1️⃣(IMS) Islamic Message Service official
February 13, 2025 at 11:28 AM
ماہ شعبان:
*نصف شعبان یعنی شب برات میں عبادات یعنی نفل نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے وغیرہ کے بارے بھی تمام روایات ضعیف اور موضوع ہیں اس بارے چند احادیث کی تخریج پیش خدمت ہے*
*پہلی حدیث*
📚حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی ( کسی بیماری یا مصیبت میں ) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟
(سنن ابن ما جہ حدیث نمبر-1388)
(الألباني (١٤٢٠ هـ)، ضعيف الجامع 652 • موضوع )
🚫یہ حدیث موضوع یعنی جھوٹی ھے،
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی طرف اس بات کو منسوب کرنا آپ کی طرف جھوٹ باندھنا ھے-
علامہ ہیثمی مجمع الزوائد مے تحریر فرماتے ھیں“اس حدیث کی سند ضعیف ھے اور ضعف ابن ابی سبرہ کی وجہ سے ھے اس کا نام ابو بکر بن عبدالله بن محمد ابن ابی سبرہ ھے-اس کے متعلق امام احمد بن حنبل اور یحیئ بن معین نے کہا کے یے احادیث گھڑا کرتا تھا-
الغرض یے حدیث جھوٹی ھئ
(تہزیب التہزیب٢٨:١٢)
*دوسری حدیث*
📚حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
(اِذَا کَانَ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ نَادٰی مُنَادٍ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَہٗ؟ ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأَعْطِیَہُ؟ فَلَایَسْاَلُ اَحَدٌ شَیْئًا اِلاَّ أُعْطِیَ اِلاَّ زَانِیَۃٌ بِفَرْجِھَا أَوْ مُشْرِکٌ
’’جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو ایک پکار لگانے والا پکار لگاتا ہے کہ ہے کوئی بخشش طلب کرنے والاکہ میں اس کو بخش دوں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں؟ پس نہیں کوئی سوال کرتا کسی چیز کے بارے میں مگر اس کو وہ چیز دے دی جاتی ہے سوائے اُس عورت کے جو اپنی شرم گاہ کے ساتھ زنا کرتی ہے اور مشرک کے ‘‘۔
🚫یہ روایت بھی ضعیف ہے
دیکھیں
(ضعیف الجامع الصغیر:653‘ علامہ البانی)
*تیسری حدیث*
عائشہ رض سے روائیت ہے کہ،
📚(اِنَّ اللّٰہَ یَطَّلِعُ عَلٰی عِبَادِہٖ فِیْ لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَـیَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِیْنَ وَیَرْحَمُ الْمُسْتَرْحِمِیْنَ وَیُؤَخِّرُ اَھْلَ الْحِقْدِ کَمَا ھُمْ)
’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس استغفار کرنے والوں کو بخش دیتے ہیں اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم کرتے ہیں اور اہل بغض کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں ۔‘‘
🚫یہ روایت بھی ضعیف ہے،
(ضعیف الجامع الصغیر:1739‘علامہ البانی)
🚫*چوتھی روائیت*
📚راشد بن سعد سے نصف شعبان کی رات کے بارے میں مرسلاً مروی ہے :
یُوْحِی اللّٰہُ اِلٰی مَلَکِ الْمَوْتِ یَقْبِضُ کُلَّ نَفْسٍ یُرِیْدُ قَبْضَھَا فِیْ تِلْکَ السَّنَۃِ
’’اللہ تعالیٰ( اس رات میں ) ملک الموت کی طرف وحی کرتے ہیں کہ وہ ہر اُس جان کو قبض کر لے جس کو اللہ تعالی ٰنے اس سال میں قبض کرنے کا ارادہ کیا ہے‘‘۔
🚫یہ روایت بھی ضعیف ہے،
(ضعیف الجامع الصغیر:4019‘علامہ البانی)
*🚫پانچویں روائیت*
📚۔حضرت ابواسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
خَمْسُ لَـیَالٍ لَا تُرَدُّ فِیْھِنَّ دَعْوَۃٌ : أَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ رَجَبَ وَلَیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلَیْلَۃُ الْجُمُعَۃِ وَلَیْلَۃُ الْفِطْرِ وَلَیْلَۃُ النَّحْرِ (۲۲)
’’پانچ راتیں ایسی ہیں کہ ان میں کوئی دعا ردّ نہیں ہوتی: رجب کے مہینے کی پہلی رات ‘ نصف شعبان کی رات ‘ جمعہ کی رات ‘ عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات ۔‘‘
🚫یہ روائیت بھی ضعیف ہے،
(دیکھیں ضعیف الجماع الصغیر ،2852)
🚫*چھٹی حدیث*
📚۔قَالَ رَسوْلُ اللّٰہِ ﷺ :
مَنْ صَلّٰی فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ مِائَۃَ رَکْعَۃٍ اَرْسَلَ اللّٰہُ اِلَیْہِ مِائَۃَ مَلَکٍ ثَلاَثُوْنَ یُبَشِّرُوْنَہٗ بِالْجَنَّۃِ وَثَلاَثُوْنَ یَؤْمِنُوْنَہٗ عَنْ عَذَابِ النَّارِ وَثَلاَثُوْنَ یَدْفَعُوْنَ عَنْہُ آفَاتِ الدُّنْیَا وَعَشْرَۃٌ یَدْفَعُوْنَ عَنْہُ مَکَائِدَ الشَّیْطَانِ
’’اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :’’جو شخص بھی اس رات سو رکعات ادا کرے گا اللہ تعالیٰ اُس کی طرف سو فرشتوں کو بھیجے گا ‘تیس فرشتے اس کو جنت کی خوشخبری دیں گے ‘تیس اس کو آگ کے عذاب سے امن دیں گے ‘ تیس اس سے دنیا کی آفات کودُور کریں گے اور دس اس سے شیطان کی چالوں کو دور کریں گے ۔‘‘
☝️🚫یہ روایت بھی موضوع من گھڑت ہے،
دیکھیں
(ابن جوزی الموضوعات‘‘ کتاب الصلاۃ‘ باب صلاۃ اللیلۃ النصف من شعبان)
🚫*ساتویں حدیث*
📚۔مَنْ صَلّٰی لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یَقْرَأُ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ثَلَاثِیْنَ مَرَّۃً لَمْ یَمُتْ حَتَّی یَرٰی مَقْعَدَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ
’’جس نے نصف شعبان کی رات کو بارہ رکعات ادا کیں اور ہر رکعت میں ’’قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ تیس مرتبہ پڑھی تو وہ اپنے مرنے سے پہلے جنت میں اپنا مقام دیکھ لے گا اور گھر کے ان دس افراد کی شفاعت کرے گاجن کے لیے آگ واجب ہو چکی ہو ۔‘‘
☝️🚫یہ روایت بھی منگھڑت موضوع ہے
(دیکھیں: اللآلی المصنوعۃ‘ علامہ سیوطی‘ کتاب الصلاۃ)
*آٹھویں حدیث*
حضرت علی رض سے
📚منْ أَصْبَحَ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ صَائِمًا کَانَ کَصِیَامِ سِتِّیْنَ سَنَۃً مَاضِیَۃً وَسِتِّیْنَ سَنَۃً مُقْبِلَۃً
’’جس نے اس دن روزہ رکھا اسے ساٹھ سال ماضی کااور ساٹھ سال مستقبل کا روزہ رکھنے کا ثواب ہو گا ۔‘‘
🚫یہ روائیت بھی من گھڑت ہے
(البيهقي (٤٥٨ هـ)، شعب الإيمان ٣/١٤٠٩ ) (علامہ ابن الجوزي (٥٩٧ هـ)، نے موضوعات (ابن الجوزي ٢/٤٤٥ • میں اسکو موضع من گھڑت قرار دیا ہے،🚫🚫🚫🚫☝️☝️☝️☝️☝️
قارئین کرام::
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شب برات یعنی 15 شعبان کے حوالے سے کوئی ایک روایت بھی صحیح سند سے ثابت نہیں،اور نا ہی رسول الله نے شعبان کے مہینے میں ایسا کوئی کام کیا اور نہ ہی خیرالقرون میں ایسی کوئی رسومات کا ثبوت ملتا ہے-یہ سب خود ساختہ ایجادات ہیں،📚❌❌❌❌❌🚫
اس قسم کی ایسی اور بھی کئ احادیث ہیں مگر وہ بھی یا تو شدید ضعیف یا موضوع ہیں🚫🚫🚫🚫🚫🚫☝️❌ جو قابل عمل اور قابل قبول نہیں۔
ماہ شعبان میں رسول صلی الله علیہ وسلم صرف کثرت سے روزے رکھتے تھے
لہذا ہمیں بھی اس ماہ میں صرف کثرت سے نفلی روزے رکھنے چاہیے،
📚اسی طرح اس مہینے یا شب برات کے دن یا رات میں قبرستان جانا کوئی سنت عمل نہیں ہے،بلکہ اس دن قبرستان جانے سے پرہیز کریں،
❤️
❌
🙏
6