Taem Fikr e Deen official
February 11, 2025 at 08:18 PM
(۱۴) منافقین کی نشان دہی کرنا
*_پیشکش :ادارۃ فکر الدین*
:نکتہ اول:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم کے زمانے میں منافقین بکراہت اپنی عبادات بھی انجام دیتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں جہاد کے میدان میں بھی جانا پڑتا تھا۔ دوران جنگ وہ مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوتے تھے نہ کہ کفار کے لشکروں کا حصہ ہوتے۔
چنانچہ اس دور میں ان منافقین نے کبھی بھی مسلمانوں کے خلاف نہ تو خود جنگ کی نہ ہی کفار کے ساتھ مل کر جنگ میں شریک ہوئے۔
☆ منافقین نے کبھی کسی ایک مسلمان کا بھی قتل نہیں کیا تھا۔
اس کے برعکس آج کے منافقین کفار کے لشکروں کا حصہ بھی ہیں، اور مجاہدین کے خلاف جنگیں لڑنے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی ہے اور اب تک نہ معلوم کتنے ہی موحد مسلمانوں کو قتل کر چکے ہیں ۔ ایسے منافقین کے ساتھ تلوار سے جہاد کرنے کا حکم اللہ سبحانہ و تعالی نے خود قرآن میں دیا ہے۔ سورۃ النساء کے بارہویں رکوع میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے منافقین کے تین گروہوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اور اس بات کو بھی ناپسند کیا ہے کہ منافقین کے بارے میں دورائے پائی جائیں۔ ﴿فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنفِقِينَ فنتين .. " تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے اندر دورائے ہیں “ پھر ایک گروہ سے ہاتھ روک کر رکھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں سے نہیں لڑتے ۔ جبکہ دو گروہ ایسے ہیں جو مسلمانوں سے جنگ لڑتے ہیں اور انہیں بے دریغ قتل کرتے ہیں ، اللہ سبحانہ و تعالی نے ان سے جنگ لڑنے اور انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک گروہ کے متعلق تو انتہائی سخت الفاظ میں ارشاد ہوا کہ جان لو کہ ایسے منافقین کے بارے میں ہم نے تو تمہیں کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔
" یہ منافق جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ، ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلے سے باز نہ رہیں اور صلح و آشتی کے ساتھ رہنے پر تیار نہ ہوں اور تم پر اپنے ہاتھ نہ روکیں پھر انہیں پکڑو اور جہاں ملیں قتل کر دو ایسے لوگوں پر ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے“
نکتہ دوم :
تمام فقہائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کفار کی مدد کر نا نواقض اسلام افعال میں سے ہے یعنی ایسے فعل کا ارتکاب کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے اور مرتد قرار پاتا ہے ۔ ظاہر ہے اس شرعی وضاحت کے بعد وہ اعتراض ہی غلط ہو جاتا ہے کہ منافقین کے خلاف جنگ نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اول تو یہ فوجی منافق ہی نہیں بلکہ مرتد ہو چکے ہیں
جو کفار کے کہنے پر مجاہدین کے خلاف لڑتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ان کے ارتداد کو تسلیم نہ بھی کرے تو سورۃ النساء کی آیات ان کی تسلی کے لیے کافی ہیں جس میں ایسے منافقین کے خلاف لڑنے کا حکم مسلمانوں کو اللہ سبحانہ و تعالی نے دیا ہے"
مصنف: (شیخ انور العولقی رحمہ اللہ)
,,ناقل: [ادارۃ فکر الدین]
کتاب {جہاد میں شرکت کے ۴۴ طریقے}
جاری ہے~
______________٪_____________
https://whatsapp.com/channel/0029VaaEDz8A89Mcrstlq22N
چینل کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں "
تاکہ امت مسلمہ بیدار ہو جائے"
*[¶ادارۃ فکر الدین¶]*
•➖𝙏𝙖𝙚𝙢 𝙛𝙞𝙠𝙧𝙚 𝙙𝙚𝙚𝙣 𝙤𝙛𝙛𝙞𝙘𝙞𝙖𝙡
❤️
1