مُعاشرے کی اِصلاح✅
February 13, 2025 at 02:08 AM
*ہارٹ اٹیک*
ہارٹ اٹیک کیا ہے کیوں ہوتا ہے، بظاہر صحت مند انسان کو کیسے معلوم ہو کہ وہ ہارٹ اٹیک کی طرف بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں اسکے مریض بڑھانے میں ڈاکٹرز کیسے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں
ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں ہر روز تقریبا 700 لوگ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں جس میں گزشتہ کچھ عرصہ سے نوجوان بھی شامل ہو گئے ہیں، عورتوں میں یہ ریشو کم تھی جو بڑھ رہی ہے
ہارٹ اٹیک یعنی دل پر حملہ کیا ہے اور کیسے ہوتا ہے
دل کا کام تمام جسم کو خون کی سپلائی دینا ہوتا ہے لیکن یہ کام کرنے کے لیے خود دل کو بھی خون کی سپلائی درکار ہوتی ہے جو تین بنیادی شریانیں جنہیں کورنری آرٹریز کہتے ہیں پہنچاتی ہیں،
غلط غذائیں کھانے ورزش نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے خون میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی مقدار بڑھنے لگتی ہے، ان دونوں کے ملاپ سے جسم میں کولیسٹرول کی ایک ذیلی شاخ ایل ڈی ایلLow density Lipoproteine بننا شروع ہو جاتا ہے جسے غلط یا غیر صحتمند کولیسٹرول بھی کہتے ہیں، وقت کے ساتھ یہ ایل ڈی ایل دل کو خون کی سپلائی دینے والی نالیوں میں میں جمنے لگتا ہے اور نالی کسی جگہ سے تنگ ہونے لگتی ہے کیونکہ نالی کے کسی مخصوص حصے کے اندرونی طرف اسکے جمنے سے پھولاو آنے لگتا ہے اور خون کی روانی کا راستہ کم ہونے لگتا ہے،
قدرت نے ان نالیوں کو اتنا کھلا بنایا ہے کہ مثلا دوڑتے ہوے انسان کا دل تیز کام کرنے لگتا ہے اور اس دوران اسے کتنی مقدار زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے ان نالیوں کی گنجائش اس سے ستر فیصد زیادہ ہوتی ہے لیکن اسکا مسلہ یہ ہوتا کہ وقت کے ساتھ ساتھ نالی کا راستہ تنگ ہوتا رہتا ہے لیکن انسان کو بھاگتے دوڑتے ورزش کرتے کام کرتے کوئی محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اسکے دل کو خون کی سپلائی مکمل جا رہی ہوتی ہے حتی کہ یہ نالی کسی ایک جگہ سے ستر اسی فیصد تک وقت کے ساتھ ساتھ بند ہوتے ہوتے ہو جاتی ہے لیکن انسان کو اسکا کوئی علم نہیں ہو پاتا کیونکہ دل کو خون کی سپلائی مکمل جا رہی ہے
اب اگر تو بلاکج اسی نوے فیصد ہوگئی اور دل کی مطلوبہ سپلائی ضرورت سے کم ہونے لگی تو جیسے ہی انسان تیز چلے گا یا ورزش کرے گا دل کو خون کی مطلوبہ مقدار نہیں ملے گی تو دل کے اس حصے میں آکسیجن کی کمی ہو گی جس سے اس حصے کے پٹھے تناؤ میں آئیں گے تو دل میں یا اسکے ملحقہ حصے جیسے کندھے گردن جبڑے یا کمر میں درد شروع ہو جاے گا جسے انجائنا کا درد کہتے ہیں، پھر جیسے ہیں انسان آرام کی پوزیشن میں آے گا دل کو کم سپلائی کی ضرورت ہو گی تو درد رک جاے گا،
اب سمجھتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک کیسے ہوتا ہے تو دل کو خون کی ترسیل میں جہاں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی وجہ سے پھاٹک بن رہا ہوتا ہے یہ پھاٹک جیسے جیسے بندش کی طرف آتا ہے تو خون کو یہاں سے پریشر کے ساتھ گزرنا پڑتا ہے اس پریشر کی وجہ سے نالی کے اس تنگ حصے کی اوپری جھلی رگڑ کھاتی رہتی ہے اور کمزور ہوتی رہتی ہے پھر ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ یہ نالی کی جھلی ایک دم پھٹ جاتی ہے اب جیسے ہی یہ پھٹتی ہے تو اس میں سے ایسا مادہ نکلتا ہے جو خون کو جما کر لوتھڑا بنا دیتا ہے اور خون کا راستہ سو فیصد بند ہو جاتا ہے اب یہ نالی آگے نالیوں میں تقسیم در تقسیم ہو رہی ہوتی ہے تو جہاں بھی بلاک ہوتا ہے یہ حصہ دل کے جتنے حصے کو سپلائی دے رہا تھا دل کا وہ حصہ مفلوج ہو جاتا ہے انسان کو سینے میں درد ہوتا ہے پسینہ آتا ہے اور متلی بھی آ سکتی ہے، اب یہ ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے اگر دل کے کم حصے کو خون کی سپلائی بند ہوئی ہے تو باقی دل کام کرتا رہتا ہے لیکن کمزور ہو جاتا ہے اور دوسری بار اٹیک ہو تو مزید حصہ مفلوج ہو جاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلا اٹیک ہی کسی مین شریان میں مسلے سے ہو اور دل کے بڑے حصے کو سپلائی بند اور اور فوری انسان کی موت ہو جاے،
اب یہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ سے بننے والا پھاٹک ایک دن یا ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں بنتا بلکہ یہ سالہا سال ان دونوں چیزوں کے خون میں زیادہ رہنے سے بنتا رہتا ہے یہ عمل دس بیس تیس پچاس سال پر محیط ہو سکتا ہے لیکن بد قسمتی سے نہ ہمیں کوئی تکلیف ہوتی ہے نہ ہم کبھی Lipid profile test لیب سے کرواتے ہیں جو ہزار پندرہ سو میں ہو جاتا ہے اور ہمیں خون میں غلط کولیسٹرول جسے LDL کہتے ہیں اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی مقدار کا علم ہوتا ہے، لیکن ہماری یہ نالی کی جھلی پچاس فیصد بندش پر بھی پھٹ سکتی ہے اور کبھی دل کی تکلیف بظاہر نہ ہونے کے باوجود بھی انسان ہارٹ اٹیک سے مر سکتا ہے، اور دبلے پتلے بظاہر صحتمند انسان کے ٹیسٹ بھی خطرے میں آ سکتے ہیں لیکن جنکا پیٹ بڑھا ہوا ہو انکے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں
اب آتے ہیں اگلی سٹیج پر کہ جب ہمیں انجائنہ کا درد ہوا یا کبھی سانس پھولنے لگی یا ہمیں بظاہر کچھ بھی نہیں ہم حفاظتی ٹیسٹ کرانے چلے گئے تو ڈاکٹر اکثر ہمارا ای سی جی کراتے ہیں جو ہم آرام دہ حالت میں لیٹ کر کرواتے ہیں جہاں ہمارے دل کو خون پہنچانے والی نالی اگر دس فیصد بھی خالی ہو نوے فیصد بلاک ہو تب بھی اوکے کی رپورٹ آے گی، مزید ڈاکٹر بہت زیادہ کریں تو چلنے یا دوڑنے والی مشین پر ہمیں تیز چلا کر یا تیز دوڑا کر ایک سی جی کریں گے جو اگر اسی نوے فیصد بلاکج ہو تو علم ہو جاے گا اگر ستر پچہتر فیصد بلاکج ہوئی بھی تو سپلائی پوری رہے گی اور علم نہیں ہو گا،
یا پھر ڈاکٹر این جی او گرافی کریں گے نالیوں میں ایک تار بھیجیں گے اس میں کیمرہ ہو گا جو آگر مطلوبہ نالیوں تک پہنچا تو بتا دے گا کہ بلاکج ہے، اب یہ عمل ڈاکٹر اس لیے کریں گے کہ اس کے لیے مریض کو ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے اور ان کو جیسے ہی بلاکج نظر آے گا یہ فوری طور پر مریض کو کہیں گے کہ شکر ہے آپ بر وقت پہنچ گئے آپ شدید خطرے میں ہیں آپ نے بیڈ سے نیچے ٹانگ لٹکانی بھی نہیں کروٹ بھی نہیں بدلنی آپکو فورا سٹنٹ ڈالا جاے گا ورنہ کسی بھی وقت اٹیک ہو سکتا ہے، اب سٹنٹ کی ٹوٹل قیمت حکومت کے ٹیکس ملا کے دس پندرہ ہزار بنتی ہے بیس پچیس ہزار فیس کا کر لیں لیکن یہ سٹنٹ کی ضرورت ہے یا نہیں دو چار لاکھ میں سٹنٹ لگا دیں گے، اب ان پرائیویٹ ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو بھی کوٹے ملے ہوتے ہیں کہ ماہانہ اتنے سٹنٹ لازمی ڈالنے ہیں،
حالانکہ انکے علم میں ہے کہ بلاکج چیک کرنے کا بہترین اور نسبتا سستا ٹیسٹ سٹی کارنری سکین ہے جس میں انجیکشن وین میں لگا کر پانچ سیکنڈ میں پانچ ایکسرے دل کے کرنے ہوتے جو پانچ منٹ کا کام ہے اور اگر کہیں دس فیصد بھی بلاکج ہو تو معلوم ہو جاتا ہے لیکن ڈاکٹروں کا مقصد کبھی نہیں ہوتا کہ بلاکج بننے سے پہلے مریض کی غذا درست کی جاے کہ بلاکج بڑھنے کی بجاے کم ہو،
اب آتے ہیں دوسری اہم بات کی طرف کہ کولیسٹرول کو تو سب جانتے ہیں ایک ڈی ایل کو بھی جو جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک سے بڑھتا ہے جیسے دودھ انڈہ گوشت وغیرہ لیکن ٹرائی گلیسرائیڈ پر کوئی بات نہیں کرتا جو تیل گھی میں سو فیصد ہوتا ہے اور کولیسٹرول کے برابر نقصان دیتا ہے یہ جو کمپنیوں والے لکھتے ہیں کہ ہمارا تیل کولیسٹرول فری ہے وغیرہ جب تیلدار اجناس میں کولیسٹرول ہوتا ہی نہیں تو گھی میں کہاں سے آے گا ان میں تو گلیسرائیڈ ہوتا ہے جسکی مقدار تمام قسم کے تیلوں اور گھی میں دو تین فیصد فرق کے ساتھ بھر پور موجود ہے اور نہ ڈاکٹر اس پر بات کرتے ہیں اور نہ ایچ ڈی ایل مطلب صحتمند کولیسٹرول پر بات کرتے جو کسی غذا میں نہیں ہوتا یہ جسم تیز واک ورزش سٹریس نہ لینے سے خود بناتا ہے یا سلاد سبزیوں سے بنتا ہے۔ اگر آپکی عمر پینتیس سال سے زیادہ ہے تو ایک دفعہ کولیسٹرول و ٹرائیگلیسرائیڈ کی ریشو جاننے کے لیے Lipid profile test لازمی کرائیں اور ریشو زیادہ ہو تو بلاکج کی صحیع شرح جاننے کے لیے سٹی کارنری سکین ٹیسٹ کرائیں روزانہ تیس منٹ تیز چلیں خوش رہیں تمباکو نوشی سےنپرہیز سلاد سبزیوں پھلوں کا زیادہ استعمال کریں۔
ان بنیادی معلومات کا علم ہر انسان کو ہونا چاہیے اور بنیادی ٹیسٹ سب کو کرانے چاہییں سادہ غذا ورزش پر مکمل پابندی بیکری آئیٹمز سگرٹ نوشی مسلسل بیٹھنا سٹریس سے مکمل بچنا ضروری ہے۔
❤️
👍
👌
6