دلچسپ و عجیب تاریخ
دلچسپ و عجیب تاریخ
February 17, 2025 at 07:00 AM
انو ملک – بالی وڈ موسیقی کا ایک منفرد باب انو ملک (Anu Malik) بھارتی فلمی صنعت کا ایک ایسا نام ہے جو متعدد یادگار گانوں، منفرد دھنوں، اور شاندار موسیقی کی وجہ سے کئی دہائیوں تک نمایاں رہا۔ وہ ایک ایسے موسیقار ہیں جنہوں نے 80، 90 اور 2000 کی دہائی میں بالی وڈ کو کئی سپر ہٹ گانے دیے۔ ان کے موسیقی کے انداز میں جدت، تخلیقی پن، اور کبھی کبھی متنازعہ اثرات بھی دیکھنے کو ملے، جو انہیں ایک دلچسپ اور منفرد کمپوزر بناتے ہیں۔ انو ملک نے 1980 کی دہائی میں فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دینی شروع کی، مگر انہیں اصل شہرت 1990 کی دہائی میں ملی، جب ان کے گانوں نے ہر جگہ دھوم مچا دی۔ انو ملک کی موسیقی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جدید اور روایتی دھنوں کو ملا کر ایک نیا رنگ دینے میں مہارت رکھتے ہے۔ ان کے گانے کئی بار مغربی موسیقی سے متاثر ہوتے، لیکن وہ انہیں اپنے انداز میں پیش کرتے۔ ان کی موسیقی میں زور دار بیٹس، منفرد طرز، اور پُراثر میلوڈی کا امتزاج ہوتا ہے۔ انو ملک کی کمپوزیشنز میں کچھ ایسی خصوصیات نمایاں ہیں جو انہیں دوسرے موسیقاروں سے الگ کرتی ہیں : انہوں نے کئی اقسام کے گانوں میں کامیابی حاصل کی، چاہے وہ رومانوی گانے ہوں، ڈانس نمبر ہوں، یا غمگین نغمے۔ مغربی اور روایتی موسیقی کا امتزاج: ان کے کئی گانوں میں مغربی دھنوں کا رنگ جھلکتا ہے، مگر ان میں ایک ہندوستانی رنگ ضرور ہوتا ہے۔ انو ملک نے کچھ گانے خود بھی گائے، جیسے "Ek Garam Chai Ki Pyali Ho"، جو اپنی انوکھی دھن اور مزاحیہ انداز کی وجہ سے مشہور ہوا۔ موسیقی، شاعری، فلم، نثر—یہ سب فن کی وہ شکلیں ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، اور کسی نہ کسی طرح کسی دوسرے کے فن سے متاثر ہوتی ہیں۔ آرٹ میں اصل اور نقل کے درمیان لکیر ہمیشہ دھندلی رہی ہے۔ بڑے بڑے موسیقاروں نے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی دھن سے اثر لیا ہے، چاہے وہ آر ڈی برمن ہو،انو ملک ہو، ندیم شرون ہو، یا خود مغربی موسیقار۔ "میں ایک متاثر ہونے والا موسیقار ہوں، لیکن میں کبھی بھی پوری چیز نہیں اٹھاؤں گا۔" یہ بیان انو ملک کے تخلیقی انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ وہ دوسروں سے اثر ضرور لیتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ہمیشہ اپنی شناخت کے ساتھ ایک نئی چیز تخلیق کرنا ہوتا ہے۔ یہی بات انہیں دوسروں سے الگ کرتی ہے—وہ صرف کسی دھن کو کاپی نہیں کرتے، بلکہ اسے اپنے انداز میں پیش کر کے ایک نئی زندگی دیتے ہیں۔ انو ملک نے دوسری دھنوں کو کاپی کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ فلمی دنیا میں یہ کوئی انوکھا کام نہیں ہے۔ خود فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی موسیقاروں سے کہتے ہیں کہ فلاں مشہور گانے سے ملتا جلتا کوئی گانا بنا دو، کیونکہ فلمی موسیقی کا بزنس تخلیقی اصولوں سے نہیں، بلکہ سامعین کی پسند اور مارکیٹ کی مانگ پر چلتا ہے۔ مگر ایک فنکار کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی اور کی دھن کو اپنے انداز میں کیسے ڈھالتا ہے۔ انو ملک کی خاصیت یہی تھی کہ انہوں نے جو بھی متاثر ہو کر بنایا، اسے نیا رنگ اور منفرد انداز دیا کہ وہ اپنے اصل سے زیادہ خوبصورت اور لازوال بن گیا۔ "Yeh Kaali Kaali Aankhein" کی بیس لائن مغربی میوزک سے لی گئی، مگر اس میں جو توانائی اور انوکھا پن انو ملک نے دیا، وہ اصل سے زیادہ مقبول ہو گیا۔ "Bheege Honth Tere" دراصل پاکستانی گلوکار نجم شراز کے گانے سے متاثر تھا، مگر انو ملک نے اسے نہ صرف سنوارا، بلکہ اس کی پیشکش کو ایسا بنایا کہ وہ ایک بلاک بسٹر بن گیا۔ "Chamma Chamma" کو راجستھانی لوک موسیقی سے متاثر ہو کر بنایا، مگر اس کی پیشکش ایسی تھی کہ آج بھی یہ گانا بجتے ہی ماحول گرم ہو جاتا ہے۔ ان کی اصل پہچان وہ گانے ہیں جو مکمل طور پر ان کے تخلیقی ذہن کی پیداوار تھے، اور جو آج بھی سننے والوں کے دلوں پر نقش ہیں۔ انو ملک کی سب سے بڑی خاصیت یہ ے کہ وہ کسی ایک یا دو ہٹ گانوں پر اکتفا نہیں کرتے ، بلکہ جب وہ کسی فلم کے لیے موسیقی بناتے، تو پوری فلم کا البم ہی شاندار ہوتا۔ ان کی کسی بھی فلم کو دیکھ لیں ۔ان میں ہر ایک گانا سننے کے قابل ہوتا تھا، نہ کہ صرف ایک یا دو۔ فلم سال گانے کے بول " ماں " 1991 — آئینہ کے سو ٹکڑے کر کے ہم نے دیکھے ہیں " چمتکار " 1992 — اس پیار سے میری طرف "پھر تیری کہانی یاد آئی" 1993– دل میں صنم کی صورت آنکھوں میں عاشقی دے "سر " 1993— بند ہوٹوں سے جو " جانم "1993 — دل کیوں دھڑکتا ہے " شبنم "1993 – تیرا نام لکھ کر ہاتھوں پر " بازیگر "1993 —- اے میرے ہمسفر " وجے پتھ "1994---- راہ میں ان سے ملاقات ہو گئی " ظالم "1994 —- پہلے ہی قیامت کیا کم تھی " خوددار "1994----- تم سا کوئی پیارا کوئی معصوم نہیں ہے " آ گلے لگ جا "1994 — تیرے بغیر " امتحان "1994 —- چاہا تو بہت " میں کھلاڑی تو اناڑی " 1994— چرا کے دل میرا گوریا چلی " اکیلے ہم اکیلے تم "1995----- دل کہتا ہے چل ان سے مل " ناجائز "1995 — برسات کے موسم میں " بازی "1995 —- نہ جانے کیا ہو گیا ہے " چاہت "1996 — دل کا دھڑکنا یہ ہی چاہت ہے " دڑاڑ "1996-----ایسی ملی نگاہیں " دل جلے "1996 — ہو نہیں سکتا، ہو نہیں سکتا " جڑواں "1997 — اونچی ہے بلڈنگ " عشق "1997----عشق ہوا کیسے ہوا " آنکھوں میں تم ہو1997– "رہتے ہیں ہم کھوئے کھوئے گم سم " تمنا " 1997—-یہ آئینے جو تمہیں کم پسند کرتے ہیں " بارڈر "1997----- اے جاتے ہوئے لمحوں " وراثت "1997 – ڈھول بجنے لگا " قریب "1998 — چوری چوری جب نظریں ملی "سولجر"1998 – محفل میں بار بار " ڈپلیکیٹ "1998 — میرے محبوب میرے صنم " ہم آپ کے دل میں رہتے ہیں"1999-----قسم سے قسم سے " بادشاہ "1999----ہم تو دیوانے ہوئے یار " آرزو "1999 —- اب تیرے دل میں " ہم تو محبت کرے گا "2000 — تیرے آگے پیچھے دل کھو گیا " ریفیوجی "2000---- تال پہ جب یہ زندگانی چلی " فضا "2000 —محبوب میرے محبوب میرے " فریب "2000 — پہلے سے اب وہ دن ہیں " بیوی نمبر ون "2000 — جنگل ہے آدھی رت ہے "جوش"2000 – ہائے میرا دل " حسینہ مان جائے گی " 2000 —-واٹ از موبائل نمبر " یادیں "2001 – یادیں یاد آتی ہیں "اجنبی"2001 – میں صرف تیرا محبوب تو میری محبوبہ " مجھے کچھ کہنا ہے "2001---- غنچہ ہے دل ہے " چوری چوری چپکے چپکے "2001---دیوانہ ہے یہ دل " عکس "2001----ربہ ربہ "اشوکا"2001 – رات کا نشہ ابھی " فی الحال " 2002----- یہ لمحہ فی الحال جی لینے دے " ایل او سی کارگل "2003---سنو جانے والے لوٹ کر آنا " انتہا "2003 —--ڈھلنے لگی ہے رات " عشق وشق پیار ویار"2003----آنکھوں نے تمہاری انکھوں نے " منا بھائی ایم بی بی ایس "2003---- چھن چھن " میں پریم کی دیوانی ہوں "2003 — او اجنبی " کچھ تو ہے "2003 —- کیا پیار کرو گی مجھ سے " فدا "2004 — میں نے جس کو چاہا " مرڈر "2004 —- بھیگے ہونٹ تیرے " میں ہوں نہ "2004---- کس کا ہے یہ تم کو انتظار ' نو انٹری "2005 – عشق دی گلی وچ "جان من"2006 – ہم کو معلوم ہے عشق نادان ہے " امراو جان "2006 — سلام کرنے کی آرزو ہے " کم بخت عشق "2009 —کم بخت عشق " دم لگا کے ہشیا "2015 —--- درد کرارا " سوئ دھاگہ "2018 — تیرا چاو لاگا اگر انو ملک کی کلاس کو سمجھنا ہو تو صرف چند گانے ہی کافی ہیں جو ان کے موسیقی کے تنوع، گہرائی اور جذباتی شدت کو ظاہر کرتے ہیں: 1. "سندیسے آتے ہیں" (باڈر) 2. "پنچھی ندیاں پون کے جھونکے" (رفیوجی) 3. "سو درد ہیں، سو راحتیں" (جان من) 4. "موہ موہ کے دھاگے" (دم لگا کے ہئیشا) 5 " انتظار انتظار " پاپ انو ملک کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ وقت کے ساتھ اپنی موسیقی میں جدت لاتے رہے، جبکہ ان کے ہم عصر موسیقار جیسے ندیم-شروَن، انند-ملن اور جتن-لالیت ایک مخصوص انداز تک محدود رہنے کی وجہ سے زوال پذیر ہو گئے۔ انو ملک نے 90 کی دہائی میں بازیگر، سر، دل جلے جیسی فلموں میں مختلف طرز کی موسیقی دی، جبکہ 2000 کی دہائی میں رفیوجی، جان من، اشوکا، اور میں ہوں نا کے ذریعے جدید انداز اپنایا۔ یہاں تک کہ 2015 میں موہ موہ کے دھاگے جیسا شاہکار پیش کر کے اپنی تخلیقی صلاحیت کو برقرار رکھا۔ یہی وہ عنصر تھا جو انہیں دوسرے موسیقاروں سے الگ کرتا تھا—وہ بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ڈھالتے رہے اور کبھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوئے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انو ملک وہ موسیقار ہے، جن کی موسیقی ایک مکمل تجربہ ہوتی ہے—ایک ایسا سفر جس میں ہر گانے کا اپنا رنگ، اپنی کہانی، اور اپنا جادو ہوتا ہے۔ عبدالباسط خان
❤️ 👍 💩 3

Comments