Novels Ki Duniya📚🌐🖤
Novels Ki Duniya📚🌐🖤
February 14, 2025 at 04:55 AM
#چاند🌙 آسمانوں سے لاپتہ #حنااسد۔ #قسط :12 کالج میں قدم رکھا تو سب سٹوڈنٹس اسے عجیب و غریب نظروں سے گھور رہے تھے ۔۔۔ماھی چلتی ہوئی اپنی کلاس میں آرہی تھی کہ کوریڈور کے بورڈز پہ لڑکے اور لڑکی کے کارٹونز بنے ہوئے تھے ۔۔۔اور بڑے حروف میں ان پر آئی لو یو لکھا ہوا تھا ۔۔۔ وہ فق نگاہوں سے سب دیکھ رہی تھی۔۔۔جیسے ہی کلاس روم میں داخل ہوئی وہاں کے وائٹ بورڈ پہ بھی ماھی اور سر لکی کے کارٹون بنا کر اس پہ بھی آئی لو یو لکھا ہوا ۔۔۔۔ اسے تو امید نہیں تھی کہ پوری کالج میں یہ بات پھیل چکی ہوگی ۔۔۔۔اسکے کلاس فیلوز بھی اسے استہزایہ نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے کانوں میں سرگوشیاں کررہے تھے ۔۔۔نجانے کس نے پرنسپل کے آفس میں ہوئی سب باتیں سن کر پورے کالج میں پھیلا دیں تھیں۔۔۔ماھی کا سر تو شرم سے جھک گیا اور پھر اٹھنے سے انکاری ہوا ۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بھل بھل بہنے لگے۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کلاس روم سے باہر بھاگی ۔۔۔۔اور بھاگتے ہوئے کالج کے پچھلے گراؤنڈ میں جا کر ایک بینچ پہ بیٹھ گئی ۔۔۔ روتے ہوئے وہ اپنی ہی غلطی کی وجہ سے اپنی زندگی میں آئے ہوئے بھونچال کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔ وہ کتنی دیر سے کسی غیر مرکزی نقطے کو گھور رہی تھی آنکھوں میں خالی پن اسکی زندگی میں موجود ویرانی کو ظاہر کر رہا تھا کچھ بھی تو نہیں رہا تھا ۔۔اسکے پاس اسکی اپنی غلطی کی وجہ سے اسکے والدین اس سے روٹھ گئے ۔۔۔کالج میں الگ بدنامی ہوگئی ۔۔۔وہ کالج میں بھی کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی ۔۔۔اسی نقطے کے بارے میں سوچتے ہوئے اسکی نظر اب اسکے ہاتھوں پہ جا ٹھہری تھی خالی ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ بھی تو نہ تھا۔۔ آنکھوں میں اب دکھ کے آنسو بھی نہ رہے تھے آخر روتی بھی تو کس کے سامنے کس کو جا کر درد سناتی۔۔ یہاں پہ صرف تمسخر اڑانے والے تھے جن سے درد بانٹا جا سکتا تھا وہ ان ہستیوں کو تو خود سے ناراض کر بیٹھی تھی ۔۔۔ سوچیں تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی بال چہرے پہ بکھرے تھے تھک کر اس نے بینچ کی ٹیک سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لی تھی ایک ایک منظر فلم کی مانند اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا "رونا اچھی بات ہے یوں رو لینے سے غم ہلکا ہوجاتا ہے ۔اگر یہ آنسو پچھتاوے کے ہوں تو بہت ہی قیمتی ہیں پھر تو "۔۔ وہ بند آنکھوں سے رونے میں مگن تھی جب اسے اپنے قریب وہی سحر انگیز آواز سنائی دی۔۔۔جس نے اسے اس نہج تک پہنچایا تھا ۔۔۔ ماھی نے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھی اسکے بینچ کے تھوڑے سے فاصلے پہ اس کے ساتھ سر لکی بیٹھے تھے، جو دیکھ تو سامنے پودوں کو رہے تھے لیکن بات اسی سے کی تھی۔ "یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا "۔ اسے یوں اپنی سوچوں میں لکی سر کا مخل ہونا سخت نا گزیر گزرا تھا جس کا اظہار اس نے رخ موڑ کر بخوبی کیا تھا۔ "میں نے تو نہیں آپ کو مشورہ دیا تھا مجھ پہ غلط الزام لگانے کا "۔ وہ بھی شاید مستقل مزاج تھا جو اسکے اتنے ٹھنڈے ٹھار لہجے پہ بھی مسکرا کر جواب دے رہا تھا۔ "ہونہہ !مجھے آپکے کسی مشورے کی ضرورت بھی نہیں ہے "۔ "اگر مجھ سے مشورہ لیا ہوتا تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا " "اپنے پاس رکھیں اپنے مشورے ۔۔۔جیسے آپ گندی حرکتیں کرتے ہیں ویسے ہی گندے مشورے بھی دیں گے مجھے۔انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں آپ میں "۔وہ دکھ اور درد سے بلبلاتے ہوئے اس پہ پھٹ پڑی ۔۔۔ "اگر بات انسانیت کی ہے تو میں بتا دوں کہ میں انسان ہی نہیں تو انسانیت کیسے نبھاؤں گا " "اور دوسری بات پیار میں گندگی نہیں ۔۔ویسی چھوٹی موٹی گستاخیاں تو چلتی ہیں ۔۔وہ مبہم سا مسکرا کر بولا۔۔۔ماھی نے اسکی بے سروپا بات سن کر نخوت سے چہرہ پھیر لیا۔۔۔اور وہاں سے جانے کے لیے اٹھی ۔۔۔ اپنی طرف سے تو وہ بات ختم کر کے اٹھ کھڑی ہوئی تھی لیکن اک دم اپنا ہاتھ یوں سر لکی کے ہاتھ کی گرفت میں محسوس ہوا مڑ کر دیکھا تو وہ اسکا ہاتھ تھامے اب کھڑا ہو چکا تھا ان کی ہمت پہ تو وہ ایک دم سکتے میں آ گئی تھی "جب کوئی آپ کو اپنا سمجھتا ہو اور آپ کا درد سننے کا متمنی ہو تو اس سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔۔۔کیونکہ اگر کسی کے دل میں آپ کے لیے محبت ہو تو وہ آپ کا تمسخر نہیں اڑائے گا۔۔ بلکہ آپ کے درد کو اپنا درد سمجھ کر کم کرنے کی کوشش کرے گا اور ہو سکتا ہے۔اپنی محبت سے آپ کا غم دور بھی کر دے"۔ اسکی بات پہ ماھی نے مڑ کر حیرت سے اسکی طرف دیکھا ۔۔لفظ "محبت "اس کے دماغ میں گھومنے لگا۔۔۔ "یہ آ۔۔۔آ۔۔۔پ ۔۔کیا کہہ رہے ہیں سر ۔۔۔۔ اس کے چہرے کا رنگ یکدم پھیکا پڑ گیا۔۔۔۔وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ "ایک بات بتاؤں،،میرا یقین کرو گی "؟لکی اپنی سحر انگیز آواز میں بولا۔۔۔ ماھی اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی۔۔۔۔مگر سماعت سر لکی کی طرف متوجہ تھی ۔۔۔ اس کا ایک ایک عضو کان بن گیا تھا اسکی بات سننے کے لیے ۔۔۔ "لکھے تو تم نے تھے وہ لفظ مگر وہ الفاظ میرے دل کی آواز تھے ۔۔۔"وہ فسوں خیز آواز میں بول کر ماھی کا دل دھڑکا گیا ۔۔۔ "ممم۔۔۔مگر ۔۔۔سر ۔۔۔آپ ۔۔۔میرے سر ہیں ۔۔۔میں آپ ۔۔سے کیسے ۔۔۔مطلب آپ ۔۔۔مجھ سے کیسے ؟؟؟وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بے یقینی سے بولی ۔۔۔ وہ اسکی بات پہ یقین کرنے سے انکاری تھی ۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہے اس بارے میں ۔۔۔۔وہ تو اسے اپنے ٹیچر کے سوا اور کچھ نہیں مانتی تھی ۔۔۔اسکے تو خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ سر لکی اس کے بارے میں کچھ ایسا سوچتے ہیں ۔۔۔۔ استاد اور شاگرد کو رشتہ بس کلاس اور کالج تک محدود ہے ۔۔وہاں سے باہر بھی ایک دنیا ہے ۔۔۔جہاں اس رشتے کے علاؤہ بھی رشتے بن سکتے ہیں اگر تم چاہو تو ۔۔۔۔ اسکی بات پہ ماھی کے حلق میں سانس کا گولہ اٹک گیا ۔۔۔ وہ کھانسنے لگی ۔۔۔۔ "ماھی !!! تمہیں صرف میرے لیے لیے بنایا گیا ہے ۔۔۔ میں صرف تمہارے لیے یہاں آیا ہوں "۔۔۔۔ لکی اس کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے کہا ۔۔۔تو پہلی بار ماھی کو اپنی دھڑکنوں کا شمار کر مشکل لگا ۔۔۔دل کی دھڑکنوں نے ادھم مچا دیا ۔۔۔۔ اس نے پلکیں جھپک کر سامنے کھڑے ہوئے سر لکی کا جائزہ لیا ۔۔۔۔طلسمی گولڈن شیڈڈ آنکھیں،ستواں ناک ،باریک ہونٹ ،بالوں کا ہئیر اسٹائل تو دیکھنے کے لائق تھا ۔۔۔کتنے ہی لڑکے سر لکی کے ہئیر اسٹائل کی کاپی کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔ جینز اور شرٹ پہنے اوپر سے لیدر جیکٹ پہن کر وہ اپنے ازلی لاپرواہ انداز میں ایک ہاتھ سے اپنی ہیوی بائیک کی چابیاں ہوا میں اچھالتا اور کبھی تو کبھی ہاتھ میں واپس کیچ کرتا ۔۔۔بالکل اسی طرح وہ ماھی کا دل بھی اسکی جگہ سے اچھال چکا تھا ۔۔۔ "ماھی میری بن جاؤ " "بنو گی ؟؟؟ "میرا دل تمہیں دیکھ کر دھڑکتا ہے ۔۔۔تمہارے ساتھ کا تمنائی ہے۔ جیسے اس نے اچھالی ہوئی چابی کو اپنی مٹھی میں بھرا تھا ۔۔۔اسی طرح ماھی کے زوروں سے دھڑکتے دل کو بھی قید کر دیا ۔۔ وہ اس کے چہرے پہ جھولتی ہوئی لٹ کو پھونک مار کر نرمی سے آنچ دیتے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔۔تم مجھے نا ملی تو یہ دل دھڑکنا بھول جائے گا ۔۔۔ صرف تمہاری رضامندی چاہیے "Lucky's Luck... تمہارا لکی دنیا سے لڑ جائے گا تمہیں پانے کے لیے ۔۔۔ "میری روح کو ،جسم کو ،دل کو ،دھڑکنوں کو ،صرف تمہاری ضرورت ہے " "میری دنیا میں آجاؤ ۔۔۔میری زندگی میں شامل ہوجاو ۔۔۔۔سب غموں سے رہائی مل جائے گی۔۔۔۔" ماھی لرزتے ہوئے وجود سے بمشکل وہاں کھڑی تھی ۔۔۔وہ اس قدر شاکڈ تھی اسکی باتوں پہ کہ کبھی بھی زمیں بوس ہوسکتی تھی ۔۔۔۔ ماھی کے گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔۔اس سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا تھا۔۔۔وہ کہتی بھی تو کیا ۔۔۔ "اس دن کی حرکت کے لیے معذرت خواہ ہوں،میں ویسا کچھ کرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ "بتاؤ پہلے کبھی کچھ برا کیا تمہارے ساتھ ۔؟وہ ابرو اچکا کر سوالیہ انداز میں بولا ۔ "بولو ماھی " اس نے ماھی کو خاموش دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ "ن۔۔نہیں ۔۔۔اسکے گلے میں سے اٹک اٹک کر الفاظ نکلے ۔۔۔ "تمہیں اپنے اتنے قریب دیکھ کر سب بھول گیا تھا ۔۔۔بس یاد تھا تو اتنا کہ تم صرف میری ہو تم پہ صرف میرا حق ہے ۔۔۔ سورج کی روشنی ماھی کی نوز بن سےمنعکس ہوکر لکی کہ چہرے پہ پڑ رہی تھی ۔۔۔ "اس چمک کو اپنے لمس کی شدتوں سے مہکانا چاہتا ہوں ۔۔۔"وہ اسکی ستواں ناک میں چمکتی ہوئی نوز بِن کو محسور کن سا دیکھ کر بولا ۔۔۔ اس چمک کو دیکھتے ہوئے لکی کی آنکھوں میں عجب سی چمک پھوٹ رہی تھی ۔۔۔ ماھی اسکی گولڈن شیڈڈ آنکھوں کو دیکھ کر جیسے مسمرائز ہوئی ۔۔۔۔ ماھی ! مجھے بعد میں احساس ہوا کہ تمہیں پانے کے لیے ابھی مجھے بہت سے امتحانات سے گزرنا ہوگا ۔۔۔۔ ماھی نے پلکیں جھپک کر معصومیت سےاسے دیکھا۔۔۔ "ہماری شادی ہوجائے گی تو ہمارے درمیان حائل سب دوریاں ۔۔۔یہ فاصلے مٹ جائے گے " وہ اپنے اور اسکے درمیان فاصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ "جب تم میرے نام سے جانی جاؤ گی پھر کسی کو تمہارا تمسخر اڑانے کا موقع نہیں ملے گا" ابھی شاید وہ کچھ اور بھی کہتا ۔۔۔ماھی اسکی بولتی نگاہوں سے نظریں چرائیں ۔۔پھر اہنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے بنا پلٹ کر دیکھے تیز قدموں سے وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙🌙 اسکی "پری "اسکی نظروں کے سامنے تھی ۔۔۔۔اسکے اتنے پاس کہ وہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھو سکتا تھا ۔۔۔وہ سلیپنگ بیوٹی بنے اس وقت ہوش و خرد سے بیگانہ تھی ۔۔۔اس کے کھلے بال تکیے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔ اسکے بالوں کو دیکھتے ہی اک پچھلا گزرا ہوا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔۔۔ "شیرو ۔۔۔۔شیرو !!!! وہ اٹالین طرز کے بنے خوبصورت سے کچن میں موجود اپنی پری کے لیے ناشتہ تیار کررہا تھا ۔۔۔کیونکہ اسکی پری کو صرف اسی کے ہاتھ کا کلب سینڈوچ پسند تھا ۔۔۔اور وہ صبح کے سات بجے وہی بنانے میں مصروف تھا کہ دروازے سے پری کی آواز سن کر اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔ "کیا بات ہے پری ؟", اس نے نرمی سے پوچھا ۔۔۔ "شیرو دیکھو نا میرے بال ہی نہیں بن رہے ۔۔۔پلیز بنا دو نا " وہ فرمائشی انداز میں بولی۔ فادیہ خالہ سے کروا لو پری میں تمہارے لیے سینڈوچ بنا رہا ہوں " اس نے اپنے ہاتھ تیزی سے چلاتے ہوئے اسے جواب دیا ۔۔ "آپ تو سپر پاور ہیں شیرو ۔۔۔مجھے پتہ ہے آپ ایک وقت میں بہت سے کام کر سکتے ہیں ۔۔۔پلیز بنا دیں نا " "اگر آپ نے میرے بال نہیں بنائے نا تو سچی اس بار ہاسٹل جا کر واپس آؤں گی تو دیکھنا میں ان بالوں کے عذاب سے جان چھڑوا کر آؤں گی ۔۔۔بالکل شولڈر تک کٹ کروا لوں گی ۔۔۔"وہ دھمکی آمیز انداز میں بولی۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ شیرو اسے بال کٹوانے سے ہمیشہ منع کرتا تھا ۔۔۔اسی لیے وہ جان بوجھ کر بولی ۔۔۔۔ "اگر ان بالوں کو ہاتھ بھی لگایا تو یاد رکھنا پری بہت برا پیش آؤں گا " وہ گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔ پھر اسکے ہاتھ سے برش لے کر نرمی سے اسکے بالوں میں پھرنے لگا ۔۔۔ انہیں سمیٹ کر پونی ٹیل بنائی جو پری کی پشت پہ لہرانے لگی ۔۔۔ "ویسے مجھے یہ بتاؤ ۔۔ہاسٹل میں تمہارے بال کون بناتا ہے ؟؟؟یہاں آکر میرا دماغ کھاتی ہو " "ہی۔۔۔ہی۔۔۔ہی ۔۔۔وہاں تو خودی بناتی ہوں ۔۔۔۔اب یہاں اتنی دیر بعد آتی ہوں ۔۔۔اتنا حق تو میرا آپ پہ بنتا ہے نا ۔۔ وہ اسکی مغرور ناک کو اپنی پوروں سے چھو کر مسکراتے ہوئی بولی اور اسکے ہاتھ سے برش لے کر باہر کو بھاگی ۔۔۔ وہ تاسف سے سر ہلانے لگا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی اس تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا اس نے اپنا سارا سامان سمیٹا ۔۔۔۔ اور اسے بستر سے اٹھانا چاہا ۔۔۔جیسے ہی اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا اسے اٹھانے کے لیے اسے پری کی گردن کی جلد میں کچھ چبھتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔اس نے بیہوش پری کو کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھایا ۔۔۔پھر انگلی اسکی گردن کی ہڈی سے نچلے حصے پر سہلا کر اس چبھتی ہوئی چیز کو محسوس کیا۔۔۔پل بھر ہی لگا اسے سارا ماجرا جاننے میں ۔۔۔۔وہ اسے وہیں لیٹا کر واپس اپنے سامان کی طرف آیا۔۔۔اس میں سے ایک تیز دھار چمکتا ہوا بلیڈ نکالا ۔۔۔ "میں جانتا ہوں پری اپنی پری کو خود اپنے ہاتھوں سے تکلیف دینے لگا ہوں ۔۔۔مگر یہ ضروری ہے ۔۔۔ورنہ بعد میں ہم دونوں کو تکلیف ہو گی "کہتے ہوئے اس نے پری کی گردن پہ بلیڈ پھیر کر وہ مائکرو چپ نکال کر فرش پہ پھینکی ۔۔۔پری کی آنکھیں درد سے واہ ہوئیں ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ شور مچاتی ۔۔۔اس نے کلورفارم والا رومال اسکے منہ پہ رکھتے اسکی چیخوں کا گلہ گھونٹ دیا ۔۔۔۔ اور رات کی تاریکی میں اسے کسی گڑیا کے مانند اپنے شانے پہ ڈالے ہوئے رات کی تاریکی میں ہی گم ہوگیا ۔۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙🌙 حویلی میں اور شہریار ہاؤس دونوں میں شادی کی تیاریاں اپنے عروج پہ تھیں ۔۔۔۔ ہر کوئی شاداں و فرحاں دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔سوائے زخرف اور ماھی کہ ۔۔۔۔ رمشاء بظاہر خوش دکھائی دینے کی پوری کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔مگر دل میں کہیں نا کہیں کوئی پھانس باقی تھی ۔۔۔۔جسے اس نے اپنی تک کسی کو نہیں بتایا تھا ۔۔۔ ماھی نے اس دن کے بعد سے کالج جانا بند کردیا تھا ۔۔۔دعا اور شاہ من اسکی غلطی کی وجہ سے اس سے ناراض تھے ۔۔۔ "منساء یہ دیکھو یہ ڈریس کیسا ہے ؟زائشہ نے اسے موتیوں کے کام سے مزین میرون رنگ کا ایک دیدہ زیب فراک دکھاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ "مما آپکی پسند ہمیشہ لاجواب رہی ہے ۔۔۔بہت بہت پیارا ہے ۔۔۔ "رمشاء تمہارے لیے بھی بالکل ایسا ہی لیا ہے ۔۔۔ "مما میں اتنے ہیوی ڈریسسز کہاں پہنتی ہوں ۔۔۔؟پلیز مما میں نہیں یہ پہنوں گی ۔۔۔وہ اتنا بھاری کامدار سوٹ دیکھتے ہوئے جھنجھلا کر بولی ۔۔۔ "رمشاء بیٹا اچھا لگے گا تم پہ ویسے بھی تمہاری بہن کی شادی ہے ۔۔اتنا تو چلتا ہے " "پر مما یہ ریڈی میڈ ہے ،پتہ نہیں اسکی فٹنگ کیسی ہو ؟" "اچھا رکھ لو بارات پہ پہن لینا ۔۔۔ "جی ٹھیک ہے مما ۔۔۔"اس نے سر جھکا کر مان لیا ۔۔۔حالانکہ دل نہیں تھا اسے پہننے کا ۔۔۔مگر اپنی مما کی بات مزید ٹالنے کی جراءت نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙🌙🌙 آیت نے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر سامنے لگے دیوار گیر کلاک پر نظر ڈالی۔۔۔۔ جو صبح کے آٹھ بجا رہی تھی۔ "اف اتنا وقت ہوگیا ۔۔۔نجانے سب باہر کیا سوچیں گے "؟ اس نے پریشان کن تاثرات سمیت سرعت سے اٹھنا چاہا۔۔۔مگر مومن کی بھاری ٹانگ اپنے اوپر محسوس کرتے فورا ذہن میں جھماکا ہوا اور رات کے سارے پل اسکی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے ۔۔۔اسکے لبوں پہ اک شرمیلی سی مسکان نے بسیرا کیا۔۔آیت کے پہلو مومن آنکھیں موندے سو رہا تھا ۔۔۔اسکے چہرے پہ گہرے سکون کا رنگ تھا ۔۔۔آیت نے مومن کی ٹانگ اٹھا کر پیچھے کرنی چاہی مگر اسکا وزن اتنا زیادہ تھا کہ وہ اپنی کوشش میں ناکام ہوگئی ۔ "مومن۔" وقت کا احساس کرتے آیت نے مومن کو شانے سے جھنجھوڑ کر اٹھانا چاہا ۔۔ مگر دوسری طرف وہ اپنی حالت سے ٹس سے مس نا ہوا ۔۔۔۔وہ تو ایسے گدھے گھوڑے بیچ کر سویا تھا ۔۔۔جیسے اٹھنے کا ارادہ ہی نا ہو ۔۔۔ "مومن پلیز ۔۔۔۔۔"اب کی بار آیت نے اسے نا اٹھتے دیکھ پہلے تو منت کی ۔۔۔مگر پھر تنگ آکر اس نے غصے سے اس کے بازو پہ زور سے چٹکی بھر دی ۔۔۔ اسکی سرخی مائل آنکھیں یکدم کھلیں ۔۔۔اور تھوڑا سا سیدھا ہوا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ آیت سے بدلا لیتا وہ بھاگ کر واش روم میں بند ہوگئی ۔۔۔ مومن اسکی پُھرتی دیکھ کر ہنسنے لگا پھر اٹھ کر وارڈروب کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔اپنے ہینگ کیے گئے کپڑوں میں سے ایک سوٹ نکالا ۔۔۔۔آج اس نے ہاسٹل جا کر اپنی حاضری لگوانی تھی ۔۔۔۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ خوشبوؤں میں نہائی ہوئی فریش ہو کر باہر آئی اپنی طرف مومن کے بڑھتے ہوئے قدموں اور اسکی نظروں میں چھپے شرارت کے مفہوم کو وہ بخوبی بھانپ گئی ۔۔۔ آیت نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔ مومن مدھم سا مسکرا کر واش روم میں بند ہوگیا ۔۔۔۔ آیت آئینے کے سامنے کھڑی ہوتے اپنے بالوں کو برش سے سلجھا رہی تھی کہ مومن باہر آیا ۔۔۔۔ آیت کے بالوں سے گرتی ہوئی اوس کی مانند پانی بوندیں اسکے دل کا قرار لُوٹ رہی تھیں ۔۔۔۔مومن نے قریب آتے ہی اسکے نم بالوں کو شانے کے ایک طرف کرتے ہوئے اسکی صراحی دار نازک سی گردن پر اپنے لب رکھے۔۔۔۔ "مومن ہمیں پہلے ہی دیر ہوگئی ہے "آیت نے اپنے گرد اسکی پیچھے سے واہ کی گئیں بانہوں کے حلقے میں کسمساتے ہوئے کہا ۔۔۔ اس کی مونچھوں کی چبھن سے محسوس کرتے آیت کے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔۔۔۔ "یار ابھی تک گولڈن نائٹ بھی منانے نہیں دی نیند نیند کا بہانہ بنا کر ۔۔۔اور اب اس سے بھی روکو گی ؟۔" مومن نے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔۔۔۔ "مومن باہر سب کیا سوچیں گے ۔"وہ صلح جو انداز میں پلٹ کر مومن کے گال پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ جوابا مومن نے اسے گھور کر دیکھا اور رخ پلٹ گیا ۔۔۔سنجیدگی سے اپنے اوپر پرفیوم کا چھڑکاؤ کرنے لگا ۔۔۔ "اچھا نا پلیز ناراض تو نہیں ہوں نا "" "میری جان نکل جاتی ہے ۔۔۔یہ سوچ کر کہ آپ مجھ سے خفا ہیں ۔۔۔قسم سے اس ایک لمحے ایسا لگا کہ اگر آپ روٹھے تو میرا سانس مجھ سے روٹھ جائے گا " مومن میں بتا رہی ہوں ۔۔۔آپکی ناراضگی نہیں جھیل سکتی میں ۔۔۔ "میں مر جاؤں گی ........قسم سے " وہ رندھے لہجے میں بولی۔۔۔تو مومن نے اپنی مصنوعی ناراضگی کا خاتمہ کیا اور جان مومن کی طرف پلٹا ۔۔۔۔ "یار مجھے کسی سے کچھ لینا دینا نہیں ۔۔۔کوئی کیا سوچتا ہے کیا نہیں ۔۔۔تم بھی میری طرح بن جاؤ ۔۔۔ٹینشن فری ۔۔۔جسے دوسرے کی سوچ کی پرواہ نا ہو ۔۔۔۔یار میری فیلنگز کو بھی سمجھو نا ۔۔۔اتنا عرصہ ہوگیا شادی شدہ ہونے کے بعد بھی کنوراہ ہی پھر رہا ہوں ۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولا ۔۔۔ آیت اسکی بات سن کر روتے ہوئے مسکرا دی ۔۔۔۔ مومن پھر وہیں سے شروع ہوا جہاں رکا تھا ۔۔۔۔آیت کے قرب سے اٹھتی صندلی محسورکن مہک اسے پاگل کیے دے رہی تھی ۔۔۔۔ "یار رات کو کرنے والے کام تم مجھے صبح کرنے پہ مجبور کر رہی ہو "وہ ذومعنی انداز میں کہتے ہوئے اسکی شفاف گردن پہ جھکا ۔۔ اس سے پہلے کہ آیت اسکی بات پہ کوئی ردعمل ظاہر کرتی ۔۔۔۔ گردن پر اس کی شیو کی چبھن کے احساس سے وہ جھٹپٹائی ۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙
❤️ 👍 🌺 😂 😢 🫀 32

Comments