Novels Ki Duniya📚🌐🖤
February 14, 2025 at 04:54 AM
#چاند🌙 آسمانوں سے لاپتہ۔
#قسط:7
#حنااسد۔
"زیان ایک بار اس کی پوری بات تو سن لیں آرام سے وہ کہنا کیا چاہتا ہے ،شاید جو آپ سمجھ رہے ہیں وہ اعیان کا مطلب نا ہو ۔۔۔ "
"ہیں نا اعیان ؟"وہ مصالحتی انداز میں بولیں ۔۔۔
"مما ڈیڈ جو سمجھ رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں۔میں پھر سے ایک بار کہہ دیتا ہوں مجھے رمشاء میں کوئی انٹرسٹ نہیں ۔۔۔میں ہانیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔آخر میری ساری زندگی کا سوال ہے۔وہ جھٹپٹا کر بولا ۔۔۔
"اور جو میں نے اپنی بہن زائشہ کو زبان دے رکھی ہے۔اس کا کیا ؟؟؟زیان نے تلخ انداز میں پوچھا ۔۔۔
"ڈیڈ میں نے تو نہیں کہا تھا آپکو زبان دینے کے لیے "
"ذلیل انسان زبان چلاتا ہے میرے سامنے ۔۔۔۔انہیں ہاتھوں سے تجھے پال پوس کر بڑا کیا کھانا کھلایا تیری پڑھایا لکھایا ۔۔۔۔اس دن کے لیے ۔۔۔؟؟
کہ تو میرے منہ پہ آئے ؟؟؟
زیان تو اسکی زبان درازی پہ آپے سے باہر ہوا ۔۔۔
"آپ نے مجھ پہ کوئی احسان نہیں کیا کھلا پلا کر یا پڑھا کر ۔۔۔۔ہر ماں باپ ایسے ہی کرتے ہیں۔"وہ دوبدو بولا ۔۔۔
"جنت اپنے لاڈلے سے کہو کہ میری نظروں کے سامنے سے دور ہو جائے ورنہ آج میرا ہاتھ اٹھ جائے گا اس پہ "
زیان غصے سے آگ بگولہ ہو چکا تھا۔۔۔
"زیان پلیز ۔۔آ۔۔۔آپ بیٹھیں ۔۔۔زیادہ غصہ کرنا ٹھیک نہیں۔۔۔میں اسے سمجھاؤں گی ۔۔۔
بچہ ہے سمجھ جائے گا "
وہ زیان کو شانے سے پکڑ کر بیٹھنے کے لیے بولی ۔۔۔
"کیا خاک سمجھے گا ؟
"بچہ لگتا ہے تمہیں یہ ؟؟؟
"ڈاکٹر بن چکا ہے ۔اور عقل گھٹنوں میں ہے۔"
وہ پیشانی پر شکنوں کا جال بچھا کر بولا ۔۔۔
"اس کی خاطر اب میں اپنی بہن سے ناراضگی مول لوں ۔۔۔اور وہ بچی رمشاء جو بچپن سے اسے اپنا سب کچھ مان کر اسکے نام پہ بیٹھی ہے۔اس سے کیسے نظریں ملا پاؤں گا میں ۔۔۔۔؟
"یہ سوچا ہے کبھی تم نے ؟؟."مگر تمہیں کیا ؟؟تم تو اپنے دل کی کرو "
"ڈیڈ رمشاء آپکی بہن کی بیٹی ہے ۔۔تو ہانیہ آپکے بھائی ضامن چچا کی بیٹی ہے۔میں کونسا آپ کو خاندان سے باہر کی لڑکی سے شادی کرنے کا کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔بس لڑکی ہی بدلنی ہے "
وہ تندہی سے بولا۔
"گڈے گڑیا کا کھیل ہے نا ایک گڑیا پسند نہیں تو دوسری سے شادی رچا لی ۔۔۔۔
انسان ہے رمشاء اس کے بھی احساسات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی کے دل کو توڑ کر کوئی کبھی بھی خوش نہیں رہ پاتا سمجھے تم "
جنت نے آج اتنے عرصے بعد زیان کو یوں غصے میں دیکھا تھا ۔۔۔
"اعیان تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔ہم پھر بات کریں گے "جنت نے فی الوقت اعیان کو وہاں سے جانے کے لیے کہا ۔۔۔
"نجانے کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے مجھے ایسی گندی نا فرمان اولاد کی صورت میں ۔۔۔
زیان دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھام کر چہرہ جھکا گیا ۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
"گڈ مارننگ سر !
لکی کلاس میں اینٹر ہوا تو ساری کلاس یکدم الرٹ ہوئی اور اسے سلام کیا۔
اس کا پہلا پیرڈ تھا ۔اسی لیے سب وقت سے پہلے ہی اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوچکے تھے ۔۔۔
"ہممم۔۔۔گڈ مارننگ!
وہ سنجیدگی سے بول کر ڈائس کی طرف بڑھا ۔۔۔
"اس کلاس میں ہائیسٹ مارکس کس سٹوڈنٹ کے ہیں ؟
اس نے سوال کیا ۔۔۔
سب نے اپنے اپنے مارکس بتائے ۔۔۔
"You stand up"
اس نے ابرو اچکا کر کہا ۔۔
"سر میں ؟؟
"جی آپ سے ہی کہہ رہا ہوں "وہ برفیلے لہجے میں بولا۔۔۔
تو ماھی جو پہلے اس کی پرسنالٹی کے زیر اثر سہمی رہتی اسکے مخاطب کرنے پہ جھجھکتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔
"آج سے آپ اس کلاس کی سی_ آر ہوں گی ۔۔۔
ماھی نے اتنی بڑی ذمہ داری مل جانے پہ فق نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
"مگر سر !اس نےدھیمی آواز میں کہنا چاہا ۔۔۔
Any problem?
اس کے سپاٹ سوالیہ انداز پہ ماھی نے جھٹ نفی میں سر ہلایا۔۔۔
"N....No....Sir ...
وہ سر جھکا گئی ۔۔۔
"آئیں آج کا ٹاپک شروع کرتے ہیں "لکی وائٹ بورڈ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
ماھی بے دلی لب بھینچ کراپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
"تم مجھے یہ کہاں لے کر آئی ہو اور وہ تمہارا منحوس مارا میجر کہاں ہے؟؟
سدرہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ وہ بیڈ سے اُٹھتی بولی- نقاہت کے باعث آواز بہت مدھم تھی- کمرا کافی کشادہ تھا- فرنیچر بھی میچنگ کا، مگر لکڑی کا تھا- ڈارک میرون رنگ پردے لگے تھے- ایل ای ڈی بلب کی روشنی بھی کافی تیز تھی- جو اسکے سامنے دیورا پر لگا تھا- بیڈ پر لیٹی چاندنی اب اُٹھ بیٹھی تھی-
"آجائیں گے سر بھی ، آپ یہ جوس پی لیں۔ سدرہ نے جوس کا گلاس اسے تھمانا چاہا۔ مگر وہ ٹانگیں سمیٹ کر آلتی پالتی مارے بستر پہ بیٹھی ۔۔۔
"اے موٹی سانڈ "تو اتنی جلدی بدل گئی ۔۔۔
"کیسے مار مار کر میرا بھرکس نکال دیا۔۔۔اور اب اتنی خاطر مدارت ؟؟؟
"سب خیر تو ہے۔نا ؟؟؟
"کہیں تیرا دماغ تو نہیں چل گیا ؟؟؟
"یا پھر میں جاگتی اکھیوں سے کوئی خواب شواب دیکھ رہی ؟؟؟
وہ آنکھیں دونوں ہاتھوں سے ملستے ہوئے بولی ۔۔۔
"اوووو۔۔۔۔
"کہیں اس جوس میں کچھ ملا تو نہیں دیا ۔۔۔۔
"اور مارنے سے پہلے مجھے کھلا پلا رہی ہے تو "
چاندنی نے اپنی قیاس آرائیاں جاری کیں ۔۔۔
"سر نے کہا تھا کہ آپ کا خیال رکھوں ۔۔باقی باتیں وہ آئیں گے تو ان سے پوچھ لیجیے گا۔۔۔ ابھی آپ اسے پی لیں " سدرہ نے جوس کا گلاس پھر اسکی جانب بڑھایا- چاندنی نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا- سدرہ نے نظریں چرا لیں-
"سچ سچ بتاؤ بکری حلال کرنے سے پہلے اس کا خوب خیال رکھا جا رہا ہے ۔۔۔ہے نا ؟؟؟
"ایساکچھ نہیں ہے سدرہ نے اس بار اس کے سوالوں سے تنگ آکر سنجیدگی سے کہا ۔۔۔ورنہ دل تو کر رہا تھا اسے دو لگا دے اسے موٹی سانڈ کہنے پہ ۔۔۔
"پہلے وہاں بند کر کہ مجھے مارا ۔۔۔اور وہاں سے مجھے چھڑوایا کیوں ؟ تمہاری کیا دشمنی ہے مجھ سے ؟ مجھے کیوں بیچ میں گھسیٹ لیا ہے؟ آخر میرا کیا قصور ہے؟ کس چیز کی سزا مل رہی ہے مجھے ؟
"یا خدا !!!! یہ کیسی زندگی ہے ؟؟؟
ایک گندی جگہ سے نکل کر دوسری ذلالت بھری جگہ پہنچ گئی ، ایک قید سے رہائی ملی تو ان لوگوں کی قید میں آگئی ۔۔۔ایسا کون سا گناہ کرڈالا ہے میں نے جس کی سزا مجھے ایسے مل رہی ہے "
وہ زور شور سے روتے ہوئے اپنے رب سے شکوے کر رہی تھی ۔۔۔
سدرہ نے گہری سانس لے کر خود کو ریلکس کیا-
ابھی آپ کو سب سچ پتا چل جائے گا۔ کچھ انتظار کریں۔ سدرہ نے خلاف معمول دھیمے لہجے میں کہا ۔۔کیونکہ وہ ہمیشہ کرخت انداز میں بات کرتی تھی ۔۔مگر میر کی ہدایت تھی کہ اس کے ساتھ اب نرم رویہ اختیار کیا جائے ۔۔۔۔
"سدرہ اس نے کھانا کھایا ؟؟"
میجر امرام شیر کی بارعب آواز پشت سے سنائی دی تو چاندنی اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔۔
"نہیں سر دو دن سے کچھ بھی نہیں کھایا "
"جاؤ کھانا لاؤ ۔۔۔اس نے سدرہ کی طرف دیکھ کر سپاٹ انداز میں کہا۔
"جی سر "
"کیوں لائے ہو اب یہاں مجھے ؟؟؟
"اب کونسی نئی چال ہے یہ تمہاری
مجھے اذیت دینے کی ؟؟؟
وہ چلا کر بولی ۔۔۔مگر نقاہت حد سے سوا تھی ۔۔۔وہ مزید بول نا سکی ۔۔۔
تو ٹیبل پہ پڑا لیمپ اٹھا کر اس کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
"میں تمہاری جان لے لوں گی ۔۔۔جانے دو مجھے یہاں سے "
امرام شیر سینے پہ بازو باندھے خاموش کھڑا اسے ہی ملاحظہ فرما رہا تھا۔۔۔یک ٹک ایسے کھڑا تھا جیسے اسکی دھمکی پر کوئی فرق نہ پڑا ہو-
"سب پتہ چل جائے گا سویٹ ہارٹ اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔" وہ بات کرتے کرتے کب چاندنی کی طرف آیا۔ اسے پتہ بھی نہیں چلا ۔۔۔
اسکے ہاتھ سے لیمپ لے کر اس نے جوس کا گلاس تھما دیا-
"نہیں پینا مجھے جوس ۔۔۔یاکچھ بھی بس مجھے جانے دو "وہ بضد ہوئی ۔۔۔
"میری اجازت کے بغیر تو پرندہ پر بھی نہیں مار سکتا تو تم کیا چیز ہو "
وہ استہزایہ انداذ سے ہنسا۔۔۔اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
"چھوڑو میرا ہاتھ ورنہ منہ توڑ دوں گی ",وہ زخمی ناگن کی طرح پھنکاری ۔۔۔
"پہلے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ تو نکال لو ۔۔۔میرے منہ تک پہنچنا تو دور کی بات ہے "امرام شیر کی گرفت مضبوط تھی ۔۔۔وہ کمزور چڑیا کے مانند پھڑپھڑا رہی تھی ۔۔۔اور دانت پیستے ہوئے اپنا ہاتھ اسکی آہنی گرفت سے آزاد کروانا چاہتی تھی ۔۔۔مگر بے سود ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کمزوری اور نقاہت سے گرتی ۔۔۔امرام نے اسے تھامنے کے لیے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا ۔۔۔
چاندنی نے فرش پہ لہرا کر گرتے ہوئے بھی نخوت سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔
"مر ۔۔۔۔بھی رہی ہوں گی۔۔۔نا تو تمہاری مدد نہیں چاہیے مجھے "
"اٹھو "امرام نے دوزانو بیٹھ کر اسے دیکھا ۔۔۔جو اسے قہربار نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ اس وقت اس حد تک اس کے قریب تھی کہ میجر امرام شیر اسکی آنکھوں میں اپنا عکس واضح طور پر دیکھ سکتا تھا ۔۔۔اس کے انداز اسے بہک جانے کومجبور کررہے تھے-
"کھانا کھاؤ پہلے ہمت پیدا کرو مجھ سے نپٹنے کی پھر آگے کی بات کریں گے ۔
امرام شیر اٹھ کر کھڑا ہوا،۔۔۔
سدرہ ہاتھوں میں کھانے کا ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
"اسے کھانا کھلا دو ۔۔۔
مجھے ایک ضروری میٹنگ میں جانا ہے۔کل بات ہوگی ۔۔۔
اور ہاں اسے ڈھنگ سے بات کرنا بھی سکھاؤ "وہ سدرہ کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
"یار ماھی کل نا میری ایک کزن کی انگیجمینٹ ہے ۔سمجھ نہیں آرہا کیا پہنوں ۔تم کچھ مشورہ دو نا "پارس نے کہا ۔۔۔
"پارس تم اتنی پیاری ہو کچھ بھی پہن لو تمہیں اچھا لگے گا ۔۔۔
"ماھی تم خود اچھی ہو اسی لیے تمہیں میں بھی اچھی لگتی ہوں ۔۔۔وہ اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر بولی ۔۔۔
"اچھا چلو یہ بتاؤ تمہاری کزنز ہیں ؟؟؟
"ہاں نا میری ڈھیر ساری کزنز ہیں ۔اور سب کی بہت اچھی ہیں ۔ماھی نے مسکرا کر بتایا ۔
"یار میری کزنز تو ایک نمبر کی جل ککڑیاں ہیں۔
وہ سر جھٹک کر بولی۔۔
"کیوں کیا ہوا ؟ماھی نے حیرانگی آنکھیں واہ کیے پوچھا ۔۔۔
"یار جب بھی کوئی نئے کپڑے پہنو ۔۔۔وہی اگلے دن وہ خرید لیتی ہیں ۔ایک تو میرے کپڑوں کی ڈیزائننگ چوری کر لیتی ہے ۔چورنی کہیں کی ۔۔۔میں نیٹ سے اتنی مشکل سے ڈیزائن سرچ کر کہ سوٹ سلواتی ہوں اور وہ لوگ چوری کرلیتی ہیں۔اور ایک کو تو مجھ سے مانگنے کے سوا کوئی کام نہیں ہر دوسرے دن مانگنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔پارس اپنا اچھا سا ڈریس دے دو پلیز آج مجھے یہاں جانا ہے وہاں جانا ہے ۔۔پارس اس کی نقل اتارتے ہوئے بولی ۔۔۔
تو ماھی کھکھلا کر ہنسنے لگی ۔۔۔۔اسے مسکراتا ہوا دیکھ پارس بھی ہنسنے لگی ۔۔۔
"کیا بتاؤں یار ساری کی ساری واقعی سڑیل ماسیاں ہیں ",
پارس اسے مزید ہنسنے پہ مجبور کرگئی ۔۔۔ان کی ہنسی کو بریکس تب لگے جب ۔۔۔
"ماھی !اس کلاس کی سی-آر کہاں ہے "؟سیکنڈ ائیر کا فہد کلاس روم کے دروازے سے جھانک کر بولا ۔۔۔
"میں ہوں "ماھی جو بکس بیگ میں ڈال رہی تھی ۔فورا سر اٹھا کر بولی ۔۔۔
"تمہیں سر لکی کمپیوٹر لیب میں بلا رہے ہیں "
"ممم۔۔۔مجھے کیوں ؟اس آنے استہفامیہ انداز سے پوچھا ۔
فہد نے شانے اچکائے اور واپس مڑ گیا ۔۔۔
"پارس تم بھی میرے ساتھ چلو نا "
ماھی ڈرتے ہوئے اپنی بکس سمیٹ کر ساتھ بیٹھی پارس سے بولی ۔۔۔
"ماھی سر نے تمہیں بلایا ہے میں کیسے جا سکتی ہوں ؟
"جاؤ یار سر تمہیں کھا تھوڑی نا جائیں گے ",وہ لاپرواہی سے ہنستے ہوئے بولی مگر ماھی کا تو خون خشک ہوا پڑا تھا ۔۔۔
"ماھی دھیان سے جانا اتنے ہی ہینڈسم سر کے ساتھ اکیلے میں ملنے جا رہی ہو کہیں ان کی وجاہت کے جلوے دیکھ کر بیہوش نا ہو جاؤ ۔۔۔
ماھی نے اسے شرارت سے چھیڑا ۔۔۔
ماھی دھڑکتے دل سے وہاں سے نکلی ۔۔۔۔
بالآخر وہ ہمت کیے کمپیٹر لیب میں داخل ہونے سے پہلے اس کے دروازے پہ ناک کیا ۔۔۔
"May I come in Sir
"Yes "
ماھی اندر آکر ادب سے کھڑی ہوگئی ۔۔۔
"آج میں کمپیوٹر پر کچھ ڈیٹا سیو کررہا ہوں ۔کل سنڈے ہے تو پرسوں منڈے کو کلاس میں ٹیسٹ لوں گا ۔۔۔
"جی ۔۔سر "وہ ہچکچاتے ہوئے بمشکل بولی ۔۔
"سر مگر ٹیسٹ کس یونٹ کا ہوگا ؟
"آپ مجھے اپنا نمبر دیں "؟
"مگر وہ کیوں "؟
ماھی نے حیران کن نظروں سے سامنے بیٹھے لکی سر کو دیکھا جس کی مخروطی انگلیاں کی بورڈ کی ماہرانہ انداز میں ٹائپنگ کر رہی تھیں۔یکلخت اس کی انگلیوں کی حرکت رکی اور اس نے خشمگیں نگاہوں سے ماھی کو دیکھا ۔۔۔۔
"رات کو آپکے ساتھ پرسنل باتیں کروں گا "
لکی سر کی اتنی غیر متوقع بات پہ ماھی کے اوسان خطا ہوگئے۔۔۔۔
"حد ہوگئی۔۔۔بھئی آپکو ٹیسٹ سے آگاہ کروں گا رات میں ٹیسٹ بنا کر تاکہ آپ باقی کلاس کو بتا دیں ۔کلاس فیلوز کے نمبر لے کر فون پہ ایڈ کرلیں ۔پھر جو میں آپ کو واٹس ایپ کروں گا آپ سب کو بتا دیجیے گا "
"جی سر "
اس نے مؤدب انداز میں کہا ۔۔۔
"نمبر ؟؟؟
"جی سر وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ماھی نے اپنا نمبر لکھوا دیا ۔۔۔
لکی نے ماھی کو اپنے فون سے واٹس ایپ پہ بلینک میسج سینڈ کیا ۔۔۔
اس کے شانے پہ ڈالے ہوئے بیگ میں موجود موبائل پہ میسج نوٹیفکیشن موصول ہوئی ۔۔۔
"میرا نمبر سیو کر لیں ۔۔۔"
ماھی نے بیگ سے موبائل نکالا ۔۔۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔۔
لکی نے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں میں سے موبائل پکڑ کر اپنا نمبر لکی کے نام سے سیو کردیا ۔۔۔
پھر موبائل ماھی کے ہاتھ میں پکڑایا ۔۔۔
"اب آپ جا سکتی ہیں ۔۔۔
ماھی موبائل لے کر مرے مرے قدموں سے باہر نکلی ۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ ڈریسر کے سامنے کھڑی اپنے بال جوڑے کی صورت میں لپیٹ رہی تھی ۔۔کہ
رمشاء کے موبائل پہ کال آنے لگی ۔۔۔اس نے تیزی سے ہاتھ چلا کر جوڑا بنایا اور لپک کر موبائل اٹھایا ۔۔۔اس پہ اعیان کا نمبر دیکھ کر اسے خود اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا ۔۔۔اعیان کا نمبر اسکے موبائل میں سیو تھا مگر اس نے کبھی کال نہیں کی تھی ۔۔۔آج پہلی بار اسکی کال دیکھ کر رمشاء کو پریشانی نے آگھیرا ۔۔۔
"سب ٹھیک ہے "اس نے خود کلامی کی اور کال ریسیو کی۔۔۔
"اسلام وعلیکم!
"ہممم۔۔۔وعلیکم اسلام !
اس نے روکھے پھیکے انداز میں کہا ۔۔
"کیسی ہو ؟
اس نے بات کا آغاز کیا ۔
"ج۔جی میں ٹھیک ۔۔۔وہ بس اتنا ہی بولی ۔اور فون کو دیکھنے لگی ۔۔۔پھر واپس کان سے لگایا ۔۔اس کی اگلی بات سننے کی خواہاں تھی ۔۔۔کہ اس نے کس مقصد کے لیے کال کی ہے ۔۔۔
"رمشاء تم ہمارے رشتے کے بارے میں کیا کہتی ہو "
"یہ کیسا سوال ہے ؟
"میرا مطلب ہے کہ تم اس شادی سے خوش ہو ؟
"اعیان یہ رشتہ میرے والدین نے اپنی خوشی سے طے کیا ہے وہ خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں ۔رمشاء نے سادگی سے کہا ۔
"ہممم۔۔۔مگر میں خوش ۔۔نہیں ۔۔۔۔میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔اس کی بات سن کر رمشاء کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔۔۔۔
"یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟
اس کے دل و دماغ میں جھکڑ چلنے لگے ۔۔۔کچھ دیر بعد وہ ہمت مجتمع کیے بولی ۔۔۔
"دیکھو رمشاء میں تمہیں دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جذبات نہیں ۔۔۔ہم ایک ساتھ کبھی بھی خوش نہیں رہ پائیں گے ۔۔۔
رمشاء کا نازک سا دل ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا۔۔۔آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے اس کے شہابی گال بھگونے لگے ۔۔۔۔
مگر اس نے اعیان کو محسوس نہیں ہونے دیا ۔۔۔
"آ۔۔۔آپ کیا چاہتے ہیں اب ؟وہ سیدھا مدعے کی بات پہ آئی ۔۔
"تم مجھ سے محبت کرتی ہو ؟؟؟؟
"اتنا کچھ سننے کے بعد کون لڑکی اپنی محبت کا اظہار کرے گی ۔۔۔جبکہ مقابل اسے دھتکار چکا تھا ۔۔اس نے دل میں سوچا ۔۔۔
"میرے پاس آپکے اس سوال کا کوئی جواب نہیں ۔۔۔۔
"اچھا بس اتنا بتاؤ کہ تمہاری نظر میں محبت کیا ہے ؟
اس نے ایک اور جان لیوا سوال داغ دیا ۔۔۔
رمشاء نے گہرا سانس لیتے ہوئے بات شروع کی ۔۔۔
میری نظر میں محبت تو یقین، اعتماد کا نام ہے
مجبوریوں، کمزوریوں، بے بسیوں، مایوسیوں کا نام نہیں
محبت تو قربانی کا نام ہے۔محبت میں سود و زیاں کا حساب نہیں ،،،محبت
خود غرضیوں، انا پرستیوں، گمراہیوں کا نہیں نام نہیں ۔
محبت تو عزت و احترام کا نام ہے
سودے بازیوں، شرطوں، رنگ بازیوں کا نہیں."وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔
"تم نے کہا ہے نا کہ محبت قربانی کا نام ہے ۔۔۔
اعیان نے اسفسار کیا ۔۔۔
وہ اسکے تمام احساسات کو بھولے اپنے مطلب کا لفظ اس میں سے اخذ کر گیا ۔۔۔
"ہممم۔۔۔'وہ دھیما سا بولی ۔۔۔
"تو پھر اگر تمہیں کبھی مجھ سے محبت ہوئی ہے تو اس کے لیے تمہیں قربانی دینی ہوگی رمشاء ۔۔۔
"کیسی قربانی ؟؟
"مام اور ڈیڈ میرا ہانیہ سے رشتہ جوڑنے پہ نہیں مان رہے ۔۔۔۔اور نا ہی وہ میرا تم سے رشتہ توڑنا چاہتے ہیں۔
ہانیہ کا نام سن کر ساتوں آسمان قیامت بن کر اس پہ ٹوٹ پڑے ۔۔۔کیا اس کی ذات اتنی ارزاں تھی کہ اعیان نے ہانیہ کو اس پہ ترجیح دی۔۔۔
ایسا کیا تھا اس میں جو اعیان نے مجھے چھوڑ کر ہانیہ کو چُنا ۔۔۔وہ کرب زدہ نظروں سے اس فون کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جیسے اعیان اس فون میں اسے دیکھ رہا ہو ۔۔۔
رمشاء !!!
وہ پکارا ۔۔۔
"جی !! سن رہی ہوں ۔
"اپنی چاہت کی چاہت کے لیے قربانی دو ۔۔۔اسے اس کی چاہت سے ملادو "
"اب یہ تم پہ ہے ۔تم کیسے اپنی چاہت کی چاہت کو اسکی چاہت سے ملاتی ہو "
کہتے ہی اس نے کال بند کردی ۔۔۔
رمشاء کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر کارپٹ پہ گرا ۔۔۔
وہ شکستہ وجود لیے بستر پر ڈھ سی گئی ۔۔۔
وہ اسکی محبت کو سودے بازی کی بھینٹ چڑھانا چاہ رہا تھا ۔۔۔
"یا اللّٰہ پاک !!!
"مجھے صبر و ہمت عطا فرما ۔۔۔
میں اب صبر کا وہ درجہ پانا چاہتی ہوں کہ ؛ جب تُمھارا نام میرے سامنے لِیا جاۓ تو نہ میری آواز مدھم ہو ، نہ میرا لہجہ بِھیگے اور نہ ہی میری آنکھیں نم ہوں ۔
جس کے دل میں میری قدر نا ہو اس کے لیے مجھے رونا نہیں ۔۔۔رمشاء دستبردار ہو جا ایسے ناقدرے انسان سے !
اس کے دل نے شدت سے آواز لگائی۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️
رات گئے وہ بستر پہ دراز تھی ۔۔۔اپنی کتابیں اپنے گرد پھیلائے پڑھائی میں محو تھی کہ موبائل پر میسج نوٹیفکیشن موصول ہوئی۔۔۔
ماھی نے ہاتھ مار کر تکیے کے ساتھ پڑا اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا سکرین روشن تھی ۔۔۔
اور واٹس ایپ پر لکی نام سے میسج آیا ہوا تھا ۔۔۔
ماھی نے بنا ایک بھی لمحہ ضائع کیے اسے کھولا ۔۔۔
وہاں ٹیسٹ کے متلق یونٹ اور کچھ سوالات پوائنٹ آؤٹ کیے گئے تھے ۔۔۔
اس نے وہ ساری تفصیل کلاس کے واٹس ایپ گروپ میں سینڈ کردی۔۔۔۔
اور خود پھر سے پڑھنے لگی ۔۔۔یہ یونٹ تو اسے بہت اچھے سے آتا تھا ۔۔۔سب پڑھ کر بور ہوچکی تھی ۔۔۔وہ کلاس ٹیچر کے پڑھانے سے پہلے ہی کچھ یونٹ کی ڈیٹیل نیٹ پہ سرچ کر کہ پڑھ لیتی تھی ۔۔۔وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی ہر وقت کتابوں میں سر دئیے رکھتی ۔۔۔ہمیشہ ایکسڑا سٹڈیز کرتی ۔۔۔
"کیوں نا فریش اپ ہونے کے لیے کوئی رومینٹک ناول پڑھا جائے ۔۔۔ناولز پڑھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔۔۔کبھی کبھار فارغ وقت میں وہ رومینٹک ناول بھی پڑھتی تھی۔۔۔
اس نے فیس بک لاگ ان کی ۔۔۔
مختلف ناولز نظر سے گزرے ۔۔۔
ایک حنا اسد کے ناول محرماں وے کی آخری قسط اسکی نظروں کے سامنے سے آئی ۔۔۔
"چلو لاسٹ قسط پڑھ لیتی ہوں سارے ناول کی سمجھ آ جائے گی ۔۔۔سارا ناول اب کون پڑھے ۔۔۔اس میں تو بہت وقت لگ جائے گا صبح مجھے جلدی اٹھنا بھی ہے ۔اس نے سوچتے ہوئے وہ ناول درمیان سے پڑھنا شروع کردیا ۔۔۔۔
"قاسم شاہ جب اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اس کی نئی
نویلی کمسن دلہن کمرے میں ٹہلنے کا شغل فرما رہی تھی۔
اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی طرف مڑی۔
"سر دیکھیں پلیز آپ اکیلے میں مجھے ڈانٹ نہیں سکتے
اس نے ڈرتے ہوئے قاسم کی طرف دیکھا
قاسم شاہ نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔
وہ اس کے قریب آرہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ الٹے قدموں چلتی ہوئی دیوار سے جالگی۔۔
"آپ مجھے ڈرا کیوں رہے ہیں؟اس نے ایک آنکھ میچ کر
دوسری آنکھ سے اسے دیکھ کر کہا۔
وہ وہیں رکا۔"
ماھی کا یہ لائنز پڑھتے ہوئے انٹرسٹ اور بڑھا ۔۔۔
ابھی تو میں نے آپ سے بہت سی باتیں منوانی تھیں۔وہ اپنی ازلی خود اعتمادی میں واپس لوٹی۔
قاسم شاہ نے ابرو اٹھا کر دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا؟
جب بھی ٹیسٹ ہو گا آپ مجھے اس میں پورے مارکس دیں گے۔
پیپرز میں مجھے امپوٹینٹ کوئسچن کے گیس بھی دیں گے۔
اور اگر میں فیل بھی ہو گئی میتھس میں آپ مجھے پاسنگ مارکس دیں گے
اور میں گھر میں آپ سے بالکل بھی نہیں پڑھوں گی۔
مجھے آپ کی بالکل بھی سمجھ نہیں آتی۔
اور آپ یہ مجھے گھور گھور کر ڈرانا بند کریں۔اس نے بے خوفی سے کہا۔
۔۔۔پڑھتے ہوئے ماھی کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
یہ سب خرافات اپنے اس ننھے سے ذہن سے نکال دو کہ میں تمہاری کوئی بھی بات مانوں گا۔اس نے گھمبیر لہجے میں کہا
"ناول کے ہیرو کے جواب پہ ماھی کا دل دھڑکا ۔۔۔نجانے وہ کیا کرے گا ۔۔۔
اور پھراس نے اپنا رخ پاس پڑے کارٹ کی طرف کیا جس
میں سکندر خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف تھا۔
قاسم نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
اپنا کوٹ اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا اور ٹائی کی ناٹ کو
ڈھیلا کرتے ہوئے خود بستر بیٹھا ایک ہاتھ کی مدد سے اپنے شوز اتارنے لگا۔
انعمتہ آکر اس کی گود میں بیٹھی ۔آپ کو میری باتیں ماننا
ہی ہوں گی۔ورنہ میں۔۔۔۔ اس نے قاسم شاہ کو دھمکی دی۔
قاسم شاہ کو انعمتہ سے اس بے باکی کی بالکل بھی امید نہ
تھی۔مگر اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے قریب کیا۔
ورنہ کیا۔؟؟؟؟قاسم شاہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
اتنی نزدیکی پر اس کی دھڑکنوں کی رفتار نے تیزی پکڑی۔
م مم ۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا اس کی آواز حلق میں اٹکنے لگی۔
وہ اس قسم کی باتوں سے غصے میں آ جایا کرتا تھا مگر آج
خلافِ معمول اس معصوم مگر بےوقوف لڑکی کی حرکتوں پر اس کا انداز کافی نرم تھا۔
قاسم شاہ کی قربت سے اس کے چہرے پر آتے جاتے حیا کے
رنگ اس سے مخفی نہ رہ سکے۔رخساروں پر پھوٹتی
سرخی،لبوں کی کپکپاہٹ،عارضوں کی لرزاہٹ۔چند ہی
لمحوں میں اس کے اتنے رنگ دیکھ چکا تھا کہ دل اپنے آپ
ہی اس کے قرب کا خواہاں ہوا۔اس کے چہرے پر پھیلے حیا
کے رنگ اسے اپنے اسیر بنا رہے تھے۔اس نے اپنی پچھلی
زندگی فراموش کیے نئی زندگی کی شروعات کا سوچا۔۔۔
اور بے اختیار ہو کر اس کی پیشانی پر نرمی سے لب رکھتے ہوئے اپنا پہلا حق استعمال کیا۔
انعمتہ نے شرم سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔
سر اور ہزبینڈ میں ڈفرینس پتہ چلا یا سمجھانے کی
ضرورت ہے۔؟قاسم شاہ نے اس کے کان کے پاس اپنا چہرہ لے جا کر کہا۔
انعمتہ نے اٹھنے کی کوشش کی تو قاسم نے اس کے فرار کی تمام راہیں مسدود کیں۔
"ہوووووو"
ماھی نے موبائل اپنے سینے پہ رکھ لیا ۔۔۔اور شرما کر آنکھیں موند لیں ۔۔۔وہ ناول پڑھتے ہوئے کبھی کبھی خود کو ہیروئین کی جگہ رکھ کر پڑھتی تو یونہی رومینٹک سین پڑھ کر شرما جاتی ۔۔۔آج بھی وہ آنکھیں موند کر میٹھے خواب دیکھنے لگی ۔۔۔
کبھی میری زندگی میں بھی ایسا رومینٹک انسان آئے گا ۔۔۔
پڑھائی کے دوران وہ اتنا تھک چکی تھی کہ اسے پتہ نہیں چلا کہ کب وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔۔
*********
ون کے کتنا رو رو کر پورے ہوتے ہیں۔جتنے جلدی لائکس آئیں گے قسط بھی اتنی ہی جلدی آئے گی 😎
Thank you so much Sadia Ahmed for this beautiful edit 👇💕
کردار زیادہ ہیں۔اسی لیے سب کو آہستہ آہستہ شامل کروں گی تاکہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔باقی سب کردار نیکسٹ قسط میں ۔
❤️
👍
😢
☺️
🌺
👏
😮
🥰
🫀
56