✒️ FIKR E RAZA فکر رضا 💻
February 17, 2025 at 02:55 PM
بدعتی(شیعہ) راوی کی روایت کا حکم
امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
نعم الأكثر على قبول غير الداعية، إلا أن يروي ما يقوي بدعته فيرد، على المذهب المختار
جمہور محدثین غیر داعی بدعتی راوی کی روایت قبول کرتے ہیں سوائے ان روایات کے جو غیر داعی بدعتی راوی اپنی بدعت کی تقویت کے لیے بیان کرے، تو انہیں رد کیا جائے گا اور یہ مختار مذہب کے مع رد مطابق ہے
📘(نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر ص 307)
مذکورہ اصول سے معلوم ہوا کہ بدعتی (شیعہ) راوی کی وه روایت واجب الرد ہے جو وہ اپنے مذہب کی تقویت میں بیان کرے
✍️ حسن رضا حنفی