انوارِ عالم
February 4, 2025 at 01:34 PM
::: *اسلامی سائنس کیا ہے* :::
ــــــ `سر درد ٹھیک کرنے کا انگریزی طریقہ` ـــــــ
#اسلامی_سائنس 9
*علامہ نظام الدین عبد العلی بن محمد بن الحسین البرجندی الحنفی* جن کا انتقال 934ھ میں ہوا
فلکیات اور ریاضی میں اپنے وقت میں سب سے کامل شخص تھے
`انہوں نے بہت سی مشاہداتی مشینیں ایجاد کیں جن میں سے کچھ مشینیں توانائی سے کام کرتی ہیں اور کچھ ہوا کے زور پہ چلتیں تھیں`
وہ *غیاث الدین جمشید الکاشانی* سے بہت متاثر تھے
جو کہ اپنے وقت کے ایک باصلاحیت اور ریاضی میں یکتائے روزگار تھے
*اب لبرل اور یورپ سے متاثر ذہن کہیں گے کہ وہ ماضی تھا اب تم مسلمان کیا ہو؟؟؟*
تو جناب یہ بات اچھی طرح پلو سے باندھ لو کہ اس وقت خلافت تھی سلطنتِ اسلامیہ کا وجود تھا
*یہ لبرلز، سیکولرز، اور جمہوریت کا فساد نہیں تھا*
طلباء دین پہلے پہل علمِ دین خوب دل جمعی سے حاصل کر کے صرف و نحو و بلاغت و تفسیر میں مہارت حاصل کرتے
*اس کے بعد سائنسی علوم میں قدم رکھتے*
`اللہ تعالیٰ علمِ دین کی برکت سے ان پر سائنسی اسرار و رموز کھول دیتا`
جس کو *اسلامی سائنس* کہا جا سکتا ھے
اور `اسلامی سائنس سے ہماری مراد انسانوں کی ایسی ترقی جو فطرت کے خلاف نہ ہو`
مثلاً گلوبل وارمنگ
*ایسی ایجادات جو فطرتی نظام کے متضاد نہ ہوں*
`مرد کو عورت بنانا اور عورت کو مرد بنانا`
*ایسے نظریات جو اسلامی عقائد کے خلاف نہ ہوں*
`مثلاً ڈارون کے بیہودہ نظریات وغیرہ`
ہم مسلمان سائنس کی حقیقت و افادیت تسلیم کرتے ہیں مگر اس پر ایمان نہیں رکھتے
اور *ہمارے اجداد جو سائنس دان تھے انہوں نے جدید دنیا کو جو سائنسی سبق پڑھائے جن کو پڑھ کر یورپ یورپ بنا ہے* وہ اسی اصول کے تحت تھے کہ سائنس ایجادات کا نام ہے نہ کہ محض مفروضات پر قائم" باطل نظریات کا نام.
اور دیسی لبرل تو سائنس پر اتنا ایمان رکھتے ہیں کہ گویا سائنس کا رد ممکن ہی نہیں ہے
*ہم سائنس کے میدان میں سب سے آگے بلکہ رہنماء تھے اور اب پیچھے کیوں ہیں ؟*
کیونکہ اب نہ خلافت کا نور ھے نہ علمِ دین کی برکت ھے
محض علومِ دنیوی کی نحوست سے امت اس نوبت تک پہنچی ہے کہ ہم سے ہی علم حاصل کر کے ہمیں کو نیچا دکھایا جانے لگا ھے
اور ہمیں کو جاہل اور غیر ترقی یافتہ قوم کہا جاتا ھے
`بعض جاہل یہ طعنہ مارتے نظر آتے ہیں کہ یہ جو آپ کے ہاتھ میں موبائل ہے یہ انگریزوں کی ایجاد ہے`
تم لوگ انکی ایجاد بھی استعمال کرتے ہو اور انکو برا بھی کہتے ہو
ہم یہ کہتے ہیں کہ قرون وسطی میں *یورپ میں جس کو سر درد ہوتا تو کہا جاتا کہ اس پر بدروح کا قبضہ ہوگیا ہے*
`تو اس کے سر جوتے مارے جاتے تھے تاکہ بدروح کو بھگایا جائے`
تو جنابِ من مسلمانوں نے یورپ کو طب دی میڈیکل و سرجری کے علوم بخشے اگر آپ کو مقابلہ ہی کرنا ہے تو سر درد میں اپنے سر پر جوتے مارو ورنہ یہ موقع مسلمانوں کو دو وہ یہ کار عظیم انجام دیں گے
_اگر مسلمانوں کی طب نہ ہوتی تو آج بھی یورپ کے ہر گھر میں سروں پر جوتے مارے جا رہے ہوتے_
`اپنا موبائل واپس لے جاو اور علاج میں سر پر جوتے کھایا کرو تو ہم مانیں`
جہاں تک ہماری حالت زار کی بات ہے تو وہ
درسِ قراں گر ھم بھلایا نہ ہوتا
یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا
👈 تحریر سے نام حذف کرنا شرعاً اخلاقاً جرم اور آپ اس کے جوابدہ ہیں!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
❤️
👍
😢
😭
♥️
🌷
🌹
💚
💯
🔥
92