Novels Ki Duniya📚🌐🖤
Novels Ki Duniya📚🌐🖤
February 14, 2025 at 04:54 AM
#چاند 🌙 آسمانوں سے لاپتہ #حنااسد۔ #قسط :6 "تھینکس "ماھی نے اسکی مدد کی پیشکش کو موقع غنیمت جانا،اور اسکے پیچھے بیٹھ گئی ۔۔۔مگر اسے پکڑنے کی بجائے بائیک کی سیٹ اور کرئیر کو زور سے پکڑ لیا ۔۔۔دس منٹ میں وہ دونوں کالج کے گیٹ پہ تھے ۔۔۔ ماھی بائیک سے اتر کر بنا کچھ بولے کالج گیٹ کے اندر بھاگی ۔۔پھر اپنی کلاس میں داخل ہوئی ۔۔۔ لڑکی اور لڑکوں کے کچھ گروپس آپس میں باتیں کر رہے تھے کچھ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے ہوئے ہنسی ٹھٹھولے۔۔۔ وہ پہلی رو میں بیٹھی ہوئی ایک لڑکی کے پاس آئی۔۔۔ "ہیلو !اس نے خوشدلی سے کہا ۔۔۔ "ہائے !آؤ نا بیٹھو ۔۔۔اس نے ماھی کو اپنے ساتھ بیٹھنے کے لیے کہا تو ماھی وہیں بیٹھ گئی ۔۔۔ "میرا نام پارس ہے اور تمہارا ؟؟؟ماھی نے اپنا تعارف کروایا ۔۔۔ "ابھی تک کلاس شروع نہیں ہوئی ۔۔میں تو پریشان ہوگئی تھی کہ آج پہلے ہی دن لیٹ نا ہو جاؤں "وہ فکر مندی سے بولی ۔۔۔ "ارے کہاں ۔۔۔پہلا دن ہے ۔ابھی تو ہمارے ٹیچر تک بھی نہیں پہنچے ۔۔۔۔کلاس میں ۔۔ ابھی وہ مزید باتیں کرتی کہ کلاس میں کالج کے پرنسپل صاحب عاصم باجوہ داخل ہوئے سب اپنی اپنی نشستوں پر سے فورا اٹھے ۔۔۔کمرے میں ان کی آمد سے خاموشی چھا گئی ۔۔۔ ان کے پیچھے ہی کوئی کلاس میں داخل ہوا ۔۔۔سب نے نظر اٹھا کر اس آنے والے شخص کو دیکھا۔۔۔۔ بلیک جینز ،پہ بلیک شرٹ اور اس پہ بلیک لیدر جیکٹ پہنے،بالوں کو نفاست سے جیل سے سیٹ کیے ،ہاتھ میں فولڈر پکڑے وہ اپنی مخصوص شاہانہ چال چلتے ہوئے اندر آیا ۔۔۔۔ "ان سے ملیے کلاس یہ ہیں آپکے نیو انسٹرکٹر مسڑ لکی ۔۔۔ "Wow ۔۔۔۔ "So Handsome "Can't believe...he is in real .... کلاس میں مختلف جملے سنائی دئیے اسے ۔۔۔۔ "مجھے شکایت کا موقع بالکل بھی نہیں ملنا چاہیے " انہیں ایک ضروری کال آئی تو پرنسپل صاحب کال سننے کلاس سے باہر نکلے ۔۔۔تو پرروفیسر لکی ڈائس کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔ وہ ناگوار نظروں سے کلاس کا ڈسپلن دیکھ رہا تھا ۔۔۔ "سٹ ڈاؤن "اس نے اپنی بھاری آواز میں کہا تو سب فورا بیٹھ گئے ۔۔۔ "خاموش !! وہ دھاڑا ۔۔۔ سب لڑکے اور لڑکیوں کی اسکی پرسنالٹی کو لے کر چہ مگوئیاں بند ہوگئیں ۔۔۔ "میں آپکا نیو انسٹرکٹر Lucky .اور مجھے اپنی کلاس میں ڈسپلن چاہیے ۔ Understand ?? Yes sir ۔۔۔۔ سب نے جوابا کہا ۔۔۔ "آج فرسٹ ڈے ہے اسی لیے چھوڑ رہا ہوں ۔۔۔ Next time be careful۔۔۔ یس سر ۔۔۔۔ماھی کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق تھی ۔۔او ۔۔۔۔تو ابھی کچھ دیر پہلے میں اپنے ٹیچر کے ساتھ کالج آئی تھی ۔۔۔ اس نے دل میں سوچا ۔۔۔ مگر مقابل کے چہرے پہ نو لفٹ کا بورڈ تھا جیسے وہ اسے جانتا ہی نا ہو ۔۔۔ سب سٹوڈنٹ سے اس نے ان کا انٹروڈکشن لیا ۔۔۔پھر اپنا لیکچر سٹارٹ کیا ۔۔۔۔ سب اپنے ہینڈسم اور بارعب قابل ٹیچر کے پہلے دن ہی گرویدہ ہو گئے ۔۔۔۔ وہ لیکچر ختم کیے ایک اچٹتی سی نظر ماھی پہ ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔ "ہائے کتنے ہینڈسم تھے ۔۔۔اور کم عمر بھی ۔۔زیادہ سے زیادہ پچیس چھبیس سال کے لگتے ہیں ۔ کہیں سے لگتا ہی نہیں کہ یہ ٹیچر ہوں گے "ماھی کے ساتھ بیٹھی ہوئی پارس بولی ۔۔۔ "اپنے ٹیچر کے بارے میں کوئی ایسا کہتا ہے کیا ۔۔۔؟؟وہ ہمارے روحانی استاد ہیں۔ہمارے لیے قابل احترام ہیں ۔ماھی اسے سمجھانے لگی ۔۔۔ "او ماھی یار تم کس صدی کی باتیں کر رہی ہو ۔۔ ؟ٹیچر ہی تو آج کل لڑکیوں کے کرش ہوتے ہیں ۔وہ مسکرا کر لاپرواہی سے بولی اور اگلے لیکچر کے لیے دوسری کتاب نکال کر اگلے پروفیسر کا انتظار کرنے لگی ۔۔ 🔥🔥🔥🔥🔥 سب لڑکیاں پارلر سے تیار ہوکر میرج ہال پہنچ چکی تھیں۔اور اب ہال کے برائیڈل روم میں موجود تھیں ۔۔۔۔ سب لڑکیوں نے آج کے فنکشن کے لیے میکسی کا انتخاب کیا تھا ۔۔۔سب کی ایک جیسی تھیں صرف رنگ مختلف تھے ۔۔۔ ان سب کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی ۔۔۔ ماھی نے لائٹ پنک کلر کی ،ہانیہ نے سی گرین کلر کی ،منساء نے برگنڈی کلر کی اور رمشاء نے ڈارک بلیو کلر کی میسکی پہن کر نازک سی جیولری اور لائٹ میک اپ کے ایک سے بڑھ کر ایک دکھائی دے رہی تھیں ۔۔۔زخرف نے بلیک کلر کی میکسی پہنے سنہرے شہد رنگ کے سٹریٹ بال جو آدھی کمر تک آتے تھےانہیں کرلز کیے ،ہوئے تھی اس کا سڈول اور نازک سا مرمریں جسم، گہری جھیل سی آنکھیں، ستواں ناک،چھوٹے چھوٹے خوبصورت سے گلابی ہونٹ،سفید ملائی جیسے چہرے اور بھرے بھرے سے سرخ گالوں کے ساتھ وہ موم سے بنی نازک سی گڑیا لگتی تھی ۔ منساء اور رمشاء کی خوبصورتی میں بس انیس بیس کا ہی فرق تھا ۔ زخرف کے چہرے سے معصومیت جھلکتی تھی لیکن وہ بہت شرارتی تھی۔ ابتسام کے لاڈ پیار کی وجہ سے ابھی تک اس کا بچپنا نہیں گیا تھا۔اس کی شرارتیں بھی اس کی طرح معصوم سی تھیں۔ رمشاء جتنی سنجیدہ لڑکی تھی یہ اتنی ہی غیر سنجیدہ اور فضول گو تھی ہر وقت ہنسی مذاق سے اس کا دل خوش رہتا تھا ۔لیکن منساء بھی کسی سے کم نا تھی وہ بھی بہت اچھی عادات کی مالک تھی بڑوں کا احترام کرتی تھی ۔۔۔ زخرف خاص کر اپنی مما سے بہت ڈرتی تھی کیونکہ منت کو اگر پتہ چلتا کہ اس سے کچھ غلط ہوا ہے تو وہ اس کی ٹھیک ٹھاک کلاس لے لیتیں تھیں البتہ بابا اس کی سائیڈ لیتے تھے۔زبان سے کبھی کسی کےلیے برا نہیں کہا نہ کسی پر طنز کیا۔اگر کوئی غصے میں اسے برا بھلا کہہ دے تو مجال ہے جو آگے سے کچھ کہہ دے۔۔۔ ہانیہ بھی اخلاق کے لحاظ سے بہت اچھی لڑکی تھی۔ ماھی ان سب میں سے کم عمر تھی وہ ان سب لڑکیوں کے برعکس جسمانی لحاظ سے کمزور تھی لیکن پڑھائی میں بہت اچھی تھی۔اسے کتابوں سے پڑھائی سے بہت محبت تھی ۔۔۔ اس میں خود اعتمادی کی کمی تھی۔بہت جلد نروس ہو جاتی تھی اور ہر چیز سے ڈرتی تھی۔نازک مزاج بھی بہت تھی۔اسے ناول پڑھنے کا بہت شوق تھا۔خاص کر رومینٹک سینز اسے بہت پسند تھے۔لیکن وہ بے حد شرمیلی تھی۔ "تمہارے ہاتھ کیوں اتنے ٹھنڈے ہو رہے ہیں "؟ منساء نے آیت کے مہندی سے رچے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر پوچھا ۔۔۔ "کہیں مومن بھائی سے ڈر کی وجہ سے تو نہیں "؟ہانیہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔ "ہیں بھئی ہماری آیت آپی کیوں ڈرنے لگیں بھلا مومن بھائی سے ؟؟؟ذخرف نے حیرانگی سے استفسار کیا،۔۔۔ "بہت ہی نالائق ہو تم "ہانیہ نے پیشانی پہ ہاتھ مار کر کہا ۔۔۔ "تم مجھے نالائق سمجھتی ہو۔......"وہ صدمے سے بولی۔"مستقبل کی سافٹ ویئر انجنیئر ہوں ۔مجھے ایویں ای نا سمجھ لینا"زخرف تو برا ہی منا گئی۔ "وہ تو رزلٹ آئے گا تو پتہ چلے گا نا کہ تم نے کونسے تیر مارے ہیں"ماھی نے لقمہ دیا "پیپر تو میں نے اچھے ہی دیے تھے لیکن رزلٹ کا پتہ نہیں کیا بنے گا"اسے رزلٹ کی فکر لگ گئی۔ "یار اب تو جو ہونا تھا وہ ہوگیا آگے کا کیا سوچا تم لوگوں نے"منساء نے سب سے پوچھا "میں تو بزنس وومن بنوں گی" رمشاء بولی۔ "اور تم ماھی " ؟ "میں لیکچرار بنوں گی " "اور تم ہانیہ " ؟ "یار میں تو اکتا گئی ہوں اس پڑھائی سےمجھے ایف اے ہی بہت ہے۔ اس سے زیادہ مجھے ہضم نہیں ہوں گی یہ مزید کتابیں قسم سے پڑھ پڑھ کر اب تو آنکھیں بھی جواب دے گئیں ہیں " "اچھا تو اب شادی کرنے کا موڈ تو نہیں ویسے اگر ہو تو مجھے ضرور بلانا تمہارے جانے کی اتنی خوشی مناؤں گی جیسے سر سے بلا ٹلنے کی خوشی ہوتی ہے" زخرف نے اسے چھیڑا تو سب کا قہقہہ بلند ہوا اور ہانیہ بے چاری خجل سی ہو کر رہ گئی۔ "بلاؤں گی تم سب کو اپنی شادی میں بس تیاری پکڑ لو " وہ اٹھلاتے ہوئے بولی ۔۔۔ "سچی ؟؟؟رمشاء نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔ ہانیہ اسکے یوں پوچھنے پہ گڑبڑا سی گئی ۔۔ اور اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ "منساء ویسے آیت کے بعد تمہارا نمبر ہے "ہانیہ نے اسے چھڑا ۔۔۔ "ایکسکیوز می اب میں شادی کے لیے اتنی بے صبری بھی نہیں ہو رہی۔تم سے تو بعد میں ہی ہو گی میری شادی۔۔کیونکہ مجھ سے زیادہ تو تم بے صبری ہوئی پڑی ہو شادی کے لیے "منساء نے دوبدو جواب دیا ۔۔ "اچھا لیکن مجھے پتہ ہے اگر آج ہی تمہارا رشتہ آ جائے تو تم نے ذرا دیر نہیں لگانی شادی کرنے میں۔"ہانیہ نے بھی آج کھری کھری سنانے کا موڈ بنا لیا تھا۔ "یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں تم سے پہلے شادی کر لوں"منساء بولی۔ "اگر ہو جائے تو"ہانیہ نے ابرو اچکایا۔ "اچھا شرط لگاؤ جس کی پہلے ہوئی وہ سزا کیلیے ریڈی رہے" "اوکے"ہانیہ نے ہاتھ آگے بڑھایا "اللّٰہ کرے تم دونوں کی اکٹھی ہو جائے دو بلائیں ہماری جان چھوڑیں ۔۔۔ زخرف نے ان کی فضول کی لڑائی سے تنگ آتے ہوئے جھنجھلا کر کہا ۔۔۔ منساء،رمشاء،زخرف،ماھی ، ہانیہ اور آیت کے یکلخت قہقہے چھوٹے۔۔۔۔ "او دلہنیا میڈم آپ تو کم ہنسیں ۔۔۔یاد ہے نا بیوٹیشن نے کیا کہا تھا ۔۔۔ جیسے ہارر مووی میں ڈرنا منع ہے ۔۔۔ ویسے شادی سیریز میں ہنسنا منع ہے ۔ورنہ یہ منہ پہ جو باراں کلو کی بیس کی تہہ چڑھائی ہے۔وہ پھٹ جاے گی اور ہارر مووی کی ہیروئین لگو گی ۔۔۔بجائے مومن بھائی کی ہیروئن لگنے کی ۔۔۔۔ہانیہ مسکرا کر شرارت سے بولی تو آیت نے اپنی نند کو گھوری سے نوازا۔۔۔ "میں دیکھ کر آتی ہوں کہ بارات آئی یا نہیں۔ ۔۔۔ منساء اپنی میکسی سنبھالتے ہوئے باہر نکلی ۔۔۔ "ایک تو یہ رمشا نے اپنے ساتھ مجھے بھی ہائی ہیل کا عذاب ڈال دیا ۔۔۔اب یہ میکسی سنبھالوں یا ہیل کو "وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے ہوئے جیسے ہی سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی ۔۔۔اس کی ہائی ہیل سے اسکا پاؤں رپٹ گیا ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ سیڑھیوں سے نیچے گرتی کسی کی مضبوط بانہوں نے اسے بچا لیا ۔۔۔۔ منساء نے گرنے کے ڈر سے آنکھیں میچ لیں تھی ۔۔۔مگر جب اپنی کمر پہ مضبوط گرفت محسوس کی تو جھٹ سے اپنی آنکھوں کو کھولا ۔۔۔ "دھیان سے "احتشام تفکر بھرے انداز میں بولا ۔۔۔ وہ سرعت سے اسکے حصار سے باہر نکلی۔۔۔ احتشام نے اسے کے سجے سنورے سراپے کو نظر بھر کر دیکھا ۔۔۔ "تم جانتی ہو ؟؟؟ احتشام فسوں خیز آواز میں کھوئے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔۔ "کیا ؟اس نے ابرو اچکا کر پوچھا ۔۔۔ "قصور آنکھیں کرتی ہیں اور خسارہ دل کے حصے میں آتا ہے " وہ کہتے ہوئے گہرا سانس بھر گیا ۔۔۔ "کیا کہہ رہے ہیں آپ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ وہ اکتا کر بولی ۔۔۔ "ان سوالوں کے جواب عشق کی راہوں پہ چلنے سے ملتے ہیں۔وہ مبہم سا مسکرایا اور واپس پلٹ گیا ۔۔۔ "کیا کہہ رہے تھے میرے تو کچھ بھی پلے نہیں پڑا " منساء نے لاپرواہی سے شانے اچکائے ۔۔۔اور نیچے اتر آئی ۔۔۔ شام کے سائے رات کی تاریکی میں گم ہونے لگے تھے۔ہلکی ہلکی چلتی ہوا اور میوزک ماحول میں عجیب سا فسوں پیدا کر رہا تھا ۔میرج ہال مہمانوں سے بھر چکا تھا۔بارات کے آنے کے بعد دلہن کو سب کزن مل کر نیچے لے آئیں بڑے سے سٹیج پر لگے صوفے پہ آیت اور مومن بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔مومن نے آیت سے سرگوشی میں کوئی بات کی تو آیت خود میں سمٹ کر رہ گئی ۔۔۔آیت نے سرخ رنگ بیش قیمتی دیدہ زیب کام والا لہنگا پہن رکھا تھا۔جبکہ مومن بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس تھا ۔دونوں پر آج ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔آیت تو آسمان سے اتری ہوئی حور لگ رہی تھی ،اور مومن بھی کچھ کم نہیں تھا ۔امرام شیر اور شیر دل بھی تھری پیس سوٹ میں ملبوس شہزادے لگ رہے تھے۔ برگنڈی رنگ کی ہلکے سے کام والی میکسی میں ملبوس منساء جب سٹیج پر آئی تو احتشام نے بمشکل اس پر سے نظریں ہٹائیں تھیں۔وہ جب بھی اس کے سامنے آتی تھی پہلے سے زیادہ خوبصورت دکھائی دیتی اسے ۔منساء بھی اسے ایک نظر ہی دیکھ سکی تھی اور پلکوں کی باڑ جھکا گئی تھی۔کیونکہ وہ کافی دیر سے احتشام کی پرتپش نظریں خود پہ جمیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ "شیر زمان،شیر دل اور امرام شیر تینوں ایک ساتھ سٹیج پہ آئے اور نیولی میرڈ کپل کو مبارکباد دیتے ہوئے گفٹس دے کر نیچے اتر گئے ۔۔۔۔ زخرف دور کھڑی ترسی ہوئی نگاہوں سے امرام شیر کو دیکھ رہی تھی ۔مگر امرام شیر نے ایک نظر بھی اس پہ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔ "Looking so pretty" سب کھانا کھانے لگے تو اعیان ہانیہ کے ٹیبل پہ آیا ۔۔۔ اور ٹشو پیپر پہ لکھ کر اسکی طرف وہ ٹشو بڑھایا ۔۔۔ ہانیہ نے ٹشو پکڑ کر کھولا تو اس میں یہ لکھا تھا ۔۔۔ ہانیہ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا۔۔۔۔ "تھینکس "وہ آہستہ آواز میں بولی۔۔۔۔ اسکی آواز بہت مدھم تھی کہ صرف ساتھ والی چئیر پہ بیٹھے ہوئے اعیان نے سنی ۔۔۔ سٹیج پہ دودھ پلائی کی رسم شروع ہوئی تو سب اسی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ "میں مام سے بات کرتا ہوں ہمارے بارے میں ۔۔۔اعیان نے ہانیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے تسلی آمیز انداز میں کہا ۔۔ ہانیہ نے پلکیں جھپک کر اسے اپنے ساتھ کا احساس دلایا۔۔۔ "Love you a lot Honey" . وہ دھیمے آنچ دیتے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔ اس سے پہلے کہ انہیں کوئی یوں بات کرتے دیکھتا وہ موقع کی مناسبت دیکھ وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔ "مام آپ سے ایک بات پوچھوں ؟احتشام اپنی والدہ منت کے پاس آکر ان کے شانے پہ تھوڑی رکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ "پوچھو بیٹا "منت نے محبت بھرے انداز میں اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔ "مما آپ کو منساء کیسی لگتی ہے ؟؟؟ "بیٹا منساء اور رمشاء بے شک زائشہ آپی کی بیٹیاں ہیں۔مگر وہ مجھے بالکل ذخرف کی طرح ہی لگتی ہیں۔میری بیٹی کی طرح ۔۔۔ "ویسے تمہارا یہ سوال پوچھنے کا کیا مقصد ہے ۔۔۔؟وہ اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے پوچھنے لگیں ۔۔۔ "مما آپ کا بیٹا اس معاملے میں تھوڑا شائے ہے۔آپ خود سمجھ جائیں نا ۔۔ وہ نگاہیں چراتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔ "او۔وووو۔۔ اچھا ۔۔ "تو یہ بات ہے '''منت کے دماغ میں فورا کلک ہوا تو وہ سمجھتے ہوئے بولیں ۔۔۔ "مجھے بھی منساء بہت اچھی لگتی ہے۔بہت پیاری اور سلجھی ہوئی بچی ہے۔سوٹ کرے گی میرے سلجھے ہوئے بیٹے کے ساتھ ۔۔ ویسے بھی گھر کی دیکھی بھالی ہے۔سب کی نیچر سے واقف ہے۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ "مگر بابا ؟؟؟احتشام نے سر کھجاتے ہوئے ابتسام کی بات کی ۔۔۔ "ابتسام کو بھلا کیوں برا لگے گا ۔۔۔؟ منساء ان کے سگے بھائی کی بیٹی ہے۔تم فکر مت کرو ۔۔ تمہاری مما ہے نا ۔۔۔میرے بیٹے کی خواہش پوری کرنا اب میری ذمہ داری کے ۔۔۔۔وہ مسرت بھرے انداز میں بولی۔ ۔۔۔ I love you sooooooo much mom. You are really very great ... وہ منت کے ہاتھ کی پشت پہ عقیدت بھرا بوسہ لے کر بولا ۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو ۔۔ وہ دعائیہ انداز سے بولی۔ ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں رخصتی کا شور اٹھ گیا ۔۔۔۔ قرآن پاک کے سائے میں آیت کی رخصتی کی گئی ۔۔۔ "اف کب گھر آئے گا اور کب یہ گھونگھٹ کی دوری ختم ہوگی ! مومن جو گاڑی میں آیت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔۔۔ "اچھے بچوں کی طرح صبر کریں ۔۔۔کوئی سن لے گا " وہ آہستہ آواز میں بولی۔ "بچہ سمجھنے کی غلطی مت کیجیے گا اب تو خیر سے شادی شدہ ایک عدد بیوی والا ہوگیا ہوں ۔ وہ آیت کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے بولا ۔۔۔ "مجھ سے چھوٹے ہیں آپ تو بچے ہی ہوئے نا " "تو اس میں میرا کیا قصور آپ کو ہی اپنے مجازی خدا سے پہلے اس دنیا میں آنے کی جلدی تھی ۔۔۔ مومن اب کی بار اسکی کمر میں پیچھے سے بازو گزار کر اسکے قریب ہوا ۔۔۔ "مومن کیا کر رہے ہو پلیز ۔۔۔" "بڑا بے صبرا ہوا پڑا ہوں اور یہ منحوس راستہ ہے جو آج ختم ہونے میں نہیں آ رہا "وہ کوفت زدہ آواز میں بولا۔۔۔ آیت اسکی بیچارگی پہ ہلکے سے مسکرا اٹھی۔۔۔ کچھ رسموں کی ادائیگی کے بعد آیت کو مومن کے روم میں پہنچا دیا گیا ۔۔۔ مومن کے بارے میں سوچتے ہوئے ہی آیت کے اوسان خطا ہو رہے تھے ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کمرے میں آتا آیت نے اس بھاری زرق برق لباس سے آزادی حاصل کرنے کا سوچا ۔۔۔ اس نے عروسی لباس کا دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا ۔۔۔ اور خود آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی ابھی اپنے آویزے کو چھوا ہی تھا اتارنے کے لیے کہ مومن دروازہ کھول کر اندر آیا۔۔۔موتیے اور گلابوں کی محسور کن مہک نے اس کا استقبال کیا۔۔اور سامنے ہی اس کی من پسند دلہن اس کے من پسند انداز میں کھڑی تھی ۔۔۔خود کو دوپٹے سے بے نیاز دیکھ کر آیت نے فورا رخ تبدیل کیا ۔۔۔اور ہاتھ بڑھا کر بستر پہ سے اپنا دوپٹہ اٹھانا چاہا مگر مومن سرعت سے اسکے قریب پہنچ کر دوپٹے کو اسکی پہنچ سے دور کر گیا ۔۔۔۔ "آپکی آمد سے اس کمرے میں چار چاند لگ گئے ہیں ۔"وہ آیت کو پشت سے اپنے حصار میں لیے بولا ۔۔۔ آیت کی پشت مومن کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔دل کی دھڑکنوں نے شور مچایا۔۔۔ مومن نے اس کی صراحی دار نازک سی گردن پر اپنے لب رکھے۔۔۔ "It's cheating" "پہلے منہ دکھائی ۔۔۔۔آیت نے اپنی حنائی ہتھیلی پھیلائی ۔۔۔ مومن نے پاکٹ سے جڑاؤ کنگن نکال کر اسکی کلائی میں پہنا دئیے ۔۔۔ "اب خوش "؟ "تو پھر منہ بھی دکھائیں "اس نے آیت کو بازوؤں سے تھام کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔ "میری ان آنکھوں نے دنیا کا سب سے حسین منظر آج دیکھا ہے " وہ فسوں خیز آواز اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر بولا ۔۔۔ وہ اس کے چہرے کے ہر نقش کو اپنے لمس سے مہکانے لگا ۔۔۔ "مومن بس ۔۔۔۔میں پاگل ہو جاؤں گی" وہ سٹپٹاتے ہوتے ہوئے اسے خود سے دور دھکیل کر بولی۔ "ابھی تو شروعات ہیں جان مومن !!!ابھی تو آپ کو میری حسرتوں ،چاہتوں ،اور خواہشوں کو سننا ہے اور محسوس کرنا ہے ۔۔۔ وہ خمار زدہ آواز میں اسکے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔ "میں آپکی حسرتوں ،چاہتوں اور خواہشوں کو پورا کرنے میں آپ کا ساتھ دوں گی " وہ آنکھیں موندے بولی ۔۔۔ اسکے الفاظ نے مومن کے دل میں سرور سا بھر دیا ۔۔۔جیسے اسے اسکی زندگی مل گئی ۔۔۔ "Than prove it." مومن ابرو اچکا کر بولا۔۔۔ آیت کے لیے یہ اک امتحان تھا ۔۔۔وہ جھجھکتے ہوئے اس کے گلے میں بانہیں ڈالے پلکیں جھکا گئی ۔۔۔ مومن تو اسکی ادا پہ صدقے واری ہوا۔۔۔ "Jaan e Momin you nailed it" وہ پرجوش آواز میں کہتے ہوئے اسے بازووں میں بھر کہ بستر پہ لایا ۔۔۔ "مومن پلیز میری ایک بات سنیں گے ؟ " وہ جو اس میں پوری طرح خود کو کھو دینا چاہتا تھا ۔۔۔اسکی بات سن کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔۔ جان ِمومن ایک کیا ہزار سنائیں .....ہم ہمہ تن گوش ہیں. "مومن میں آپ سے بڑی ہوں تو لوگ آپ کو باتیں سنائیں گے نا ۔۔۔جب مجھے آپ کے ساتھ دیکھیں گے تو "وہ اپنے دل کا ڈر اس پہ ظاہر کرنے لگی ۔۔۔ "جان ِمومن لوگوں کا تو کام ہی باتیں بنانا ۔آپ اپنے شوہر پہ توجہ دیں " وہ اسکے لبوں پہ جھکا ہی تھا کہ اس کے موبائل پر آتی ہوئی کال نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔۔۔ وہ ناگواری سے پیچھے ہوا ۔۔۔ "اس وقت کس کو مسلہ ہے " وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور موبائل اٹھا کر دیکھا ۔۔۔ "آیت تم چینج کر کہ فریش ہو جاؤ میں کال اٹینڈ کر کہ آتا ہوں " وہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا تو آیت کے کب سے رکے ہوئے سانس بحال ہوئے وہ اپنا آرام دہ سوٹ نکال کر واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔ آیت باہر آئی تو اتنی دیر مومن بھی چینج کر چکا تھا ۔۔۔اور شوز پہن رہا تھا ۔۔۔ "آپ کہیں جا رہے ہیں ؟وہ حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ "ہممم ۔۔۔سوری آیت مجھے حکومت کی طرف سے دوسرے ملک بھیجا جا رہا ہے۔ہمارے ایک مسلم ملک میں حادثہ ہوا ہے ،وہاں کی ہنگامی صورت حال میں ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔تو حکومت کچھ ڈاکٹرز کو وہاں بھیج رہی ہے۔اور میرا نام بھی اس فہرست میں ہے ۔۔۔ "لیکن مومن ؟ "آپ ایسے کیسے مجھے شادی کی پہلی رات ہی چھوڑ کر جا سکتے ہیں " وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولی۔۔۔ "آیت ڈاکٹرز کو اپنا فرض نبھانا ہوتا ہے۔مریض کی مسیحائی کرکہ ۔۔۔وہاں میری ضرورت ہے۔ہمارے مسلم بھائیوں بہنوں اور بچوں کو ۔۔۔ اس نے آیت کی پیشانی کو اپنے لبوں سے چھو کر سمجھایا ۔۔۔ "مگر وہاں فسادات ہورہے ہیں۔اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو ۔۔۔یہ سوچ بھی نہیں پا رہی ۔۔۔مومن یہ سوچنے سے پہلے ہی مر جاؤں گی میں ۔۔۔ "جان ِمومن ! ادھر دیکھیں ۔۔۔ وہ اسکی تھوڑی کو اپنی پوروں سے اوپر اٹھا کر بولا ۔۔۔ "اپنے خدا پہ بھروسہ ہے نا ؟؟ "ہمممم۔۔۔۔ "تو پھر اس نے جیسے ہمیں ملایا ہے ویسے ہی پھر سے جلدی ملادے گا ۔۔۔اور رہی بات ہماری ویڈنگ نائٹ کی تو جب میں واپس آؤں گا تو یہیں سے شروعات ہوگی ۔۔۔وہ اس کے لبوں کو اپنی پوروں سے سہلاتے ہوئے کان میں سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔ اس کی آخری بات پہ آیت کا چہرہ کھل کر گلنار ہوا ۔۔۔ "یار میری پیکنگ میں ہیلپ کرواؤ پلیز " آیت نے اس کے ساتھ ملکر تیزی سے ساری پیکنگ کی ۔۔۔ "آپ مما سے مل کر جائیں گے ؟؟؟اس نے عیش کے بارے میں پوچھا ۔۔۔ "نہیں ۔۔ ان کی نیند خراب ہو جائے گی تم صبح انہیں بتا دینا ۔۔۔ مومن بیگ لیے روم سے نکلنے لگا تھا کہ آیت نے بھاگ کر پیچھے سے اس کی کمر میں بازو ڈال دئیے ۔۔۔ "یا اللّٰہ اس خوشی سے کہیں میں مر ہی نا جاؤں " مومن مسکرا کر بولا ۔۔۔ "کیسی فضول باتیں کر رہے ہیں ؟؟؟ مومن نے اسکی طرف دیکھا جا کے گال رونے کے باعث نم تھے ۔۔۔ "یار مجھے پتہ نہیں تھا نا کہ میری اکلوتی بیوی مجھ سے اتنا پیار کرتی ہے۔بس یہی جان کر خوشی کی انتہاوں کو چھو رہا ہوں ۔۔۔مگر تمہارے یہ آنسو مجھے کمزور کردیں گے ۔۔۔ پلیز مجھے کمزور مت کرو آیت ۔۔۔ وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے رونے لگی ۔۔۔۔ "اب تو دل چاہتا ہے اپنی بیوی کے پلو سے بندھ جاؤں ۔۔۔مگر ہائے رے مجبوریاں ۔۔۔ وہ شرارت سے بولا۔۔۔ اس کے آنسو پونچھ کر اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔۔ "Love you" اپنا خیال رکھنا میرے لیے ۔۔۔ اسکا گال تھپتھپاکر کر وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔ 🔥🔥🔥🔥🔥🔥 "مر جائے گی میجر امرام وہ " میر نے امرام کو کال پہ اس کی نازک حالت سے آگاہ کیا ۔۔۔ "کچھ بتایا ُاس نے ؟وہ میر کی بات کو رد کرتے ہوئے اپنا سوال داغ گیا ۔۔۔ "سدرہ نے بہت اُگلوایا ۔۔۔سب حربے استعمال کر لیے۔۔ایسے سب ٹرکس جو بڑے سے بڑا گینگسٹر بھی بھی سچ اگل دے ۔۔۔مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔۔۔اس کا یہی مطلب ہے وہ بے قصور ہے۔کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔ "میجر امرام جو آپ اسے سمجھ رہے ہیں ۔شاید چاندنی وہ نا ہو ۔۔۔اور اگر ایسا ہوا تو آپ ایک معصوم کو کسی اور کے گناہوں کی سزا دے رہے ہیں "اس نے دب لفظوں سے باور کروایا۔۔۔ "ہمممم۔۔۔۔وہ چند سیکنڈز خاموش رہا۔۔۔ "سدرہ سے کہو اسے اپنے کواٹر میں لے جائے اور اس کی مرہم پٹی کرے ۔۔۔ میں نے پلان بدل لیاہے۔۔۔وہ گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔ "اور وہ کیاہے ؟؟میر نے پوچھا ۔۔۔ "ملکر بات کریں گے "وہ سپاٹ انداز میں کہتے ہوئے کال بند کرگیا ۔۔۔۔ 🔥🔥🔥🔥🔥🔥 ٹھک ۔۔ٹھک ۔۔۔ٹھک ۔۔۔ دروازے پر دستک ہوئی تو جنت جو ڈریس تبدیل کیے ابھی لیٹنے ہی لگی تھی ۔۔۔ زیان کو تفکر بھرے انداز میں دیکھنے لگی ۔۔۔ "اس وقت کون ہو سکتا ہے ؟؟؟ "جاؤ دیکھو "زیان نے کمفرٹر پاؤں پہ درست کرتی ہوئے کہا ۔۔۔ جنت نے دروازہ کھولا تو سامنے اعیان کو کھڑے پایا ۔۔۔ "سب ٹھیک تو ہے اعیان ؟" "تم اس وقت کیا بات ہے ؟" "مما سوری اس وقت آپ کو ڈسٹرب کرنے کے لیے مگر مجھے آپ سے اور ڈیڈ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اسی لیے یہاں آیا ۔۔۔ اس نے اپنے آنے کی بابت بتائی ۔۔۔ "اچھا آؤ اندر بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔۔جنت نے پیچھے ہو کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا ۔۔۔ "ہممم بتاؤ کیا بات ہے ؟"زیان نے سنجیدگی سے سوال کیا ۔۔۔ "ڈیڈ ۔۔۔وہ ۔۔۔میں۔۔۔ وہ حوصلہ کر کہ تو آیا تھا ان سے بات کرنے کا ۔۔۔مگر اب ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ "یہ تمہیں اپنی بات کرنے کے لیے اتنی تمہید کب سے باندھنی پڑ گئی ۔۔۔صاف صاف بتاؤ کیا بات ہے "جنت نے سادہ سے انداز میں پوچھا ۔۔۔ "مام ڈیڈ میں رمشاء سے نہیں ہانیہ سے شادی کروں گا ", اس نے ہمت جُٹا کر ایک ہی سانس میں اپنی بات کہہ دی ۔۔۔۔ "جنت !! اعیان کی بات سن کو زیان اس سے مخاطب ہونے کی بجائے جنت پہ گرجا ۔۔۔۔ "اسے کہو اپنا بوریا بستر سمیٹے اور اس گھر سے دفعہ جائے " زیان رعب دار آواز میں غرایا ۔۔۔ 🔥🔥🔥🔥🔥🔥 اس قسط پہ اپنے ریویو دینا نہ بھولیے گا پیارے دوستوں 💖
❤️ 😮 👍 😢 🌺 🔥 🙏 🫀 46

Comments