Faizane Taje Millat
Faizane Taje Millat
February 9, 2025 at 03:27 PM
سوال: کیا تیجہ کا کھانا نہیں کھانا چاہیے ؟ نہیں کھانا چاہیے تو کیوں ؟ جواب: انتقال کے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن جو کھانا بطور دعوت کھلایا جاتا ہے وہ اغنیا کو کھانا جائز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت نے دعوت خوشی کے موقع پر اجازت دی ہے، غمی کے موقع پر نہیں۔ لہذا غمی کے موقع پر دعوت کے لیے تیار کھانا فقرا پر تصدق کا حکم ہے۔ اس لیے وہ یہ کھانا کھا سکتے ہیں۔ چالیسویں وغیرہ کا کھانا اغنیا کھا سکتے ہیں، مگر مناسب نہیں۔ وہ بھی زیادہ بہتر یہ ہے کہ فقرا ہی کھائیں۔ ردالمحتار میں ہے: ’’یکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اھل المیت لانہ شرع فی السرور ولا فی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ.‘‘ یعنی میت کے گھر والوں کی طرف سے دعوت کا اہتمام کرنا مکروہ (تحریمی) ہے، اس وجہ سے کہ دعوت کا اہتمام کرنا خوشی کے موقع پر مشروع ہے،غمی میں مشروع نہیں اور یہ دعوت کرنا بدعتِ قبیحہ ہے۔ (ردالمحتارعلی الدر المختار ،جلد2، صفحۃ 240، دار الفکر، بیروت) فتاوی رضویہ شریف میں ہے: ’’اغنیاء کو اِس (یعنی جو کھانا ایامِ موت میں بطورِ دعوت دیا جائے، اُس) کا کھانا، جائز نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ614، رضا فاؤنڈیشن) اسی میں ایک اور مقام پر ہے: ’’عوام مسلمین کی فاتحہ چہلم،برسی،ششماہی کا کھانا بھی اغنیاء کو مناسب نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد9،صفحہ610،رضا فاؤنڈیشن)
❤️ 👍 😮 12

Comments