🌹پیام انسانیت | Message Of Humanity🌹
🌹پیام انسانیت | Message Of Humanity🌹
February 20, 2025 at 03:04 PM
عورت کا حصہ مرد سے آدھا کیوں؟ سوال:- اسلام میں عورت کا حصہ مرد سے آدھا ہے مگر کیوں؟ یہ تقسیم کرکے عورت کو کم تر کیوں کر دیا ہے؟ کیا مرد اور عورت کا حصہ برابر نہیں ہو سکتا تھا ؟ جواب:- اس بات میں کوئی شک نہیں اسلام میں عورت کا حصہ مرد سے آدھا ہے لیکن اسکے پیچھے کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔۔۔۔ آئیں وراثت کے اِس قانون کو اسلام کی منطق سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں تک اسلام کی رو سے وراثت میں عورت کے حقوق کی بات ہے تو اسلام نے عورت کو ہر حیثیت سے وارث بنایا ہے اگر وہ ماں ہے تو بیٹے کے مرنے کے بعد اس کے مال میں حصہ دار ہوگی اگر بیوی ہے تو شوہر کے مال میں اس کا حصہ ہوگا اگر بیٹی ہے تو باپ کے مال میں سے مخصوص حصہ اس کو ملے گا اگر وہ بہن ہے تب بھی وہ وارث قرار پائے گی اگر وہ پوتی ہے تب بھی دادا کی میراث میں اس کا حصہ ہو سکتا ہے حتی کہ بعض صورتوں میں دادی اور نانی کو بھی وارث بننے کا حق حاصل ہوگا۔ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ بہت سی صورتوں میں مرد کے مقابلے عورت کا حصہ آدھا ہوتا ہے لیکن ایسا ہونا عورت کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ▪️اگر آپ اس معاملے کو گہرائی میں جا کر پرکھیں تو محسوس ہوگا کہ عورت کا حصہ آدھا ہونے کے باوجود مرد سے زیادہ ہے اور مرد کا حصہ دگنا ہونے کے باوجود عورت سے کم ہے اصل معاملہ یہ ہے کہ حقوق و فرائض کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے *👈مثلاً اگر میں دو میں سے ایک شخص کو سو روپے دوں اور دوسرے کو پچاس روپے دوں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ میں نے دوسرے کو آدھا دے کر اس کا حق مارا مگر اگر میں سو روپے والے شخص کو پابند کر دوں کہ پچاس روپے والے شخص کی پوری زندگی کا تمام خرچہ تم نے اٹھانا ہے تو اب زیادتی کس کے ساتھ ہو گی؟* سوچیئے!!!! پچاس روپے والے شخص کے پاس پچاس روپے باقی رہیں گے کہ اس کا کوئی خرچہ نہیں ہے اس کا اپنا خرچہ بھی دوسرا اٹھا رہا ہے اور سو روپے والا شخص کچھ ہی عرصے میں سارے پیسے خرچ کر بیٹھے گا مگر فرض پھر بھی مکمل نہیں ہو گا پھر وہ اپنی کمائی بھی اسی پہ خرچ کرے گا یہی معاملہ اسلام میں عورت اور مرد کا ہے اللہ تعالیٰ نے عورت کی تمام ضروریات کا کفیل مرد کو بنایا ہے اور عورت کو اس ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیا ہے مزید برآں عورت کے لئے روزگار اور معاشی مواقع سے ہر ممکن فائدہ اٹھانے پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی گئی بلکہ عورت کمانے والی بھی ہو تو تب بھی کفالت کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہوگی اور وہ اپنی کمائی خصوصی حق کے طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے اگر وہ گھریلو ضروریات کے لئے خرچ کرنا چاہے تو اس کا یہ عمل احسان ہو گا، کیونکہ یہ اس کے فرائض میں شامل نہیں جبکہ مرد کی آمدن چاہے عورت سے کم ہی کیوں نہ ہو پھر بھی کفالت کا ذمہ دار وہی ہوگا مرد کو چاہے محنت مزدوری کرنی پڑے یا اپنی جائیداد بیچنے کی نوبت آ پہنچے، لیکن وہ ایک گھر کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اللہ کے سامنے جواب دہ بھی! دوسری طرف عورت کو مالی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کو اس جھنجٹ سے پوری طرح بری کر دیا گیا کہ وہ "خود کے لئے" بھی کمائے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں معاش سے بڑھ کر کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اسلام تو عورت کو سرے سے ہی اس جھنجھٹ سے آزاد کرتا ہے وہ بیٹی ہے تو باپ اس کے اخراجات پورے کرے اور بیوی ہے تو شوہر اور ماں ہے تو بیٹا پوری کرے یقیناً مغرب میں عورت مرد کے ساتھ ہر معاملے میں پچاس فیصد کی شریک ہوتی ہے اس کا حق ہے کہ باپ کی جائداد میں سے اسے پچاس فیصد حصہ ملے مگر اس کا فرض بھی ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر گھر کا آدھا بوجھ بھی اٹھائے اگر گھر کا کرایہ ہزار ڈالر ہے تو اس میں سے پانچ سو ڈالر عورت بھی ادا کرے گی ورنہ وہ شوہر کے ساتھ زیادتی کی مرتکب ہوگی شوہر کو حق حاصل ہوگا کہ اسے اپنے گھر سے نکال دے گھر کے باقی ماندہ اخراجات جن میں کھانا پینا کپڑے بچوں کے اخراجات ہر قسم کے غرض جو بھی گھر کے اخراجات ہوں گے اس میں بیوی اپنا پچاس فیصد حصہ ڈالے گی ▪️اب سوال یہ ہے کہ وہ اتنا پیسہ لائے گی کہاں سے؟ باپ کی جائداد میں سے کتنا حصہ مل گیا ہو گا؟ جہاں سے مرضی لائے ۔ جاب کرے ۔ سڑکیں کھودے ۔ لوگوں کا مال ڈھوئے ۔ یہ مرد کا مسئلہ نہیں ہے. اسلام عورت کو ایسی مشقت بھری زندگی نہیں دیتا اب آپ خود سوچیں کہ یہ اسلام کی عورت کے ساتھ ذیادتی ہے یا احسان؟
👍 2

Comments