Urdu Islamic Stories
February 6, 2025 at 02:02 PM
ہیر رانجھا
قسط نمبر 3
کہاں سے آیا ہے تو اے اجنبی مسافر ! ہیر نے واپس پلٹتے ہوئے کہا۔
مسافر ہوں ہیر جی ! جنگل جنگل گھومتا رہتا ہوں ۔ رانجھے نے ونجلی بجانا بند کر دی ۔ ونجلی کی آواز نے ہیر کی سہیلیوں پر جو جادو کیا تھا وہ تو اتر گیا لیکن ہمیرا بھی تک اس آواز کے اثر میں تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے رانجھے کی ونجلی نے اسے قید کر لیا ہو۔
نی ہیرے! چل گھر چلتے ہیں ، ہمیں پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے۔“ ہیر کی سہیلی شہرزاد نے اسے واپسی کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
ہاں ہاں چلو! ہمیں واقعی بہت دیر ہوگئی ہے۔ اس کی دوسری سہیلیاں بھی کہنے لگیں تو مجبورا ہیر کو بھی واپس جانا پڑا۔
رانجھا کافی دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ اس کے جسم سے ایسا لگتا تھا جیسے جان ہی نکل گئی ہو۔ بیلے کے اندر تو رانجھے کا اب بت ہی رہ گیا تھا جبکہ رانجھے کی روح تو ہیر کے پیچھے پیچھے ہی چل پڑی تھی ۔ آخر رانجھے سے صبر نہ ہوا اور وہ بھی ہیر کے پیچھے پیچھے اس کے گھر کی طرف چل پڑا۔ بیلے سے باہر نکل کر ہیر کی سہیلیاں اپنے اپنے گھر بھاگ گئیں جبکہ ہیر بھی اپنے گھر چلی گئی۔ رانجھا ہیر کے گھر تک آیا اور جیسے ہی ہیر گھر میں داخل ہوئی اس نے ہیر کے دروازے کے سامنے ہی بنے ہوئے ایک چبوترے پر تھوڑی جگہ صاف کی اور وہیں دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے ایک بار پھر ونجلی بجانا شروع کر دی۔ ہیر گھر میں کھانا بنانے کے لیے سبزی کاٹ رہی تھی۔ ونجلی کی آواز نے اس کے ہاتھ روک دیئے ۔ اس نے سبزی ادھر ہی پھینکی اور بھاگتی ہوئی گھر سے باہر آ گئی۔
سامنے ہی چبوترے پر رانجھا آنکھیں بند کئے ونجلی بجارہا تھا۔ ہیر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔ رانجھے کی و نجلی ایک بار پھر خاموش ہوگئی ۔ اس نے نظر اٹھا کر اپنے محبوب کی طرف دیکھا اور دوبارہ سر کو جھکا لیا۔
اے اجنبی مسافر ! تجھے میں جانتی نہیں ہوں لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں تمہیں ازل سے جانتی ہوں ، تمہارا میرا رشتہ ازل سے ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے تو تخت ہزارے کا رانجھا ہے؟ ہیر اس کے سامنے کھڑی اس سے سوال کر رہی تھی ۔
تم کون ہواے میرے محبوب مسافر ؟“ ہیر نے ایک بار پھر سوال کیا۔
میں تخت ہزارے کا رانجھا ہوں۔ میں وہی رانجھا ہوں جو آج تمہاری محبت میں جنگل جنگل گھوم رہا ہوں۔ میں اپنی ہیر کا رانجھا ہوں ۔ اس نے ایک بار نظر اٹھا کر چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا۔ چاند واقعی ہیر کے حسن کے آگے کچھ بھی نہیں تھا۔
تم میرے پیچھے کیوں آئے ہو رانجھے؟ کیا مجھے بدنام کرنا چاہتے ہو؟“ ہیر واپس گھر کی طرف جانے لگی تو را نجھے نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی پکڑ لی ۔
محبت کرنے والوں کو کبھی بدنامی کا ڈر نہیں ہوتا۔ میں محبوب کے در کی غلامی مانگنے آیا ہوں ۔ مجھے خالی ہاتھ مت لوٹاؤ! رانجھے پر امید نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
غلامی بڑی مشکل ہوتی ہے رانجھے ! تم بڑے نازک مزاج ہو، محبت کے چکروں میں پڑو گے تو برباد ہو جاؤ گے۔“ ہیر کے لہجے میں سنجید گی تھی۔ اس کی کلائی ابھی تک را نجھے کے ہاتھ میں تھی۔
"ہیرے ! مجھے محبت ہوگئی ہے تم سے۔۔۔ میں اب تم سے دور نہیں رہ سکتا۔ تمہارے اس گھر کا غلام بن گیا ہوں ، چھوڑ کر جاؤں گا تو مر جاؤں گا ۔ رانجھے نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
ہیر خاموشی سے واپس گھر چلی گئی جبکہ رانجھا واپس اپنی جگہ پر دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ شام تک ایسے ہی بغیر کھائے پیئے ہیر کے دروازے پر ہی بیٹھا رہا۔ شام کو ہیر کا والد گھر آیا تو اس نے رانجھے کو دروازے کے باہر چبوترے پر بیٹھا ہوا دیکھا تو اسے مانگنے والا سمجھا۔ ہیر کے والد چوچک نے رانجھے کو کافی برا بھلا کہا۔
لڑ کے ! شرم کرو ۔۔۔۔ نوجوان آدمی ہو ، خدا نے ہاتھ پیر بھی سلامت رکھے ہیں ، پھر بھی کام کرنے کی بجائے مانگ کر کھا رہے ہو ؟ چوچک سیال نے رانجھے کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔
چوہدری صاحب ! کام مانگنے ہی آیا ہوں، مانگنے والا نہیں ہوں۔ رانجھے نے جلدی سے جواب
اچھا! کیا کام کر لیتے ہو؟“ ہیر کے والد چو چک نے پوچھا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اور کہانیاں سننے کے لیے
ہمارے یوٹیوب چینل
اردو اسلامک کہانیاں
کو سبسکرائب کریں
https://youtu.be/t7gIMBjjQo4?t=31&si=Gf3JMZW2MUjusIVb
❤️
👍
😢
😂
😮
41