Muhammad Zaid
Muhammad Zaid
February 26, 2025 at 07:31 AM
دو خبریں ملاحظہ فرمائیں۔ 1) لاہور میں 600 ارب روپے سے ملک کی پہلی زیرِ زمین ٹرین چلانے کا فیصلہ ۔۔۔ چھ سو ارب یعنی سوا دو ارب ڈالر بنتے ہیں۔ جس ملک میں چند ارب ڈالر IMF سے حاصل کرنے کے لئے پورا ملک گروی رکھ دیا جاتا اور قرض واپس کرنے کے لئے عوام کی کھال ادھیڑ کر پیسے جمع کئے جاتے ہیں۔ وہاں یہ سوا دو ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے ہر ذی شعور انسان سمجھ سکتا ہے۔ 2) ارسا (IRSA) نے گرین چولستان کے لئے نہر نکالنے کی منظوری دے دی۔ ایک ایسا ملک جسے ورلڈ بینک نے 2022 میں متنبہ کیا ہے کہ آنے والوں سالوں میں موسمیاتی تغیر کی وجہ سے اس کے پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی آئے گی ۔ بارش اور پانی کی کمی قحط کا موجب بنے گی۔ گلیشیرز تیزی سے پگھلیں گے اور موسم سرما کا دورانیہ سکڑنے کی وجہ سے برف باری کم ہوگی۔ یعنی ہم اپنی ناعاقبت اندیشی کی وجہ بہت تیزی کے ساتھ اجتماعی خود کشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بہاول نگر میں جہاں زمین سیم سے بنجر ہو رہی ہے وہاں سولر ٹیوب ویلز لگائے جاتے اور یہ پانی کھینچ کر چولستان پہنچایا جاتا۔ یہ پانی چولستان تک لیجانے کے لئے سیم نالوں کا ایک مکمل سسٹم موجود ہے۔ اس کڑوے پانی کی مدد سے کھیتی باڑی کی جاتی۔ اگر اس پانی کو کلر سے پاک کرنے کے لئے کسی پراسیسنگ کی ضرورت ہوتی تو انتظام و انصرام کیا جاتا۔ اس پر سوا دو ارب ڈالر سے تو کم لاگت آتی۔ بلکہ اس میں نہر نکالنے کی لاگت شامل کریں تو تین ارب ڈالر بن جائیں گے اور IMF نے پانچ ارب ڈالر دینے کے لئے ناک سے لکیریں نکلوائیں ہیں۔ اسرائیل اگر کڑوے پانی سے پیدا کی گئی سبزیاں فخریہ لیبل کے ساتھ بیچ کر اربوں ڈالر کما سکتا ہے تو ہمیں ایسا کرنے میں عار کیوں ہے ؟ لیکن وہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔۔ قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے ہاں رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن مرزا غالب ۔۔۔ (احمد وسیم قمر کی وال سے)
👍 😢 2

Comments