THE IDEAL MUSLIM OFFICIAL
February 20, 2025 at 04:28 AM
طالب علم بہت سارے گناہوں سے صرف اس لیے دُور رہتا ہے کہ میرا نور مجھ سے چھن نہ جائے۔ بسا اوقات ایک حرام نظر طويل عرصہ تک دل کو تاریک کر دیتی ہے۔ دل تعلق باللہ کی حلاوت سے شناسا ہونے کے باوجود کوئی تحریک نہیں پاتا، فالج زدہ ہو جاتا ہے، اسے گرہن لگ جاتا ہے۔
بعض دفعہ ہنسی مذاق اور قہقہوں کی مجلس طویل ہو جائے تو بیٹھے بیٹھے دل ٹھک سے بند ہو جاتا ہے۔ جیسے ہوا کے تیز جھونکے سے چراغ بجھتا ہے۔ پوری نیت کے ساتھ ذکر و تلاوت کے ذریعے اس کو پھر سے روشن نہ کیا جائے تو وہ بند ہی رہ جاتا ہے۔
طالب علم کو چاہیے کہ ہر وقت فکرمند رہے کہ کہیں میرا نور مجھ سے چھن نہ جائے۔ اس فکر کو روگ بنا لے۔ لامحالہ اسے بہت سے مشاغل ترک کرنے پڑیں گے، کئی صحبتوں کو خیر آباد کہنا پڑے گا، کئی رویوں پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ پھر شاید وہ سلف اوائل کی اس بات کا کچھ مصداق بن جائے کہ : ہم میں سے جب کوئی علم حاصل کرتا تھا تو وہ علم اس کی چال ڈھال میں نظر آ جاتا تھا۔“🍂🌴
يا نور السماوات والأرض، أتمم لنا نورنا واغفر لنا!
*(شیخ فیضان فیصل کی وال سے)*
❤️
👍
🤲
8