Novels Ki Duniya📚🌐🖤
February 14, 2025 at 04:55 AM
#novel :Chand Asmano Sy Lapata.
#hina Asad.
#episode:16
Don't copy paste without my permission.
"جی بھائی بتائیں ویب سائٹ کا نام "؟
زخرف نے اس سے پوچھا اور لان میں رکھی ہوئی کین کی چئیر پہ بیٹھ کر لیپ ٹاپ اپنے گود میں رکھ کر آن کیا ۔
اتنی دیر میں شیر دل اپنے موبائل سے کچھ ویب سائٹ دیکھ چکا تھا کہ ان ویڈیوز کے لیے استعمال ہونے والے مشہور ترین ویب سائیٹس کون سی ہیں ۔
ان ویب سائٹس پہ نظر آنے والے نادیدہ ،فحش کلپس دیکھ کر اس نے زخرف سے نظریں چرائیں ۔کتنا عجیب وقت تھا یہ اس کے لیے کہ اپنی بہن جیسی لڑکی سے اس قسم کی مدد لینی پڑ رہی تھی ۔دل ہی دل میں وہ خوب شرمندہ ہوا ۔۔۔
"زخرف بیشک ہم حقیقی بہن بھائی نہیں مگر دل سے میں تمہیں اپنی چھوٹی بہن مانتا ہوں ،یہ سب دیکھنا بھی گناہ ہے۔مگر ہم یہ سب اچھے کے لیے کر رہے ہیں ۔کسی کی عزت پامال ہونے سے بچانے کے لیے ۔اس وقت یہ بھول جاؤ کہ ہم میں کیا رشتہ ہے۔ہماری کیا جنس ہے،بس یہ یاد رکھو کہ تم پروفیشنل لحاظ سے کسی کی مدد کر رہی ہو ۔سب ڈھونڈھنے میں ۔"شیردل نے شرمندگی کم کرنے کے لیے کہا ۔۔۔۔
"زخرف لاسٹ دو گھنٹے میں جتنی بھی نئی ویڈیوز اس ویب سائٹ پہ اپلوڈ ہوئی ہے وہ دیکھو ۔کہیں ان میں تو نہیں ۔۔۔یہ یہاں کی سب سے مشہور ویب سائٹ ہے ۔
زخرف بھی کلپس کے فرنٹ پیج دیکھ کر شیر دل سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔وہ سر جھکائے تھوک نگلتے ہوئے اپنے کام میں مصروف رہی ۔۔۔ "بھائی ساراچیک کیا مگر اس میں رمشاء کی ویڈیو کوئی نہیں ۔۔۔
"پھر کونسی ویب سائٹ ہوگی ؟؟؟؟
شیردل نے پاس پڑے کین کے ٹیبل کو پریشانی اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں پاؤں کی ٹھوکر ماری تو وہ دور جاگرا ۔۔۔
"بھائی پلیز آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔ہم ملکر ڈھونڈھتے ہیں نا "وہ دل میں خود ڈری ہوئی تھی ۔آواز میں بھی کپکپاہٹ تھی ۔مگر اسکے سامنے بظاہر خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی ۔۔۔۔
بیہودہ کلپس دیکھ کر اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا ،
"یہاں دیکھو "شیردل نے ورلڈ فیمس ویب سائٹ پہ کلک کیا ۔۔۔۔
یہ ایک ۔۔۔۔۔ملک کی ویب سائٹ تھی جہاں ایک گھنٹے پہلے تین ویڈیوز اپلوڈ کی گئی تھیں ۔ان میں دوسرے نمبر پہ جو ویڈیو کلپ اسے دکھائی دیا ۔۔۔
وہ دیکھ کر زخرف کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔جبکہ شیردل نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظریں ہٹا لیں ۔۔۔۔
"بھائی اس پہ ایک لاکھ ویوز آچکے ہیں،اور سیکنڈز کے حساب سے ویوز بڑھتے جا رہے ہیں ۔۔۔کیا کریں ؟؟"
زخرف کے تو ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔۔۔۔
اس کا چہرہ زرد پڑا ۔۔۔۔
وہ ویڈیو دیکھ کر جہاں رمشاء برائڈل روم کے ملحقہ واش روم میں کپڑے تبدیل کر رہی تھی ۔
"بھائی میں مر جاؤں گی ۔۔۔یہ سب دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔
وہ دھواں دھار رونے لگی ۔۔۔۔
"یہ کیا ہوگیا ؟؟؟"
وہ روتے ہوئے تڑپ کر بولی ۔۔۔
"زخرف یہ وقت رو کر برباد کرنے کا نہیں ،
"ہوش کے ناخن لو ،جتنا وقت گزرے گا زیادہ سے زیادہ لوگ یہ دیکھیں گے ۔اس واہیات ویب سائٹ کو اُڑا دو ۔ہیک کرلو اسے اور سارا ڈیٹا ڈیل کردو۔۔۔
"ج۔۔۔جہ۔جی بھائی "
وہ بمشکل لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی ۔۔۔
اس کی انگلیاں کی بورڈ پہ تیزی سے حرکت کر رہی تھیں ۔
نظریں ہنوز سکرین پہ جمیں تھیں ۔۔۔۔
شیردل وہاں کھڑا اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسائے کشمکش میں مبتلا تھا۔۔۔۔
"ڈن "
کچھ ساعتوں بعد زخرف نے اسے جو خبر سنائی ۔وہ سن کر تھوڑا ری لیکس ہوا ۔اور گہری سانس لی۔۔۔۔
جیسے سر سے کچھ بوجھ ہلکا ہوا ہو ۔۔۔
"بھائی سب ٹھیک ہوگیا۔ ۔۔۔آپ بیٹھ جائیں ۔
میں آپ کے لیے پانی لاتی ہوں ۔
وہ لیپ ٹاپ ایک طرف رکھے اپنی جگہ سے اٹھی۔
"زخرف تھینکس فار ہیلپ ۔
"بھائی تھینکس کس لیے ۔یہ تو ہم دونوں کا فرض ہے ۔ہماری فیملی کے لیے ۔۔۔جو آپ سے بن سکا آپ نے کیا اور جو مجھ سے بن پڑا وہ میں نے کیا ۔۔۔شکر ہے سب ٹھیک ہوگیا ۔۔۔
"یہاں سے تو سب ختم ہوگیا ذخرف مگر ابھی بھی بات یہاں ختم نہیں ہوئی ۔۔۔۔
وہ سپاٹ انداز میں بولا تو ذخرف نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
"جن لوگوں نے یہ ویڈیو اپلوڈ کی ہوگی ابھی ان کے پاس تو موجود ہوگی ۔یہ ویب سائٹ ہم نے ہیک کرلی ۔مگر اس ویڈیو کو مجھے ان لوگوں کے پاس سے ہمیشہ کے لیے ختم کروانا ہوگا ۔۔۔جن کے پاس ابھی بھی یہ موجود ہے،
"مگر بھائی ان لوگوں تک آپ کیسے پہنچیں گے "؟
وہ حیرت زدہ رہ گئی اسکی بات پہ واقعی یہ بات تو اس نے سوچی بھی نہیں تھی ۔۔۔
"وہ سب تم مجھ پہ چھوڑ دو اس معاملے کو اب میں خود سورٹ آؤٹ کر لوں گا ۔
"تم بس اتنا دھیان رکھنا اس بات کا کسی کو پتہ نہیں چلے ۔۔۔خاص طور پہ رمشاء کو ۔۔۔وہ پہلے ہی اعیان کی وجہ سے کافی ڈس ہارٹ ہوگی ۔۔۔۔
"جی بھائی ۔۔۔۔مجھ آپ کا فیملی کو لے کر کنسرن بہت اچھا لگا "
زخرف اسکی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکی ۔۔۔وہ توصیفی انداز میں بولی۔۔۔
"زخرف اب آرام کرو رات بہت ہوگئی ہے "
وہ سادگی سے کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔
🌙🌙🌙🌙🌙
آ۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔یہاں ۔۔۔۔؟؟؟
"میرے کمرے میں ۔۔۔۔کیسے ؟؟؟؟
وہ اپنے خوف سے فق نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بمشکل بولی ۔۔۔۔
مگر وہ اسکے بستر پہ ہنوز ساکت بیٹھا رہا ۔۔۔
ماھی نے ہاتھ بڑھا اسکے وجیہہ چہرے کو چھو کر محسوس کرنا چاہا خواہ وہ سچ میں وہاں موجود تھا یا صرف اس کا وہم و خیال تھا ,,,
جیسے کی ماھی کی مخروطی انگلیوں نے اسکے بئیرڈ والے گال کو ہولے سے چھوا تو اسے سو والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔
اس نے جھٹ سے ہاتھ پیچھے کھینچا ۔وہ سچ میں وہاں موجود تھا ۔۔۔
اس کے ہاتھوں کی لرزش واضح محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
"سر آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا "
وہ سرجھکائے بولتی لکی کے دل کی تاروں کو چھیڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
اسے اتنے قریب بیٹھے دیکھ ماھی بستر سے نکل کر نیچے اتر گئی ۔۔۔۔
"کیسی ہو ؟؟؟
"آج کالج بھی نہیں آئی ۔۔۔۔
"مسڈ یو آلاٹ!!!
"رہا نہیں گیا تو تمہیں دیکھنے آگیا "
وہ دھیمے آنچ دیتے لہجے میں بولا۔
"آ۔۔۔۔آپ جائیں یہاں سے "
"پلیز ۔۔۔۔وہ التجائیہ انداز میں بولی
"اگر نا جاؤں تو "؟
وہ بضد ہوا
"تو پھر میں یہاں سے چلی جاؤں گی "
اس نے کمرے سے باہر نکلنے کے لیے دروازے کی طرف اپنے قدم بڑھائے ۔۔۔
"اوراگر میں تمہیں یہاں سے نا جانے دوں تو ؟۔۔۔۔"
لکی نے ماھی کا ہاتھ پکڑ کر اسے جانے سے روکا ۔۔۔
"ماھی !!!!
وہ فسوں خیز آواز میں بولا۔۔۔
ماھی نے اس کی مضبوط ترین گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروانا چاہا ۔۔۔۔مگر لکی نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسکی دونوں کلائیوں کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لیکر دیوار سے قید کرلیا ۔۔۔۔۔
"یہ۔۔۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں۔۔آپ۔۔۔۔در۔۔۔۔دور ۔۔رہیں مجھ سے ۔۔ماھی اسکی گرم سانسوں کو اپنے اوپر محسوس کرتی گھبراتی اس سے خود کے ہاتھوں کو آزاد کروانے لگی ۔۔۔جس میں ناکام رہی۔۔۔۔۔
"دور رہنا ہی تو ناممکن ہے اب
Lucky 's luck .
۔۔۔۔۔گھمبیر لہجے میں کہتے وہ ماھی کو سانسیں روکنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔لکی کی حد درجہ قربت پر وہ پسینہ ہورہی تھی۔۔۔۔۔مجھے ج۔۔جانے دیں ۔۔۔۔پپ۔۔پلیز۔۔۔۔۔سر !!!!
وہ منمنائی اور اسکی گولڈن شیڈڈ آنکھوں میں ڈرتے دیکھ کر التجا کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
"سر کہنا چھوڑ دو اب ۔۔۔۔
"ہمارا نیا رشتہ بننے والا ہے ،مجھے میرے نام سے بلاؤ ۔۔۔۔تمہاری آواز میں اپنا نام سننا چاہتا ہوں ،کب یہ نوازش کرو گی ؟؟؟؟
وہ اسکے چہرے پر جھولتی ہوئی آوارہ بکھری ہوئی بالوں کی لٹوں کو پھونک مار کر بولا ۔۔۔۔۔
"یہ۔۔یہ کیا کر رہے ہیں۔۔آ۔۔پ ۔۔لکی کی انگلی کو اپنی نوز بن پر پھیرتے دیکھ کر وہ گھبرا کر کہتی اس کے ہاتھ کو جھٹکنے لگی۔۔۔۔۔۔
"لکی کی لک !!!! اس چکمتی ہوئی نوز بن کو چھو کر محسوس کر رہا ہوں ،،،جس کی وجہ تم میری زندگی میں شامل ہونے جا رہی ہو ۔۔۔۔
"سچ بتاؤں یہ وجہ ہے ،ہمارے ملنے کی "
ماھی نے اسکی بے سروپا بات سن کر اسے اچنبھے سے دیکھا مگر کچھ بھی اسکے پلے نہیں پڑا۔۔۔۔
" تم صرف میری ہو۔۔۔۔۔۔تمہیں صرف میرے لیے بنایا گیا ہے۔۔۔۔۔تم پر صرف میرا حق ہے ۔۔۔۔۔۔ ماھی صرف لکی کی ہے۔۔۔۔۔تم صرف میری بن کر رہو گی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔۔
وہ جنونیت سے کہتا ماھی کو کوئی سائکو لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکی جنونی باتیں اسے خوفزدہ کر رہی تھی۔۔۔ایک ہی پوزیشن میں تب سے کھڑے کھڑے اسکی ٹانگیں کانپنے لگی ۔۔۔۔۔
لکی کو اسے سامنے دیکھ کر خود پہ قابو پانا مشکل ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔
"دل چاہتا ہے تمہیں اپنے پروں میں چھپا کر کہیں دور لے جاؤں اک ایسی دنیا میں جہاں
۔ایسی دنیا میں جہاں صرف تم ہو اور میں "
اسکی آنکھوں کا رنگ سرخی مائل ہوا پھر گولڈن ۔۔۔۔ماھی کو ایسا لگا ۔۔۔مگر اسے خودی یقین نہیں آیا کہ ایسا ہوا بھی ہے یا اسکا گمان ۔۔۔۔وہ ہنوز ساکت کھڑی رہی ۔۔۔اس میں ہلنے کی سکت نہیں بچی تھی ۔۔۔۔
لکی اسکے چہرے کے دلکش نقوش کو نہارنے میں اس قدر محو تھا کہ اسے دنیا و مافیہا کی خبر نا تھی ۔۔۔۔
اور ان سب میں کھویا۔۔۔
"بہت جلد تم میری ہوگی صرف میری ۔۔۔۔وہ انتہائی جنونیت سے بول کر اسکی سانسیں ناہموار کرگیا ۔۔۔۔۔۔ ماھی آنکھیں میچیں لرزتی کپکپاتی ہوئی دیوار سے لگی تھی اس کے پیچھے ہوتے ہی اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کیا۔۔۔۔
لکی نے اسکے ڈرے سہمے زردی مائل چہرے کو دیکھا جو اب ٹپ ٹپ آنسو بہانے میں مشغول تھی ۔۔۔۔۔۔
Iam Sorry Lucky's Luck ......
"میں نا چاہتے ہوئے بھی ہر بار تمہیں ہرٹ کردیتا ہوں ،
"مجھے غلط مت سمجھنا۔۔۔ میری محبت کے اظہار کا یہی انداز ہے"
"آ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔ب۔۔بہت۔۔برے ہیں۔۔۔میں۔۔آپ سے ۔۔۔کبھی ۔۔۔شادی نہیں ۔۔۔کروں گی ۔۔۔۔
"کبھی نہیں ۔۔۔۔وہ اسکے ہاتھ جھٹکتی پہلی بار اسکے سامنے ہمت دکھاتے ہوئے غصے ۔۔۔۔سے بولی ۔
"I h...h...hate you...
اس کا اشتعال عود کر آیا اور وہ اپنے الفاظ اور انداز سے لکی کو ساکت کر گئی۔۔۔۔۔۔اسکی آنکھیں ماھی کے لفظوں پر غصے کی زیادتی سے خون چھلکانے لگیں ۔۔۔ایک جھٹکتے سے سختی سے اسکی کہنی سے پکڑ کر ماھی کواپنے قریب کیا پھر وہ سرد آواز میں غرایا ۔۔۔۔
"کیا بولا تم نے ؟؟؟
"نفرت ہے تمہیں مجھ سے ۔۔۔
"ٹھیک ہے پھر نفرت تو نفرت کی سہی ۔۔۔۔
"اب چاہے تم نفرت کرو یا محبت رہنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی ہوگا ۔۔۔ تمہارے سامنے انسان بنا ہوا ہوں تو انسان ہی رہنے دو مجھے ۔حیوان بننے پر مجبور ناکرو ۔۔۔اگر میرے اندر کا حیوان جاگ گیا تو سوچ لو تمہارے لیے ہی اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔اسکا لہجہ ایسا تھا کہ ماھی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ پھیل گئی اور آنکھیں پھٹنے کے قریب ہی ہوگئی۔۔۔۔اسکا معصوم سا دل سکیڑنے لگا ۔۔۔۔ہاتھ پاوں سرد پڑ گئے۔۔۔۔۔
"آئیندہ اگر مجھ سے دور جانے کی بات کی تو اپنے ان ہاتھوں سے جان لوں گا تمہاری ۔۔۔سمجھی تم "
"جاکر آسمانوں میں چھپ جاؤ یا سمندر کی گہرائیوں میں وہیں سے نکال لاؤں گا تمہیں ۔۔۔۔کسی غلط فہمی میں مت رہنا کہ لکی سے دور جا پاؤ گی تم ۔۔۔۔
اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتا ہوا وہ پیچھے ہوا ۔تو ماھی لہرا کر رہ گئی ۔۔۔۔
اس کی جنونی باتوں پہ ماھی کو اپنا دماغ سن ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔وہ سہمی ہرنی کی مانند اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ جیسے کھڑکی سے کود کر اندر آیا تھا ویسے ہی باہر نکل گیا ۔۔۔۔ماھی اسکے باہر جاتے ہی بستر پہ ڈھ سی گئی۔۔۔۔
🌙🌙🌙🌙🌙
"نہیں کرنی نہیں کرنی نہیں کرنی۔۔۔۔ مجھے اس مروان سے شادی نہیں کرنی۔۔۔
اس مروان کو تو میں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالوں گی ،جو وہ ہم دونوں کے درمیان آیا "
وہ ِچّلاتے ہوئے بولی ۔
"بجائے اس کے کہ آپ ہمیشہ کے لیےمیری ذمہ داری اٹھاتے ، الٹا خود سے دور بھیجنے میں لگے ہیں ،
"مجھے اس مروان سے شادی کرنے پہ راضی کرنے میں لگے ہیں۔۔۔
" میں پوچھتی ہوں آپ نے کیا سوچ کے اس مروان کو ایسے پٹ سے ہاں کہہ دی؟
"کیا میری مرضی آپکے لیے کوئی اہمیت کی حامل نہیں ؟"
"دیکھو پری تم اب بچی نہیں رہی ۔۔
اور یہ بات میں تمہاری شادی کی فرمائش پر اچھے سے جان گیا ہوں ،
"مگر جو تم چاہتی ہو وہ ناممکن ہے ،"
"تم سب سمجھتی ہو۔۔۔صحیح غلط، فائدہ نقصان۔۔۔۔ اس لئے میں اس فضول کی بحث کو یہیں ختم کرتا ہوں۔۔۔۔انکار کا کوئی مضبوط جواز تمہارے پاس نہیں ہے، بس ضد ہےتمہاری ۔۔۔جو کبھی پوری نہیں کروں گا "
"تمہیں مروان سے شادی کرنی ہو گی ، کیونکہ میں رشتہ طے کر چکا ہوں تو بہتر ہے رونا دھونا چھوڑ کر خود کو ذہنی طور پہ تیار کر لو۔۔
"میں نے ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا کہ مجھے ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا ہے ،آپ سمجھتے کیوں نہیں ،،،،
"نہیں دور جاسکتی آپ سے آپ کو دیکھ کر جیتی ہوں ،آپ کی عادت ہوگئی ہے ،جب آپ مجھے میرا فیورٹ ناشتہ بنا کردیتے ہیں ،تو دن بن جاتا ہے ،
جب آپ اپنے ہاتھوں سے میرے بالوں میں برش پھیرتے ہیں میرے بال سنور جاتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے آپ نے ایک یتیم کی زندگی کو سنوارا....
"پہلے اپنے اتنے قریب رکھ کر اپنا عادی بنا ڈالا کہ میں نے کبھی کسی اور کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا ۔۔۔۔
اور ہاں یاد رکھنا کبھی کروں گی بھی نہیں ۔۔۔۔وہ دھمکی آمیز انداز میں انگلی اٹھا کر درشتگی سے بولی ۔۔۔
"اور اب خود سے دور بھیجنے کی بات کرتے ہیں ۔
"شیرو ۔۔۔۔!!!!
وہ رندھی ہوئی آواز اور بھیگی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ کر ملتجی انداز میں بولی۔۔۔۔
آریان شیر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔
آج سے پہلے کبھی پری نے اسے اس نام سے نہیں پکارا تھا ،آج پہلی بار اس نے آریان کو ایسے مخاطب کیا تھا۔
"میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ،مجھے خود سے دور نا کریں ،مجھے آپ سے شادی کرکہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا ہے ,
"پری تم سمجھتی کیوں نہیں ،میری زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں ،ایسے میں تمہاری زمہ داری نہیں لے سکتا ،تمہیں کسی باعزت گھرانے اور مضبوط ہاتھوں میں سونپ دینا چاہتا ہوں ،یہی تمہارے لیے بہتر ہے "
"چلو میرے ساتھ "
آریان شیر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے چلنے کے لیے کہا ۔۔۔۔
اور دروازے کی سمت بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔
اس نے آریان شیر کو جب اپنے اٹل ارادوں سے ٹس سے مس ہوتے نہیں دیکھا تو وہ بھڑک اٹھی۔۔۔۔
یکلخت اس نے اپنے انداز و اطوار بدلے ۔۔۔۔
"چھوڑ۔۔۔۔۔۔۔میرا ہاتھ نہیں کروں گی میں یہ شادی ۔۔۔۔
وہ اسکی گرفت میں پھڑپھڑانے لگی۔۔۔۔
آریان شیر نے تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے اپنے قدموں کی رفتار بڑھا دی ۔۔۔
"ٹپوری بھائی لوگ تم ہی میری مدد کرو نا مستقبل کی شیرنی کی "
اس کا ہاتھ آریان شیر کے فولادی ہاتھ میں تھا۔وہ سرخ عروسی لباس میں ملبوس پری کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے باہر کی جانب کے جا رہا تھا ۔راستے میں اس کے آدمی سر جھکائے مؤدب انداز میں کھڑے تھے ۔اس کے سامنے بولنے کی کسی کی ہمت نہ تھی سوائے پری کے ۔
"چھوڑ نا شیرو "
وہ تڑخ کر بولی بنا اسکی گھوری کی پرواہ کیے ۔
"جو تیرے لیے تین جمعے جا کر جامع مسجد میں نمازیں پڑھیں اس کا کیا ؟؟؟
"وہ جو تیرے لیے اس سڑے ہوئے مولوی کے خطبے سنے اس کا کیا "؟
"وہ جو تیرے لیے پرانے کپڑے پہن کر ایک غریب اور نیک انسان ہونے کا ناٹک کیا اس کا کیا ؟؟؟
"میری ساری محنت پہ پانی پھیرے گی ؟
وہ اس کی کلائی کو جھنجھوڑ کر بولا ۔۔۔
اس وقت اسکا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا ۔
"کتنی مشکل سے پٹایا سالا اس مولوی کو "
"آج وہ تجھ سے اپنے شریف بیٹے کی شادی کے لیے راضی ہوا تو ۔۔۔اب تو آنا کانی کر رہی ہے ۔۔دو ڈالوں گا نا بھیجے میں.......... تو سالا سارا سٹکا ہوا بھیجا اپنی جگہ پہ آ جائے گا "
وہ درشتگی سے اس کی کنپٹی پہ دوسرے ہاتھ سے گن رکھے دھاڑا ۔۔۔آج وہ اپنے غنڈوں والے اصل سٹائل میں لوٹ آیا ۔جسے وہ پری کے سامنے کم ہی لاتا تھا ۔۔۔۔
پری کو اپنے کان کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے اسکی گرجدار آواز سن کر ۔۔۔
"دیکھ شیرو اپُن کو تجھی سے مِنگل ِشنگل کرنا ہے "
وہ ِبلاجھجھکے بولی ۔۔۔
"تجھے اسی لیے پڑھایا ہے کہ تو بدتمیزی کرے مجھ سے ۔۔یہ تُو کیا ہوتا ہے ؟؟؟
"کتنا بڑا ہوں میں تجھ سے ؟؟؟
"دیکھ شیرو تو غنڈوں کی طرح بولے گا تو میں بھی بولوں گی ۔۔۔۔وہ تنک کر بولی
"تو غنڈہ تو اپُن غنڈی "
وہ کہہ کر مسکرائی ۔۔۔
"اُپن کا ٹیم کھوٹا نا کر شادی کرکہ کسی نیک لڑکے کے ساتھ زندگی گزار "اس نے اپنے تئیں اسے سمجھانا چاہا۔
"میں اس مولوی کے سامنے چیخیں مار مار کر انکار کردوں گی "
وہ اسی کے انداز میں دھمکی دے کر بولی ۔۔۔پھر اس نے آریان شیر کی کمر کے گرد اپنی بازو باندھنی چاہیں ۔۔۔
جسے آریان شیر نے بری طرح پیچھے جھٹک دیا ۔۔۔۔
پری برا سا منہ بنا کر رہ گئی ۔۔۔
آریان شیر نے ایک اچٹتی ہوئی نظر اپنے سب آدمیوں پہ ڈالی جو اسکے حکم کے بنا سانس نہیں لیتے تھے ۔مگر اس جونک کی طرح چمٹی ہوئی لڑکی کی وجہ سے وہ دھیمے دھیمے ہنس رہے تھے ۔۔۔
دس سالہ پری جسے آریان شیر اسکے والدین کے مرنے کے بعد اپنے ساتھ لے آیا تھا ۔وہ لڑکی اب انیس سال کی ہوچکی تھی ،ان نو سالوں میں آریان شیر جو خود ایک سنائپر تھا ،ایک بڑے گینگ کے سربراہ کا رائیٹ ہینڈ کے رتبے پہ فائز تھا ،اپنے ماسٹر کے کہنے پہ وہ بہت سے لوگوں کو اپنے نشانے سے موت کی آغوش میں سُلا چکا تھا ، قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا،چوڑے شانے،ورزشی جسامت،تعلیم صرف پانچویں تک اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہوئے حاصل کی۔اس نئی دنیا میں آنے کے بعد ُاسے سیاہ دنیا میں رہنے کی تعلیم دی گئی تھی ، اس کی نیلی آنکھوں میں ہمہ وقت سرد تاثر دکھائی دیتا،مگر پری وہ واحد ہستی تھی،جسے دیکھ کر اسکی سرد آنکھوں میں نرمی اتر آتی ۔بھنچے جبڑے،تنی ہوئی رگیں،اسکا نشانہ کبھی نا چوکا ، جب وہ اپنے کام کے لیے نکلتا چہرے پہ ماسک چڑھائے ہوئے ہوتا ،دنیا اسے سفید موت کے نام سے جانتی تھی ۔اس کی سیاہ دنیا میں آج تک کسی نے اسکا چہرہ نہیں دیکھا تھا،
جب سے پری نے اس سے شادی کی بات کی تھی اس کا خون خول اٹھا تھا ،پری کو اس کے ہاسٹل واپس بھیج دینے کے بعد وہ اسکی شادی کے معاملے میں سنجیدگی سے سوچنے لگا ۔۔۔وہ اس بچی کی شادی کسی اچھی جگہ کرنا چاہتا تھا جہاں وہ پرسکون اور باعزت زندگی گزارے ۔اسی لیے آریان شیر نے ان گزرے ماہ میں مسجد جانا شروع کردیا ،وہاں ایک معتبر شخص سے اسکے بیٹے مروان سے پری کی شادی طے کردی تھی ،اور پھر جب پری اس بار چھٹیوں میں ہاسٹل سے واپس آئی تو آریان شیر نے میڈ سے کہہ کر اسے تیار کروایا ۔۔۔۔۔
مگر پری کا انکار سن کر اسے تو گویا پتنگے ہی لگ گئے وہ سارا لحاظ بھلائے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا نکاح کے لیے ۔۔۔۔کیونکہ سب وہاں ان کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔
🌙🌙🌙🌙🌙
🌙🌙🌙🌙🌙
ہانیہ اور منساء دونوں پارلر میں تیار ہونے جاچکی تھیں ۔۔۔۔انکے ساتھ ماھی بھی تھی ۔۔۔زخرف کو گھر میں ہی تیار ہونا تھا ۔۔۔۔ اس لیے وہ پارلر نہیں گئی۔۔۔
شیردل نے ایک ہی رات میں بارات کا وینیو تبدیل کردیا تھا ۔۔۔
سب اس بات کو لے کر کافی حیران بھی تھے اور سوال بھی کر رہے تھے کہ راتوں رات ایسا کیا ہوا کہ شیردل نے بارات کے فنکشن کے لیے ہوٹل کی بجائے حویلی کے لان میں ہی سارے انتظامات کروا دئیے ۔۔۔مگر وہ فی الحال خاموش تھا اور سپاٹ انداز میں اپنے کام میں مگن تھا ۔سب ملازمین سے وہ ساری تیاریاں مکمل کروا چکا تھا ۔۔۔۔
ویسے بھی یہ حویلی کافی بڑی تھی اور اسکا لان بھی کافی وسیع تھا ۔۔۔خاندان کے مہندی کے بہت سے فنکشن لان میں کیے گئے تھے تو بارات کیوں نہیں ۔۔۔یہی سوچ کر اس نے اس حساب سے ہی سارے انتظامات کروائے ۔۔۔ شادی میں اس کے حلقہ احباب میں اور حسام ،ابتسام کے بھی ملنے والے بڑے بڑے بزنس مینز اور آفیسرز آرہے تھے ۔۔۔۔
"واؤ برو آپ نے کمال کردیا ۔۔۔لان کو بدل کر رکھ دیا ۔۔۔لگ ہی نہیں یہ ہمارا وہی لان ہے ۔۔۔اعیان بارات کے لیے تیار ہونے جانے سے پہلے لان میں آکر پرجوش آواز میں بولا ۔۔۔ جہاں شیردل انتظامات کروا رہا تھا ۔۔۔
"ہممم۔۔۔۔وہ فقط اتنا ہی بولا ۔۔
"کوئی ناراضگی ہے برو ؟؟؟
آپ مجھ سے بات نہیں کر رہے ٹھیک سے "
اعیان نے اسکے لیے دئیے انداز کو دیکھ کر پوچھا ۔
"اعیان کسی سے ملنا ہے نا تو دل سے ملو ۔۔۔
دل میں بغض رکھ کر چہرے پہ پیار کا جھوٹھا مکھوٹا چڑھا کر ملنے والے زہر لگتے ہیں مجھے ۔۔۔۔
"آج تمہارے لیے خوشی کا دن ہے۔جاکر انجوائے کرو ۔
میں تمہاری خوشیوں میں اپنی ناراضگی کی وجہ بتا کر تمہیں ڈس ہارٹ نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔
اس لیے اس بات کو یہیں دفن کردو ۔۔۔۔
"فاضی یہ لائٹ ٹھیک سے لگاؤ !!!
شیردل کہتے ہی لائٹس مین کی طرف متوجہ ہوگیا تو اعیان لاپرواہی سے شانے اچکا کر آگے بڑھ گیا ۔۔۔
" اگر تم اُس شادی سے انکار نہیں کرتے تو شاید آج سب مختلف ہوتا ۔۔۔
"نہیں میں کچھ زیادہ ہی سوچنے لگا ۔۔۔۔شاید یہ سب ہونا لکھا تھا ۔۔۔نہیں یہ بھی غلط ہے ،
"یہ میں کیا کیا سوچے چلا جارہا ہوں "؟
وہ خودی سے مخاطب ہوا ۔۔۔
پھر گہری سانس کھینچ کر لحظہ بھر کے لیے آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔
🌙🌙🌙🌙🌙
Don't forget to share your precious views my sweet friends ☺️
❤️
👍
😂
❣️
🌺
😮
🙏
🫀
34