القدس کی پکار
القدس کی پکار
February 27, 2025 at 09:37 AM
*عزالدین القسام: فلسطین میں جہاد کے معمار* 🔘 _مختصر اور تعارف اور جدوجہد:_ عزالدین القسام 1882ء میں شام کے تاریخی شہر جبلة میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور دینی گھرانے سے تھا، جہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں تعلیم و تربیت دی جاتی تھی۔ ان کے والد نے اپنے علاقے میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا، جہاں القسام نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ آگے بڑھنے کی جستجو نے انہیں قاہرہ کے عظیم علمی مرکز جامعۃ الأزہر پہنچا دیا، جہاں انہوں نے علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے آبائی گاؤں واپس آئے اور والد کے قائم کردہ مدرسے میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن وہ صرف معلم نہیں تھے—ان کے دل میں امت مسلمہ کی عظمت کی بحالی اور استبداد کے خلاف جہاد کا جذبہ موجزن تھا۔ وہ ایسے داعی حق تھے جن کی آواز دلوں میں بجلیاں گرا دیتی تھی وہ قول و فعل کے غازی تھے جب فرانس نے شام پر قبضہ کر لیا اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی، تو عزالدین القسام خاموش نہ بیٹھے۔ انہوں نے اپنی خطابت اور جرات کے ذریعے عوام کو بیدار کیا اور فرانسیسی استعمار کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا۔ لیکن جب دشمن کی طاقت کے سامنے مزاحمت کمزور پڑنے لگی، تو وہ 1920 کی دہائی کے اوائل میں اپنے بھائی کے ہمراہ فلسطین ہجرت کر گئے، جہاں ایک نیا محاذ ان کا منتظر تھا فلسطین میں برطانوی سامراج اور صہیونی سازشیں زور پکڑ رہی تھیں۔ عزالدین القسام نے حالات کا جائزہ لیا اور اپنی بصیرت سے یہ بھانپ لیا کہ آزادی کے بغیر امت کا وقار بحال نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انہوں نے حیفا کے المسجد الکبیر کو اپنا مرکز بنایا جہاں وہ روزانہ جہاد کی فرضیت ، غلامی سے نجات اور دشمن کے خلاف مسلح مزاحمت پر خطبات دیتے اور عوام میں بیداری کی مہم شروع کی۔ ان کی ولولہ انگیز تقریریں، سادگی اور اخلاص نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کی قیادت میں متحد ہونے لگی، اور یوں منظم جہادی تحریک کی بنیاد پڑی۔ انھیں میں سے انھوں نے اپنے شاگرد منتخب کیے اور فلسطین میں پہلی جہادی جماعت قائم کی 1935 کے آغاز میں انہوں نے اپنی سرگرمیاں جنین ،نابلس اور طولکرم کے علاقے سے شروع کی ان کے پیغام نے فلسطین میں ایک نیا انقلابی جوش پیدا کیا جب دشمن نے خطرہ بھانپ لیا تو برطانوی فوج اور صیہونی دہشت گردوں نے جنین کے جنگل کو گھیر لیا 20 نومبر 1935ء کو فلسطین کے جنگل یعبد میں برطانوی استعمار کے خلاف ایک بے مثال جنگ لڑی گئی جہاں شیخ القسام اور ان کے ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ مگر یہ شہادت ان کی کہانی کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ثابت ہوئی۔ وہ ایک انقلابی روح، ایک مجاہدِ کبیر اور مزاحمت کی علامت بن گئے دشمن سمجھا اس نے مزاحمت کی چنگاری کو بجھا دیا مگر حقیقت میں یہ خون زمین میں جذب ہو کر ایک تناور درخت بن گیا القسام کی شہادت نے وہ بیج بویا جو 1987 میں " کتائب شہید عزالدین القسام " کے نام سے تناور درخت بن کر ابھرا، اور ان کے نام کی گونج مزید بلند ہوگئی۔ آج بھی، یہ مقدس نام جہاد کا پرچم تھامے، صیہونیوں کے دلوں میں خوف و دہشت کی لہر دوڑا رہا ہے۔ یہی جماعت وہ آندھی بنی جس نے صیہونیوں کے محل لرزا دیے وہ آگ بنی جس نے دشمن کے دلوں میں دہشت بھر دی آج بھی " کتائب القسام" کا نام لیا جائے تو دشمن کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں ▪️ _وہ مردِ حُر، جس کا نام تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ روشن رہے گا_ شیخ عز الدین القسام ان مجاہدینِ امت میں سے تھے جنہیں اللہ نے عزتِ دوام بخشی۔ وہ چلے گئے، مگر ان کی یاد اور ان کا پیغام دشمنوں کے لیے ہمیشہ خوف اور غداروں کے لیے دائمی ذلت کا سبب بنا رہے گا۔ انہوں نے مسجد کو جہاد کا مرکز بنایا، کیونکہ ان کے نزدیک مسجد صرف عبادت کا مقام نہیں، بلکہ ظالموں کے خلاف بغاوت، حق کی سربلندی اور مظلوموں کی پناہ گاہ ہے۔ وہ کبھی سازشوں کا شکار نہ ہوئے، کبھی مفاہمت کے جال میں نہ پھنسے۔ وہ ہمیشہ حق پر ڈٹے رہے، امت کی آزادی اور سربلندی کے نقیب رہے، اور رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کے طریق پر چلتے ہوئے جہاد کو اپنا شعار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا ذکر دشمن کے دلوں پر لرزہ طاری کر دیتا ہے، اور مجاہدین کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ شیخ القسام تو چلے گئے، مگر ان کے الفاظ ہمیشہ گونجتے رہیں گے: "یہ جہاد ہے... یا فتح، یا شہادت!" یہی الفاظ آج بھی کتائب شہید عزالدین القسام کے ہر بیان، ہر معرکے اور ہر فتح کی پیشانی پر کندہ ہیں! ✍️ *امجاد الشھداء فی فلسطین* https://whatsapp.com/channel/0029Vb00lau8PgsCBHoYYK2q

Comments