Maulana Fazl ur Rehman
February 4, 2025 at 04:21 AM
اس وقت خیبر پختونخواہ میں اور بلوچستان کے بالخصوص بلوچ ایریا میں حکومت کی کوئی رِٹ موجود نہیں ہے، ہمارے قیام امن کے ذمہ دار ادارے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور سڑک کے کناروں پر قریب قریب علاقوں میں بعض جگہوں پر تو سڑک سے نظر آتے ہیں ان کے مراکز سے یعنی مسلح گروہوں کے مراکز اور وہاں سے وہ آپریٹ کرتے ہیں اور مکمل نظام ان کا موجود ہے، رات کو سڑکیں ان کے حوالے ہوتی ہیں، شہر کی گلی کوچیں ان کے حوالے ہوتے ہیں اور حکومت نہ معلوم کہاں ہوتی ہے! اب ایسے حالات میں آپ بتائیں کہ عام آدمی کیسے زندگی گزارے گا؟ یعنی یقین جانیے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور آپ کو بھی تکلیف ہوتی ہوگی جب ہم سنتے ہیں کہ ہمارے جوان شہید ہو گئے ایک حملے میں تیس تیس لوگ پینتیس پینتیس لوگ بیس بیس لوگ سولہ سولہ لوگ یہ تقریباً روز مرہ ورنہ ہفتے میں ایک دو دن تو ضرور اس طرح کے واقعات آرہے ہیں، کیا میں اپنی فوج اور اپنی دفاعی صلاحیت کے بارے میں اب کیا سوچوں گا؟ وہ جو میرے اندر ایک اعتماد تھا کہ میں ایک طاقتور ملک ہوں، وہ جو میرے اندر ایک اعتماد تھا کہ میں ایک طاقتور قوم ہوں، وہ جو میرے اندر ایک اعتماد تھا کہ میرا ملک اس کی سرحدات محفوظ ہیں، وہ اعتماد ریزہ ریزہ ہو چکا ہے ایک عام شہری کے طور پر آپ خود اندازہ لگائیں ہم کیا سوچیں گے، میرے اپنے گاؤں میں کھلم کھلا کر رہے ہیں میرے گھر کی گلی سے ایک طرف بھی اور دوسری طرف بھی اور میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ خدا نہ کرے خدا نہ کرے اگر میں ان کا نشانہ بنوں تو مجھے پرووائڈ کی گئی سیکیورٹی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس کیفیت میں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں۔
سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان
❤️
👍
😂
😢
🙏
😮
222