"Bazm-e-Ishq Ahlbayt"
"Bazm-e-Ishq Ahlbayt"
February 12, 2025 at 06:43 AM
شبِ برأت اور صحابہ کرام کے معمولات شبِ برأت ایک انتہائی فضیلت و بزرگی والی رات ہے۔ اس رات کے متعلق تقریباً دس جلیل القدر صحابۂ کرام: (1) حضرت ابوبکر، (2) حضرت علی المرتضیٰ، (3) حضرت عائشہ صدیقہ، (4) حضرت معاذ بن جبل، (5) حضرت ابوہریرہ، (6) حضرت عوف بن مالک، (7) حضرت ابو موسیٰ اشعری، (8) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص، (9) حضرت ابو ثعلبہ الخشنی، (10) حضرت عثمان بن ابی العاص سے مروی احادیث مبارکہ ہیں۔ ذیل میں شبِ برأت کے حوالے سے چند ایک صحابہ کرام کے اقوال اور ان کے معمولات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: يُعْجِبُنِي أَنْ يُفَرِّغَ الرَّجُلُ نَفْسَهُ فِي أَرْبَعِ لَيَالٍ: لَيْلَةُ الْفِطْرِ، وَلَيْلَةُ الأَضْحٰی، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ. (ابن جوزی، التبصرة، 2/ 21) ’’مجھے یہ بات پسند ہے کہ ان چار راتوں میں آدمی خود کو (تمام دنیاوی مصروفیات سے عبادت الٰہی کے لیے) فارغ رکھے۔ (وہ چار راتیں یہ ہیں:) عید الفطر کی رات، عید الاضحی کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور رجب کی پہلی رات۔‘‘ حضرت طاؤوس یمانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پندرہ شعبان کی رات اور اس میں عمل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’میں اس رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں: ایک حصے میں اپنے نانا جان ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود شریف پڑھتا ہوں دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کرتا ہوں اور تیسرے حصے میں نماز پڑھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: جو شخص یہ عمل کرے اس کے لیے کیا ثواب ہوگا۔ آپ نے فرمایا: میں نے حضرت علی g سے سنا اور انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے مقربین لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (سخاوی، القول البديع، باب الصلاة عليه فی شعبان: 207) حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خَمْسُ لَيَالٍ لَا يُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءُ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَةُ الْعِيْدِ وَلَيْلَةُ النَّحْرِ. (بيهقی، شعب الايمان، 3/ 342) ’’پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں ہوتی: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس رات میں ایک سال سے دوسرے سال تک دنیا کے معاملات کی تقسیم کی جاتی ہے۔‘‘ (طبری، جامع البيان، 25/ 109) حضور غوث الاعظم کا فرمان مبارک شب برأت فیصلے، قضا، قہر و رضا، قبول و ردّ، نزدیکی و دوری، سعادت و شقاوت اور پرہیزگاری کی رات ہے۔ کوئی شخص اس میں نیک بختی حاصل کرتا ہے اور کوئی مردود ہو جاتا ہے، ایک ثواب پاتا ہے اور دوسرا ذلیل ہوتا ہے۔ ایک معزز و مکرم ہوتا ہے اور دوسرا محروم رہتا ہے۔ ایک کو اجر دیا جاتا ہے جب کہ دوسرے کو محروم کر دیا جاتا ہے۔ کتنے ہی لوگوں کا کفن دھویا جا رہا ہے اور وہ بازاروں میں مشغول ہیں! کتنی قبریں کھودی جا رہی ہیں لیکن قبر میں دفن ہونے والا اپنی بے خبری کے باعث خوشی اور غرور میں ڈوبا ہوا ہے! کتنے ہی چہرے کھلکھلا رہے ہیں حالانکہ وہ ہلاکت کے قریب ہیں! کتنے مکانوں کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے لیکن ان کا مالک موت کے قریب پہنچ چکا ہے کتنے ہی بندے رحمت کے امیدوار ہیں پس انہیں عذاب پہنچتا ہے! کتنے ہی بندے خوشخبری کی اُمید رکھتے ہیں پس وہ خسارہ پاتے ہیں! کتنے ہی بندوں کو جنت کی امید ہوتی ہے پھر ان کو دوزخ میں جانا پڑتا ہے! کتنے ہی بندے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے امیدوار ہوتے ہیں لیکن وہ جدائی کا شکار ہوتے ہیں! کتنے ہی لوگوں کو عطائے خداوندی کی امید ہوتی ہے لیکن وہ مصائب کا منہ دیکھتے ہیں، اور کتنے ہی لوگوں کو بادشاہی کی اُمید ہوتی ہے لیکن وہ ہلاک ہوتے ہیں! (غنیۃ الطالبین) خلاصۂ کلام قارئینِ کرام! شبِ برأت پر اتنی کثیر تعداد میں مروی احادیث، تعاملِ صحابہ و تابعین اور تبع تابعین و ائمہ سلف صرف اس لیے نہیں ہیں کہ کوئی بھی بندہ فقط ان کا مطالعہ کر کے یا مطالعہ کے بغیر ہی انہیں قصے، کہانیاں سمجھتے ہوئے صرفِ نظر کردے بلکہ ان کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے مولا خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے تعلق کو پھر سے اُستوار کرے جو کہ اس رات اور اس جیسی دیگر روحانی راتوں میں عبادت سے باسہولت میسر ہو سکتا ہے۔ اِن بابرکت راتوں میں رحمتِ الٰہی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے اور اپنے گناہ گار بندوں کی بخشش و مغفرت کے لیے بے قرار ہوتی ہے، لہٰذا اس رات میں قیام کرنا، کثرت سے تلاوتِ قرآن، ذکر، عبادت اور دعا کرنا مستحب ہے اور یہ اَعمال احادیثِ مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہیں۔ اس لیے جو شخص بھی اس شب کو یا اس میں عبادت کو بدعتِ ضلالۃ کہتا ہے وہ درحقیقت احادیثِ صحیحہ اور اعمالِ سلف صالحین کا منکر ہے اور فقط ہوائے نفس کی اتباع اور اطاعت میں مشغول ہے۔ یہ اَمر بھی قابلِ غور ہے کہ جو عمل خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام l سے ثابت ہو، تابعین، اتباع تابعین اور اسلاف امت اس پر شروع سے ہی عمل پیرا رہے ہوں، فقہائے کرام جسے مستحب قرار دیتے ہوں، کیا وہ عمل بدعت ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا عمل بھی بدعت ہے تو پھر سنت و مستحب عمل کون سا ہوگا؟ شبِ برأت میں عبادت کیسے کی جائے؟ اس رات اکیلے عبادت کرنا اور اجتماعی طور پر عبادت کرنا دونوں ہی طریقے ائمہ سے ثابت ہیں۔ اس رات جاگنا، عبادت کرنا چونکہ مستحب عمل ہے، لہٰذا ہماری رائے کے مطابق اسے انسانی طبیعت اور مزاج پر چھوڑنا چاہیے، جس طریقہ میں کسی کی طبیعت اور مزاج کیف و سرور اور روحانی حلاوت محسوس کرے اسے چاہیے کہ وہ وہی طریقہ اختیار کرے۔ کیوں کہ اس رات کا اصل مقصود تزکیہ و تصفیہ قلب ہے۔ سو جسے جس طریقہ میں حلاوت ایمانی نصیب ہو اسے اسی پر عمل کر لینا چاہیے۔ بعض لوگوں کی طبیعت خلوت پسند ہوتی ہے اور انہیں تنہائی میں عبادت اور گریہ زاری کرنے سے حلاوت و سکون اور ذہنی یکسوئی ملتی ہے، سو وہ اس طریقہ کو اختیار کرلیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس کے برعکس بعض لوگ اجتماعی طور پر عبادت کرنے میں زیادہ آسانی اور راحت محسوس کرتے ہیں، لہٰذا ان کے لیے اس طریقے پر عمل کرنے میں رخصت ہونی چاہیے کیوں کہ یہ عمل بھی ائمہ سے ثابت ہے۔ بلکہ آج کا دور چونکہ سہل پسندی اور دینی تعلیمات سے بے راہ روی کا دور ہے، اس دور میں وہ لوگ بھی کم ہیںکہ جن کے گھر اور راتیں قیام اللیل کے نور سے جگمگاتی ہیں۔ اور طبیعتوں میں اتنی مستقل مزاجی بھی نہیں رہی کہ لوگ گھروں میں رات بھر جاگ کر چستی و مستعدی سے عبادت و اذکار ادا کر سکیں۔ تنہائی میں کچھ دیر عبادت سے ہی سستی اور نیند کے ہتھیار کے ذریعے شیطان لعین ان پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ لہٰذا اگر اجتماعی عبادت سے لوگوں میں دین سے رغبت اور عبادت میں مستعدی پیدا ہوتی ہے تو ان کے لیے اجتماعی طور پر عبادت کرنا مستحسن عمل ہے۔ اجتماعی طور پر عبادت کرنے میں تعلیم و تربیت کا عمل بھی پایا جاتا ہے۔ دینی تعلیمات اور نوافل و اذکار کی ادائیگی سے بے بہرہ لوگ بھی آسانی سے اجتماعی عمل میں شریک ہوکر اپنی عبادات کی ادائیگی کرلیتے ہیں اور جو چیزیں معلوم نہیں ہوتیں وہ جان لیتے ہیں۔ اس اَمر کا خیال رہے کہ اجتماعی عبادات کسی عالم باعمل کی زیر تربیت و نگرانی ہونی چاہیے،جو لوگوں کی فکری اور روحانی ہر دو حوالوں سے تربیت و اصلاح بھی کر سکے۔ #منہاج_العلم #دارُالمخلصین

Comments