القدس کی پکار
February 27, 2025 at 09:38 AM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
*مجاہدین کے بارے میں فیصلہ دینے کا حق صرف اہلِ صف کو ہے*
ہم ہمیشہ اس بات پر زور کیوں دیتے ہیں کہ جو شخص جہاد کے مقدس قافلے سے پیچھے رہ گیا ہو، دنیا کی محبت میں جکڑا ہو، اور زمین کی زینت میں مگن ہو، اسے مجاہدین پر کوئی فیصلہ صادر کرنے یا ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں؟
اور یہ کہ ایسے شخص کی نیک نیتی کی واحد علامت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مجاہدین اور ان کے راستے کے لیے تعظیم، توقیر، اور ان کے حق میں دعا کرے، ان کی ہمت بڑھائے، اور جہاد کی ترغیب دے—اس کے سوا کچھ نہیں!
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب جہاد فرض ہو جائے اور کسی پر کوئی شرعی عذر بھی نہ ہو، پھر بھی وہ جہاد میں شامل نہ ہو، تو شریعت کے اصولوں کے مطابق اس پر نفاق کی مہر لگ جاتی ہے۔ اس کی حالت خود اس کے قول و فعل کو ناقابلِ قبول بنا دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور اگر وہ (واقعی) نکلنا چاہتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے، لیکن اللہ نے ان کے اٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے انہیں روک دیا، اور کہا گیا: بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ!" (التوبہ: 46)
اگر وہ سچے دل سے اللہ کے لیے فرض جہاد اور مسلم صفوں کی قیادت کے طلبگار ہوتے، تو وہ خود کو اس کے لیے تیار کرتے، میدانِ جہاد میں صفِ اول کے مجاہدین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاتے، یا کم از کم کسی شرعی عذر کی بنا پر پیچھے رہ کر مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کی مدد کرتے اور ان کی ہمت بڑھاتے۔
لیکن شریعت میں تیسرا کوئی راستہ نہیں، جو شخص نہ تو صفِ جہاد میں ہو، نہ پیچھے سے اس کی حمایت کر رہا ہو، وہ منافق ہے جسے اللہ نے نکلنے سے روک دیا۔ وہ شرعی حکم کے باوجود سستی اور کاہلی کا شکار رہا، اور اللہ کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا۔
ایسا شخص جب جنگ اپنے عروج پر ہو تو نہ اس کا کوئی مشورہ معتبر ہوتا ہے، نہ اس کی کوئی رائے قابلِ قبول ہوتی ہے، اور نہ ہی اس کے کسی لفظ میں کوئی ہدایت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے اس کے حال کے بارے میں ہمیں پہلے ہی خبر دے دی ہے، جس کے بعد اس کی باتوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"احوال کی حقیقت، اقوال کی صداقت کو جانچنے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اور جو قول عملی حالت سے میل نہ کھائے، وہ رد کر دیا جاتا ہے۔" (ابن رجب، القواعد: 322)
اگر وہ سچے ہوتے تو یا تو صفِ اول میں ہوتے، یا پیچھے رہ کر جہاد کی ترغیب دیتے، ورنہ ان کی حالت ہی ان کے دعویٰ نصیحت کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ جو شخص خود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر عمل نہ کرے، اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو سچ کیسے مانا جا سکتا ہے؟
*امجاد الشھداء فی فلسطین*
https://whatsapp.com/channel/0029Vb00lau8PgsCBHoYYK2q