UNVEILER GUNPAL
UNVEILER GUNPAL
February 28, 2025 at 04:53 PM
اطالوی آمر بینیتو موسولینی فاشزم کا بانی تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اسے پکڑ کر عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے اس کی رانی سمیت گولی مار کر لاشوں کو پہلے سارے بازاروں میں گاڑیوں کے پیچھے باندھ کر گھسیٹا گیا اور پھر ان کو الٹا لٹکا کر لوگ لاشوں پہ جوتے مارتے رہے۔ عوام بیدار اور جرات مند ہو تو ظالم حکمرانوں کو انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن اگر قوم خوفزدہ یا بزدل ہو تو آمر برسوں تک ظلم کرتا رہتا ہے۔ تاریخ میں کئی مثالیں ہیں جہاں آمر حکومتوں کو عوامی بغاوت نے ختم کیا، جیسے شمالی کوریا عوام آج بھی جبر سہہ رہی ہے کیونکہ خوف اور پروپیگنڈے نے انہیں خاموش کر رکھا ہے۔ اصل طاقت عوام کے شعور اور اتحاد میں ہے۔ جب لوگ ڈر چھوڑ کر حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی بڑی آمریتیں بھی زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ ورنہ وہاں پاکستانی جرنل رانیاں جرنیلوں سے بوس و کنار میں آپ کی نسلیں مار اور پار کر دیتی ہیں۔ ایڈولف ہٹلر (جرمنی) – جنگ میں شکست کے بعد بنکر میں خودکشی کر لی۔ جوزف اسٹالن (سوویت یونین) – بیماری کے باعث مرا، لیکن لاکھوں افراد قتل کر چکا تھا۔ معمر قذافی (لیبیا) – عوام نے بغاوت کی، نالے میں چھپتے پکڑا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ صدام نے ایران اور کویت میں ہزاروں لوگ مار دیے، ملک میں مارشل لائی بادشاہت قائم کر کے ہزاروں مخالفین کو مروا دیا اور پھر انجام، اسی امریکہ نے اسے سولی پہ چڑھا دیا جس کا وہ پہلے ٹاوٹ بنا ہوا تھا۔ بینیتو موسولینی (اٹلی) – گرفتار ہوا، عوام نے گولی مار کر لاش الٹی لٹکا دی۔ پول پاٹ (کمبوڈیا) – معزول ہوا، جنگل میں چھپ کر بیماری سے مرا۔ کِم جونگ اِل (شمالی کوریا) – قدرتی موت مرا، بیٹا کِم جونگ اُن حکمران بنا۔ فرانسیسکو فرانکو (اسپین) – طویل آمریت کے بعد بیماری سے مرا، ملک میں جمہوریت آ گئی۔پاکستان: 2023 کی ڈیموکریسی انڈیکس رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا درجہ "ہائبرڈ نظام" سے گر کر "آمرانہ نظام" میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں جمہوری حقوق اور آزادیوں سلب کر لی گئی ہیں۔ جو سر اٹھتا ہے مروا دیا جاتا ہے یا لا پتہ کر دیا جاتا ہے۔---- سعودی عرب میں ایک ہی خاندان آل سعود کی موروثی بادشاہت کے تحت سیاسی جماعتوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی ہے، اور حکومتی ناقدین کے سر قلم کر دیئے جاتے ہیں۔ مصر: جرنل عبدالفتاح السیسی کی حکومت میں سیاسی مخالفین کے خلاف سخت کارروائیاں اور آزادیٔ اظہار پر پابندیاں عائد ہیں۔ صدر مرسی کو اس نے جیل کے پنجرے میں مار دیا جیسے عمران کو اس کی اپنی بے حس بزدل عوام جرنل مریدے کے ہاتھوں مروانے کا سکہ بند پروگرام بنا رکھا ہے۔ مِہر کی بات یاد رکھو پاکستانیو۔۔ تقدیریں دعاوں سے نہیں عمل سے بنتی ہیں۔ سیر پہ سوا سیر بن کے بنتی ہیں۔ موت دکھاو گے تو ظالم بخار قبول کرے گا ورنہ ورنہ وہ ہمیں مروا کر ہماری عزتوں کو بغیر نکاح کے قبول کرے گا۔ تم وظیفے پڑھنے میں لگے رہنا ، کیا وظیفے تمہیں 15 صدیوں میں کوئی جنگ جتوا سکے، چاند پہ لے جا سکے،سائنسدان بنوا سکے ؟ نہیں بلکہ تم ٹوپیاں دھوتیاں نیلی پپیلی سبز چٹی پگڑیاں بنانے والے دھنی تک لمبی داڑھیوں والے سانسدان پیدا کرتے جا رہے ہو جو تمہیں محنت سے نہیں ، وظیفوں صحیفوں اور معجزوں سے انقلاب کے بھاشن دیتے ہیں، نہ روٹی نہ راشن دیتے ہیں۔ تمھارے بھیجوں میں کیڑے پڑ گئے ہیں جو یہ بھی نہیں سوچتے کہ دنیا کے 6 ارب بیس کروڑ نان مسلمز تم سے آگے کیوں نکل گئے اور تم وڈے حاجی پاجی 1 ارب اسی کروڑ ڈھونگی مسلم اپنی حج نماز عمروں اور آسٹانوں کے وسیلوں کے ہوتے ہوے کیوں مراثی کی بیوی رہ گئے؟ کودن دے کودن گرم می پگھر کے مر گئے اور سردی میں ٹھر کے مر گئے۔ دماغوں کو گندے خون نے فریز کر دیا ہے، اپنی کھتیوں اور پیٹھوں پہ حجامہ کرائیں لییچ تھراپی کرائیں ، وہ جلمیں جو گندہ خون چوس لیتی ہیں ورنہ ایسے ہی تھوبڑے کے تھوبڑے اپھی گردنوں پہ دو دو من چربی کا وزن لیے مر جاو گے۔ گستاخی معاف۔ مِہر لیاقت گنپال

Comments