J&K Haj Committee
J&K Haj Committee
June 7, 2025 at 09:01 AM
*طوافِ زیارت (طوافِ افاضہ)* حج کا ایک اہم اور آخری فرض عمل: طوافِ زیارت حج کے اہم ترین اور آخری فرائض میں سے ایک ہے۔ حج کی تکمیل کے لیے ضروری: اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ اجزاء: اس میں کعبہ کا طواف (7 چکر) اور صفا و مروہ کے درمیان سعی (7 چکر) شامل ہے۔ وقت (افضل اور جائز): آغاز کا وقت: 10 ذوالحجہ کی فجر کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اختتام کا وقت (افضل/بغیر کفارہ کے): 12 ذوالحجہ کی مغرب سے پہلے تک رہتا ہے۔ تاخیر کی صورت میں: اگر 12 ذوالحجہ کی مغرب کے بعد کسی شرعی عذر کے بغیر ادا کیا جائے تو ایک "دم" (کفارہ) واجب ہو جاتا ہے۔ کوئی بدل نہیں: طوافِ زیارت کا کوئی بدل نہیں ہے۔ نامکمل ہونے پر: اگر کوئی حاجی اسے ادا کیے بغیر اپنے وطن واپس آ جائے، تو اسے زندگی میں کبھی نہ کبھی مکہ واپس جا کر اسے مکمل کرنا لازم ہو گا۔ میاں بیوی کے تعلقات کی حلت: جب تک طوافِ زیارت ادا نہ کر لیا جائے، میاں بیوی کے تعلقات حرام رہتے ہیں، چاہے کتنی ہی زندگی گزر جائے۔ احرام کی حالت میں کندھا کھولنا (اصطباع): اگر مرد حاجی طوافِ زیارت احرام کی حالت میں (یعنی حلق یا قصر سے پہلے) ادا کرے، تو اس کے لیے سنت ہے کہ وہ اپنے سیدھے کندھے کو (اصطباع کرتے ہوئے) تمام سات چکروں میں کھلا رکھے۔ سعی کا واجب ہونا: طوافِ زیارت کے بعد صفا و مروہ کی سعی کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ حج کی سعی ایک واجب عمل ہے۔ اللہ پاک تمام حاجیوں کو طوافِ زیارت کو وقت پر اور صحیح اور سنت طریقے پر ادا کرنے کی نیک توفیق عطا فرمائے، آمین
❤️ 👍 5

Comments