ازدواجی زندگی سوشل میڈیا
ازدواجی زندگی سوشل میڈیا
February 19, 2025 at 02:53 AM
کتاب زبدةالفقہ قسط نمبر 108 نماز تہجّد صلٰوة اللیل یعنی رات کی نفل نماز کی ایک قسم عام ہے ، نمازِ عشا کے بعد جو نفل نماز پڑھی جائے وہ صلٰوة اللیل عام ہے اس کی دوسری قسم صلٰوة اللیل خاص ہے اور یہ نمازِ تہجّد ہے اور وہ یہ ہے کہ عشا کے بعد سو جائیں اور آدھی رات کے بعد اٹھیں اور نوافل پڑھیں سونے سے پہلے جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں ، لیکن جو شخص سو کر اٹھنے کا عادی نہ ہو وہ سونے سے پہلے کچھ نوافل پڑھ لیا کرے تو اس کو تہجد کا ثواب مل جائے گا اگرچہ ویسا ثواب نہ ہو گا جو سو کر اٹھنے کے بعد تہجد پڑھنے سے ہوتا ہے نماز تہجد کا وقت آدھی رات کے بعد سو کر اٹھنے سے شروع ہوتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ رات کے چھ حصے کریں پہلے تین حصے میں یعنی آدھی رات تک سوئے اور چوتھے پانچویں حصے میں جاگے اور نماز تہجد پڑھے اور ذکر وغیرہ کرے اور پھر آخری چھٹے حصے میں سوئے اس کی کم سے کم دو رکعتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں ہیں اور اوسط درجہ چار رکعت ہیں ، دس اور بارہ رکعت تک کا بھی ثبوت ملتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر عادت آٹھ رکعت پڑھنے کی تھی، اور حسب موقع کم و بیش بھی پڑھی ہیں پس یہی عادت ہونی چاہئے ، جو شخص تہجد کا عادی ہو اسے بلا عذر چھوڑنا مکروہ ہے اس میں کوئی سورت پڑھنا معین نہیں ہے ، حافظ کے لئے بہتر یہ ہے کہ قرآن شریف کی روزانہ کی منزل مقرر کر کے پڑھا کرے تاکہ چند دنوں میں پورا قرآن مجید ختم ہوتا رہے ، جو حافظ نہ ہو لیکن بڑی سورتیں مثلاً سورة بقرہ، سورة آل عمران یا سورة یٰس وغیرہ یاد ہوں پڑھا کرے بعض مشائخ سورة یٰس کو آٹھ رکعت میں تقسیم کر کے پڑھتے رہے ہیں ، بعض سورة اخلاص کو ہر رکعت میں متعدد دفعہ مختلف طریقہ سے پڑھتے رہے ہیں صحیح یہ ہے کہ کوئی پابندی نہیں ، اس وقت کی ماثورہ دعائیں بھی پڑھا کرے عیدین و پندرہویں شعبان و رمضان کی آخری راتوں میں اور ذی الحجہ کی پہلی دس راتوں میں جاگنا اور عبادت کرنا مستحب ہے خواہ تنہا نفل پڑھے یا تلاوتِ قرآن پاک کرے یا ذکر و تسبیح و تحمید و تہلیل و درود شریف وغیرہ کا ورد کرے اگر ساری رات کا جاگنا میسر نہ ہو تو جس قدر بھی ہو سکے اسی قدر شب بیداری کر لے نمازِ استخارہ جب کوئی جائز اہم کام درپیش ہو مثلاً کہیں منگنی یا شادی کرنے یا سفر میں جانے کا ارادہ ہو اور اس کے کرنے یا نہ کرنے میں تردد ہو یا اس بارے میں تردد ہو کہ کام کس وقت کیا جائے تو استحارہ کرنا سنت ہے اس کی ترکیب یہ ہے کہ جب رات کو سونے لگے تو تازہ وضو کر کے دو رکعت نمازِ استحارہ پڑھے بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورة الکافرون اور دوسری رکعت میں سورة اخلاص پڑھے ان دو رکعت کا سلام پھیرنے کے بعد دعائے استحارہ پڑھے، دعا کے اول و آخر میں حمد و صلٰواة کا پڑھنا مستحب ہے پس سورة الحمد شریف یا صرف الحمد اللہ اور درود شریف پڑھ لیا کرے، دعائے استحارہ یہ ہے اَللّٰھمَّ اِنِّی اَستَخِیرُکَ بِعِلمِکَ وَ استَقدِرُکَ بِقُدرَتِکَ وَ اَسئَلُکَ مِن فَضلِکَ العَظِیم ط فَاِنَّکَ تَقدِرُ وَلَا اَقدِرُوَ تَعلَمُ وَلَا اَعلَمُ وَاَنتَ عَلَّامُ الغُیُوب ط اَللّٰھُمَّ اِن کُنتُ تَعلَمُ اِنَّ ھَذَا الاَمرَ خَیرٌ لِّی فِی دِینِی وَ مَعَاشِی وَ عَاقِبَتِ اَمرِی وَ عَاجِلِہِ وَ اٰجِلِہِ فَاقدِرہُ لِی وَیَسَّیِرہُ لِی ثُمَّ بَارِکَ لِی فِیہِ وَاِن کُنتَ تَعلَمُ اَنَّ ھَذَا الاَمرَ شَرٌّ لِی فِی دِینِی وَ مَعَاشِی وَ عَاقِبَتِ اَمرِی وَ عَاجِلِہِ وَ اٰجِلِہِ فَاصرِ فہُ عَنِّی وَ اصرِفنِی عَنہُ وَاقدِر لِی اَلخَیرَ حَیثُ کَانَ ثُمَّ رَضِنِی بِہِ ط دونوں جگہ ھذا الامر کہتے وقت اپنے اس کام کا دل میں خیال کرے یا زبان سے اپنے مقصد کا ذکر کرے مثلاً سفر کے لئے ھذا السفر کہے اور کہیں ٹھہرنے کے لئے ھذہ الاقامت کہے اور نکاح کے لئے ھذا النکاح کہے ، کسی چیز کی خرید و فروخت کے لئے ھذاالبیع کہے وغیرہ، اور یہ بھی جائز ہے کہ ھذاالامر کہے اور پھر اپنی ضرورت کا نام لے دعائے استخارہ پڑھنے کے بعد پاک و صاف بچھونے پر قبلے کی طرف منھ کر کے سو جائے ، جب سو کر اٹھے اس وقت جو بات دل میں مضبوطی سے آئے وہی بہتر ہے اس پر عمل کرے استخارہ روزانہ اس وقت تک کرے جب تک رائے ایک طرف پوری طرح مضبوط نہ ہو جائے اور بہتر یہ ہے کہ سات روز تک استخارے کی تکرار کرے، اگر کسی وجہ سے نمازِ استخارہ نہ پڑھ سکے تو صرف دعائے استخارہ ہی پڑھ لیا کرے حج و جہاد و دیگر عبادات اور نیک کاموں یعنی فرض و واجب و سنت و مستحب کے کرنے اور حرام و مکروہ کو چھوڑے کے لئے استخارہ نہ کرے کیونکہ ان کاموں کے لئے تو اس کو حکم دیا گیا ہے البتہ تعین وقت اور حالت مخصوص کے لئے ان میں بھی استخارہ کر سکتا ہے ، مثلاً یہ تردد ہو کہ حج وغیرہ کے لئے خشکی کے راستے سے سفر کرے یا سمندر کے راستہ سے، یا یہ کہ سواری مول لے یا کرایہ پر لے، یا یہ کہ فلاں شخص کو اپنا رفیقِ سفر بنائے یا نہ بنائے یا یہ کہ سفر آج کیا جائے یا کل وغیرہ نمازِ حاجت جب کوئی حاجت پیش آئے خواہ اس کا تعلق اللہ تعالی سے بلا واسطہ ہو یا بالواسطہ ہو یعنی کسی بندے سے اس کام کا پورا ہونا متعلق ہو مثلاً نوکری کی خواہش ہو یا کسی سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نفل نماز پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھے پھر یہ دعا پڑھے لَا اِلَہٰ اِلَّا اللہُ الحَلِیمُ الکَرِیمُ سُبحَانَ اللہِ رَبَّ العَرشِ العَظِیمُ ط اَلحَمدُ للّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ اَسئَلُکَ مَوجِبَاتِ رَحمَتِکَ وَ عَزَآئِمَ مَغفِرَتِکَ وَالغَنِیمَتَ مِن کُلِّ بِرِّوَ السَّلَامَتَ مِن کُلِّ اِثمٍ لَا تَدَع لِی ذَنبًا اِلَّا غَفَرتَہُ وَلَا ھَمًّا فَرَّجتَہُ وَلاَ حَاجَتً ھِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیتَھَا یَآ اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ ط اس کے بعد جو حاجت درپیش ہو اس کا سوال اللہ تعالی سے کرے انشائ اللہ اس کی وہ حاجت روا ہو گی، نماز استخارہ اور نماز حاجت میں فرق یہ ہے کہ نمازِ استخارہ حاجتِ آئندہ کے لئے ہے اور نمازِ حاجت موجودہ حاجت کے لئے صلٰواة تسبیح اس نماز کا ثواب احادیث میں بہت زیادہ آیا ہے ، اگر ہو سکے تو ہر روز ایک مرتبہ اس نماز کو پڑھ لیا کرے ورنہ ہر ہفتہ میں ایک بار ( مثلاً ہر جمعہ کے روز) پڑھ لیا کرے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ہر مہینہ میں ایک بار ورنہ سال میں ایک بار پڑھ لے اور یہ بھی نہ کر سکے تو تمام عمر میں ایک بار پڑھ لے صلٰواةِ تسبیح کی چار رکعتیں ہیں ، بہتر یہ ہے کہ چاروں رکعتیں ایک سلام سے پڑھی جائیں اور اگر دو سلام سے پڑھی جائیں تب بھی درست ہے ، یہ نماز سوائے اوقات مکروہہ کے ہر وقت پڑھ سکتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ زوال کے بعد ظہر سے پہلے پڑھے اور اعتدال کا درجہ یہ ہے کہ اس کو ہر جمعہ کے روز زوال کی بعد نماز جمعہ سے پہلے پڑھا کرے اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ جو حضرت عبداللہ بن مبارک سے ترمذی شریف میں مذکور ہے یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا یعنی سبحانک اللھم الخ پڑھے پھر کلمات تسبیح یعنی سُبحَانَ اللہِ وَاَلحَمدُ للّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکبَر ط پندرہ مرتبہ پڑھے پھر حسب دستور اعوذ باللہ و بسم اللہ و الحمد شریف اور سورة پڑھے پھر قیام میں ہی یعنی سورة کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے وہی کلمات تسبیح دس مرتبہ پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع کی تسبیح کے بعد وہی کلمات دس بار کہے پھر رکوع سے اٹھ کر قومہ میں سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنالک الحمد کے بعد دس بار اور دونوں سجدوں میں سجدے کی تسبیح کے بعد دس دس بار اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت میں یعنی جلسہ میں دس بار وہی کلماتِ تسبیح کہے ، اس طرح ہر رکعت میں الحمد سے پہلی پندرہ مرتبہ اور سورة ملانے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے قیام ہی میں دس مرتبہ اور رکوع و قومہ اور دونوں سجدوں میں اور دونوں سجدوں کے درمیانی جلسے میں دس دس بار وہی کلمات کہے اس طرح ہر رکعت میں پچھتر (75) مرتبہ اور چار رکعتوں میں تین سو مرتبہ یہ کلماتِ تسبیح ہو جائیں اور اگر ان کلمات کے بعد وَلَا حُولَ وَلَا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللہِ العَلِیَّ العَظِیمِ ط بھی ملا لے تو بہتر ہے کیونکہ اس سے بہت ثواب ملتا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ آئے بھی ہیں دوسرا طریقہ جو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ترمذی شریف میں آیا ہے اس طرح ہے کہ ثنا کے بعد اور الحمد شریف سے پہلے کسی رکعت میں ان کلمات تسبیح کو نہ پڑھے بلکہ ہر رکعت میں الحمد اور سورة پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ پڑھے اور رکوع اور قومہ اور دونوں سجدوں اور جلسہ میں بدستور دس دس مرتبہ پڑھے اور دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ کر یعنی جلسہ استراحت میں دس مرتبہ پڑھے اس طرح ہر رکعت میں پچھتر(75) مرتبہ پڑھے اور دونوں قعدوں میں التحیات سے پہلے پڑھ لے، یہ دونوں طریقے صحیح ہیں لیکن پہلا طریقہ حنفی مذہب کے زیادہ موافق ہے کیونکہ دوسرے طریقہ میں جلسئہِ استراحت میں پڑھنا آیا ہے اور جلسہ استراحت احناف کے نزدیک مکروہ ہے لیکن بعض فقہا نے اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ یہ حدیث مرفوع سے ثابت ہے ، بہتر یہ ہے کہ کبھی ایک روایت پر عمل کرے اور کبھی دوسری پر تاکہ دونوں پر عمل ہو جائے اس نماز کی چاروں رکعتوں میں کوئی سورة معین نہ کرے، لیکن کبھی کبھی استحباب کے لئے چاروں رکعتوں میں علی الترتیب التکاثر، العصر، الکافرون اور اخلاص پڑھا کرے اور کبھی اذا زلزلت اور ولعٰدیات اور اذا جائ اور سورة اخلاص پڑھے اگر تسبیح کے کلمات بھول کر کسی جگہ دس سے کم پڑھے جائیں یا بالکل نہ پڑھے جائیں تو اس کو دوسری جگہ یعنی تسبیح پڑھنے کے آگے والے موقع میں پڑھ لے تاکہ تعداد پوری ہو جائے لیکن رکوع میں بھولے ہوئے کلمات تسبیح قومہ میں نہ پڑھے بلکہ دوسرے سجدے میں پڑھے کیونکہ قومہ اور جلسہ کا رکوع و سجدے سے طویل کرنا مکروہ ہے کلماتِ تسبیح کو انگلیوں پر شمار نہ کرے بلکہ اگر دل کے ساتھ شمار کر سکے اور نماز کی حضوری میں فرق نہ آئے تو یہی بہتر ہے ورنہ انگلیاں دبا کر شمار کرے نماز بوقت سفر و واپسی سفر جب کوئی شخص اپنے وطن سے سفر کرنے لگے تو اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ دو رکعت نماز گھر میں پڑھ کر سفر کرے اور مزید دو رکعت مسجد میں پڑھ لینا بہتر ہے اور جب سفر سے واپس آئے تو مستحب ہے کہ پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھ لے اور کچھ دیر وہاں بیٹھے پھر اپنے گھر جائے اور اثنائے سفر میں جب کسی منزل پر پہنچے اور وہاں قیام کا ارادہ ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے نماز توبہ جس شخص سے کوئی گناہ صادر ہو جائے اس کے لئے مستحب ہے کہ دو رکعت پڑھ کر اپنے گناہ سے توبہ اور اس کی بخشش و معافی کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرے نماز قتل جب کوئی مسلمان قتل کیا جانے والا ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرے تاکہ یہی نماز استغفار دنیا میں اس کا آخری عمل رہے نمازِ احرام حج یا عمرے کا احرام باندھتے وقت دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے اس نماز کی پہلی رکعت میں قل یا ایھاالکافرون اور دوسری میں قک ھو اللہ احد پڑھنا مستحب ہے

Comments