انوارِ عالم
February 22, 2025 at 01:47 PM
::::::: *سلطان ایوبی کی دودھ اور شکر ملا پانی دینے والی ٹونٹی* ::::::::
_____`ٹونٹی کو حنفی مذہب کی وجہ سے حنفیہ کیوں کہا جاتا ھے`____
#اسلامی_سائنس 12
آج سے تقریبا ایک ہزار سال پہلے *عروس البلاد* {شہروں کی دولہن}بغداد شہر میں ایک `ایسی ٹونٹی پائی جاتی تھی`
`جسے دائیں طرف گھمانے سے گرم پانی اور بائیں طرف گھمانے سے ٹھنڈا پانی نکلتا تھا`
مگر یہ بات ہمارے نوجوانوں کو معلوم نہیں بلکہ سادہ ٹونٹی کی ایجاد بھی غیر مسلم *تھامس کے کھاتے میں ڈالتے ہیں*
جس نے 1880 میں ٹونٹی دنیا میں متعارف کروائی,
حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ اور اسلامی سائنس سے چوری شدہ ایجاد کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی مذموم کوشش ہے
*امام ابن جوزی* نے المنتظم فی تاریخ الملوک والامم میں لکھا
*علی ابن افلح* شاعر سے خلیفہ وقت کسی بات پر ناراض ہوگیا,
تو خلیفہ نے اس کا گھر گرانے کا حکم دیا
اور جب علی بن افلح کا گھر گرایا گیا, اس میں ایک عجیب و غریب حمام ظاہر ہوا جس میں ایک ٹونٹی تھی جسے دائیں طرف گھماتے تو گرم پانی بائیں طرف گھماتے تو ٹھنڈا پانی نکلتا تھا
*علی بن افلح نے یہ حمام بیس ہزار سونے کے سکے خرچ کر کے بنایا تھا*
امام ابن جوزی کہتے ہیں اس گھر کو توڑے جانے کے بعد دیکھا تھا
ابن افلح کا انتقال 535ھجری میں ہوا تھا
اسی طرح *بدیع الزماں الجزری* نے آٹومیٹک پانی والی موٹر ایجاد کی تھی جو کنوؤں سے اور گہرائی سے پانی اٹھاتی تھی
`یعنی کہ جدید دور کی سہولیات میں اصل کردار مسلمانوں کا ہے`
*آج گھر گھر موٹر ہے اور ٹونٹی کا استعمال ہے تو یہ مسلمانوں کا دنیا پر احسان ہے*
اگرچہ نوجوان مسلمانوں کو اس کا علم نہیں ہے اور نوجوان غیروں کے سامنے احساس کمتری کے شکار ہیں!
سلطان صلاح الدین ایوبی نے جہاں جہاد کا عَلَم بلند رکھا وہاں فقراء و مساکین کے لیئے وقف کے بھی عظیم منصوبے اپنائے
*سلطان ایوبی کے بارے من روائع حضارتنا میں ہے*
`جعل في أحد أبواب القلعة الباقية حتى الآن في دمشق ميزابًا يسيل منه الحليب وميزابًا آخر يسيل منه الماء المذاب فيه السكر تأتي إليه الأمهات يومين في كل أسبوع ليأخذن لأطفالهن وأولادهن ما يحتاجون إليه من الحليب والسكر`
سلطان صلاح الدین ایوبی کے اوقاف میں سے ایک شے آج بھی دمشق کے قلعہ میں باقی ہے
*ایک پرنالہ جس سے دودھ بہتا تھا دوسرا پرنالہ جس سے شکر ملا پانی بہتا تھا*
ہر ہفتے مائیں دو بار آتی تھیں اور اپنے بچوں کے لیئے دودھ و شکر کی جتنی حاجت ہوتی وہ لے جاتی تھیں
یہاں میزاب کا لفظ استعمال ہوا جس کا عام معنی پرنالہ ہے جو چھت پر بارش کا پانی بہانے کے لیے لگایا جاتا ہے
مگر یہ معنی عقل میں نہیں آتا کہ چھت پر دودھ اور شکر ملا پانی بہایا جاتا ہو پھر وہ خواتین جمع کرتی ہوں
یوں نہ دودھ خراب ہونے سے بچے گا نہ شکر ملا پانی صاف رہے گا
`شاید اس دور میں ایم خاص قسم کی ٹونٹی ہوگی جسے کھول کر خواتین بقدر حاجت دودھ اور میٹھا پانی لے جاتی تھیں`
عربی میں ٹونٹی کو *صنبور الحنفیہ* یا صرف *حنفیہ* کہتے ہیں!
اس کی بھی ایک دلچسپ وجہ ہے!
مصر پر برطانیہ کے قبضے کے بعد 1884 برطانوی حکومت نے محکمہ اوقاف کے تحت املاک مساجد و مدارس میں ٹونٹیاں لگانے کا فیصلہ کیا تو مسلمان جو اپنے عظیم ماضی کو بھول چکے تھے اس نئی ایجاد کو مساجد میں لگانے پر متذبدب ہوگئے!
مسلمانوں کے چار عظیم فقہی مذاھب میں سے شافعیہ,مالکیہ, حنبلیہ نے اس نئی چیز کو مساجد میں لگانا بدعت قرار دے دیا
`جبکہ احناف علماء نے دفع مشقت اور جلب تیسیر کی طرف نگاہ کرتے ہوئے اس کے جواز کا فتویٰ دیا`
تو اس نسبت سے اس وقت تو اس کو صنبور الحنفیہ کہا جانے لگا پھر آہستہ آہستہ صرف حنفیہ رہ گیا!
*ایک قول کے مطابق* مصر کے حاکم محمد علی الکبیر نے اپنے نام سے مسجد محمد علی تعمیر کروائی تو اس میں ٹونٹیاں لگانے کی بابت فتویٰ طلب کیا تو تینوں مذاہب کے علماء یعنی شافعی,مالکی, حنبلی نے فرمایا کہ اسلاف سے اسکی کوئی دلیل نہیں ملتی لہذا کہ بدعت ہے,
مگر حنفی علماء فتویٰ دیا اس میں عوام کے لیئے آسانی ہے تو جائز ہے تب سے اب تک اھل عرب حنفیہ نام سے یاد کرتے ہیں!
*ایک روایت یہ بھی ملتی ہے* کہ جب ٹونٹیوں کا دور شروع ہوا تو پانی بھر کر لانے والے سقایوں نے سوچا اب ہمارا کام ختم ہوجائے گا
کیونکہ دریا اور کنویں سے پانی لانے سے اجرت ملتی تھی اب ختم ہو جائے گی
تو انہوں نے چاروں مذاہب کے ائمہ سے فتوی طلب کیا کہ یہ نئی چیز ہے جو مساجد میں نصب کی جائے گی اس کو بدعت قرار دیا جائے
تینوں مذاہب کے علماء نے اسکو بدعت کہا مگر احناف علماء کی باریک بینی نے اسکو نہ صرف جائز بلکہ مستحب قرار دیا کہ اس میں مسلمانوں کے لیئے آسانی ہے
لہذا مستحب ہے تب سے اب تک بلاد عرب میں ٹونٹی کو حنفیہ کہا جاتا ھے!
بہر حال احناف علماء کی باریک بینی کا آج زمانہ معترف ھے ورنہ اس جدید دور میں مسلمان مشکل میں پڑ جاتے!
*یہ ساری پریشانی اس وجہ سے کھڑی ہوئی کہ مسلمانوں کو اپنے روشن ماضی کی خبر نہیں تھی* اگر وہ کما حقہ جانتے تو ان پر واضح ہوتا کہ ایک ہزار پہلے بھی مسلمانوں کے پاس ایسی بلکہ اس سے بہترین ٹیکنالوجی موجود تھی
ماضی کی خبر مستقبل تعمیر کرنے میں معاون ہوتی ہے!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
❤️
👍
🌹
😮
♥️
💚
✅
✨
👑
💓
104