ناصرالدین مظاہری
February 14, 2025 at 08:42 AM
سنو سنو!!
اناؤنسروں کی بے اعتدالیاں
(ناصرالدین مظاہری)
*ایک صاحب کے پاس نہایت ہی کمزور ، مریل قسم کا گھوڑا تھا جو نہ تو اپنے مالک کو اپنی پشت پر لاد سکتا تھا نہ ہی کسی کام کا تھا ۔ مالک نے ہر چند بیچنے کی کوشش کی مگر کسی نے نہیں خریدا۔ پریشان ہوکر اپنے احباب و متعلقین سے مشورہ کیا تو ان لوگوں نےکسی دلال سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ دلال ہی تمہارا گھوڑا فروخت کرسکتا ہے۔ اس نے دلال سے بات کی۔دلال نے پوری بات سنی، گھوڑا دیکھا اور قیمت پوچھی ،مالک نے کہا کہ میں پانچ سو روپے میں بیچنا چاہتا ہوں۔دلال نے کہا سو روپے میری اجرت رہے گی۔* *مالک مان گیا ، دلال نے کہا کہ فلاں وقت اپنا گھوڑا بازار لے آنا اور ہاں جب میں گراہک سے بات کروں تو تم خاموش رہنا تمہیں تمہاری رقم مل جائے گی ، گھوڑا فروخت ہو جائے گا۔مالک نے یہ بات بھی مان لی۔*
*وقت مقررہ پر گھوڑا بازار پہنچایا گیا ، دلال نے اپنے خاص لب ولہجہ میں پکار لگائی کہ " لے لو لے لو براق لے لو" لوگوں نے کہا کہ ارے جناب ! یہ تو مریل قسم کا کمزور گھوڑا ہے اس کو براق کیوں کہہ رہے ہو۔دلال بولا کہ اس کے ظاہر پر مت جاؤ اس کی خوبیاں سنو ! یہ مالک کے اشاروں پر ناچتا ہے ، یہ اپنے مالک کو خطروں میں نہیں ڈالتا ہے ، خطرات کی بو سونگھ لیتا ہے، جتنا دانہ پانی مالک دیدے کھالیتا ہے ، قناعت پسندی اس کی عادت ہے ، وفا کوٹ کوٹ کر بھری ہے،جب یہ چلتا ہے تو مالک کو نشیب و فراز کے جھٹکوں سے بچاتا ہے۔چلتا ہے تو لگتا ہے ہوا کے دوش پر اڑا جارہا ہے۔*
*خریدار نے گھوڑے کی اتنی تعریف سنی تو خریدنے پر راضی ہوگیا ،طے شدہ قیمت دینے لگا تو مالک بول پڑا کہ رکو رکو میں اپنا گھوڑا نہیں بیچوں گا۔دلال نے حیرانی کے ساتھ پوچھا کیوں کیا ہوا؟*
*مالک بولا کہ مجھے اپنے گھوڑے کی خوبیوں کا پتہ ہی نہیں تھا۔*
یہی حال آج کل کے جلسوں میں اناؤنسر حضرات کا ہے ہر مقرر کی شان میں ایسے ایسے القاب اور مبالغہ آمیز جملے بولتے ہیں کہ مقرر کو اپنے بارے میں خوش فہمی ہوجاتی ہے کہ اوہو مجھے اپنے کمالات کا علم ہی نہیں تھا۔
بہت سے اناؤنسر ایران توران کی باتیں کرتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں جھوٹی تعریفیں کرکے خود گنہ گار ہوتے ہیں اور مجمع کو دھوکہ دیتے ہیں۔ہر مولوی مفتی ہوجاتا ہے ، ہر مفتی کو صاحب نسبت بزرگ ثابت کیا جاتا ہے، خلافتوں کی دھاک عوام کے دلوں پر بٹھائی اور جمائی جاتی ہے، زمین کو آسمان اور آسمان کو زمین بناکر پیش کیا جاتا ہے یہی نہیں جہاں تک ممکن ہوتا ہے اپنے القاب استعمال کرتے ہیں کم پڑجاتے ہیں تو بریلویوں کے یہاں سے تلاش کر لاتے ہیں۔
کیا یہ شرعا جائز ہے کہ آپ ایسی بات اپنی زبان سے نکالیں جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے ، کیا یہ بات آپ کو زیبا دیتی ہے کہ ہزاروں کے مجمع میں جھوٹ کو رواج دیں؟ کیا اس کی گنجائش ہے کہ آپ اپنی چرب زبانی اور چکنی چپڑی باتوں سے کسی کو بھی استاذ حدیث وتفسیر بنادیں۔؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ
إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِى وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ"(ٍٍصحیح مسلم)
کہ جب تم کسی تعریف کرنے والے کو تعریف کرتا ہوا پاؤ تو اس کے چہرے پر مٹی جھونک دو۔
اور ایک جگہ فرمایا کہ تم ایک دوسرے کی تعریف اس کے منہ پر کرنے سے بچو کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا اس کو ذبح کرنا ہے۔(ابن ماجہ)
اب تو سنا ہے باقاعدہ اناؤنسر حضرات کو مامور کیا جاتا ہے کہ میری تعریف میں فلاں فلاں چیزیں ضرور بتانا، میری خدمات پر روشنی ضرور ڈالنا ، اگر تم نے میری تعریف اور قصیدہ خوانی دل کھول کر کی تو میں تمہیں جگہ جگہ اناؤنسری کے مواقع فراہم کروں گا۔اور بے چارہ اناؤنسر اس "کھلاڑی" کے اس لالچ ،آفر اور پیشکش کو اپنے لئے "ترقی" کے مواقع سمجھ کر دو ہاتھ آگے بڑھ کر جھوٹی تعریف اور مبالغہ آمیزی کرکے مقرر صاحب کے نفس کو خوش کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
کیا یہ دھوکہ بازی کسی بھی طرح جائز ہے کیا یہ سسٹم بیوپار نہیں بنتا جارہا ہے؟
میں نے انڈیا اسلامک کلچر سینٹر اور جمعیۃ علمائے ہند کے بہت سے پروگراموں میں شرکت کی ہے وہاں خطیب کا بس نام اور عہدہ لے کر بلایا جاتا ہے اور یہی کافی ہے۔کیا مہتمم دارالعلوم دیوبند یا مہتمم مظاہرعلوم سہارنپور کسی مزید القاب وتعارف کا محتاج ہوتا ہے کہ اس کی نسبتیں بھی بتائی جائیں اس کی خدمتیں بھی گنائی جائیں مالہ و ماعلیہ کا نقشہ کھینچا جائے۔
مقرر کا نام اور زیادہ سے زیادہ اس کا درست عہدہ یا مشغلہ بتاکر مائک کو مقرر کے حوالہ کردیا جائے۔بس
(پندرہ شعبان المعظم چودہ سو چھیالیس ھجری)
❤️
👍
💖
7