{🌹} تبلیغی بیانات {🌹}
February 6, 2025 at 04:37 PM
کتاب: تاریخِ اسلام
قسط نمبر 153
سیدنا ابوبکرصدیق ؓ
عنوان: مالک بن نویرہ کا قتل
: مسیلمہ کذاب
: قومیت کی گمراہی
: گھمسان کا مقابلہ
مالک بن نویرہ کا ذکر اوپر آ چکا ہے کہ اس نے وفات نبوی ﷺ کی خبر سن کر اظہار مسرت کیا تھا‘ پھر سجاح کے ساتھ بھی اس نے مصالحت کی تھی‘ مگر بعد میں اس کے لشکر سے جدا ہو کر چلا گیا تھا‘ اب جب کہ مالک بن نویرہ گرفتار ہو کر آیا اور سیدنا خالد بن ولید ؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز جواباً آئی تھی اس لیے اس کو قتل نہیں کرنا چاہیے‘ بعض نے کہا کہ انہوں نے جواباً اذان نہیں کہی‘ یہ خلیفہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کے موافق واجب القتل ہے‘ سیدنا خالد بن ولید ؓ نے جہاں تک تحقیق و تفتیش کی یقینی اور قطعی شہادت اس معاملہ میں دستیاب نہ ہوئی‘ اس پر طرہ یہ ہوا کہ مالک بن نویرہ نے جب سیدنا خالد بن ولید ؓ سے گفتگو کی تو اس کی زبان سے اثناء گفتگو میں کئی بار یہ نکلا کہ تمہارے صاحب نے ایسا فرمایا یا تمہارے صاحب کا ایسا حکم ہے وغیرہ اس ’’ تمہارے صاحب‘‘ سے مراد رسول اللہ ﷺ تھے‘ سیدنا خالد بن ولید ؓ نے یہ لفظ سن کر غصہ سے فرمایا کیا وہ تیرے صاحب نہ تھے‘ اس پر اس نے کوئی مناسب جواب نہیں دیا‘ طبری کی روایت کے موافق سیدنا ضرار بن الازور ؓ اس وقت شمشیر بدست کھڑے تھے انہوں نے سیدنا خالد ؓ کا اشارہ پاتے ہی اس کا سر اڑا دیا۔
یہ میدان جنگ کا نہایت معمولی سا واقعہ تھا لیکن مورخین کو اس کا خاص طور پر اس لیے ذکر کرنا پڑا کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ بھی سیدنا خالد بن ولید ؓ کی فوج میں شامل تھے اور وہ انہیں لوگوں میں تھے جو یہ کہتے تھے کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز آئی تھی لہذا مالک بن نویرہ کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔
بعض مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مالک بن نویرہ کو سیدنا خالد ؓ بن ولید نے قتل نہیں کرایا بلکہ انہوں نے مزید تحقیق حال کے لیے مالک بن نویرہ کو ضرار ؓ بن الازور کی حراست میں دے دیا تھا اور اتفاقاً رات کے وقت دھوکے سے مالک بن نویرہ ضرارا بن ؓ الازور کے ہاتھ سے قتل ہوا۔
بہرحال سیدنا ابوقتادہ ؓ بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنی ناراضی کا اظہار اس طرح کیا کہ وہ خالد بن ولید ؓ سے بلا اجازت لیے خفا ہو کر مدینے میں چلے آئے اور یہاں آ کر شکایت کی کہ خالد بن ولید ؓ مسلمانوں کو قتل کرتا ہے‘ سیدنا عمرفاروق ؓ اور دوسرے مسلمانوں نے مدینہ میں جب یہ بات سنی تو خالد بن ولید ؓ کے متعلق سیدنا ابوبکرصدیق ؓ سے شکایت کی اور کہا کہ خالد ؓ کو معزول کر کے اس سے قصاص لینا چاہیے۔
مدینہ منورہ میں سیدنا خالد ؓ کے متعلق عام ناراضی اس لیے بھی پھیل گئی اور قتل مسلم کا الزام اس لیے اور بھی ان پر تھپ گیا کہ سیدنا خالد بن ولید ؓ نے بعد میں مالک بن نویرہ کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا‘ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے یہ سب کچھ سن کر سیدنا ابوقتادہ ؓ کو مجرم قرار دیا کہ خالد ؓ کی بلا اجازت کیوں لشکر سے جدا ہو کر چلے آئے‘ ان کو حکم دیا گیا کہ واپس جائیں اور خالد ؓ کے لشکر میں شامل ہو کر ان کے ہر ایک حکم کو بجا لائیں چنانچہ ان کو واپس جانا پڑا۔
سیدنا عمر فاروق ؓ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم کو سمجھایا کہ خالد ؓ پر زیادہ سے زیادہ ایک اجتہادی غلطی کا الزام عائد ہو سکتا ہے‘ فوجی نظام اور آئین جنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے خالد ؓ کو جو سیف من سیوف اللہ ہیں نہ زیر قصاص لایا جا سکتا ہے نہ معزول کیا جا سکتا ہے‘ سیدنا صدیق اکبر ؓ نے مالک بن نویرہ کا خوں بہا بیت المال سے ادا کر دیا۔
ایک اسی واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنے دشمنوں کے قتل کرنے میں کس قدر احتیاط مدنظر رہتی تھی اور وہ کسی معمولی شخص کے لیے ایک قیمتی سپہ سالار کو بھی حق و انصاف کی عزت قائم رکھنے کے واسطے قتل کرنا اور زیر قصاص لانا ضروری سمجھتے تھے۔
: مسیلمہ کذاب
فتح مکہ کے بعد جو وفود قبائل کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر مسلمان ہوئے تھے ان میں مسیلمہ بن حبیب بھی بنو حنیفہ کے وفد میں شامل تھا‘ جس کا اوپر عہد نبوی ﷺ کے واقعات میں تذکرہ آ چکا ہے‘ جب وہ اپنے وطن یمامہ کی طرف واپس ہوا تو انہیں ایام میں رسول اللہ ﷺ کی ناسازی طبع کی خبر مشہور ہوئی‘ مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں خط روانہ کیا کہ نبوت میں آپ ﷺ اور میں دونوں شریک ہیں ‘ لہذا نصف ملک قریش کا اور نصف میرا رہے گا‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جواباً لکھا کہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط من محمد رسول اللہ الی مسیلمۃ الکذاب سلام علی من اتبع الھدی امابعد فان الارض للہ یور ثھا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین۔
’’شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ کے رسول محمد( ﷺ ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام! سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! بے شک (یہ زمین اللہ کی ہے‘ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور (بہتر) انجام کار اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہے۔‘‘
اس جواب کے روانہ کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بنو حنیفہ کے ایک معزز شخص رجال بن عنفوہ کو‘ جو ہجرت کر کے مدینہ میں آ گیا تھا اور اس کا اپنی قوم پر بوجہ ہجرت کر جانے کے اور بھی زیادہ اثر تھا‘ مسیلمہ کے پاس روانہ کیا کہ اس کو نصیحت کر کے اسلام پر قائم کرے۔ رجال نے یمامہ میں پہنچ کر مسیلمہ کی تائید کی اور اس کا متبع بن گیا‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسیلمہ کی خوب گرم بازاری ہو گئی۔
وفات نبوی ﷺ کے بعد مسیلمہ کذاب کا فوراً تدارک نہ ہو سکا کیونکہ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ کی توجہ مختلف جہات پر تقسیم ہو گئی تھی‘ عکرمہ ابن ابی جہل کو مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے نام زد فرما کر روانہ کیا گیا تھا اور ان کے پیچھے شرجیل بن حسنہ ؓ کو کمک دے کر روانہ کیا تھا‘ عکرمہ ؓ نے مسیلمہ کے قریب پہنچ کر شرجیل کے شریک ہونے سے پہلے ہی شتاب زدگی سے حملہ کر کے شکست کھائی۔
اس خبر کو سن کر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے عکرمہ ؓ کو لکھا کہ تم اب مدینہ واپس نہ آئو بلکہ حذیفہ و عرفجہ کے پاس چلے جائو‘ اور ان کی ماتحتی میں مہرہ اور اہل عمان سے لڑو۔ جب اس مہم سے فارغ حال ہو جائو تو معہ اپنے لشکر کے مہاجر بن ابی امیہ ؓ کے پاس یمن و سیدنا موت میں چلے جائو۔
اور شرجیل بن حسنہ کو لکھا کہ تم خالد ؓ بن ولید ؓ کے صوبہ جات کی طرف جا کر وہاں سے قضاعہ کی طرف چلے جائو اور عمروبن بن العاصی کے شریک ہو کر ان لوگوں سے جنگ کرو جو قضاعہ میں سے مرتد ہو گئے ہیں ‘ اس عرصہ میں سیدنا خالد بن ولید ؓ بطاح یعنی بنو تمیم کے علاقہ سے فارغ ہو چکے تھے‘ وہ اپنی مہم کو پورے طور پر انجام دے کر واپس مدینہ منورہ میں تشریف لائے‘ یہاں دربار خلافت میں حاضر ہو کر ان کو مالک بن نویرہ کے معاملہ میں صفائی پیش کرنی پڑی‘ سیدنا عمر فاروق ؓ اگرچہ سیدنا خالد ؓ کے ساتھ سخت گیری اور تعزیر و سزا دہی کا برتائو ضروری سمجھتے تھے‘ مگر سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے ان کو معذور و بے گناہ پا کر قابل مواخذہ نہ سمجھا اور اپنی رضا مندی کا اظہار فرما کر ان کو سرخ روئی کے ساتھ مہاجرین و انصار کا ایک لشکر دے مسیلمہ کذاب کی طرف روانہ فرمایا۔
: قومیت کی گمراہی
مسیلمہ کے پاس قبیلہ ربیعہ کے چالیس ہزار جنگ جو جمع ہو گئے تھے‘ ان لوگوں میں بعض ایسے بھی تھے جو مسیلمہ کو نبوت کے دعوے میں جھوٹا سمجھتے تھے‘ مگر ہم قومیت کے سبب اس کی کامیابی کے خواہاں تھے‘ ان لوگوں کا قول تھا کہ مسیلمہ جھوٹا ہے اور محمد ﷺ سچے ہیں ‘ لیکن ہم کو ربیعہ کا جھوٹا نبی مضر کے سچے نبی سے زیادہ عزیز ہے‘ سیدنا خالد ؓ بن ولید کوروانہ کرنے کے بعد سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے ان کی امداد و اعانت کے لیے اور فوجیں بھی روانہ کیں جو راستہ میں سیدنا خالد بن ولید ؓ کے لشکر میں شامل ہوتی رہیں ‘ سیدنا خالد ؓ بن ولید کے لشکر کی کل تعداد تیرہ ہزار نفوس پر مشتمل تھی‘ جب شہر یمامہ ایک دن کے راستہ پر رہ گیا تو سیدنا خالد ؓ بن ولید نے ایک دستہ بطور مقدمۃ الجیش آگے روانہ کیا۔
اسی روز مسیلمہ نے مجاعہ بن مرارہ کو ساٹھ آدمیوں کی جماعت کے ساتھ روانہ کیا تھا کہ جا کر بنو تمیم پر شب خون مارے‘ مجاعہ کا مقابلہ لشکر اسلام کے مقدمۃ الجیش سے ہو گیا‘ نتیجہ یہ ہوا کہ کہ تمام مرتدین مقتول ہوئے اور ان کے سردار مجاعہ کو گرفتار کر کے سیدنا خالد بن ولید ؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
سیدنا خالد بن ولید ؓ آگے بڑھ کر شہر یمامہ کے قریب پہنچے تو مسیلمہ شہر یمامہ سے نکل کر دروازہ شہر کے قریب ایک باغ میں جس کا نام اس نے حدیقۃ الرحمن رکھا تھا خیمہ زن ہوا‘ اس باغ کی چار دیواری خوب مضبوط اور قلعہ نما تھی‘ لشکر مسیلمہ کی سپہ سالاری رجال بن عنفوہ اور محکم بن طفیل کے سپرد تھی۔
: گھمسان کا مقابلہ
انہوں نے چالیس ہزار کے لشکر جرار کو سیدنا خالد ؓ بن ولید کے تیرہ ہزار مسلمانوں پر حملہ آور کیا‘ یہ حملہ نہایت سخت اور زلزلہ انداز تھا‘ مسلمانوں نے نہایت صبرو استقلال کے ساتھ اس حملہ کو روکا اور ہر طرف سے سمٹ کر اور اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر دشمنوں پر بھوکے شیروں کی طرح حملہ آور ہوئے تو لشکر کذاب کے پائوں اکھڑ گئے اور وہ بدحواسی کے عالم میں آوارہ و فرار ہونے لگے‘ محکم بن طفیل نے اپنے لشکر کی یہ حالت دیکھ کر بلند آواز سے کہا کہ ’’ اے بنو حنیفہ باغ میں داخل ہو جائو اور میں تمہارے پیچھے آنے والے حملہ آوروں کو روک رہا ہوں ‘ یہ آواز سن کر بھاگنے والے سب باغ میں داخل ہو گئے‘ محکم بن طفیل تھوڑی دیر لڑتا رہا‘ آخر عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے ہاتھ سے مقتول ہوا‘ لیکن ابھی تک فتح و شکست کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘ مرتدین بھی سنبھل کر پھر مقابلہ پر ڈٹ گئے اور طرفین سے داد شجاعت دی جانے لگی‘ مسلمانوں کے علمبردار سیدنا ثابت بن قیس ؓ شہید ہوئے تو سیدنا زید بن خطاب ؓ نے علم اپنے ہاتھ میں لے لیا‘ مسلمانوں نے ایسی چپقلش مردانہ دکھائی کہ دشمن پیچھے ہٹتے ہٹتے باغ کی دیواروں کے نیچے پہنچ گیا‘ باغ کے دروازے پر تھوڑی دیر تک سخت لڑائی ہوئی‘ آخر مسلمانوں نے باغ کا دروازہ بھی توڑ دیا اور جا بجا سے دیواریں توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔
لوگوں نے مسیلمہ سے دریافت کیا ’’کہ وہ فتح کا وعدہ کب پورا ہو گا جو تیرا اللہ تعالیٰ تجھ سے کر چکا ہے‘‘ اس نے جواب دیا کہ یہ وقت ایسی باتوں کے دریافت کرنے کا نہیں ہے‘ ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اہل و عیال کے لیے لڑے‘ باغ کے اندر بھی جب ہنگامہ زور دار گرم ہوا تو مسیلمہ مجبوراً مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور لوگوں کو لڑنے کے لیے آمادہ کرنے لگا‘ جب اس نے ہر طرف مسلمانوں کو چیرہ دست دیکھا تو گھوڑے سے اتر کر باغ کے باہر چپکے سے جانے لگا‘ اتفاقاً دروازہ باغ کے قریب وحشی (قاتل سیدنا حمزہ ؓ ) کھڑا تھا‘ اس نے اپنا حربہ پھینک مارا جو مسیلمہ کی دوہری زرہ کو کاٹ کر اس کے پیٹ کے پار نکل گیا۔
بالآخر دشمنوں میں سے جس کو جس طرف راستہ ملا بھاگا اور تھوڑی دیر میں مسلمانوں کے سوا مرتدوں میں کوئی نظر نہ آتا تھا‘ اس لڑائی میں دشمنوں کے سترہ ہزار آدمی غازیان اسلام کے ہاتھ سے مقتول ہوئے‘ اور ایک ہزار سے کچھ زیادہ مسلمانوں کو درجہ شہادت حاصل ہوا‘ لیکن مسلمانوں میں زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی‘ شہید ہونے والوں میں حفاظ کلام اللہ بہت سے تھے‘ تین سو ساٹھ انصار اور تین سو ساٹھ تابعین اس لڑائی میں شہید ہوئے‘ لڑائی ختم ہونے کے بعد سیدنا خالد ؓ نے مجاعہ بن مرارہ کو جو قید میں تھا اپنے ہمراہ لے کر لاشوں کا معائنہ کیا اور سرداران لشکر مسیلمہ اور خود مسیلمہ کی لاش کو مجاعہ نے شناخت کیا۔
بنو حنیفہ یعنی لشکر مسیلمہ کے بقیۃ السیف تو آوارہ و مفرور ہو چکے تھے‘ شہر اور قلعہ یمامہ میں عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی مرد باقی نہ تھا‘ اور زخمیوں کی مرہم پٹی ضروری سمجھ کر سیدنا خالد ؓ بن ولید نے اسی روز شہر یمامہ پر قبضہ کرنا ضروری نہ سمجھا‘ ان کا ارادہ تھا کہ کل صبح شہر پر قبضہ کرنے کے لیے بڑھیں گے۔
مجاعہ بن مرارہ نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی نہ کی‘ اس نے خالد ؓ بن ولید سے کہا کہ ہمارے جس قدر سردار معہ مسیلمہ مارے گئے ہیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ نے مہم کو پورا کر لیا ہے ابھی ان سے بہت زیادہ بہادر جنگ جو لوگ باقی ہیں اور وہ شہر کی مضبوط فصیلوں اور سامان رسد‘ نیز سامان حرب کی کافی فراہمی سے فائدہ اٹھا کر آپ کو ناک چنے چبوا دیں گے‘ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے مجھے چھوڑ دیجئے تاکہ میں شہر میں جا کر ان سب لوگوں کو اس بات پر رضا مند کر لوں کہ وہ آپ کا مقابلہ نہ کریں اور شہر کو بہ رضا مندی صلح کے ساتھ آپ کے سپرد کر دوں ‘ سیدنا خالد ؓ نے مجاعہ سے کہا میں تجھ کو قید سے رہا کئے دیتا ہوں تو جا کر اپنی قوم کو صلح پر آمادہ کر‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائے دیتا ہوں کہ صرف میں ان کے نفوس کی بابت صلح کروں گا۔
مجاعہ لشکر اسلام سے روانہ ہو کر شہر میں گیا اور وہاں شہر کی عورتوں کو مسلح ہو کر فصیل شہر پر کھڑے ہونے کی ہدایت کر کے جو کچھ سمجھانا تھا سمجھا دیا اور واپس آ کر کہا کہ میری قوم محض اپنی جانوں کی بابت صلح کرنا نہیں چاہتی سیدنا خالد ؓ بن ولید نے شہر کی طرف نظر ڈالی تو تمام فصیل تلواروں اور نیزوں سے چمک رہی تھی اور مسلح آدمیوں کی کثرت جو مجاعہ نے بیان کی تھی اس کی تصدیق ہو رہی تھی‘ سیدنا خالد بن ولید ؓ نے زخمیوں کی کثرت اور مہم کے جلد ختم کرنے کے خیال سے صلح کو مناسب سمجھ کر اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ نصف مال و اسباب اور نصف مزروعہ باغات اور نصف قیدیوں کو بنو حنیفہ کے لیے چھوڑ دیں گے‘ مجاعہ پھر شہر میں گیا اور واپس آ کر کہا کہ وہ لوگ اس پر بھی رضا مند نہیں ہوتے‘ آپ ایک ربع مال و اسباب وغیرہ لے کر صلح کر لیں ‘ سیدنا خالد بن ولید ؓ نے چوتھائی اموال و املاک پر صلح کر لی اور صلح نامہ لکھا گیا۔
اس کے بعد جب دروازہ کھلوا کر اندر گئے تو وہاں سوائے عورتوں اور بچوں کے کسی مرد کا نام و نشان نہ پایا‘ سیدنا خالد ؓ نے مجاعہ سے کہا کہ تو نے ہمارے ساتھ فریب سے کام لیا ہے‘ اس نے کہا کہ میری قوم بالکل تباہ ہو جاتی‘ میرا فرض تھا کہ اپنی قوم کو مصیبت سے بچائوں ‘ آپ مجھے معاف فرمائیے‘ سیدنا خالد بن ولید ؓ خاموش ہو رہے ‘ اور عہد نامہ کی خلاف ورزی کا خیال تک بھی ان کے دل میں نہ آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسیلمہ بن وقش سیدنا ابوبکرصدیق ؓ کا ایک خط لے کر پہنچے اس میں لکھا تھا کہ اگر تم کو بنو حنیفہ پر فتح حاصل ہو تو ان کے بالغ مردوں کو قتل کیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جائے لیکن اس خط کے پہنچنے سے پہلے صلح نامہ لکھا جا چکا تھا‘ لہذا اس کی تعمیل نہ ہو سکی‘ پاس عہد اور ایفائے وعدہ کی مثالوں کا یہ واقعہ بھی خصوصیت سے قابل تذکرہ ہے۔
سیدنا خالد بن ولید ؓ نے بنو حنیفہ کے ایک وفد کو سیدنا ابوبکرصدیق ؓ کی خدمت میں روانہ کیا‘ ایک خط خلیفہ ؓ کی خدمت میں لکھ کر ان کو دیا‘ اس خط میں فتح کا مفصل حال اور بنو حنفیہ کے دوبارہ داخل اسلام ہونے کی خبر درج تھی‘ صدیق اکبر ؓ نے اس وفد سے عزت و احترام کے ساتھ ملاقات کی اور محبت کے ساتھ ان کو رخصت کیا‘ جنگ یمامہ ماہ ذی الحجہ ۱۱ ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔
❤️
✍
👍
💯
7