ادارہ طیبہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ۔ Tayyabah Educational And Welfare Trust
February 5, 2025 at 07:41 PM
چراغ فکر(یومیہ)
﴿سلسلہ نمبر:20﴾
رودادِ سفر اورنگ آباد قسط دوم
(لمحے، نظارے، احساسات، نقوش اور مشاہدات)
✍️ شاہ امان اللہ ندوی
ادارہ طیبہ ممبئی
عشائیہ تناول کرنے کے بعد ہم سب نے قضا شدہ نمازیں ادا کیں اور آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔ صبح بیدار ہو کر نماز ادا کی، غسل کیا، اور پھر ہمیں دارالعلوم امدادیہ لے جایا گیا۔ چونکہ رات کا قیام مولانا محفوظ الرحمن صاحب کے گھر تھا، اس لیے صبح مدرسہ پہنچنے پر جمیع اساتذہ کرام، عملہ اور طلبہ نے نہایت گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ ہمیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے (جس سے ان کو روکا گیا)اور ادارے کے جدید نظام و شعبہ جات سے متعارف کرایا گیا۔
بعد ازاں، ہمیں دفترِ اہتمام لے جایا گیا، جہاں چائے نوشی کا اہتمام تھا۔ اسی دوران طلبہ نے نعت خوانی کی، جو بےحد دلنشین تھی۔ ایک بچے نے نعت پیش کی جس کا مرکزی عنوان "خوشبو" تھا، جس کے اشعار میں نبی اکرم ﷺ کے سونے، جاگنے، چلنے، اور بولنے کو "خوشبو" سے تعبیر کیا گیا تھا۔ یہ ایک عمدہ استعارہ تھا، جو آپ ﷺ کی پاکیزگی، برکت اور نورانیت کی علامت تھا۔
بعد ازاں، ہم سب خلد آباد میں حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کی آخری آرام گاہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے۔ مولانا محفوظ الرحمن صاحب پہلے جانے کے لیے آمادہ نہ تھے، لیکن میرے اصرار پر راضی ہوگئے۔ ہمارے قافلے کے میرِ کارواں حضرت مولانا قاری محمد یونس صاحب چودھری (نائب خازن جمعیت علماء مہاراشٹر) اگلی نشست پر بیٹھے، جبکہ میں (شاہ امان اللہ ندوی)، قاری عبد الرشید صاحب اور مولانا محفوظ الرحمن صاحب پچھلی نشست پر تھے۔ یہ سفر تقریباً آدھے گھنٹے کا تھا۔
سب سے پہلے ہم حضرت خواجہ ممتجں الدین زرزری زر بخش رحمہ اللہ کے مزار پر حاضر ہوئے، فاتحہ خوانی کی اور ایصالِ ثواب کیا۔ مزار کے قریب ہی ایک مسجد تھی، جہاں قاری محمد یونس چودھری صاحب کی تجویز پر ہم نے نمازِ ظہر ادا کی۔ کچھ دیر وہاں آرام کیا، اسی دوران قاری عبد الرشید صاحب استنجا کے لیے گئے اور کافی وقت لگا دیا۔ ادھر قاری یونس صاحب نے میری توجہ ایک دلچسپ پہلو کی طرف مبذول کرائی کہ شجرۂ مشائخ چشتیہ میں ایک مقام غائب ہے۔ جب میں نے خود غور کیا تو واقعی بیسواں نام غائب تھا۔
اس شجرے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کے بعد حضرت بابا فرید الدین شکر گنج رحمہ اللہ کا ذکر تھا، لیکن ان دونوں کے درمیان کا ایک اہم نام موجود نہیں تھا۔ یعنی، سلسلہ خواجہ زرزری زر بخش رحمہ اللہ تک براہِ راست پہنچ رہا تھا، جو تاریخی طور پر درست نہ تھا۔ ہم نے وہاں کے ذمہ دار کو بلایا اور اس بابت دریافت کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ نام چھوٹ گیا ہے، لیکن جب ہم حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے مزار پر جائیں گے، تو وہاں ایک کتبہ موجود ہے جس میں یہ نام درج ہے۔
چنانچہ ہم آگے بڑھے اور حضرت اورنگزیب رحمہ اللہ کے مزار کے قریب ان کے یعنی خواجہ زرزری زربخش کےبھائی خواجہ برہان الدین کے مقبرے پر پہنچے، جہاں واقعی وہ نام درج تھا جو شجرے میں غائب تھا۔ اس کتبے سے معلوم ہوا کہ درمیان میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کا نام درج ہونا چاہیے تھا، جو وہاں کے شجرے میں نہیں لکھا گیا تھا۔
سلسلہ مشائخ چشتیہ کچھ یوں ہے:
1. حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ
2. حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمہ اللہ
3. حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمہ اللہ
4. حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ
5. حضرت خواجہ زرزری زر بخش رحمہ اللہ
6. حضرت برہان الدین رحمہ اللہ
یہ دیکھنے کے بعد ہم آگے بڑھے اور علاقے کی مشہور میٹھائی، جسے بہار میں "خواجہ منصوری" کہا جاتا ہے، خریدی۔ پانچوں حضرات نے شوق سے اسے تناول کیا۔ یہیں سے کچھ ہی فاصلے پر حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کی آخری آرام گاہ تھی، جس کے لیے ہم نے قصد کیا۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی ہم نے میٹھائی کا لطف اٹھایا، اور اس بابرکت سفر کی یادیں ذہن میں تازہ کرتے ہوئے اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کےمزار کی جانب بڑھتے چلے گئے۔
جاری ۔۔۔
❤️
1