تفسیر احسن البیان
تفسیر احسن البیان
February 9, 2025 at 05:10 AM
❇(سورة البقرة۔ سورۃ نمبر۲۔ تعداد آیات ۲۸٦)❇ ✨أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم 💧خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِ‌هِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٧﴾ *🍁اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر كردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے (١)* *🔹(۱)* یہ ان کے عدم ایمان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ چونکہ کفر و معصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہو چکی ہے، ان کے کان حق بات سننے کے لیے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں تو اب وہ ایمان کس طرح سے لا سکتے ہیں؟ ایمان تو انہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے، جو اللہ تعالٰی کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے اور ان سے معرفت کردگار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لوگ تو اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ "مومن جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر کے گناہ سے باز آ جاتا ہے تو اس کا دل پہلے کی طرح صاف شفاف ہو جاتا ہے اور اگر وہ توبہ کی بجائے گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے تو وہ نقطہ سیاہ پھیل کر اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "یہی وہ زنگ ہے جسے اللہ تعالٰی نے بیان فرمایا ہے ✨ {كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْن} (المطففین-١٤) یعنی "ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔" (ترمذی، تفسیر سورۃ مطففین) اسی کیفیت کو قران "ختم" (مہر لگ جانے) سے تعبیر فرمایا ہے، جو ان کی مسلسل بداعمالیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ ِ اسی کو بعض جگہ {بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ.....} کے الفاظ میں ذکر کیا ہے (النساء۔ ١٥٥) "اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر مہر لگا دی۔"
👍 2

Comments