⇨🥀♡ℙ͟𝕒͟𝕚͟𝕘͟𝕙͟𝕒͟𝕞͟ ͟𝔼͟ ͟𝕀͟𝕤͟𝕝͟𝕒͟𝕞͟🤍.ι𝕝𝕝ι𝕝ι✭✰
February 25, 2025 at 01:56 AM
*سیرت خاتـــــــــم الانبیاء*
*قسط نمبر⊙•≼━• 07*
*دوباره سفر شام بغرض تجارت*
مکہ معظمہ میں خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت ایک مالدار عورت تھیں اور ساتھ ہی نہایت عقلمند اور تجربہ کار، جن لوگوں کو ہوشیار اور معتبر سمجھتیں ان کو اپنا مال سپرد کردیتیں کہ فلاں جگہ جا کر فروخت کر آؤ۔ اس قدر تم کو بھی دیا جائے گا۔
رسول اللہﷺ کی نبوت کا اگر چہ اس وقت تک ظہور نہ ہوا تھا ، لیکن آپ کی دیانت اور امانت کا تمام مکہ والوں میں برا شہرہ تھا اور ہر ایک کو آپﷺ کے برگزیدہ اور پاک اخلاق کا اعتبار تھا۔ آپﷺ امین کے لقب سے مشہور تھے۔ یہ شہرت اور بزرگی خدیجہ رضی تعالی عنہا پر پوشیدہ نہ تھی۔ اسلئے انہوں نے چاہا کہ اپنی تجارت کو آپﷺ کے سپرد کر کے آپﷺ کی دیانت داری سے نفع اٹھائیں ۔ رسول اللہﷺ سے کہلا بھیجا کہ اگر ہماری تجارت کا مال شام کو لے جائیں تو ہم اپنا ایک غلام آپ کی خدمت کیلئے ہمراہ کر دیں اور دوسرے لوگوں کو نفع میں سے جو حصہ دیا جاتا ہے اس سے زیادہ آپ ﷺ کی خدمت کریں ۔
آپﷺ کی ذات مبارکہ چونکہ بلند ہمت اور وسیع الخیال ہستی واقع ہوئی تھی ، فورا اس بعید سفر کے لئے تیار ہو گئے اور خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام میسرہ کو ساتھ لے کر 12 ذی الحجہ کو شام کی طرف روانہ ہوگئے ، وہاں اس مال کو نہایت عقلمندی سے بہت زیادہ نفع کے ساتھ فروخت کر دیا اور شام سے دوسرا مال خرید کر واپس ہوئے ۔ مکہ معظمہ میں لاکر خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مال سپرد کر دیا ۔ اس کو خدیجہ رضی تعالٰی عنہا نے یہاں بیچا تو دو چند کے قریب نفع ہوا۔ شام کے راستہ میں جب آپﷺ ایک مقام پے ٹھہرے ہوئے تھے ایک راہب نسطور نامی نے آپﷺ کو دیکھا اور نبی آخر الزمان کی جو علامتیں پہلی کتابوں میں لکھی تھیں آپﷺ میں دیکھ کر پہچان گیا، راہب میسرہ کو جانتا تھا اس سے پوچھا کہ تیرے ساتھ یہ کون شخص ہیں اس نے کہا کہ مکہ معظمہ کے رہنے والے ہیں ۔ قریش کے ایک شریف ( نوجوان ) ہیں اس نے کہا کہ یہ نبی ہونگے ( از مغلطائی ص ۱۲، والصالحات )۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
*ماخوذ از سیرت خاتم الانبیاء* 📖
*مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب ✍️*
*سابق مفتئ اعظم دارالعلوم دیوبند*
❤️
1