PSM™Official ©®
January 31, 2025 at 03:43 AM
ایک گہرے غم کا دروازہ، میری مرضی کے بغیر، کھل چکا ہے۔
آج میں رو رہی ہوں، اور بے اختیار رو رہی ہوں!
مدتوں بعد، میں نے ایسا رونا رویا ہے!
ہاں، میں سید الرجال پر رو رہی ہوں،
اس سرزمین کے سردار پر، جو اسے خوب پہچانتی ہے،
جسے اس نے اپنی آغوش میں ایک لازوال راز کی طرح سنبھال رکھا ہے،
زندہ بھی، شہید بھی، اور پھر بھی زندہ…
کہ شہداء کبھی مرتے نہیں!
آج، جب میری آنکھیں آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی ہیں
اور دل شدید درد سے ٹوٹ رہا ہے،
میرے ذہن میں ایک سوال آیا…
جب صحابۂ کرامؓ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کے وصال کی خبر سنی،
تو ان پر کیا بیتی ہوگی؟
یقیناً کوئی بھی ان جیسا نہیں،
مگر اپنے ملک کے سردار کو کھونے کا دکھ بھی بہت سنگین ہے!
میں جانتی تھی کہ یہ وقت آئے گا،
ہر بہادر گھوڑے سے اترتا ہے،
ہر سفر کا ایک اختتام ہوتا ہے،
لیکن یہ اختتام بھی ایک نئی زندگی کا آغاز ہے!
یا تو ایسی زندگی جو دشمنوں کو غصے سے پاگل کر دے،
یا وہ دائمی زندگی جو دوستوں کے دلوں کو خوش کر دے
اور دشمنوں کو مزید جلائے!
مجھے حضرت عمرؓ کا وہ لمحہ یاد آ رہا ہے
جب وہ شدت غم سے نبی کریم ﷺ کی وفات پر شک کر بیٹھے تھے،
اور تب حضرت ابوبکرؓ نے دلوں کو ہلا دینے والے الفاظ کہے:
"جو محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا، تو محمدﷺ وفات پا چکے،
اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے، وہ کبھی نہیں مرے گا!"
اور میں زار و قطار رو پڑی!
یہ رونا کسی شکایت یا اعتراض کا نہیں،
بلکہ امت کے محبوب نبی ﷺ کی جدائی کا،
اور امت کے عظیم مہمان، اس سائے والے محافظ، محمد الضیف کی جدائی کا ہے!
لیکن وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے،
اپنی گونجتی آواز، اپنی بے مثال قربانی،
اور اپنی دائمی بہادری کے ساتھ…
ان کے نشانِ قدم ہمیشہ باقی رہیں گے!
*اللہ ان پر اپنی رحمت نازل کرے، اور جنت کے اعلیٰ ترین مقامات پر جگہ دے*
✍️ رائٹر:
سمیہ علی غزہ
✍️ اردو ترجمہ و ترتیب :
اسماعیل سعد