Aik Mukhbir
May 24, 2025 at 02:53 AM
*کیا آپ جانتے ہیں کہ مصر کی تہذیب اتنی قدیم اور ترقی یافتہ کیسے تھی؟*
مصر کی قدیم تہذیب، جو دنیا کی سب سے قدیم اور عظیم تہذیبوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، نے اپنے وقت میں بے شمار ترقیاتی کاموں کو ممکن بنایا۔ اس کے تاریخی آثار اور تہذیبی ورثے آج بھی دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کن ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے مصر کی تہذیب اتنی ترقی یافتہ کیسے تھی؟ آئیے، اس بات کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔
مصر کی تہذیب کا آغاز تقریبا 3100 قبل مسیح کے قریب ہوا تھا، جب مصر کی دو اہم سلطنتیں، اوپر مصر اور نیچے مصر، کو متحد کیا گیا۔ اس کے بعد، مصر کی تہذیب کا سنہری دور شروع ہوا۔ مصر کا معاشرتی نظام مضبوط تھا، اور یہاں کے باشندے نہ صرف زراعت اور تجارت میں ماہر تھے بلکہ فنونِ لطیفہ، سائنس اور فن تعمیر میں بھی بہت آگے تھے۔ مصر میں حکومتی نظام شاہی تھا، جس کی بنیاد "فرعون" (Pharaoh) پر رکھی گئی تھی۔ فرعون نہ صرف سیاسی حکمران تھا بلکہ مذہبی رہنما بھی تھا۔ اس کا اقتدار غیر محدود ہوتا تھا، اور اسے خدا کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ فرعون کی حکومت کے تحت، مصر میں نظم و ضبط اور فلاحی ریاست کے اصولوں پر عمل کیا جاتا تھا، جس سے مصر کی تہذیب میں استحکام آیا۔ مصر کی تہذیب کی ترقی کا ایک بڑا راز اس کی زراعت میں مہارت تھی۔ ندیوں کا سب سے اہم ذریعہ *نیل ندی* تھی، جو مصر کے عوام کے لئے زندگی کا اہم ذریعہ تھی۔ نیل ندی کی باقاعدہ آبی فراہمی کے سبب یہاں کے لوگ زراعت میں کامیاب رہے، جس نے انہیں خوراک کی کمی سے بچایا اور معاشی ترقی کا دروازہ کھولا۔ نیل کے سالانہ سیلاب سے زمینوں میں قدرتی کھاد آتی تھی، جس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا تھا۔
مصر میں علم اور فنون کا خاصا ترقی یافتہ نظام تھا۔ قدیم مصریوں نے *ریاضی*، *فلکیات* اور *طبیعتی علوم* میں انقلابی کام کیا تھا۔ یہاں کے لوگ قدیم فلکیات اور وقت کے حساب کتاب میں ماہر تھے۔ انہوں نے *365 دنوں کا کیلنڈر* بنایا، جو بعد میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والا عالمی کیلنڈر بن گیا۔ اسی طرح، مصریوں نے پٹریوں، گہرے تالابوں اور مختلف آبی منصوبوں کے ذریعے زراعت کو مزید بہتر بنایا۔ مصر کی تہذیب کا ایک اور اہم پہلو اس کے شاندار فن تعمیرات تھے۔ قدیم مصریوں نے دنیا کی سب سے مشہور عمارتوں میں سے ایک، *ہرمز* کی تعمیر کی۔ ہرمز کا شمار دنیا کے سات عجوبوں میں ہوتا ہے۔ ان عمارتوں کا سائز، ساخت اور تعمیراتی مہارت آج بھی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ مصر میں مقابر اور مقاماتِ عبادت بھی بہت اہم تھے، جن کی تعمیرات میں سنگ مرمر، چمکدار پتھر اور سونا استعمال کیا گیا تھا۔ مصر کی تہذیب کا ایک اور اہم پہلو اس کی مذہبی عقیدت تھی۔ یہاں کے لوگ متنوع خداؤں کی پوجا کرتے تھے اور ان کے لیے عظیم مندروں اور معابد کی تعمیر کی جاتی تھی۔ *خدا رع* (Ra) کو سورج کا خدا سمجھا جاتا تھا اور اسے دیوتاؤں کا بادشاہ مانا جاتا تھا۔ فرعون کو ایک خدا کی حیثیت دی جاتی تھی، اور وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہم سمجھتا تھا۔ قدیم مصر میں ادب اور زبان کی ترقی بھی بہت اہم تھی۔ مصریوں نے *ہیرگلیفک* (hieroglyphic) رسم الخط کا استعمال کیا، جو ایک پیچیدہ لیکن خوبصورت رسم الخط تھا۔ اس کے ذریعے انہوں نے مذہبی، علمی، اور تاریخی مواد کو محفوظ کیا۔ ادب میں کہانیاں، نظمیں اور اشعار شامل تھے، جن کا مقصد عوام کو اخلاقی تربیت فراہم کرنا اور انہیں مذہبی تعلیمات سے آگاہ کرنا تھا۔ اگرچہ مصر کی تہذیب ایک طویل عرصے تک طاقتور رہی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی سلطنت میں زوال آیا۔ *ایسٹرن گریک*، *رومی سلطنت* اور بعد میں *عربوں* نے مصر کو فتح کیا، جس کے بعد مصر کی تہذیب کا سنہری دور ختم ہوا۔ اس کے باوجود، مصر کا ثقافتی اور علمی ورثہ آج تک باقی ہے، اور دنیا بھر میں اس کے آثار اور سائنسی دریافتیں سراہنا جاتی ہیں۔
مصر کی تہذیب نے ہزاروں سال پہلے جو کامیابیاں حاصل کیں، وہ آج بھی انسانوں کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔ ان کی ترقی کا راز ان کے *نظم و ضبط*، *علم*، *زراعت*، *فن تعمیرات* اور *مذہبی عقائد* میں چھپا تھا۔ مصریوں نے اس وقت میں جو سائنسی، فلسفیانہ اور فنونِ لطیفہ کی بنیاد رکھی، وہ آج بھی دنیا کی سب سے عظیم تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔
*حوالہ*:
- مصر کی قدیم تاریخ اور اس کے ثقافتی ورثے کے متعلق مختلف تاریخی کتب۔
❤️
👍
2