"Bazm-e-Ishq Ahlbayt"
January 31, 2025 at 07:39 AM
*عقیلہء بنی ھاشم سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی آمد مبارک ھو۔*
_(زینب کے معنی باپ کی زینت اور فارسی میں زینب کا مطلب ھے کہ اپنے باپ کی سیرت و کردار کا کامل نمونہ-)_
آپ سلام اللہ تعالیٰ علیہا کی ولادتِ پاک۔ ظہور۔ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ ظاھریہ میں ھوا۔ اور زینب نام بھی
*سیدالعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم*
نے ھی رکھا۔
یہ وہ خوش بخت سیدہ ھیں جن کے
*بابا سیدالاولیاء*
*والدہ سیدةالنساءالعالمين*
*بھائی سید شبابِ اہل الجنہ ھیں۔*
اور خود
نورِ عین پیغمبر،
آبروئے دینِ رسول،
راحتِ قلبِ حیدر،
وارثِ فصاحت و بلاغتِ صفدر،
بحرِ عفت و عصمت،
اخترِ برجِ شرافت و طہارت،
آسمانِ عزت و عظمت،
عکسِ جمیلِ خاتونِ جنت،
جو کہ شریکتہ الحسنین کے نام سے ھر مقام کے امتحان میں سرخرو ھوئیں۔ اور یزید کے دربار سے ھمیشہ کے لئے منصب و جاہ و جلال چھین کر اندھیروں کی پستی میں غرق کر کے قیامت تک کے لئے صدائے حق بلند کرنے والوں کے لئے مشعلِ راہ بن گئیں۔
یہ وھی سیدہ طیبہ زینب سلام اللہ علیہا ھیں۔ جن کے پھولوں کے پاکیزہ خون کی سرخی چہرہء اسلام کا غازہ بن گئی۔ جنہوں نے عورت کو سماجی پستیوں سے اٹھا کر عزت کی بلندیوں پر پہنچایا۔
یہ وھی سیدہ ھیں جنہوں نے خاتونِ جنت سلام اللہ علیہا کی سخاوت و عنایت اور فقر و رضا جرآت و مرتبت ایثار و شرافت کو جاری و ساری رکھا۔
یہ وہ عصمت مآب خاتون ھیں۔ جو مخدرات خانہ رسول کی بوقت مصائب امید و آسرا تھیں۔
اس بقعہ نور کے نوری کردار کو کربلائی تاریخ اور خدمتِ اسلام کو تاریخِ انسانی اگر چاھے بھی تو فراموش نہیں کر سکتی۔ کربلا کی زمین ھو یا کوفہ کا بازار، عسقلان کی گلیاں ھوں یا دمشق کا زندان مخدومہ زینب سلام اللہ علیہا کی ھر مستورہ کا کردار عظیم ھے۔ مگر ان سب کرداروں کا مرکزی نقطہ خاتونِ کربلا و فاتحِ دربارِ دمشق زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا ھی ھیں۔
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا جب کبھی وجہِ تخلیق کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ھوتیں۔ تو نقشہ کچھ یوں ھوتا کہ آپ کے دائیں طرف
سیدنا امام حسن علیہ السلام۔ بائیں جانب سیدنا امام حسین علیہ السلام اور آگے امیر المؤمنین مولائے کائنات علی علیہ السّلام ھوتے اور جب روضہ اقدس پر پہنچتے۔ تو مولا علی علیہ السلام قندیلیں بجھا دیتے ایک مرتبہ مولا حسین علیہ السّلام کے قندیلوں کو بجھا دینے کی وجہ پوچھنے پر مولا علی علیہ السّلام نے جواباً ارشاد فرمایا۔ کہ میرے بیٹے مجھے اس بات کا خدشہ ھے کہ کہیں کوئی غیر میری بیٹی کو نہ دیکھ لے۔
حافظ خزیمہ اسدی کتاب البیان المبین میں روایت کرتے ھیں کہ میں حضرت سیدنا امام حسین علیہ السّلام کی شہادت کے بعد کوفہ گیا۔ تو سیدہ زینب سلام اللہ علیہا سے بہتر خطاب کرنے والا کسی کو نہ پایا،۔ معلوم ھوتا تھا کہ گویا علی المرتضیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک تھی جو دھنِ زینب سلام اللہ علیہا سے بول رھی تھی۔
*اسے گرانا تھا خطبوں سے شام کا خیبر*
*علی کےلہجےمیں کیونکر نہ بولتی زینب*
مقامِ عقیلہ بنی ھاشم زینب سلام اللہ علیہا وراءالورا ھے جسکا احاطہ کرنا انتہائی مشکل ھے، اور خاص کر میرے جیسے ناقص کے بس کی بات تو بالکل نہیں،
بس اپنی بخشش کی غرض سے سیدہ سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں حاضر ھونے کا شرف حاصل کرنے کی کوشش کی ھے۔
اللہ تعالیٰ ھمیں عظمت والی ھستیوں کے بابرکت وسیلے سے دنیا و آخرت میں سرخرو فرمائے
*آمین، ثم آمین۔یارب العالمین۔*
*۔=================*
🌼 *گداۓ درِ پنجتن پاک* 🌼
🪶 *السیّد محمد صفدر نواز نقوی ترمذی (شبنمی)*