{🌹} تبلیغی بیانات {🌹}
{🌹} تبلیغی بیانات {🌹}
February 6, 2025 at 02:20 AM
کتاب: حیاۃ الصحابہ ؓ قسط نمبر 154 صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا عنوان: غزوۂ رجیع کا دن حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک جماعت کو حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا اور حضرت عاصم بن ثابت ؓ کو اس جماعت کا امیر بنایا۔ یہ (ثابت) حضرت عاصم بن عمر بن خطاب ؓ کے نانا ہیں ۔ چنانچہ یہ حضرات روانہ ہوئے۔ جب یہ عُسْفان اور مکہ کے درمیان (ہدأۃمقام پر) پہنچ گئے تو ہذیل کے قبیلہ بنو لِحیان سے اس جماعت کا لوگوں نے تذکرہ کیا۔ تو بنو لِحیان تقریبًا سو تیر اندازوں کو لے کر اُن کا پیچھا کرنے کے لیے چلے۔ اور اُن کے نشاناتِ قدم پر چلتے چلتے اس جگہ پہنچے جہاں اس جماعت نے پڑاؤکیا تھا۔ یہ حضرات مدینہ سے جو کھجوروں کا زادِ سفر لے کر چلے تھے اُن کی گٹھلیا ں بنو لِحیان کو اس جگہ ملیں ، (جسے دیکھ کر )بنو لِحیان نے کہا: یہ تو یثرِب (مدینہ) کی کھجوریں ہیں ۔ چنانچہ بنو لِحیان اُن کے پیچھے چلتے چلتے ان تک پہنچ گئے۔ جب حضرت عاصم اور اُن کے ساتھیوں کو اس کا پتہ چلا تو وہ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور بنو لِحیان نے آکر اُن کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اُن سے کہا کہ ہم تم سے پختہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تم ہمارے پاس نیچے اُتر آئو گے تو ہم تم میں سے ایک آدمی کوبھی قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم نے کہا کہ میں تو کسی کافر کے عہد میں آنا نہیں چاہتا ہوں ۔ اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! ہماری طرف سے اپنے نبی کو خبر پہنچا دے۔ اس پر بنو لِحیان نے اس جماعت سے جنگ شروع کر دی اور حضرت عاصم کو اُن کے سات ساتھیوں سمیت تیروں سے شہید کر دیا، اور حضرت خُبَیب اور حضرت زید ؓ اور ایک اور صحابی زندہ رہ گئے۔ بنو لِحیان نے اُن کو پھر عہد وپیمان دیا جس پر یہ تینوں نیچے اُتر آئے۔ جب بنو لِحیان نے ان تینوں پر قابو پالیا تو ان لوگوں نے ان کی کمانوں کی تانت اُتار کر ان کو تانت سے باندھ دیا۔ اس پر اس تیسرے صحابی نے کہا کہ یہ پہلی بدعہدی ہے۔ اور اُن کے ساتھ جانے سے اِنکار کر دیا۔ کافروں نے انھیں ساتھ لے جانے کے لیے بہت کھینچا اور زور لگایا لیکن یہ نہ مانے، آخر انھوں نے ان کو شہید کر دیا۔ اور حضرت خُبَیب اور حضرت زید ؓ کو لے جاکر مکہ میں بیچ دیا۔ حارث بن عامر بن نوفل کی اولاد نے حضرت خُبَیب کو خرید لیا۔ حضرت خُبَیب ؓ نے ہی حارث بن عامر کو جنگِ بدر کے دن قتل کیا تھا۔ یہ کچھ عرصہ اُن کے پاس قید میں رہے یہاں تک کہ جب اُن لوگوں نے حضرت خُبَیب کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا توحضرت خُبَیب نے حارث کی ایک بیٹی سے زیرِ ناف بال صاف کرنے کے لیے اُسترا مانگا۔ اس نے ان کو اُسترا دے دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ میری بے خیالی میں میرا ایک بیٹا چلتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا۔ انھوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ میں نے جب اسے یوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں بہت گھبراگئی کہ اُن کے ہاتھ میں اُسترا ہے (کہیں یہ میرے بیٹے کو قتل نہ کر دیں )۔ وہ میری گھبراہٹ کو بھانپ گئے تو انھوں نے کہا کہ کیا تمہیں یہ ڈر ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ اِن شاء اللہ میں یہ کام با لکل نہیں کروں گا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ میں نے حضرت خُبَیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ میں نے اُن کو دیکھا کہ وہ انگور کے ایک خوشے میں سے کھا رہے تھے حالاں کہ اس دن مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا، اور وہ خود لوہے کی زنجیر میں بندھے ہوئے تھے (جس کی وجہ سے وہ کہیں سے جا کر لا بھی نہیں سکتے تھے) وہ تو اللہ تعالیٰ نے ہی اُن کو (اپنے غیب سے ) رزق عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ اُن کو قتل کرنے کے لیے وہ لوگ ان کو حرم سے باہر لے چلے۔ انھوں نے کہا: ذرا مجھے چھوڑ دو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں ۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر ان کے پاس واپس آئے اور ان سے کہاکہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو میں اور نماز پڑھتا۔ قتل کے وقت دو رکعت پڑھنے کی سنت کی ابتدا سب سے پہلے حضرت خُبَیب ؓ نے کی۔ پھر انھوں نے یہ بد دعا کی کہ اے اللہ!ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑنا۔ پھر انھوں نے یہ اَشعار پڑھے: وَمَا إِنْ أُبَالِيْحِیْنَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلٰی أَيِّ شِقٍّ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِيْ جب مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہے تو اب مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میں اللہ کے لیے قتل ہوکر کس کروٹ گروں گا۔ وَذٰلِکَ فِيْ ذَاتِ الْإِلٰہِ وَاِنْ یَّشأْ یُبَارِکْ عَلٰی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُّمَزَّعٖ اور میرا یہ قتل ہونا اللہ کی ذات کی وجہ سے ہے، اور اگر اللہ چاہے تو وہ میرے جسم کے کٹے ہوئے حصوں میں برکت ڈال سکتا ہے۔ پھر عُقْبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر ان کو قتل کر دیا۔ حضرت عاصم نے جنگِ بدر کے دن قریش کے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا اس لیے قریش نے کچھ آدمیوں کو بھیجا کہ وہ اُن کے جسم کا کچھ حصہ کاٹ کر لے آئیں جس سے وہ اُن کو پہچان سکیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا ایک غول اُن کے جسم پر بھیج دیا جنھوں نے ان لوگوں کو قریب نہ آنے دیا۔ چنانچہ وہ اُن کے جسم میں سے کچھ نہ لے جا سکے ۔ حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ جنگ ِاُحد کے بعد قبیلہ عَضَل اور قبیلہ قارہ کی ایک جماعت حضور ﷺ کی خدمت میں آئی اور انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم لوگوں میں اِسلام آچکا ہے، آپ ہمارے ساتھ اپنے کچھ صحابہ بھیج دیں جو ہمیں دین کی باتیں سمجھائیں اور ہمیں قرآن پڑھائیں اور اِسلام کے احکام ہمیں سکھائیں ۔ چنانچہ حضور ﷺ نے اُن کے ساتھ اپنے ساتھیوں میں سے چھ آدمی بھیج دیے۔اور راوی نے ان چھ آدمیوں کا تذکرہ بھی کیا۔ چنانچہ یہ حضرات اس جماعت کے ساتھ چل پڑے۔ جب یہ مقام ِ رجیع پر پہنچے، یہ قبیلہ ہذیل کا ایک چشمہ ہے جو حجاز کے ایک کنارے پر ہدأ مقام کے شروع میں ہے۔ تو اس جماعت نے ان صحابہ سے غداری کی اور انھوں نے قبیلہ ہذیل کو ان کے خلاف مدد کے لیے بلا لیا۔یہ حضرات صحابہ (اطمینان سے) اپنی قیام گاہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ اچانک ان کو ہاتھوں میں تلواریں لیے ہوئے بہت سے آدمیوں نے گھیر لیا تو یہ حضرات گھبرا گئے۔ حضراتِ صحابہ نے ان سے لڑنے کے لیے اپنی تلواریں ہاتھوں میں پکڑ لیں تو کافروں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! ہم تمہیں قتل کرنا نہیں چاہتے ہیں ، بلکہ ہم تو تمہا رے بدلہ میں مکہ والوں سے کچھ مال لینا چاہتے ہیں ۔ ہم تمہیں اللہ کا عہد وپیمان دیتے ہیں کہ ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ حضرت مرثد اور حضرت خالد بن بکیر اور حضرت عاصم بن ثابت ؓ نے فرمایا: ہم کسی مشرک کا عہد وپیمان کبھی قبول نہیں کریں گے۔ اور حضرت عاصم بن ثابت ؓ نے مندرجہ ذیل اَشعار پڑھے: مَا عِلَّتِيْ وَأَنَا جَلْدٌ نَابِلٌ وَالْقَوْسُ فِیْھَا وَتَرٌ عُنَابِلٗ میں بیمار نہیں ہوں بلکہ میں تو طاقت ور تیر انداز ہوں ، اور (میری) کمان میں مضبوط تانت لگا ہوا ہے۔ تَزِلُّ عَنْ صَفْحَتِھَا الْمَعَابِلٗ اَلْمَوْتُ حَقٌ وَالْحَیَاۃُ بَاطِلٗ لمبے اور چوڑے پھل والے تیر اِس کمان کے اوپر سے پھسل جاتے ہیں ۔موت حق ہے اور زندگی باطل یعنی فانی ہے۔ وَکُلُّ مَا حَمَّ الْإِلٰہُ نَازِلٗ بِالْمَرْئِ وَالْمَرْئُ إِلَیْہِ آئِلٗ إِنْ لَّمْ اُقَاتِلْکُمْ فَأُمِّيَ ھَابِلٗ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا ہے وہ آدمی کے ساتھ ہو کر رہے گا اور آدمی اسی کی طرف لوٹ کر جائے گا۔ اگر میں تم لوگوں سے جنگ نہ کروں تو میری ماں مجھے گم کردے (یعنی میں مر جائوں )۔ اور حضرت عاصم ؓ نے یہ اَشعار بھی پڑھے : أَبُوْسُلَیْمَانَ وَرِیْشُ الْمُقْعَدٖ وَضَالَۃٌ مِّثْلُ الْجَحِیْمٖ الْمُوْقَدٖ میں ابو سلیمان ہوں اور میرے پاس تیر ساز مُقْعَد کے بنائے ہوئے تیر ہیں ، اور میرے پاس دہکتی ہوئی آگ کی طرح کمان ہے۔ إِذَا النَّوَاجِي افْتُرِشَتْ لَمْ أُرْعَدٖ وَمُجْنَأٌ مِنْ جِلْدِ ثَوْرٍ أَجْرَدٖ وَمُؤْمِنٌ بِمَا عَلٰی مُحَمَّدٖ تیز رفتار اُونٹوں پر سوار ہوکر جب بہادر آدمی آئیں تو میں کپکپی محسوس نہیں کرتا ہوں (کیوں کہ بہادر ہوں بزدل نہیں ہوں )۔ اور میرے پاس ایسی ڈھال ہے جو کم بال والے بیل کی کھال سے بنی ہوئی ہے۔ اور حضرت محمد ﷺ پر جو کچھ آسمان سے نازل ہوا ہے میں اس پر ایمان لانے والا ہوں ۔ اور یہ شعر بھی پڑھا: أَبُوْ سُلَیْمَانَ وَمِثْلِيْ رَامٰی وَکَانَ قَوْمِيْ مَعْشَرًا کِرَامًا میں ابو سلیمان ہوں اور میرے جیسا بہادر ہی تیر چلاتا ہے اور میری قوم ایک معزّز قوم ہے۔ پھر حضرت عاصم نے ان کافروں سے لڑائی شروع کردی یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور اُن کے دونوں ساتھی بھی شہید ہوگئے۔ جب حضرت عاصم شہید ہو گئے تو قبیلہ ہذیل نے اُن کا سر کاٹنا چاہا تاکہ یہ سر سُلافہ بنتِ سعد بن شہید کے ہاتھ بیچ دیں ، کیوں کہ جب حضرت عاصم نے سُلافہ کے بیٹے کو جنگ ِاُحد کے دن قتل کیا تھا تو سُلافہ نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اسے حضرت عاصم کا سر مل گیا تو وہ ان کی کھوپڑی میں شراب پیے گی۔ (جب قبیلہ ہذیل کے لوگ اُن کا سر کاٹنے کے لیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا ایک غول بھیج دیا جس نے حضرت عاصم کے جسم کو ہر طرف سے گھیر لیا) اور ان مکھیوں نے قبیلہ ہذیل کے لوگوں کو اُن کے قریب نہ آنے دیا۔ جب یہ مکھیاں اُن کے اور حضرت عاصم کے درمیان حائل ہوگئیں تو اُن لوگوں نے کہا: ان کو ایسے ہی رہنے دو، جب شام کو یہ سب مکھیاں چلی جائیں گی تو پھر ہم آکر اُن کا سر کاٹ لیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی کی ایسی رَو بھیجی جو اُن کی نعش کو بہا کر لے گئی۔ حضرت عاصم ؓ نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ کبھی کسی مشرک کو ناپاک ہونے کی وجہ سے ہاتھ نہیں لگائیں گے اور نہ کوئی مشرک اُن کو ہاتھ لگا سکے۔ چنانچہ جب حضرت عمر ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ شہد کی مکھیوں نے ان کافروں کو قریب نہ آنے دیا تو وہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مؤمن بندے کی ایسے ہی حفاظت فرمایا کرتے ہیں ۔ حضرت عاصم نے تو اپنی زندگی کے لیے یہ نذر مانی تھی کہ انھیں کوئی مشرک ہاتھ نہ لگا سکے اور نہ ہی وہ کسی مشرک کو ہاتھ لگائیں گے، لیکن جیسے وہ زندگی میں مشرکوں سے بچے رہے ایسے ہی ان کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی مشرکوں سے حفاظت فرمائی۔ اور حضرت خُبَیب، حضرت زید بن دَثِنہ اور حضرت عبداللہ بن طارق ؓ نرم پڑگئے اور زندہ رہنے کو ترجیح دی اور خود کو اُن کافروں کے ہاتھوں میں دے دیا یعنی ان کے حوالے کر دیا۔ ان لوگوں نے ان تینوں کو قیدی بنا لیا۔ پھر وہ انھیں مکہ جا کر بیچنے کے لیے چلے گئے، یہاں تک کہ جب یہ لوگ مقام ِ ظہران پر پہنچے تو حضرت عبداللہ بن طارق نے اپنا ہاتھ کسی طرح رسی سے نکال لیا اور پھر انھوں نے اپنی تلوار پکڑ لی۔ اور وہ کافر اُن سے پیچھے ہٹ گئے اور ان کو پتھر مارنے لگے یہاں تک کہ ان کو (پتھر مار مار) کر شہید کر دیا۔ چنانچہ اُن کی قبر ظہران میں ہے۔ اور وہ کافر حضرت خُبَیب اور حضرت زید ؓ کو لے کر مکہ آئے۔ اور قبیلہ ہذیل کے دو آدمی مکہ میں قید تھے۔ ان کافروں نے ان دونوں حضرات کو اپنے دو قیدیوں کے بدلے میں قریش کے ہاتھ بیچ دیا۔ حضرت خُبَیب کو حجیر بن ابی اِہاب تمیمی نے خریدا اور حضرت زید بن دَثِنہ کو صفوان بن اُمیّہ نے اس لیے خریدا تاکہ انھیں اپنے باپ کے بدلے میں قتل کر سکے۔ چنانچہ صفوان نے نَسْطاس نامی اپنے غلام کے ساتھ اُن کو تنعیم بھیجا اور قتل کرنے کے لیے حرمِ مکہ سے باہر نکالا۔ قریش کا ایک مجمع جمع ہوگیا جن میں ابو سفیان بن حرب بھی تھے۔ جب حضرت زید کو قتل کرنے کے لیے آگے کیا گیا تو اُن سے ابو سفیان نے کہا: اے زید! میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم کو یہ پسند ہے کہ محمد ( ﷺ ) اس وقت ہمارے پاس ہوں اور ہم تمہاری جگہ اُن کی گردن مار دیں اور تم اپنے اہل وعیال میں رہو؟ تو حضرت زید نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم! مجھے تویہ بھی پسند نہیں ہے کہ محمد ﷺ اس وقت جہاں ہیں وہاں ہی اُن کو ایک کانٹا چبھے اور اس تکلیف کے بدلے میں ، میں اپنے اہل وعیال میں بیٹھا ہوا ہو ں ۔ ابو سفیان نے کہا کہ میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کر تے ہوئے نہیں دیکھا جتنی محبت محمد ﷺ کے صحابہ کو محمد سے ہے۔ پھر حضرت زید کو نَسْطاس نے قتل کر دیا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت خُبَیب بن عدی ؓ کے بارے میں مجھے حضرت عبد اللہ بن ابی نجیح نے یہ بتایا کہ انھیں یہ بتایا گیا کہ حجیر بن ابی اِہاب کی باندی ماریہ جو کہ بعد میں مسلمان ہوگئی تھیں ، نے بیان کیا کہ حضرت خُبَیب کو میرے پاس میرے گھر میں قید کیا گیا تھا۔ ایک دن میں نے اُن کو جھانک کر دیکھا تو اُن کے ہاتھ میں سر کے برابر انگور کا ایک خوشہ تھا جس سے وہ کھا رہے تھے، اور جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اس وقت رُوئے زمین پر کھانے کے قابل انگور کہیں نہیں تھا۔ ابنِ اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ اور حضرت عبد اللہ بن ابی نجیح نے کہاکہ حضرت ماریہ نے یہ بیان کیا کہ جب حضرت خُبَیب کے قتل ہونے کا وقت قریب آیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے ایک اُسترا دے دو تاکہ میں صفائی کر کے قتل کے لیے تیار ہو جائوں ۔ میں نے قبیلہ کے ایک لڑکے کو اُسترا دیا او ر اس سے کہا کہ اس مکان میں جاکر یہ اُسترا اس آدمی کو دے آئو۔ حضرت ماریہ کہتی ہیں کہ جوں ہی وہ لڑکا اُسترا لے کر اُن کی طرف چلا تو میں نے کہا: میں نے یہ کیا کیا؟ اللہ کی قسم! اس آدمی نے تو اپنے خون کا بدلہ پا لیا، یہ اس لڑکے کو قتل کر دے گا اور اس طرح اپنے خون کا بدلہ لے لے گا اور یوں آدمی کے بدلے آدمی قتل ہوگا۔ جب لڑکے نے اُن کو وہ اُسترا دیا تو انھوں نے اس کے ہاتھ سے اُسترا لیا اور پھر اس لڑکے سے کہا کہ تیری عمر کی قسم! جب تیری ماں نے تجھے یہ اُسترا دے کر میرے پاس بھیج دیا تو اسے یہ خطرہ نہ گزرا کہ میں تمہیں دھوکہ سے قتل کر دوں گا۔ پھر اس لڑکے کو جانے دیا۔ ابنِ ہشام کہتے ہیں کہ یہ لڑکا حضرت ماریہ کا اپنا بیٹا تھا۔ حضرت عاصم فرماتے ہیں : پھر وہ کافر حضرت خُبَیب ؓ کو لے کر (حرم سے) باہر آئے، اور اُن کو لے کر سولی دینے کے لیے مقام ِ تنعیم پہنچے۔ تو حضرت خُبَیب نے ان کافروں سے کہا: اگر تم مناسب سمجھو تو مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دے دو۔ انھوں نے کہا: لو نماز پڑھ لو۔ چنانچہ انھوں نے نہایت عمدہ طریقے سے دو رکعت نماز مکمل طور سے ادا کی۔ پھر ان کافروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: غور سے سنو، اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ سمجھو گے کہ میں موت کے ڈر کی وجہ سے نماز لمبی کر رہا ہوں تو میں اور نماز پڑھتا۔ اور قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنے کی سنت کو حضرت خُبَیب نے مسلمانوں کے لیے سب سے پہلے شروع کیا۔ پھر کافروں نے اُن کو سولی کے تختہ پر لٹکا دیا۔ جب انھوں نے ان کو اچھی طرح باندھ دیا تو انھوں نے فرمایا: اے اللہ! ہم نے تیرے رسول کا پیغام پہنچا دیا ہے، اور ہمارے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے اس کی ساری خبر کل اپنے رسول کو کر دینا۔ پھر انھوں نے یہ بد دعا کی: اے اللہ! ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑنا اور ان کو ایک ایک کر کے مار دینا اور ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑنا۔ پھر ان کا فروں نے ان کو قتل کر دیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں بھی اس دن اپنے والد ابو سفیان کے ساتھ دیگر کافروں کی ہمرا ہی میں وہاں موجود تھا۔ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ وہ حضرت خُبَیب کی بد دعا کے ڈر سے مجھے زمین پر لٹا رہے تھے، کیوں کہ اس زمانے میں لوگ کہا کرتے تھے کہ جس کے خلاف بد دعا ہو رہی ہو وہ اپنے پہلو پر لیٹ جائے تو وہ بد دعا اسے نہیں لگتی بلکہ اس سے پھسل جاتی ہے۔ مغازی موسیٰ بن عقبہ میں یہ مضمون ہے کہ حضرت خُبَیب اور حضرت زید بن دَثِنہ ؓ دونوں ایک دن شہید کیے گئے۔ اور جس دن یہ حضرات قتل کیے گئے اس دن سنا گیا کہ حضور ﷺ فرما رہے تھے: وَعَلَیْکُمَا السَّلَامُ یا وَعَلَیْکَ السَّلَامُ، خُبَیب کو قریش نے قتل کر دیا۔ اور آپ نے یہ بتایا کہ جب کافروں نے حضرت خُبَیب کو سولی پر چڑھا دیا تو اُن کو اُن کے دین سے ہٹانے کے لیے کافروں نے ان کو تیر مارے، لیکن اس سے ان کا ایمان اور تسلیم اوربڑھا۔ حضرت عروہ اور حضرت موسیٰ بن عقبہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب کافر حضرت خُبَیب کو سولی پر چڑھانے لگے تو انھوں نے بلند آواز سے اُن کو قسم دے کر پوچھا: کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ (حضرت) محمد ( ﷺ ) تمہاری جگہ ہوں (اور اُن کو سولی دے دی جائے)؟ حضرت خُبَیب نے فرمایا: نہیں ۔ عظیم اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میرے بدلے میں اُن کے پائوں میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ اس پر وہ لوگ ہنسنے لگے۔ ابنِ اسحاق نے اس بات کو حضرت زید بن دَثِنہ کے قصہ میں ذکر کیا ہے، فا للہ اعلم۔ طبرانی نے حضرت عروہ بن زُبیر ؓ کی لمبی حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ جو مشرکین جنگ ِبدر کے دن قتل کیے گئے تھے اُن کی اولاد نے حضرت خُبَیب ؓ کو قتل کیا۔ جب مشرکوں نے اُن کو سولی پر چڑھا کر (مارنے کے لیے) اُن پر ہتھیار تان لیے تو بلند آواز سے حضرت خُبَیب کو قسم دے کر پوچھنے لگے: کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ (حضرت) محمد ( ﷺ ) تمہاری ؒجگہ ہوں ؟ انھوں نے فرمایا: نہیں ۔ عظیم اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میرے بدلے میں اُن کے پائوں میں ایک کانٹا چبھے۔ اس پر وہ کافر ہنس پڑے۔ جب مشرک حضرت خُبَیب ؓ کو سولی پر لٹکانے لگے تو انھوں نے یہ اَشعار پڑھے: لَقَدْ جَمَّعَ الْأَحْزَابُ حَوْلِيْ وَأَلَّبُوْا قَبَائِلَھُمْ وَاسْتَجْمَعُوْاکُلَّ مَجْمَعٖ میرے اِرد گرد کافروں کے گروہ جمع ہیں اور انھوں نے اپنے قبیلوں کو بھی جمع کیا ہوا ہے اور اِدھر اُدھر کے سب لوگ پوری طرح جمع ہیں ۔ وَقَدْ جَمَّعُوْا أَبْنَائَ ھُمْ وَنِسَائَ ھُمْ وَقُرِّبْتُ مِنْ جِذْعٍ طَوِیْلٍ مُّمَنَّعٖ اور انھوں نے اپنے بیوی بچوں کو بھی جمع کیا ہوا ہے اور مجھے (سولی پر لٹکانے کے لیے) ایک لمبے اور مضبوط کھجور کے تنے کے قریب کر دیا گیا ہے۔ إِلَی اللّٰہَ أَشْکُوْ غُرْبَتِيْ ثُمَّ کُرْ بَتِيْ وَمَا أَرْصَدَ الْأَحْزَابُ لِيْ عِنْدَ مَصْرَعِيْ میں وطن سے دوری کی اور اپنے رنج وغم کی اور اُن چیزوں کی اللہ ہی سے شکایت کرتا ہوں ، جو اُن گروہوں نے میرے قتل ہونے کی جگہ پر میرے لیے تیار کر رکھی ہیں ۔ فَذَا الْعَرْشِ صَبِّرْنِيْ عَلٰی مَا یُرَادُ بِيْ فَقَدْ بَضَّعُوْا لَحْمِيْ وَقَدْ بَانَ مَطْمَعِيْ اے عرش والے! یہ کافر مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اس پر مجھے صبر عطا فرما۔ ان لوگوں نے میرا گوشت کاٹ ڈالا ہے اور میری اُمید ختم ہوگئی ہے۔ وَذٰلِکَ فِيْ ذَاتِ الْإِلٰہِ وَإِنْ یَّشَأْ یُبَارِکْ عَلٰی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُّمَزَّعٖ اور یہ سب کچھ اللہ کی ذات کی وجہ سے (میرے ساتھ) ہو رہا ہے، اور اگر اللہ چاہے تو وہ میرے جسم کے کٹے ہوئے حصوں میں برکت ڈال سکتا ہے۔ لَعَمْرِيْ مَا أَحْفِلُ إِذَا مِتُّ مُسْلِمًا عَلٰی أَيِّ حَالٍ کَانَ لِلّٰہِ مَضْجَعِيْ میری عمر کی قسم! جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں مر رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ کس حالت میں میں اللہ کے لیے جان دے رہا ہوں ۔ اور ابنِ اسحاق نے ان اَشعار کو ذکر کیا ہے اور پہلے شعر کے بعد یہ شعر بھی ذکر کیا ہے: وَکُلُّھُمْ مُبْدِي الْعَدَاوَۃِ جَاھِدٌ عَلَيَّ لِأَنِّيْ فِيْ وَثَاقٍ بِمَضْیَعٖ اور یہ سب دشمنی ظاہر کر رہے ہیں اور میرے خلاف پوری طرح کوشش کر رہے ہیں ، کیوں کہ میں بیڑیوں میں ہلاکت کی جگہ میں ہوں ۔ اور پانچویں شعر کے بعد ابنِ اسحاق نے یہ اَشعار بھی ذکر کیے ہیں : وَقَدْ خَیَّرُوْنِي الْکُفْرَ وَالْمَوْتُ دُوْنَہٗ وَقَدْ ھَمَلَتْ عَیْنَايَ مِنْ غَیْرِ مَجْزَعٖ ان لوگوں نے مجھے موت اور کفر کے درمیان اختیار دیا حالاں کہ موت اس سے بہتر ہے، میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں لیکن یہ کسی گھبراہٹ کی وجہ سے نہیں بہہ رہے ہیں ۔ وَمَا بِيْ حِذَارُ الْمَوْتِ إِنِّيْ لَمَیِّتٌ وَلٰکِنْ حِذَارِيْ جَحْمُ نَارٍ مُّلَفَّعٖ مجھے موت کا کوئی ڈر نہیں ہے، کیوں کہ میں نے مرنا تو ضرور ہے۔ مجھے تو لپٹ مارنے والی آگ کی لپٹ کا ڈر ہے۔ فَوَاللّٰہِ مَا أَرْجُوْ إِذَا مِتُّ مُسْلِمًا عَلٰی أَيِّ جَنْبٍ کَانَ فِي اللّٰہِ مَضْجَعِيْ اللہ کی قسم! جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں مر رہا ہوں تو اس بات کا مجھے کوئی ڈر نہیں ہے کہ مجھے اللہ کے لیے کس پہلو پر لیٹنا ہوگا۔ فَلَسْتُ بِمُبْدٍ لِلّعَدُوِّ تَخَشُّعًا وَلَا جَزَعًا إِنِّيْ إِلَی اللّٰہِ مَرْجِعِيْ میں دشمن کے سامنے عاجزی اور گھبراہٹ ظاہر کرنے والا نہیں ہوں ، کیوں کہ مجھے تو اللہ کے ہاں لوٹ کر جانا ہے۔
1

Comments