Novels Ki Duniya📚🌐🖤
Novels Ki Duniya📚🌐🖤
February 14, 2025 at 04:55 AM
#چاند 🌙 آسمانوں سے لاپتہ۔ #حنا اسد۔ #قسط :13سرپرائز لانگ ایپی زخرف تمہارا کیا خیال ہے تمہارا دلہا کیسا ہونا چاہئے.. وہ دونوں اس وقت کالج سے واپسی پہ وین میں بیٹھی ہوئیں تھی جب ماھی نے اچانک ہی سوال کیا ۔کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے کی گئی لکی سر کی باتیں اسکے دماغ میں گھوم رہی تھیں . "اس میں بھلا پوچھنے کی کیا بات ہے ماھی تم میری بیسٹ فرینڈ ہو اور تمہیں ابھی تک اپنی سہیلی کے دل کی بات کا نہیں پتہ چلا ۔۔۔بہت ہی کوئی بیوقوف ہو تم "اس چلتی ہوئی گاڑی کے باہر کے مناظر سے نظر ہٹاتے ہوئے ماھی کی طرف دیکھ کر کہا۔۔ "یہ بیوقوف کسے کہا ۔۔۔؟؟؟؟بیوقوف ہوگی تم ".. "اصل میں تم بیوقوف نہیں گھنی پلس میسنی ہو ۔خود مجھے ہوا تک لگنے نہیں دی ۔۔۔اور کہتی ہو مجھے پتہ نہیں ۔۔۔۔اب پھوٹو منہ سے اس اپنی پسند کا نام "ماھی نے اپنا سارا غبار اس پہ نکالا ۔۔۔۔ "Hey attitude??? یہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے ۔۔۔ماھی میں ایٹیٹوڈ ۔۔۔انٹرسٹنگ ۔۔۔۔زخرف نے اسکے بدلے تیور دیکھ کر کہا ۔۔۔ "اب بتا بھی دو کیوں چنے کے جھاڑ پہ چڑھ رہی ہو " "ارے یار مجھے فوجی پسند ہیں ۔۔۔آگے سمجھ جاؤ ۔۔۔اب اپنے منہ سے ان کا نام لیتے ہوئے مجھے شمیاں (شرم )آتی ہے ۔۔۔وہ اپنے دوپٹے کے پلو کو انگلیوں میں لپیٹتی کبھی تو کبھی اسکا کونہ دانتوں تلے دبا کر شرمانے کی ادکاری کرتی ۔۔۔ ماھی تو اس کی شرمانے کی ایکٹنگ پہ عش عش کر اٹھی۔۔۔ اچانک اس کے زہن میں جھماکا ہوا۔۔۔۔ "ایک۔۔۔۔منٹ ۔۔ایک منٹ ۔۔یہ ۔۔تم ۔۔۔کہیں ۔۔۔امرام شیر بھائی کی بات تو نہیں کر رہی ؟" اس نے استہفامیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اسفسار کیا۔۔۔ زخرف نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔ "ہائے اللّٰہ ! "پوری دنیا میں تمہیں وہی ملے تھے پسند کرنے کے لیے ۔۔۔۔ "کیوں بھئی میری پسند کو کیا ہوا ؟؟؟ وہ آنکھیں نکال کر اسے گھورتے ہوئے لڑاکا انداز میں بولی ۔۔۔۔ "ارے انہیں کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ "میں تو یہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ کیا کہہ رہی تھی تم ؟وہ فل لڑنے کے موڈ میں تھی ۔۔۔ ماھی نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا۔۔۔ "کچھ بھی نہیں ۔۔۔ویسے ہی مذاق کر رہی تھی ۔۔۔تمہیں پتہ ہے آج میں کتنی ٹینشن میں تھی مگر تم سے بات کر کہ سارا ڈیپریشن اڑن چھو ہو گیا ۔۔۔سچ کہتے ہیں دوست خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہے ۔ "ہمممم۔۔۔وہ تو ہے ۔زخرف نے بھی تائیدی انداز میں کہا۔ "چلو اب تم مجھے اپنی پسند بتاؤ ۔۔۔۔ "ممم۔۔۔میری پ۔۔پسند ۔۔ ؟؟ زخرف کے سوال پہ ماھی بوکھلا کر رہ گئی۔۔۔ "ہاں بھئی تمہیں کیسا دولہا چاہیے ؟ ماھی کی آنکھوں کے سامنے لکی سر کا وجیہہ سراپا لہرایا ۔۔۔۔مگر وہ آنکھوں کو میچ کر اس اثر کو زائل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ "ماھی ۔۔۔میں اپنی زندگی کو کو امرام شیر کے ساتھ کُھل کر جینا چاہتی ہوں.. آنکھوں کو میچتی وہ خیالوں میں اپنے بازو پھیلا رہی تھی یوں جیسے ابھی سے بادلوں پہ اڑ رہی ہو.. لیکن اسکے خوابوں اور خیالوں کو ماھی نے اسکے بازو پہ چٹکی کاٹ کر حقیقت کا روپ دے دیا۔۔۔۔ آئیییی.. کیا مصیبت ہے بھئی..ابھی تو میں امرام کی بانہوں میں جھوم رہی اس سے پہلے کہ سپیشل موومینٹ ہوتا ۔۔۔تم نے تو سارا موشن توڑ دیا ۔۔۔۔کیسی دوست ہو تم ؟؟؟؟ اپنے بازو کو مسلتی وہ ماھی کو کچاچبانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی.. "میری پیاری سی دوست پلس بہنا ہوش کی دنیا میں لوٹ آو .. کیونکہ وین رکے کافی وقت ہوگیا ۔۔۔ڈرائیور انکل ہمارے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔وہ اپنا بیگ اور فائل سمیٹتے ہوئے اسے ہوش کی دنیا میں واپس لائی ۔ "اووو میری ظالم دوست اللّٰہ کرے تمہارے رومینس کا بھی ایسے ہی ستیا ناس ہو جیسے تم نے میرے خوابوں میں ہونے والے رومینس کا مارا ہے ۔۔۔" . اب وہ بھی اپنا بیگ اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی..اور اتر کر گھر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔ "آج اتنی دیر لگادی ؟؟؟.. وہ ابھی اندر داخل ہوئی ہی تھی کہ منت نے اسکے لیٹ ہونے کی وجہ کرخت آواز میں پوچھی .. "ہائے اللّٰہ مما آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا.... ننھا سا دل ہے میرا چڑیا جتنا.. ایویں ہارٹ اٹیک سے بند ہو گیا تو.کتنی بھی کوشش کرلیں .اتنی حسین و جمیل بیٹی دوبارہ نہیں ملنے والی تھی ۔۔۔۔ دل پہ ہاتھ رکھے وہ ڈرے رہنے کی ایکٹنگ کر رہی تھی.. "شرم کرو کچھ زخرف ڈراتی تو تم مجھے ہو لیٹ ہوکر ۔۔۔نجانے کون کونسے وہم آنے شروع ہوجاتے ہیں تم ایک منٹ بھی لیٹ ہوتو اور کتنی بار کہا ہے کہ یہ فضول کی اوور ایکٹنگ میرے سامنے تو مت ہی کیا کرو .. وہ اسکی کمر پہ دھپ رسید کرتی وہ کرختگی سے بولی .. "ہائے او ربا ایسی ظالم ماں اللّٰہ دشمن کو بھی نا دے ۔۔۔اپنی نازک پھولوں جیسی بچی پہ ظلم ۔۔۔ایک تو صبح سے بھوک کے مارے میں پیٹ میں چوھوں نے اودھم مچا رکھا ہے اوپر سے خالی پیٹ ماں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے .. دہائیاں دیتی وہ بیگ وہی پھینک کر صوفے پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھی.. "آجائیں تمہارے بابا جنہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی کہہ کر تمہیں سر چڑھا رکھا ہے ۔۔۔۔ "مما میری دوستیں بتاتی ہیں جب وہ لوگ کالج سے گھر جاتی ہیں تو انکی مائیں انہیں پیار سے ٹھنڈا شربت کا گلاس پیش کرتی ہیں.. اور ادھر میں ہوں آتے ساتھ ہی بس بیعزتی ۔۔لو بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہوئی ... "زخرف اگر اس لیپ ٹاپ کو ہاتھ بھی لگایا نا تو اسے توڑ دوں گی ۔۔۔۔جب دیکھو اس منحوس لیپ ٹاپ کے آگے بیٹھی رہتی ہو ۔۔۔۔انہوں نے اسے گُھرکا۔۔۔۔ "اوووو ۔۔۔۔نوووووو مما ۔۔۔اسے کچھ مت کرنا ۔۔۔ "میرے بابا نے دلایا تھا مجھے ۔۔۔اور دوسری اور سب سے اہم بات آپکی بیٹی سافٹ وئیر انجینئر ہے ،اور آپ اسکی اسطرح سے عزت افزائی کر رہی ہیں ۔!!!! "یہ تو وہی بات ہوئی گھر کی مرغی دال برابر ... "آپکی بیٹی نے اتنے سافٹ وئیر ایپ بنا ڈالیں ۔۔۔اور آپکو علم ہی نہیں ۔۔۔۔ "ہائے ربا کوئی قدر نہیں اتنی جینئس بچی کی ۔۔۔۔ ""دیکھنا ایک بار شادی کرکہ چلی گئی نا دوبارہ اپنا منہ نہیں دکھاؤں گی ۔۔۔۔ بس کر دو ڈرامے بازیاں یہ ساری خوبیاں اور چونچلے اور جاکر اپنے شوہر کو دکھانا.. مجھ سے تو برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔ "ہائے سچی مما !!! "کب آئے گا وہ دن ۔۔۔؟ زخرف پرجوش آواز میں انکے شانے پہ چہرہ ٹکا کر بولی "زخرف !!! انہوں نے پلٹ کر اسے سخت گھوری سے نوازا۔۔۔۔ "جاؤ جلدی چینج کر کہ آؤ تب تک کھانا لگاتی ہوں ۔ انہوں نے اسے ڈپٹ کر کہا۔۔۔۔ وہ بادل ناخواستہ اٹھ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙🌙 ماھی جب سے کالج سے آئی تھی کمرے میں اندھیرا کیے لیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اسکی ساری کتابیں اسکے بستر پہ ہی بے ترتیبی سے پھیلیں ہوئی تھیں ۔ اس دن کے واقعے سے شاہ من اور دعا دونوں ناراض تھے ماھی سے اس سے بات ہی نہیں کر رہے تھے اس نے بہت بار انہیں منانے کی کوشش کی مگر انہوں نے اسکی بات نہیں سنی وہ دونوں اسکی حرکت سے بہت دلبرداشتہ ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو وہ اس بات کو لے کر پریشان تھے کہ کہیں کالج میں تو نہیں ماھی کا کارنامہ پھیل چکا ۔۔۔یہی پوچھنے کے لیے دعا نے شام کے وقت ذخرف کو گھر بلایا تھا ۔۔۔ "جی پھپھو بات تو کافی حد تک پھیل چکی ہے ۔اور ماھی کا کافی مذاق بھی بنایا جا چکا ہے کالج میں ۔۔۔وہ کافی دکھی ہے ۔پلیز آپ اسے معاف کردیں ۔۔۔ادھر کالج میں بھی سٹوڈنٹس کی عجیب و غریب باتیں سنتی ہے ،اور ادھر آپ بھی اس سے ناراض ہیں ۔میں جانتی ہوں ماھی نے غلطی کی ہے ۔مگر بڑے تو بچوں کو انکی غلطیوں کے لیے معاف کر دیتے ہیں ۔۔۔پلیز پھپھو اسے ایک موقع دے دیں ۔آئندہ وہ آپکو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دے گی ۔۔۔۔ ابھی وہ دونوں باتوں میں ہی مشغول تھے کہ باہر ڈور بیل بجی ۔۔۔تو شاہ من جو لان میں موجود تھا اس نے دیکھا دو اجنبی لوگوں کو اندر داخل ہوتے ۔۔۔۔ "اسلام و علیکم ! آدمی نے مؤدب انداز میں سلام کیا تو جوابا شاہ من نے بھی وعلیکم السلام کہا ۔۔۔ وہ سوٹڈ بوٹڈ شخص اور اسکی ساتھ کھڑی باوقار خاتون چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑے تھے ۔۔۔ "سوری میں نے آپکو پہچانا نہیں "شاہ من نے کہا۔ "آپ پہچانیں گے کیسے جبکہ ہم ملے ہی پہلی بار ہیں ۔۔ "میرا نام اسعد ہے۔۔۔ اور میری وائف مسسز اسعد ۔ دراصل ہم آپ سے ایک گزارش کرنے آئے ہیں ۔اگر اجازت ہوتو کچھ دیر آرام سے بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں ۔انہوں نے تمہید باندھی ۔۔۔ "جی بالکل آئیے " وہ دونوں شاہ من کی معیت میں اندر آئے ۔۔۔۔ دعا اور زخرف دونوں اپنی جگہ سے اٹھی اور انہیں سلام کیا ۔۔۔۔ "دعا چائے کا انتظام کرو " شاہ من نے مہمانوازی کے فرائض نبھاتے ہوئے دعا سے کہا ۔۔۔ "ارے نہیں بہن آپ بھی پلیز بیٹھیے ۔۔۔۔چائے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اس خاتون نے دعا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھا لیا ۔۔۔ "دراصل ہم اپنے بیٹے لکی کے لیے ماھی کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں "اسعد صاحب سیدھا مدعے کی طرف آئے ۔۔۔ شاہ من اور دونوں نے چونک کر فورا ایک دوسرے کو حیرت انگیز نظروں سے دیکھا ۔۔۔ "لکی نے ہمیں ساری بات بتا دی ہے ،ماھی ہمیں اپنی بیٹی کی طرح عزیز ہے ۔اسکی اور آپکی عزت ہماری عزت ۔۔۔۔ "مگر ایسے کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔؟؟؟ ابھی ماھی بہت چھوٹی ہے ۔صرف انیس سال کی ہے ۔اور اسکی پڑھائی بھی مکمل نہیں ہوئی ۔۔۔دعا نے اس رشتے کی مخالفت کی۔۔۔ شاہ من نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں فی الوقت اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ "لکی تو ہمارا بیٹا ہے ۔اسے تو کوئی مجبوری نہیں ۔مگر لڑکیوں کی عزت ایک بار کھو جائے تو پھر واپس نہیں آتی ۔۔۔اس سے پہلے کہ ماھی کے کردار کو لے کر کوئی باتیں پھیل جائیں ہمیں ان دونوں کا نکاح کر کہ ساری باتوں کو سلجھا دینا چاہیے ۔۔۔....تاکہ کسی کو بات کرنے کا موقع نہیں ملے "اسعد صاحب نے بردباری سے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔ شاہ من خاموشی سے اس بات پہ غور و فکر کر رہا تھا ۔۔۔۔ "کیا لکی اس رشتے پہ راضی ہے ؟" شاہ من نے سوال کیا ۔۔۔ "جی ہم اسکی مرضی کے بنا کیسے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ "تو پھر آپ کا کیا جواب ہے ؟" مسسز اسعد نے دعا سے پوچھا ۔۔۔۔ "میں کیا کہہ سکتی ہوں ۔۔۔فیصلہ تو ماھی کے بابا ہی کریں گے " اس نے سارا بوجھ شاہ من کے کاندھوں پہ ڈال دیا۔۔۔۔ شاہ من سر جھکائے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔ "سب کیا کہیں گے ۔۔۔اکلوتی بیٹی کو اتنی جلدی کیا تھی بیاہنے کی ۔۔۔۔اتنی جلدی شادی کرنے پہ بھی تو سب باتیں بنائیں گے " "لیکن اگر کوئی الٹی سیدھی باتیں سارے خاندان میں پھیل گئیں تو سب کو کیا منہ دکھاؤں گا ۔۔۔ اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا سوچ سوچ کر ۔۔۔بالاخر اسنے گہری سانس کھینچ کر خود کو سنبھال لیا۔۔۔۔ "ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ۔مگر نکاح کے بعد ماھی اپنی پڑھائی جاری رکھے گی ۔جب تک پڑھائی مکمل نہیں ہوجاتی وہ یہیں رہے گی ۔۔۔۔ "ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔بس ایک گزارش ہے ۔نکاح کے بعد ہم اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے جائیں گے ۔صرف اپنا گھر دکھانے کے لیے اپنے رشتے داروں سے ملوانے کے لیے ۔۔۔اگلی صبح اسے واپس چھوڑ جائیں ۔۔۔۔نکاح کے بعد آخر وہ ہماری بہو بن جائے گی تو ہمارا بھی تو کچھ حق ہوگا نا اس پہ "اسعد صاحب نے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔۔۔ "جی ٹھیک ہے " "تم کیا کہتی ہو دعا ؟ شاہ من نے اسکی رائے کو بھی اہمیت دی ۔۔۔۔ "جیسا آپ کو مناسب لگے ۔۔۔۔ "اچھا ہمیں ہماری بیٹی سے تو ملوائیں "مسسز اسعد نے کہا ۔۔۔ "جاؤ ذخرف جا کر ماھی کو نیچے لاؤ اپنے ساتھ "دعا نے کب سے پیچھے خاموش تماشائی بنی کھڑی ذخرف سے کہا ۔۔۔۔ "جی پھپھو "وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اوپری منزل کی سیڑھیوں پہ چڑھنے لگی ۔۔۔۔ "ماھی اٹھو " زخرف نے اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہی سوئچ بورڈ پہ انگلی رکھ کر لائٹس آن کیں تو سارا کمرہ روشنیوں سے بھر گیا ۔۔۔۔ مگر ماھی منہ پہ تکیہ رکھے بت سدھ لیٹی رہی ۔۔۔۔ ماھی اگر تم نہ اٹھی نہ پھر میں نے پانی کی پوری بالٹی بھر کر تم پہ الٹا دینی ہے ۔۔۔۔۔۔۔!! زخرف اسے ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ کر کڑھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔ "ماھی اٹھی ہے ؟دروازے کے باہر سے دعا کی آواز آئی ۔۔۔ ماھی اپنی مما کی آواز سن کر فورا تکیہ پیچھے پھینکتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ جی جی ماما۔۔۔۔۔۔۔!! اٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔اتنے دنوں بعد تو اسکی مما نے اسکا نام لیا تھا ۔اسکی خوشی کی کوئی انتہا نا رہی ۔۔۔۔ دعا اندر آئی ۔۔۔۔ "زخرف بیٹا کھانا میں پہلے ہی بنا چکی ہوں تم زرا کچن میں جا کر فروٹ ٹرائفل بنا لینا۔۔۔۔۔۔۔میں بس ابھی آئی ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے ذخرف کو نیچے بھیج دیا ۔۔۔۔ "جلدی منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کرو اور چلو میرے ساتھ نیچے ۔۔۔۔ اسکے روئے ہوئے سُتٓے ہوئے چہرے کو دیکھ کر انہوں نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔ "ممم۔۔۔۔مگر کیوں مما "؟ اسنے حیرانگی سے استفسار کیا۔ "نیچے لکی کے پیرنٹس آئے ہیں تمہارا رشتہ لے کر " انہوں نے گویا اسکے سر پہ دھماکہ کیا ۔۔۔۔وہ فق نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔ "مگر مما ایسے کیسے ؟؟وہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔ "جو لکھا تھا وہ پورا ہو رہا ہے اور کیا چاہیے "؟ انہوں نے درشتگی سے کہا۔۔۔۔ "اسی سے شادی ہو رہی ہے " وہ اسے تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے بولیں ۔۔۔ "مگر وہ سب جھوٹ تھا میری غلطی تھی ۔۔۔۔اس کی اتنی بڑی سزا نا دیں مما ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔اس نے ان کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر التجائیہ انداز میں کہا۔۔۔۔ "ماھی وقت ضائع مت کرو نیچے سب انتظار کر رہے ہیں تمہارا ۔۔۔۔ مما مجھے یہ شادی نہیں کرنی تو بس نہیں کرنی " وہ بستر پہ بکھری ہوئی کتابوں کو ہاتھ مار کر نیچے پھنکتے ہوئے زخمی ناگن کی طرح پھنکاری ۔۔۔۔ "ماھی !!! "ساری تمیز و لحاظ بھول گئی ہو ؟؟؟ "اور یہ کتابیں کیوں نیچے پھینکیں ۔۔۔؟" "اچھی طرح جانتی ہوں نا ان پہ بسمہ اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوتی ہے ۔" "ایک منٹ سے پہلے اٹھاؤ انہیں ۔۔۔۔ "ہماری نرمی کا پہلے ہی بہت ناجائز فایدہ اٹھا چکی ہو تم " ماھی نے سرعت سے اٹھ کر فرش پہ بکھری ہوئی کتابیں سمیٹتے ہوئے چونک کر دیکھا ۔۔۔ "مما مگر وہ میرے ٹیچر ہیں "اسنے ایک اور نکتہ نظر بیان کیا ۔۔۔۔ "یہ تو تمہیں سوچنا چاہیے تھا نا ۔۔۔ " ناول پڑھ پڑھ کر جو تمہارا دماغ خراب ہوا ہے.. یہ سب انہیں کی کرامات ہیں بھگتو اب .. وہ کبرڈ میں سے اسکے لیے ڈریس نکالتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہی تھیں .. ماھی اور دعا سیڑھیوں سے نیچے ا رہی تھیں کہ زخرف بھی ان کے پاس آئی ۔۔۔۔ "ارے ماھی ۔۔۔۔۔۔یہ تمہارے ہاتھ اتنے ٹھنڈے کیوں ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔!!؟ زخرف نے ماھی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پریشانی سے بولی۔۔۔۔۔۔۔ "زخرف مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا میری زندگی کس طرف جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔!! روہانسی ہو کر بولی۔۔۔۔۔۔۔ اسے تو سمجھ ہی نہیں لگ رہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور آگے کیا ہونے والا ہے ۔۔۔ "ماھی پریشان مت ہو بڑوں کے فیصلے ہمیشہ ٹھیک ہوتے ہیں ۔میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں دیکھنا ان شا اللّٰہ سب بہتر ہوگا ۔۔۔۔۔۔ زخرف نے آہستہ آواز میں ماھی کو پچکار کر تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔ ماھی نے اندر جاکر سب کو سلام کیا تو مسز اسعد نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔۔۔۔۔۔۔ "ماشااللہ بہت پیاری بچی ہے ہم تو اب ذرا سی بھی دیری نہیں کرے گے کیوں بھئی اسعد صاحب ۔۔۔۔۔۔۔؟" مسسز اسعد نے انہیں مخاطب کیا۔۔۔۔۔۔۔ "بالکل ٹھیک کہا ۔اس ماہ کی پندرہ تاریخ کیسی رہے گی ۔۔۔۔۔۔"؟انہوں نے پوچھا "میں ایک منٹ دیکھتی ہوں " دعا نے موبائل سے دیکھا ۔۔۔۔ "کیا دیکھ رہی ہیں مسسز اسعد نے پوچھا ۔۔۔ "میں چاند کی تاریخ دیکھ رہی ہوں ",دعا نے موبائل سے نظر اٹھا کر جوابا کہا ۔۔۔ "دراصل ہم میں چاند کی پہلی تاریخوں میں سے کوئی تاریخ رکھتے ہیں نکاح کے لیے اسے اچھا تصور کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ دعا نے تفصیلی جواب دیا۔۔۔ "میں بتاتی ہوں پندرہ تاریخ کو اماوس کی رات ہوگی ",مسسز اسعد نے سادگی سے کہا ۔۔۔۔ "ہم میں تو کوئی ایشو نہیں چاند کی تاریخوں کا ۔۔۔۔سب دن اور رات اللّٰہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔مجھے تو پندرہ تاریخ ٹھیک لگی ۔۔۔ہم سادگی سے نکاح کرلیں گے " "ٹھیک ہے پندرہ تاریخ ہی ۔"شاہ من نے بحث ہی ختم کی ۔۔۔۔ اسی دوران کھانا سرو ہوا۔۔۔۔۔۔۔ انہی سب باتوں میں وہ لوگ رخصت ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ ان کے جانے کے بعد زخرف ماھی کے کمرے میں آئی ۔۔۔۔۔۔ "ماھی تم اتنی چپ کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔!!؟" زخرف ۔۔۔ ماھی کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔ "کچھ نہیں بس ویسے ہی ۔۔۔تم ابھی تک گھر واپس نہیں گئی ؟ماھی نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ "میں تم سے یہ پوچھنے کے لیے رکی تھی کہ تم اس رشتے سے خوش ہو۔۔۔۔۔۔۔" زخرف نے اسکا پسینے سے تر بتر ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔ "میں نہیں جانتی جو بھی ہو رہا ہے شاید یہی خدا کی رضا ہو ۔۔۔۔اور اب مزید انکار کر کہ میں اپنے والدین کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ۔اس لیے خوش تو ہونا پڑے گا نا ۔۔۔!! وہ بظاہر مسکرا کر بولی۔۔۔۔۔۔۔ "ماھی تم دیکھنا جو اپنے والدین کی بات مانتے ہیں نا ان کے ساتھ سب اچھا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ "سب ٹھیک ہو جائے گا انشااللہ۔۔۔۔۔۔۔!! "اور ایک میں ہوں اپنی مما کی بگڑی ہوئی بچی ۔۔۔اسی لیے شاید میری دعا قبول نہیں ہو رہی اس کھڑوس امرام شیر کے لیے ۔۔۔۔۔وہ گھمبیر صورت حال کو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے بولی تو اسکی بات سن کر ماھی کے افسردہ چہرے پہ بھولی بسری ۔۔۔پھیکی سی مسکراہٹ آن ٹہری ۔۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙🌙 آج مہندی کا کمبائنڈ فنگشن شہر کے ایک مشہور ہوٹل کے لان میں ہی کیا گیا تھا۔۔۔ سب کچھ بہترین تھا ۔مہندی کی تھیم کے مطابق گیندے کے پیلےپھولوں اور لائیٹنگ سے ڈیکوریشن کی گئی تھی۔۔ دونوں کپلز منساء اور احتشام ،اعیان اور ہانیہ کی مہندی کا فنکشن اکھٹے ہی کئے جانے کا پروگرام فائنل ہوا تھا۔دونوں کپلز کے لیے الگ الگ سٹیج بنایا گیا تھا ۔۔۔ منساء اور ہانیہ دونوں پارلر میں مہندی کی تھیم کے لحاظ سے تیار ہوچکیں تھیں ۔بس آخر میں رمشاء ہی بچی تھی ۔۔۔۔ سب لوگ ہال میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔ منت نے پارلر میں کال کر کہ ان سب لڑکیوں سے پوچھا کہ وہ تیار ہوچکیں ہیں تو آجائیں ۔کیونکہ مہمان آچکے تھے ۔۔۔ "انہیں جب پتہ چلا کہ آخر میں تیار ہونے والی صرف رمشاء ہی بچی ہے تو انہوں نے فون پاس کھڑی زائشہ کو پکڑایا ۔۔۔۔ "رمشاء بیٹا آپ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئی "؟ انہوں نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا ۔۔۔ "مما میں نے آپکو کہا بھی تھا کہ یہ ڈریس میں نہیں پہنوں گی ۔یہ سمال سائز کا ہے جبکہ مجھے میڈیم آتا ہے ۔بہت ٹائٹ ہے ۔۔۔اسکی فٹنگ سے میرا دم گھٹنے لگا ہے ۔۔۔۔ "رمشاء میں نے کہا بھی تھا کہ پہن کر ایک بار چیک کر لو ۔۔۔ "ابھی وقت نہیں ان سب باتوں کا ایساکرو دوپٹہ اچھے سے سیٹ کر لو ۔۔۔میں گھر سے تمہارا کسی سے دوسرا ڈریس منگوا لیتی ہوں ۔ زائشہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ "ان سب کو ڈرائیور کے ساتھ بھیج دو ۔۔۔میں تمہیں لینے کے لیے دس منٹ بعد کسی اور کو بھیج دوں گی ۔۔۔۔ "جی مما "اس نے بے دلی سے کہتے ہوئے کال بند کردی ۔۔۔ منساء ڈیزائنر کے بہترین مہندی رنگ پر سرخ و پیلے امتزاج دیدہ زیب کام سے مزین شرارہ اور شارٹ کرتی پر شیڈڈ ڈائی دوپٹہ سیٹ کیے پھولوں کے زیورات پہنے۔۔۔۔ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے، سادگی میں بھی وہ آسمان سے اتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی ۔۔۔ احتشام اس کی سادگی کا ہی تو دیوانہ تھا۔۔۔ وہ جو کب سے اسے ایک نظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھا اسے گھونگھٹ اوڑھے باہر آتے دیکھا تو سخت بدمزہ ہوا۔۔۔۔۔ اتنے مہمانوں کے سامنے آخر اور کر بھی کیا سکتا تھا۔۔۔۔وہ منساء کی اس حرکت پر دانت پیس کر رہ گیا۔۔۔۔ "سارے مظالم کا حساب لیا جائے گا منساء احتشام ۔۔۔ اس نے خودی سے ہمکلامی کی۔۔۔۔ دوسری طرف ہانیہ یلو اور سی گرین لہنگا چولی پہنے ،ہلکے پھلکے میک اپ بہت حسین دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔اعیان کی نظریں اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔احتشام اور اعیان نے بلیک کلر کا کرتا اور شلوار پہن کر اس پر یلو کلر کے پٹکے گلے میں ڈال رکھے تھے۔۔۔جس میں وہ بہت شاندار لگ رہے تھے ۔۔۔۔ دونوں دلہنوں کے لیے جھولے کو قدرتی پھولوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔۔۔ منساء اور ہانیہ اسی پر براجمان تھیں۔۔۔ جبکہ احتشام اور اعیان کے لیے سٹیج پر صوفہ سیٹ کیا گیا تھا۔۔۔ "مومن اور حذیفہ نے انہیں خوب تنگ کر رکھا تھا ۔۔۔ "شیر دل بیٹا سب یہاں آچکے ہیں آپ کہاں ہو ؟ ہیر نے اس سے کال پہ دریافت کیا ۔۔۔ "مما بس ایک امپورٹینٹ میٹنگ تھی ۔اسے ختم کیے ابھی آفس سے باہر نکلا ہی ہوں ۔۔۔بس سیدھا ادھر ہی آتا ہوں ۔ "بیٹا پر مہندی کے فنکشن کے حساب سے جو کپڑے لیے وہ تو چینج کرلو ۔۔۔۔ "اوہ نوووو مام ۔۔۔اب پہلے گھر جاؤں پھر وہاں آؤں ۔۔۔بہت لیٹ ہو جائے گا ۔۔۔تب تک پھر آپکو ہی شکوہ ہوگا ۔۔۔ "اچھا ٹھیک ہے آجاؤ ۔۔۔ "ہیر کس سے بات کررہی ہو ؟" زائشہ جو اسکے پاس سے گزر رہی تھی رمشاء کو پارلر سے لانے کے لیے کسی کو ڈھونڈھ رہی تھی تو اس نے ہیر کو بات کرتے دیکھ اس سے پوچھا ۔۔۔ "میں شیر دل سے ۔۔۔ ہیر نے فون کان سے ہٹاتے ہوئے بتایا ۔۔۔ "ہیر اسے کہو آتے ہوئے رمشاء کو پارلر سے لیتا آئے ۔۔۔۔ "زائشہ نے کہا تو اسکی آواز فون پہ موجود شیر دل نے سن لی تھی ۔۔۔ ہیر نے فون کان سے لگایا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہیر شیردل سے کہتی ۔۔۔ "مام میں لے آؤں گا "س نے کہہ کر کال کاٹ دی ۔۔۔ 'شیر دل نے گاڑی گاڑی پارلر کے باہر روکی اور اندر پیغام بھیجا کہ رمشاء کو بھیج دیں تو کچھ دیر بعد وہ سہج سہج کر چلتی ہوئی باہر آرہی تھی ۔۔۔۔ شیر دل نے اس پہ زیادہ غور نہیں کیا ۔۔۔ "بیلٹ باندھ لو "اسکے ساتھ بیٹھتے ہی شیر نے سپاٹ انداز میں کہا تو رمشاء نے اسکی بات پہ عمل کیا ۔۔۔۔ وہ سٹئرنگ پہ ہاتھ رکھے وند سکرین پہ نظریں جمائے خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔ اس نے ایک اچٹتی ہوئی نظر ساتھ بیٹھی رمشاء پہ ڈالی جو سر جھکائے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔۔۔۔ "آپکو اعیان سے محبت تھی ؟" رمشاہ نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔۔ "اس کے ساتھ بچپن سے میرا نام جڑا تھا ۔۔۔لگاوٹ تو ہو ہی جاتی ہے ۔اور جہاں تک محبت کی بات ہے ،وہ انسان کو شادی کے بعد اپنے محرم سے ہی ہونی چاہیے ۔۔۔۔ایسا میرا ماننا ہے ۔جب وہ میرا محرم بنا ہی نہیں تو محبت ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔وہ انتہائی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔ "اعیان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔مجھے بہت برا لگا سب ۔۔۔ شیر دل نے ماحول میں چھائی ہوئی خاموشی کو توڑا ۔۔۔ "یہ تو قسمتوں کے کھیل ہیں ،کس کی کہاں شادی ہوگی کون کس کے نکاح میں ہوگا ،ہم کسی نا کسی کے ساتھ رشتے میں منسلک ہوجاتے ہیں ۔مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص آپکے نصیب میں بھی ہو ۔۔۔نصیب کبھی الٹے بھی ہوجایا کرتے ہیں ، "آپ ! بہت گہری باتیں کرتی ہیں "شیردل نے ابرو اچکا کر سنجیدگی سے کہا ۔ "کیا واقعی میری باتیں گہری تھیں؟ "میری نظر میں توگہرے وہ دکھ ہوتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتے ۔۔۔ گہرے تو روح پہ لگے وہ زخم ہوتے جسے کوئی پیوند نہیں لگا سکتا ۔۔۔ "گہری تو وہ دکھ بھری رات ہوتی ہے،جسکی کوئی روشن صبح نا ہو " "گہرا تو دل کا درد ہوتا ہے جو ہر احساس اپنے اندر دفن کرلیتا ہے ، "کیا باتیں بھی کبھی گہری ہوتی ہیں ؟وہ بولتے ہوئے سانس لینے کو لحظہ بھر کو تھمی ۔۔۔ شیر دل نے استہفامیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا جسکی آنکھوں میں درد ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙🌙🌙 Don't forget to share your precious views friends
❤️ 👍 😂 🌺 😍 🫀 31

Comments