✍️علمی مضامین وارشاداتِ اکابر 📚
February 12, 2025 at 06:56 PM
*`جامعہ ڈابھیل کے سالانہ جلسے سے قوم کے ذمہ داروں کے نام اہم پیغام`*
جامعہ ڈابھیل کے حالیہ جلسے میں استاد الاساتذہ، جامعہ کے صدر مفتی عباس صاحب نے امت مسلمہ اور ذمہ داران کو جھنجھوڑتے ہوئے ائمہ کرام کی مظلومیت اور مساجد کے متولیان کی ناانصافیوں پر درد بھرا خطاب کیا۔ مفتی عباس صاحب کا بیان محض ایک تقریر نہیں، بلکہ ایک آئینہ تھا جس میں امت مسلمہ کی بے حسی، ائمہ کرام کی مظلومیت اور متولیانِ مساجد کی ناانصافیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔
*`ائمہ کرام: امت کے معمار، مگر خود بے سہارا!`*
مفتی عباس صاحب نے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سنایا جس میں ایک امام صاحب نے اپنی بیمار بیوی کے علاج کے لیے پیشگی تنخواہ مانگنے کی کوشش کی، لیکن مسجد کے متولی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا: "اگر آپ استعفیٰ دے دیں یا نکال دیے جائیں تو یہ پیسہ کیسے وصول ہوگا؟" یہ جملہ سن کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ ایک امام، جو دن رات دین کی خدمت میں لگا رہتا ہے، وہ چند ہزار روپوں کے لیے دربدر بھٹک رہا ہے، اور قوم کے مالدار حضرات، مساجد کے ٹرسٹیان اور اربابِ حل و عقد بے فکری کی نیند سو رہے ہیں۔
یہ بے حسی کیوں؟
قوم کے پاس مساجد کے لیے بڑے بڑے چندے جمع ہوتے ہیں، وقف بورڈز کے پاس جائدادوں کی بھرمار ہے، مساجد کے فنڈز میں لاکھوں، کروڑوں روپے جمع ہیں، لیکن جب بات امام کی تنخواہ کی آتی ہے تو یہی قوم سوال اٹھاتی ہے کہ "اتنی زیادہ تنخواہ کیوں؟" افسوس کا مقام ہے کہ مساجد میں قیمتی قالین، ائیر کنڈیشنر اور ساؤنڈ سسٹم پر لاکھوں خرچ ہوتے ہیں، لیکن امام کے لیے چند ہزار روپے بھی بوجھ لگتے ہیں۔
*`بڑے علماء، بڑے ادارے اور بڑے ذمہ داران کہاں ہیں؟`*
یہ مسئلہ صرف متولیانِ مساجد تک محدود نہیں، بلکہ پوری قوم، اس کے بڑے ادارے اور علماء کرام بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ مفتی عباس صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ جن بڑے اداروں کے ذریعے قوم کو دینی شعور ملتا ہے، وہ اس مسئلے کو کیوں نہیں اٹھاتے؟ جو اکابرین اپنے وعظ و نصیحت سے قوم کی رہنمائی کرتے ہیں، وہ اس ناانصافی پر کیوں خاموش ہیں؟ اگر کوئی عالمِ دین یا امام اپنے جائز حقوق کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ "یہ دین کو بیچ رہا ہے"، مگر جب وہی امام فاقہ کشی کا شکار ہوتا ہے تو کسی کو احساس تک نہیں ہوتا۔
یہ وقت ہے کہ ہمارے بڑے ادارے، بڑے مدارس اور ملک کے جید علماء اس مسئلے پر سنجیدہ گفتگو کریں۔ خطباء، مقررین، مفتیانِ کرام اور اہلِ فکر کو چاہیے کہ وہ قوم کے سامنے اس تلخ حقیقت کو بیان کریں اور انہیں بتائیں کہ دین کے معماروں کے ساتھ یہ سلوک امت کے مستقبل کے لیے کتنا خطرناک ہے۔
*`قوم کا ایک بہت بڑا المیہ: ائمہ کی خاموشی`*
مفتی عباس صاحب نے ائمہ کرام کی خاموشی کو ایک تلخ حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے امام صاحبان اپنے جائز حقوق پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ اگر ہم نے ان ناانصافیوں کو بیان کیا تو ہمیں امامت سے ہٹا دیا جائے گا یا ہمارے خلاف محاذ کھڑا ہو جائے گا۔ لیکن یہ خاموشی کب تک؟ ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ قوم کے غلط رخ کو درست سمت میں موڑنے کی کوشش کریں، انہیں سمجھائیں کہ دین کے خادموں کے ساتھ ناانصافی دراصل دین کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اگر ائمہ خود اس مسئلے پر بات کرنے سے ڈریں گے تو پھر اس کا حل کون نکالے گا؟ اگر قوم کے رہنما ہی خاموش ہو جائیں تو قوم کی اصلاح کیسے ممکن ہوگی؟ مفتی عباس صاحب نے ائمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ اپنی مظلومیت پر خاموش نہ رہیں، بلکہ حکمت اور دانائی کے ساتھ قوم کے سامنے حقائق رکھیں۔
کیا ہمیں نہیں سوچنا چاہیے؟
یہ مسئلہ صرف ایک امام یا چند مساجد کا نہیں، بلکہ پوری امت کا ہے۔ مفتی عباس صاحب نے اس پر زور دیا کہ اگر ہم نے اپنے اماموں، اپنے علماء اور دین کے خادموں کی قدر نہ کی، انہیں ان کا حق نہ دیا تو کل ہمارے بچے بھی دین سے دور ہو جائیں گے۔ جب ائمہ خود فاقہ کشی کا شکار ہوں گے، جب علماء اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کے محتاج ہوں گے، تو وہ کیا ہماری رہنمائی کر سکیں گے؟
*`قوم کے ذمہ داروں سے اپیل`*
یہ وقت جاگنے کا ہے! متولیانِ مساجد، وقف بورڈ کے ذمہ داران، اور امت کے اہلِ خیر حضرات کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ مساجد کے ائمہ کی تنخواہیں بڑھائی جائیں، انہیں مناسب سہولیات دی جائیں، تاکہ وہ دین کی خدمت یکسوئی کے ساتھ انجام دے سکیں۔ بڑے مدارس اور علمی ادارے اس پر آواز بلند کریں، تاکہ یہ مسئلہ صرف گفتگو کا حصہ نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔
مفتی عباس صاحب کا خطاب ایک تنبیہ تھی، ایک صدا تھی، جو ہماری بے حسی کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں، اگر ہم نے اپنے اماموں اور علماء کی قدر نہ کی، تو یاد رکھیں کہ اس کا نقصان صرف انہی کو نہیں، بلکہ پوری امت کو ہوگا۔
ائمہ کرام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی مظلومیت پر خاموش نہ رہیں، بلکہ حکمت اور دانائی کے ساتھ قوم کے سامنے حقائق رکھیں۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو کل حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں دین کے ان معماروں کی عزت و خدمت کی توفیق دے، آمین۔
❤️
👍
6