچھ بڑا سن لیتا۔۔۔۔۔۔اب وہ سکون سے جہاز اڑا رہا تھا۔۔۔۔
28 سالہ کیپٹن سلطان آسمانوں کا دیوانہ اسکا بس چلتا تو وہ کبھی زمیں پہ پاوان ہی نہ رکھتا ۔۔۔۔ 190 جہاز کو کامیاب لینڈ کروا چکا تھا وہ یوکے سے تھا لیکن اپنی اڑان اس نے ہر جگہ سے بھری تھی اسے نئیے نئے ملکوں کا جہاز اڑانے کا بہت شوق تھا۔۔۔۔۔ وہ گھر میں کم اور آسمان پہ زیادہ پایا جاتا تھا۔۔۔۔اسکے والد محترم کا کہنا تھا وہ ایک ہوائی مخلوق ہے۔۔۔۔۔جب کہ ماں تو اسکے صدقے واری تھی۔۔۔۔کہ۔اسکا گبروجوان اسکا بیٹا ایک قابل پائلٹ تھا۔۔۔۔
اگر وہ آسمانی باز تھا تو اسکہ مقابلے ارحا زمینی ہرن تھی۔۔۔۔اسے آسمان سے خوف آتا تھا لیکن بادلون سے محبت تھی۔۔۔۔
اس وقعہ کہ بعد شاید ہی اب وہ کبھی پلین کا سفر کرنے والی تھی۔۔۔۔۔اور اسکا آسمانی ساتھی اس سے دوبارہ کب ملنے والا تھا یہ تو قسمت پہ تھا ۔۔۔۔۔
5بجے کہ قریب وہ اسلام آباد پہنچے تھے۔۔۔۔۔ ہیڈفون کا ایک فائدہ ہوا کہ وہ کب سوئی اسے پتا بھی نہ چلا اور وہ سکون سے اسلام آباد لینڈ کر گئے تھے۔۔۔۔۔
سب پیسینجر اترنے لگے ساتھ بیٹھے بوڑھے آدمی نے اسے بھی جگا دینا ضروری سمجھا تھا۔۔ ارحا ہڑبرا کہ اٹھی تھی۔۔۔
بیٹا پلین لینڈ ہوگیا یے۔۔۔۔" وہ اپنی جگہ چھوڑ رہا تھا ارحا نے ادھر ادھر دیکھا آدھا جہاز خالی ہوچکا تھا وہ بھی جلدی سے اٹھ کہ اپنا سامان اٹھایا صرف ایک ہینڈ کیری وہ اپنے ساتھ لائی تھی اسکا ارادہ صرف ایک دن رہنے کا تھا۔۔۔وہ جیسے جیسے باہر کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔ ساری ائرہوسٹیس اسے گھور رہی تھی جس کی وجہ سے ان کو اتنی مشکل ہوئی ارحا نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجا کہ دورتی باہر نکلی تھی۔۔۔۔۔
کھلی فضا کو دیکھ اس نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔سورج نکلنا شروع ہوا تھا باہر اب بھی اندھیرہ تھا اس نے سورج نکلنے کا ویٹ کرنا چاہا اب اندھیرے میں وہ کہاں جاتی اس لیے ائرپورٹ کی ریسورینٹ سائڈ چلی گئ۔۔۔۔
( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤
صبح ناشتے کہ لیے ارحا کو اٹھانے جب عزہ روم میں گئی تو خالی روم دیکھ وہ پریشان ہوئی سارا گھر دیکھ لینے کہ بعد اس نے شور مچا دیا ۔۔۔۔ کہ ارحا گھر پہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ حارث بسمہ اور منہا کو چھوڑ سب لاونچ میں جمع ہوگئے تھے۔۔۔
کہاں گئی ہے عرو کسی کو تو بتا کہ گئی ہو گی۔۔۔۔" حنان نے سب کو دیکھا وہ سب خود پریشان تھے سب نے ہی کندھے اچکا دیے۔۔۔۔
بھائی میں چوکیداروں سے ہوچھ کہ آتا ہوں۔۔۔" بسام کہتا فورا باہر بھاگا تاکہ سوسائٹی کہ چوکیداروِ سے ہوچھ لے۔۔۔۔
بھابھی آپنتو حوصلہ رکھیں ۔۔۔۔" الماس نے عزہ کو سمبھالا جو روئے جا رہی تھی۔۔۔
مینو کو اٹھاو۔۔۔۔پوچھو وہ جانتی ہوگئ۔۔۔" ماریہ نے اپنے رائے دی۔۔۔۔تبھی منہا بھی آنکھیں مسلتی چلی آرہی تھی۔۔۔۔۔
کیا ہوا شور کیوں مچایا ہوا ہے۔۔۔۔" اس نے سب کو دیکھا۔۔۔
عرو کہاں ہے" منہا نے حنان کو دیکھا ۔۔۔۔
روم میں ہوگئی۔۔۔" وہ جگہ بناتے صوفے پہ بیٹھتی انکی شکلیں دیکھ رہی تھی جہاں 12 بجے تھے۔۔۔۔
وہ روم کیا پورے گھر میں کہیں نہیں ہے" عزہ نے روتے اسکے علم میں اضافہ کیا۔۔۔جس پہ اسنے ایسے اچھا کہا جیسے کوئی بڑی بات ہی نہیں ۔۔لیکن اگلے ہی سیکنٹ جب بات سمجھ آئی وہ ایک دم صوفے سے اچھلی۔۔۔۔
کیا عرو گھر میں نہیں ہے" ۔۔۔وہ بھی حیران رہ گئی اتنی صبح وہ کہاں چلی گئ ۔۔۔
نہیں ہے پتا نہیں کہاں چلی گئی میری بچی حنان آپ ڈھونڈے اسے۔۔۔۔حارث کو اٹھاو وہ ڈھونڈ لائے گا۔۔۔۔" عزہ کا الگ شو چل رہا تھا۔۔۔۔۔حنان کسی کو نہ دیکھتے اسکے روم کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔اسکا دل جس قدر ڈرا ہوا تھا وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔
منہا بھی اسی کہ پیچھے روم میں آئی تھی۔۔۔۔۔۔
عرووو میری جان کہاں ہو تم" وہ واشروم ، بیڈ کہ نیچھے پردوں کہ پیچھے دیکھتے اسے پکار بھی رہا تھا۔۔۔۔۔
ڈیڈوو یہ دیکھیں۔۔۔۔" منہا ہاتھ میں پیپر اٹھائے حنان کی طرف آئی
یہ ارحا لکھ کہ گئی ہے۔۔۔۔" منہا نے لیٹر اسکی طرف کرتے بتایا حنان نے جلدی سے کھول کہ دیکھا۔۔۔۔۔جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا اسکے گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔۔۔۔۔
بھائی چوکیدار کہ رہا ہے رات میں ایک گاڑی تو گئی تھی " بسام اور باقی سب بھی روم میں آگئے۔۔۔۔۔حارث بھی پریشان سا روم میں آیا۔۔۔۔
برے پاپا ہم ڈھونڈ لیں گے ہو سکتا کسی نے اسے کیڈنیپ کرلیا ہو۔۔۔۔۔" حارث نے اپنی پولیس والے دماغ کو استعمال کرنا شروع کیا۔۔۔۔۔
اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ وہ اس لیٹر میں بتا گئی ہے کہ وہ کہاں گئی ہے۔۔۔۔۔اس نے بات کرتے ایک گھورتی نظر عزہ پہ ڈالی۔۔۔۔۔پھر روم سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
کیا ہے لیٹر میں۔۔۔" عزہ نے منہا سے پوچھا جو لیٹر پڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔عزہ کو دیکھتے منہا نے لیٹر پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔
ڈیئر ڈیڈو۔۔۔۔جب آپکو لیٹر ملے گا تب میں ایک نئے سفر پہ چلی گئی ہوں گی۔۔۔میں نے پرسوں آپ کی اور مما کی بات سنی تھی میں بس یہ چاہتی ہوں کہ میں بھی سب کی طرح ہوجاؤں مما سہی کہتی ہیں میری کمی اتنی بڑی نہیں ہے جتنی بڑی میں نے اسے بنا لیا ہے۔۔۔۔۔ مجھے بہادر بننا تاکہ مما کو مجھ پہ پراوڈ کو اوع بہادر بننے کہ لیے مجھے اپنا ڈر ختم کرنا ہے اور اس کہ لیے میں اسلام آباد جا رہی ہوں پلین کہ ذریعے آپ سب پریشان نہ ہوں نہ میں ایک دن بعد واپس آجاوں گی۔۔۔۔بس دعا کرنا جس مقصد کہ لیے جا رہی وہ پورا ہو۔۔۔۔"
آپکی عرو۔۔۔۔"
عزہ کو حنان کی گھوری کا مطلب اب سمجھ آیا تھا۔۔۔۔۔وہ سب پھر لانوچ کی طرف گئے تھے۔۔۔۔
حنان ۔۔۔۔" عزہ نے اسے پکارا جو بار بار کسی کو کال لگانے کی کوشش میں تھا۔۔۔۔۔
ابھی مجھ سے کوئی بات نہ کرو عزہ۔۔۔۔۔" وہ سنجیدگی بھرے لہجے میں بول موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔۔۔
ہیلو مجھے ایک اسلام آباد کی فلائٹ بک کرنی تھی۔۔۔۔ آج کی نہیں ہے کوئی رات 3 بجے ۔۔۔۔۔اوکے ڈن کردیں۔۔۔۔" حنان کال پہ ٹکٹ کنفرم کرتا ان سب کی طرف مڑا۔۔۔۔
حنان میں بھی جاوں گی آپ کہ ساتھ اسے لینے۔۔۔۔۔میری بچی میرے الفاظوں کا غلط مطلب لے گئی۔۔۔۔میں نے ایسے تو نہیں چاہا تھا وہ پتا نہیں کہاں ہو گی۔۔۔۔وہ تو جہاز میں ڈرتی ہے حنان ۔۔۔۔" عزہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔حنان نے کچھ پل اسے دیکھا جب وہ خاموش نہ ہوئی تو اسے اپنے قریب کرتے گلے سے لگا لیا وہ کہاں اسے بھی روتا دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ وہ اسکی لاڈلی بیٹی تھی لیکن سامنے کھڑی عورت بھی اسکی محبوب بیوی تھی۔۔۔۔۔
اچھا بس میں لے آوں گا اسے واپس۔۔۔۔۔رونا بند کرو۔۔۔۔" اپنے ساتھ لگائے وہ تسلی دینے لگا جب منہا بھی ان دونوں سے آلگی۔۔۔۔۔
مما روئے نہیں یار ڈیڈو لے آئیں گے اسے پھر آپ اچھے سے ڈانٹنا اسے بڑی بگڑ گئی ہے۔۔۔۔" منہا کی بات پہ عزہ نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔باقی سب ہنس دیے۔۔۔۔
ڈیڈو اسے کال کریں نہ۔۔۔" منہا نے حنان کو مخاطب کیا۔۔۔۔
وہی کررہا ہوں اٹھا نہیں رہی۔۔۔۔" وہ پریشان تھا فلائٹ شام کی ہوئی تھی اور وہ بس ایک بار ارحا سے کونٹیکٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤
وہ ناشتہ کرتے باہر نکلی تو باہر ایک طوفان بدتمیزی مچا ہوا تھا ٹیکسی والے ڈھرا ڈھر لوگوں کو پک کررہے تھے وہ ڈر گئی تھی اتنے سارے ڈرائورز کو اپنی طرف آتے دیکھ کہ۔۔۔۔
کہاں جانا ہے باجی۔۔۔۔، ہمارا کرایہ کم ہے آجاو باجی۔۔۔۔۔" وہ پٹھان ڈرائورز جو دیکھ ارحا کی جان فنا کوئی اپنے بیگ پہ پکڑ مضبوط کرتے اسنے واپس اندر دور لگا دی۔۔۔۔۔وہ بھاگی چلی جارہی تھی جب سامنے سے آتے سلطان سے ٹکرا گئی۔۔۔وہ ٹکرا کہ گرتی سلطان نے اسے تھام کہ سیدھا کیا۔۔۔۔۔۔۔آسمان باز اپنے زمینی ہرن سے دوبارہ مل گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ دونوں پہچان چکے تھے ایک دوسرے کو ۔۔۔۔وہ اپنے یونیفام سے ہٹ کہ کپڑوں میں تھا۔۔۔۔۔
ارے لڑکی تم یہاں۔۔۔۔۔" اب وہ یہاں پائلٹ نہ تھا تو آپ سے تم پہ آگیا تھا۔۔۔۔۔۔
ارحا نے اسے دیکھا۔۔۔۔پھر اپنے پیچھے جہاں ٹیکسی ڈرایؤر کھڑے تھے سلطان نے اس کہ تعاقب میں دیکھا۔۔۔۔۔
تم انسانوں سے بھی ڈرتی ہو۔۔" سلطان کو وہ لڑکی سمجھ نہ آئی تھی۔۔۔۔۔۔
نننننہہہییییںننن لیییککننن وہہہ مجھےےے ڈرااا رہےےے۔۔۔" اسنے کسی بچے کی طرح شکایت لگائی۔۔۔۔۔
تم کہاں جانا چاہتی ہو۔۔۔۔" سلطان نے گہری سانس لیتے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
کسسسیی ۔۔۔۔ ہہہوووٹلللل۔۔۔۔" سلطان نے سمجھ کہ سر ہلایا۔۔۔۔۔پھر وہی کھڑے ایک ڈرائور کو ہاتھ سے قریب آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔وہ بندہ بھاگا بھاگا آیا۔۔۔۔۔
مسٹر آپ انھیں کسی اچھے سے ہوٹل چھوڑ دیں گے۔۔۔۔"
سلطان نے اس خان آدمی سے کہا تو اسنے جلدی سے سر ہلایا۔۔۔۔
جی جی صاحب یہی ہمارا کام ہے۔۔۔۔" وہ خوشی سے بتا رہا تھا۔۔۔۔۔ارحا نے سلطان کہ طرف دیکھا جو ایسے تھا لو ہوگیا تمھارا ایک اور مسلہ حل۔۔۔۔۔۔
آجائیں باجی اچھے ہوٹل لے جاوں گا۔۔۔۔" اس آدمی کی بات پہ ارحا سلطان کی طرف دیکھا۔۔۔۔ پھر اپنے بیگ کو مضبوطی سے پکڑے اس ڈرائور کہ پیچھے چل دی۔۔۔جو اسے ایک ہوٹل کہ سامنے لایا وہ کافی برا اور مشہور لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ ارحا نے ہی یہ نام بتایا تھا حنان بھی انھیں اسی ہوٹل میں لاتا تھا۔۔۔۔۔
باجی 2000 کرایہ ہے" خان بابا کی بات پہ ارحا کہ ہاتھ تھمے۔۔۔۔۔۔
دووووو ہزاااررر۔۔۔۔" اسنے حیران کن لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
جی باجی 2000 " خان کو دیکھ اس نے پرس ٹٹولا اور 2000 نکال کہ اسے دیے۔۔۔۔۔۔وہ چلا گیا وہ چلتی ہوٹل۔کہ۔اندر آئی تو نیا مسلہ کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اگلے آدھے گھنٹے بعد وہ ہوٹل سے باہر آٹی دیکھی۔۔۔۔ آنکھوں آنسووں سے پھیگی تھی ساتھ چہرہ بھی اب واقعی اسکا دل دھاڑیں مار کہ رونے کا چاہا تھا۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں بننا بہادر اللّٰہ جی میں ڈرپھوک ہی ٹھیک تھی۔۔۔۔وہ وہی ہوٹل کہ سامنے بنے چھوٹے سے فٹ پاتھ پہ بیٹھ گئ۔۔۔۔۔اب وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔۔موبائل نکال کہ دیکھا تو حنان کہ 70 مس کال جو سائلنٹ پہ ہونے کی وجہ سے اٹھا نہ سکی تھی۔۔۔۔
ڈیڈو کو پتا چل گیا وہ ڈانٹیں گے۔۔۔ اللّٰہ جی کیا کردیا یہ میں نے مجھے گھر جانا ہے واپس۔۔۔۔۔۔" دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب ہوتے وہ اب چہرہ ہاتھوں میں چھپائے ہچکیوں سے رونے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔
تم پھر رو رہی ہو۔۔۔۔" قریب سے آنے والی آواز پہ ارحا نے چہرہ اٹھایا تو سامنے ہی آسمانی باز کھڑا تھا۔۔۔۔۔ ہاتھ میں سوٹ کیس کا ہینڈل تھامے وہ اس زمینی ہرن کو دیکھ رہا تھا جو پھر رونے کا شوگل فرما رہی تھی۔۔۔۔۔
اب کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔" اسنے دوبارہ اسے چہرہ چھپاتے دیکھ پوچھا۔۔۔۔۔۔ ارحا نے رک کہ دوبارہ اسے دیکھا پہ آنسووں ٹپ ٹپ کرنے لگے۔۔۔۔۔ سلطان گہرہ سانس لے کہ اسکہ ساتھ ہی بیٹھ گیا سوٹ کیس کو اپنی ٹانگوں کہ بیچ رکھ لیا۔۔۔۔۔
اب تو تم ہوٹل بھی پہنچ گئی ہو۔۔۔۔۔ پھر کیوں رو رہی۔۔۔جاووو اندر آرام کرو۔۔۔۔" سلطان کو تو کچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔۔وہ بھی اسی ہوٹل میں سٹے کرنے والا تھا ابھی وہ اندر جاتا جب اسے دور سے ارحا دیکھ گئی۔۔۔۔۔وہ وہی چلا آیا۔۔۔۔
ہوٹل میئییین نہہہیںنن جانانا۔۔۔۔" اسنے اٹکتے روتے بات مکمل کی۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔؟" سلطان نے حیرانگی سے استفسار کیا۔۔۔۔
وووووہہہہہہ کہہہہ رہےےےےےے کمرہہہہہ 20،000 کاااا ہے۔۔۔۔۔۔" ارحا کو بات مکمل کرنے میں 2 منٹ لگ گئے اور سلطان کو پھر بھی اسکی یہ بات سنجھ نہ آئی۔۔۔۔
تو کیا ہوا۔۔۔۔" اسنے پھر سوال کیا۔۔۔۔۔
میرررررےےے پاسسس صرررف 10،000 ہیںنننن جسسس میں سےےےےے 4000 خرچچچچ ہوگئیی۔۔۔۔" اسنے اپنی پریشانی بتائیی سلطان نے اسے غور سے دیکھا۔۔۔۔۔
کیااا تم صرف 10000 لے کہ گھومنے آئی ہو۔۔۔۔" سلطان کہ استفسار پہ اسنے سر ہاں میں ہلا کہ یقین دیانی دی۔۔۔۔۔۔
کیا تمھیں ہوٹل کہ ریٹ نہیں پتا تھے۔۔۔۔۔" اسنے پھر استفسار کیا۔۔۔۔۔ارحا نے بھیگی آنکھوں سے نہ میں سر ہلایا۔۔۔۔
ڈئیڈوووو ہیییی کمرہہہہ لیتتتے تھے۔۔۔۔" اس کی بات پہ سلطان نے اب واقعی ہاتھ اپنے سر پہ مارا تھا۔۔۔۔
پاپا کی پرنسس آپ نے اپنے محل سے نکل کہ بہت بڑی غلطی کردی۔۔۔آپ کووو دنیا کہ لیے نہیں بنایا گیا واپس اپنے محل میں چلی جائیں۔۔۔۔۔" ارحا نے معصوم سا چہرہ بنا کہ اسے دیکھا۔۔۔۔۔سلطان کو اس بےچاری پہ ترس آگیا۔۔۔۔۔
اچھا رونا بند کرو میں روم لے دیتا ہوں۔۔۔۔" سلطان کی آفر پہ وہ کچھ کہتی جب موبائل رنگ ہوا۔۔۔۔۔حنان کی کال دیکھ اسکو اپنا دکھ دوبارہ یاد آیا۔۔۔۔
یہ تمھارے ڈیڈ کال کررہے ہیں۔۔۔۔" سلطان کی بات پہ اسنے سر ہاں میں ہلاتے موبائل کو دیکھا ۔۔۔۔۔
تو اٹھاو۔۔۔۔۔" ارحا نے اسے دوبارہ دیکھا۔۔۔۔۔
وووہہہہ ڈانٹتئن گے۔۔۔۔" سلطان کا دماغ گھوم گیا۔۔۔۔۔مطلب اس سب کہ بعد وہ ڈانٹ بھی نہیں کھا سکتی تھی۔۔۔۔اسنے بنا اسکی سنے کال پک کرتے سپیکڑ پہ ڈالی۔۔۔۔۔۔
ہیلو ارحا میری جان ۔۔۔میرا چندا کہاں ہو تم۔۔۔۔۔" حنان کی بےچینی سے بھری آواز پہ ارحا اور روز سے رونے لگ گئی۔۔۔۔
ارحا ۔۔۔میری دنیا رو کیوں رہی ہو کہاں ہو تم۔۔۔۔۔" اسکا بس چلتا تو موبائل سے نکل کہ ارحا کہ ہاس پینچ جاتا۔۔۔۔۔
ڈیڈووووو مجھےےےےے ڈرررر لگ رہاا ہے آپپپپپ آجائییں لےےے جائییں مجھےےےے یہاںن سے۔۔۔۔۔اسکی روتی آواز پہ حنان کہ ٹھلتے قدم اور تیز ہوئے۔۔۔۔۔
میری جان میں شام میں آپ کہ پاس ہوں گا آپ نے ائیر پورٹ سے کہیں نہیں جانا اوکے گڑیا۔۔۔۔" حنان کی بات پہ اسنے روتے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
ڈیڈوووو میںننننن ہوٹلللل ہوںنننن وہ والے جہاآں آپپپ لاتے ہووو۔۔۔لیکننننن یہ پیسے زیادہ مانگگگ رہے۔۔۔۔میرے پاسسسس نہیں ہیں۔۔۔۔" اس نے نیا مسلہ بتایا۔۔۔۔۔
تم ابھی ٹیکسی لو اور واپس ائر پورٹ جاو میں وہی آوں گا۔۔۔۔۔۔وہاں میرا انتظار کرو۔۔۔۔" ارحا نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔۔
شاباش میرا بچہ رونا نہیں میری گڑیا تو بہادر ہے نہ۔۔۔۔" حنان نے اسے تسلی دیتے اپنے قدم رون سے باہر نکال دیے۔۔۔۔۔
جی ۔۔۔آپپپ آجائییں۔۔۔۔۔" ارحا نے پھر کہا ۔۔۔۔
آراہا ہوں بس تم آئر پورٹ پہنچو۔۔۔۔" ۔۔حنان نے کہتے کال کٹ کی۔۔۔۔۔۔
وہ نیچھے لاونچ میں آیا بے چینی اور پریشانی سے اسکی سانس پھول رہی تھی۔۔۔۔۔
حارث کار نکالو میں شام تک کی فلائٹ کا ویٹ نہیں کرسکتا۔۔میری بچی وہاں رو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔" حارث سنتے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
دوسری طرف فون رکھتے ارحا نے سلطان کی طرف دیکھا
دیکھو تمھارے ڈیڈ کتنا پریشان تھے اور تم ان سب کو بنا بتائے آگئی۔۔۔۔۔ایسے اچھی بات نہی ہوتی۔۔۔۔۔" سلطان کا انداز سمجھانے والا تھا۔۔۔۔۔اسنے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔۔۔
مجھححےے اییرپورٹ جانانااا۔۔۔" وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
رک جاو میں چھوڑ کہ آوں گا تمھیں۔۔۔۔۔" سلطان بھی اٹھ کھرا ہوا ۔۔۔
نہیں نہیں میییںنن چلییی۔۔۔" وہ اسے روکتی جب اسنے جھکتے ارحا کہ ہونٹوں پہ انگلی رکھتے اسے چپ کروایا۔۔۔۔
میں نے کہا نہ میں چلوں گا ساتھ تو بس۔۔۔۔۔پہلے یہ سوٹ کیس مجھے روم میں رکھنا ہے ۔۔۔۔آو۔۔۔۔۔" وہ اسے حکم۔دیتا آگے بھر گیا ارحا نے تھوک نگلتے اسے دیکھا وہ ابھی تک وہییں کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔ سلطان واپس آیا اور اب اسکا ہاتھ تھامے لے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اتنے حق سے لیے جا رہا تھا کہ ارحا کہ گال ایک دم لال ہوئے جس سے سلطان بے خبر تھا۔۔۔۔
روم میں سوٹ کیس رکھنے کہ بعد وہ اسے ٹیکسی میں لیے ائرپورٹ آیا اسے اندازہ تھا حنان بائے روڈ جلدی وہ نہیں پہنچ سکتا 17 گھنٹے کا سفر تھا۔۔۔۔اور وہ 17 گھنٹے اکیلی خوار ہو وہ سلطان کو گوارہ نہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤
ایک میسج گیا تھا کہ ارحا گھر سے چلی گئی وہاں زیان اور آیان بھاگے چلے آئے تھے۔۔۔۔۔۔وہ۔سب لاونچ میں بیٹھے تھے جب وہ بھاگے اندر آئے۔۔۔۔
ارحا کہاں گئی۔۔۔۔" آیان نے آتے ہی پوچھا پیچھے زیان بھی چلا آیا۔۔۔۔۔
بھاگ گئی۔۔۔۔" منہا نے چہک کہ بتایا جیسے برا اچھا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔۔۔۔
کس کہ ساتھ " سوال زیان کی طرف سے آیا۔۔۔۔۔وہ حیران تھا اسکی مصوم بھانجی بڑی ہوگئی۔۔۔۔
نہیں اکیلے گئی ہے alone honeymoon پہ ۔۔۔۔" منہا نے ہنستے ہوئے بتایا عزہ نے ایک تھپڑ منہا کہ بازو پہ لگایا۔۔۔۔۔ زیان اور آیان دونوں ساتھ ہی صوفے پہ براجمان ہوئے۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔اور تم نے اب کیوں بتایا اسی وقت کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔" آیان نے ناراضگی سے منہا کو دیکھا۔۔۔۔
ڈیڈو گئے ہیں۔۔۔۔لینے اسے اب تک تو آدھے راستے پہ ہوں گے۔۔۔۔اس لیے کیوںکہ ہم خود پریشان تھے آپ کو کیا بتاتے پھر جب اسکا لیٹر پڑھا ڈیڈ گئے پھر تھورا ہوش آیا ہمیں۔۔۔۔" منہا نے تفصیل بتائی۔۔۔۔۔
کیسا لیٹر۔۔۔۔" ؟ زیان کہ استفسار پہ منہا نے ساری لیٹر کی کہانی اسے بھی بتائی۔۔۔۔
یار آپی کیسی باتیں کرتی ہیں آپ۔۔۔۔ آپ کو پتا تو ہے اسکا چھوٹا سا دل ہے" آیان کو سن کہ افسوس ہوا تو عزہ سے گلہ کردیا۔۔۔۔۔
تم چپ کرو ایک تمھارا وہ پرنس بھی مجھ سے ناراض ہو کہ گیا ہے اب تم کوگ بھی۔۔۔۔" وہ الٹا ان پہ ہی برس گئی۔۔۔۔
ہائے میری معصوم بھانجی اتنی پسند ہے مجھے وہ معصوم سی میری گٰڑیا کم از کم وہ اس میسنی کی طرح تو نہیں ہے ہر وقت لڑنے مارنے والی۔۔۔۔۔آپ نے اسکا دل توڑ دیا۔۔۔۔" زیان نے اظہارے افسوس کرتے منہا کو بھی بیچ میں گھسیٹا۔۔۔۔
عزہ نےناسے گھورا ساتھ منہا نے بھی باقی سب مسکرا دیے۔۔۔۔۔
( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤
انھیںں انتظار کرتے بہت وقت ہوگیا تھا وہ اس وقت میں ایک دوسرے کا چھوٹا موٹا انٹرو بھی لے چکے تھے۔۔۔۔۔ سلطان نے اسے بتایا کہ وہ یو کے کا رہائشی ہے لیکن اردو بہت اچھے سے بول لیتا ہے ۔۔۔۔۔ ارحا نے بھی اہنے بادے میں بتایا۔۔۔۔۔ارحا کو اس سے بات کرتے اچھا لگا تھا ۔۔۔۔
ارحا تمھیں بھوک نہیں لگی" اتنے انتظار کہ بعد اب سلطان کو بھوک لگنے لگی تھی۔۔۔۔۔ارحا نے سر ہاں میں ہلایا
چلو کھاتے ہیں کچھ جب تک تمھارے ڈیڈو نہیں آجاتے۔۔۔۔" وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
ڈیڈوووو ننننے کہااااا یہاااں ہییی رہنا۔۔۔" اسنے پریشانی سے کہا ۔۔۔۔
ہم ائرپورٹ کہ قریب ہی کہیں چلتے ہیں انھیں ابھی بہت وقت لگنا۔۔۔۔" سلطان کہ اسرار پہ وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔وہ کچھ دور ہی ریسورینٹ میں آئے ۔۔۔۔
ویسے ایک بات تو بتاو تمھیں اس ایڈوینچر کا خیال کیسے آیا۔۔۔" دل میں مچلتا سوال وہ اس سے کر بیٹھا تھا۔۔۔
مممممیررری بہننن سےےے وہہ کہتتی کہہہ اگر بہاددر بننا تو ڈر ککووو ختم کرووووو" سلطان نے بڑے تحمل سے اسکی بات سنی تھی۔۔۔۔
تمھاری بہن چھوٹی ہے بڑی۔۔۔۔۔" ارحا نے نظر اٹھائی۔۔۔
نہ چھوٹی نہ بڑی میری جڑوا ہے" منہا کا بتاتے وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔
تبھی کام بھی اسنے تمھیں بےوقوفوِں والے بتائیں ہیں۔۔۔۔" سلطان نے اسے چھیرا۔۔۔ارحا کا منہ بنا ۔۔۔
آپپپپپکو بتاااوںںنن منہاااااا کو ڈیڈوووو نے فائٹنگ سکھائییی ہے وہ بہت اچھی فائٹ بھیی کرتی ہے۔۔۔۔۔۔" ارحا مسکرائی تھیناسے سلطان سے بات کرتے ہچکچاہٹ نہیں ہورہی تھی اسکی فیملی کہ بعد وہ واحد تھا جو اسکو ٹوک نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔وہ اسکے من موہنے چہرے کو نظروِ کہ حصار میں اسکہ مکسرانے پہ مسکرایا۔۔۔۔۔
واہ تم نے نہیں سیکھی۔۔۔۔" سلطان امپریس ہوا تھا۔۔۔
نہیںںننن ۔۔۔۔ مجھ سسسسسے نہیںںںں ہوتااا یہ سب۔۔۔۔" اسنے اداسی سے کہا۔۔۔۔
چلو کوئی بات نہیں کوئی ایسا بھی ہونا چاہیے جسے پروٹیکٹ کیا جائے۔۔۔۔۔" سلطان کی بات پہ اسنے سر ہلا کہ اسکی بات کو سہی کہا۔۔۔۔۔
سر آڈر۔۔۔۔" ویٹر ان کہ پاس آیا۔۔۔۔۔وہ ایک چائنس ریسٹورنٹ تھا۔۔۔۔۔
ہممم میرے لیے آپ ایک کریمی پاستہ اور چکن چلی ڈرائے لے آئیں۔۔۔۔۔" مینیو دیکھے بنا اس نے اپنا آدر بتایا۔۔۔۔۔جسے ویٹر نے نوٹ کیا۔۔۔۔۔۔
میم آپ کا۔۔۔۔" ویٹر کا رخ ارحا کی طرف تھا اس نے ایک نظر سلطان کو دیکھا۔۔۔۔جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ویٹر بھی اسکی طرف متوجہ تھا۔۔۔۔۔ارحا نے شرمندہ ہوتے مینو کاڈر اٹھایا اور انگلی سے اسے سینڈویچ اور فرائی راس لانے کا کہا۔۔۔۔۔۔ویٹر کو لگا شاید وہ گونگی ہے وہ آدر لیتا جانے لگا جب سلطان کی پکار پی رکا۔۔۔۔۔۔
یس سر ۔۔۔" وہ واپس آیا۔۔۔
میم سے دوبارہ آڈر لیں۔۔۔۔۔اور اس بار تم بول کہ آدر لکھواو گی۔۔۔۔۔" ویٹر کو کہتے اس نے آخر میں ارحا کو دیکھا وہ رونے والی ہوگئی۔۔۔۔۔آنکھوں میں پانی لیے اس نے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
ارحا آڈر لکھوائیں۔۔۔۔" اسنے زرا سختی سے کہا۔۔۔۔۔
ارحا نے ویٹر کو دیکھا جو اسکی طرف ہی متوجہ تھا۔۔۔۔
اییییککک سییینڈوییییچچچچ اورررر فرررائیییی رررائسسسسس" اسکا گلا آنسووں روکنے سے بھاری ہوگیا ۔۔۔۔ویٹر چلا گیا اسکے جاتے آنسووں ارحا کی آنکھ سے نکلے۔۔۔۔۔سلطان نے اپنا رومال اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
اس میں رونے والی کیا بات بھلا۔۔۔۔۔" سلطان کو دیکھ اسنے ناراضگی سے منہ موڑ لیا جس پہ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔۔
رومال تو لے لو۔۔۔۔۔" مسکراہٹ روک اسنے رومال اسکی طرف کیا لیکن اسنے رومال کی جگہ ٹیشو اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔
آپ اچھےےےےےے نہیں ںں۔۔۔۔۔اسنے اعلان کیا کہ وہ اچھا نہیں۔۔۔۔۔سلطان مسکرایا۔۔۔۔۔
میرا مزاقققققق بنننااائییںنگےےےے وہ جاااا کہہہ" اسنے روتے کہااا۔۔۔۔
ابھی تم نے بتایا تھا کہ تم بہادر بننا چاہتی ہو تو ایسے بنو گی بہادر۔۔۔۔ تم نے کہا کے تمھیں اپنا ڈر ختم کرنا ہے تو ڈر تو یہ تھا جو زبان کا استعمال کرتے ہوئے تمھارے دل میں آیا تھا۔۔۔کہ یہ مزاق بنائییں گے۔۔۔۔۔ جب تم اس ڈر کو ختم کر لو گئی تو تم بہادر ہوجاو گئی۔۔۔۔۔۔
اور شکر کیا کرو اللّٰہ نے تمھیں آواز دی ہے بے زبان نہیں رکھا ۔۔۔۔ ورنہ بہت سے لوگ اس نعمت سے محروم۔ہوتے ہیں۔۔۔۔۔تم پتا نہیں کیوں اس کو کمی سمجھتی ہو جب کہ یہ بھی ایک نعمت ہے کہ لوگ تمھارے الفاظ سمجھنے کہ لیے متوجہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔" اسکا انداز سمجھانے والا تھا ارحا نے غور سے اسے دیکھا ۔۔۔۔وہ اسکی لہجے کو نعمت کہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ارحا کہ گال پل میں لال ہوئے تھے جسے سلطان نے بڑی حیرانی سے دیکھا۔۔۔۔۔
تم لال ہورہی ہو۔۔۔۔شرما رہی ہو۔۔۔۔" اسنے بتایا ارحا نے گالوں پہ ہاتھ رکھے۔۔۔۔
وہہہہہہہ آپپپپپپپ نےےےےےے تعریففففف کی توووو" ارحا کہ گال اور لال ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔سلطان مسکرایا اسکااسکے چہرے سے نظر ہٹانا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔پھر گہری سانس لیتے اس نے نظر ہٹا ہی لی۔۔۔۔۔
( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤
رات کہ کوئی 1 بج رہا تھا ہورا ائرہورٹ خالی ہوچکا تھا ایکا دوکا لوگ آجا رہے تھے بس۔۔۔۔۔سلطان اب تھکنے لگا تھا وہ جو سوچ رہا تھا فلائٹ کہ بعد 2 دن بس سوئے گا اب وہ اپنی زمینی ہرنی کی دیکھ بھال کررہا تھا اور اسکی زمینی ہرنی مزے سے سو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ نظر اٹھا کہ سامنے دیکھا جہاں وہ پورے بینچ پہ لیٹی تھی سلطان نے کہیں سے چادر خرید کہ اس پہ ڈالی تھی جس وہ چھپ گئی تھی اپنے بیگ کو سر کہ نیچھے ٹکائے وہ سو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ سلطان نے سر بیچ کہ ساتھ لگا کہ اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔وہ کتنی ہی دیر سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
سہی کہتی ہیں موم مشرقی لڑکیوں کی خوبصورتی کو کوئی ٹکڑ نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔۔ارحا کہ چہرے کو دیکھ اس نے سوچا ۔۔۔۔تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا جسے ارحا نے اٹھانے کی جگہ کروٹ بندلنی چاہی سلطان فورا سے اٹھ کہ اسکہ پاس بیٹھا اور اسے پلٹنے سے باز کیا ورنہ وہ نیچھے ہی ہوتی ارحا نے ہلکے سے آنکھ کھول نیند میں خلل ڈالنے والے کو دیکھا اسلطان کو اپنے قریب دیکھ ارحا کی ساری نیند بھاگی تھی ساتھ سلطان کا دل نے تیزی پکڑی تھی۔۔۔۔۔وہ ہڑبڑا کہ اٹھی ساتھ وہ بھی پیچھے ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھارا فون بجا ہے۔۔۔۔۔" اپنی ڈھرکن کو سمبھالتے اسنے موبائل کی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔۔۔
ڈیڈوووو کیییی کاااالللل" وہ خوش ہوئی جیسے اربوں کا خزانہ مل گیا ہو.۔۔۔۔۔ دوبارہ کال آنے لگی جسے ارحا نے جھٹ سے اٹھایا۔۔۔۔۔۔
ڈیڈوووو آپ آگےےےےے ۔۔۔۔۔۔جییییی میییںننن یہییی ہوںنننن. اندر ہوںننننن میںنننن آتییی ہوں۔۔۔۔۔۔۔" وہ خوشی تھی چہرے پہ مسکراہٹ تھی مسکرانے سے گال گول ہوتے اپر اٹھے تھے جسے دیکھ سلطان بھی مسکرایا تھا۔۔۔۔۔۔
ڈیڈووووووو آگئےےے باہرررر ہیں۔۔۔۔۔۔میںننننن جا رہیییی ہوںنن شکررریہہہہ آپکاااااا بہت بہت شکریہہہہہ".... وہ اس کو دیکھ بولتی جارہی تھی اور سلطان مسکراتے اسکا شکریہ وصول کررہا تھا۔۔۔۔۔
میںننن جا رہیییییی بائےےےےےے۔۔" ؤہ خوشی میں اسے بائے کہتی اپنا بیگ اٹھاتی باہر بھاگی تھی چادر وہی چھوڑ گئی جو وہ اوڑھے سو رہی تھی سلطان نے اسے بھاگتے دیکھ چادر اٹھا لی پھر اسے اپنے قریب کیا تو ارحا کہ خوشبو اس میں سے آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔سلطان نے مسکراتے اس چادر کو سینے سے لگایا۔۔۔۔۔پھر اسکے پیچھے ہی چل دیا۔۔۔۔۔۔۔
آئر پورٹ سے باہر آیا تو ہو حنان کہ سینے سے لگی رو رہی تھی۔۔۔۔حنان اسکو سینے سے لگائے آنسووں صاف کررہا تھا۔۔۔۔۔۔
حنان کا چہرہ سامنے ہوا تو سلطان اسے ایک پل میں پہچان گیا ۔۔۔
یہ انسان اسکی گھر کی بہت سی دیواروں پہ تھا اسکے ڈیڈ کہ ساتھ اسکی بہت تصویریں تھی جنھیں سفیان نے فریم کر کہ دیواروں پہ لگا رکھا تھا۔۔۔۔۔وہ حنان اختر تھا سفیان خان کا جگری دوست اور ہانی شیخ کا بھائی اسکا حنان مامو جس کا ذکر وہ کافی بار سنتا آیا تھا۔۔۔۔۔۔اور اس سے ملنے کی چاہ دل میں لیے بھی بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ حنان کہ ساتھ بیٹھ کہ کار میں چلی گئی دور کھڑے سلطان نے مسکراتے انھیں دیکھا تھا اب یہ اتفاق تو وہ ہانی کو بتانے والا تھا۔۔۔۔۔
( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤( ˘ ³˘)❤
❤️
👍
😂
🙏
😢
😮
158