الفلاح اسلامک چینل(1)
February 21, 2025 at 07:23 AM
*`قرب قیامت لوگ جھوٹوں کو سچا اور سچوں کو جھوٹا کہیں گے`* *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ،* *يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ،* *وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ،* *وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ،* *وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ،* *وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ,* *قِيلَ:وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟* *قَالَ:الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ* ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: عنقریب لوگوں پر دھوکے سے بھر پور سال آئیں گے،ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا۔بد دیانت کو امانت دار سمجھا جائے گا اور دیانت دار کو بد دیانت کہا جائے گا،اور رُوَیْبِضَہ باتیں کریں گے،کہا گیا:رُوَیْبِضَہ (کا مطلب) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:حقیر آدمی عوام کو معاملات میں رائے دے گا۔ تشریح:(1)معاشرے میں امن قائم رکھنے کے لیےضروری ہے کہ اچھی عادات کی حوصلہ افزائی اور بری عادتات کی حوصلہ شکنی کی جائے(2)جب نیک دیانت دار آدمی کو اس کا جائز مقام نہ دیا جائے بلکہ جھوٹے بد دیانت کی خوش نما باتوں پر اعتماد کرلیاجائے تو معاشرے کا کوئی شعبہ انحطاط سے محفوظ نہیں رہ سکتا(3)موجودہ معاشروں کے بے شمار مسائل کی وجہ سچ اور دیانت داری کا فقدان ہے۔علماء کو چاہیے کہ ان کے فروغ کی کوشش کریں۔ (سنن ابن ماجہ:4036) https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n

Comments