ادارہ طیبہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ۔ Tayyabah Educational And Welfare Trust
ادارہ طیبہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ۔ Tayyabah Educational And Welfare Trust
February 8, 2025 at 05:24 PM
چراغ فکر(یومیہ) ﴿سلسلہ نمبر:19﴾ رودادِ سفر اورنگ آباد مکمل قسط (لمحے، نظارے، احساسات، نقوش اور مشاہدات) ✍️ شاہ امان اللہ ندوی ادارہ طیبہ ممبئی نندی گرام ایک قدیم اور مشہور ٹرین ہے، جو سی ایس ٹی سے بلہر شاہ تک اپنی خدمات انجام دیتی ہے۔ طویل عرصے سے رواں دواں رہنے کے سبب اس پر قدامت کا اثر نمایاں ہے۔ اسی ٹرین کے ذریعے ہمیں اورنگ زیب عالمگیرؒ کی نسبت سے مشہور شہر اورنگ آباد جانا تھا، جہاں دارالعلوم امدادیہ ہرسول ساؤنگی میں ایک دعائیہ نشست میں شرکت مقصود تھی۔ سفر کے لیے اے سی ٹکٹ حاصل کیا گیا تھا۔ متعینہ تاریخ پر ہم دادر اسٹیشن سے سوار ہوئے۔ یہاں "ہم" کا صیغہ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ اس بار میں تنہا نہ تھا، بلکہ میرے ساتھ دو محترم رفقا بھی ہمسفر تھے— مصلحِ قوم و ملت الحاج مولانا محمد یونس صاحب چودھری (نائب خازن، جمعیت علماء مہاراشٹر) اور ہمدردِ قوم و ملت جناب قاری عبدالرشید صاحب اندھیری (رکن، جمعیت علماء مہاراشٹر)۔ ان دونوں محترم حضرات کی رفاقت نے سفر کی صعوبتوں اور الجھنوں کو بے وزن کر دیا۔ حضرت مولانا محمد یونس صاحب، گویا ابنِ بطوطہ کی عملی تفسیر ہیں— ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں۔ ابھی رات ہی دہلی کے سفر سے واپس لوٹے تھے اور صبح ہمیں اورنگ آباد کے لیے ہم رکاب ہونا تھا۔ ان کے ساتھ وقت گزارنے کا مطلب تھا علم، تجربے اور حکمت کے نئے در وا ہونا۔ ریل گاڑی کی نشستوں کے معاملے میں ریلوے نے ہم پر آزمائش ڈال دی— سیٹیں الگ الگ تھیں۔ مسافروں سے منت و سماجت کر کے بالآخر ہم سب کو ایک جگہ بٹھانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد دسترخوان بچھا، ہم نے کھانا تناول کیا اور پھر گفتگو کے دریا بہنے لگے۔ باتوں کا ایسا دلچسپ سلسلہ چل نکلا کہ وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور سفر لمحوں میں کٹ گیا۔ اورنگ آباد اسٹیشن پر ٹرین رکی، ہم اترے، تو دارالعلوم امدادیہ کے اساتذہ پہلے ہی ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے۔ گاڑی میں سوار ہوکر مدرسے پہنچے تو دیکھا کہ محبتوں کے چراغ روشن تھے۔ شب کے ساڑھے بارہ بجے بھی میزبانوں کی جاگتی آنکھیں اور گرم جوشی سے بھرپور مسکراہٹیں ہمارے انتظار میں تھیں۔ پُرتکلف عشائیے کے بعد رسمی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا، جو جلد ہی ایک فکری نشست میں تبدیل ہوگیا۔ بحث کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ مدارس کو اسکیموں کے نام پر دھوکہ دینے والے اسکیم بازوں سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ یہ نشست محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی، بلکہ مدارس کے تحفظ اور ترقی کے حوالے سے ایک فکری سفر تھا— ایسا سفر، جو صرف قدموں سے نہیں، سوچوں سے طے ہوتا ہے۔ عشائیہ تناول کرنے کے بعد ہم سب نے قضا شدہ نمازیں ادا کیں اور آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔ صبح بیدار ہو کر نماز ادا کی، غسل کیا، اور پھر ہمیں دارالعلوم امدادیہ لے جایا گیا۔ چونکہ رات کا قیام مولانا محفوظ الرحمن صاحب کے گھر تھا، اس لیے صبح مدرسہ پہنچنے پر جمیع اساتذہ کرام، عملہ اور طلبہ نے نہایت گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ ہمیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے (جس سے ان کو روکا گیا)اور ادارے کے جدید نظام و شعبہ جات سے متعارف کرایا گیا۔ بعد ازاں، ہمیں دفترِ اہتمام لے جایا گیا، جہاں چائے نوشی کا اہتمام تھا۔ اسی دوران طلبہ نے نعت خوانی کی، جو بےحد دلنشین تھی۔ ایک بچے نے نعت پیش کی جس کا مرکزی عنوان "خوشبو" تھا، جس کے اشعار میں نبی اکرم ﷺ کے سونے، جاگنے، چلنے، اور بولنے کو "خوشبو" سے تعبیر کیا گیا تھا۔ یہ ایک عمدہ استعارہ تھا، جو آپ ﷺ کی پاکیزگی، برکت اور نورانیت کی علامت تھا۔ بعد ازاں، ہم سب خلد آباد میں حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کی آخری آرام گاہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے۔ مولانا محفوظ الرحمن صاحب پہلے جانے کے لیے آمادہ نہ تھے، لیکن میرے اصرار پر راضی ہوگئے۔ ہمارے قافلے کے میرِ کارواں حضرت مولانا قاری محمد یونس صاحب چودھری (نائب خازن جمعیت علماء مہاراشٹر) اگلی نشست پر بیٹھے، جبکہ میں (شاہ امان اللہ ندوی)، قاری عبد الرشید صاحب اور مولانا محفوظ الرحمن صاحب پچھلی نشست پر تھے۔ یہ سفر تقریباً آدھے گھنٹے کا تھا۔ سب سے پہلے ہم حضرت خواجہ ممتجں الدین زرزری زر بخش رحمہ اللہ کے مزار پر حاضر ہوئے، فاتحہ خوانی کی اور ایصالِ ثواب کیا۔ مزار کے قریب ہی ایک مسجد تھی، جہاں قاری محمد یونس چودھری صاحب کی تجویز پر ہم نے نمازِ ظہر ادا کی۔ کچھ دیر وہاں آرام کیا، اسی دوران قاری عبد الرشید صاحب استنجا اور وضو سے فارغ ہوکر آگئے۔ ادھر قاری یونس صاحب نے میری توجہ ایک دلچسپ پہلو کی طرف مبذول کرائی کہ شجرۂ مشائخ چشتیہ میں ایک مقام غائب ہے۔ جب میں نے خود غور کیا تو واقعی بیسواں نام غائب تھا۔ اس شجرے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کے بعد حضرت بابا فرید الدین شکر گنج رحمہ اللہ کا ذکر تھا، لیکن ان دونوں کے درمیان کا ایک اہم نام موجود نہیں تھا۔ یعنی، سلسلہ خواجہ زرزری زر بخش رحمہ اللہ تک براہِ راست پہنچ رہا تھا، جو تاریخی طور پر درست نہ تھا۔ ہم نے وہاں کے ذمہ دار کو بلایا اور اس بابت دریافت کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ نام چھوٹ گیا ہے، لیکن جب ہم حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے مزار پر جائیں گے، تو وہاں ایک کتبہ موجود ہے جس میں یہ نام درج ہے۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور حضرت اورنگزیب رحمہ اللہ کے مزار کے قریب ان کے یعنی خواجہ زرزری زربخش کےبھائی خواجہ برہان الدین کے مقبرے پر پہنچے، جہاں واقعی وہ نام درج تھا جو شجرے میں غائب تھا۔ اس کتبے سے معلوم ہوا کہ درمیان میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کا نام درج ہونا چاہیے تھا، جو وہاں کے شجرے میں نہیں لکھا گیا تھا۔ سلسلہ مشائخ چشتیہ کچھ یوں ہے: 1. حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ 2. حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمہ اللہ 3. حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمہ اللہ 4. حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ 5. حضرت خواجہ زرزری زر بخش رحمہ اللہ 6. حضرت برہان الدین رحمہ اللہ یہ دیکھنے کے بعد ہم آگے بڑھے اور علاقے کی مشہور میٹھائی، جسے بہار میں "خواجہ منصوری" کہا جاتا ہے، خریدی۔ پانچوں حضرات نے شوق سے اسے تناول کیا۔ یہیں سے کچھ ہی فاصلے پر حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کی آخری آرام گاہ تھی، جس کے لیے ہم نے قصد کیا۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی ہم نے میٹھائی کا لطف اٹھایا، اور اس بابرکت سفر کی یادیں ذہن میں تازہ کرتے ہوئے اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کےمزار کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ ہم لوگوں کا اصل مقصد حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے مزار کی زیارت تھا۔ تمام دیگر زیارتوں سے فارغ ہو کر ہم حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے مزار پر پہنچے۔ سامنے حضرت خواجہ برہان الدین رحمہ اللہ کا مقبرہ تھا، مگر ہم سب نے پہلے حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے مزار کا قصد کیا، اور یہ حکم میرِ کارواں جناب حضرت مولانا قاری محمد یونس صاحب چودھری کا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی سامنے ایک وسیع میدان نظر آیا، بغل میں وضو خانہ اور مسجد تھی، جبکہ بائیں طرف حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کا مزار تھا۔ ہم سب ان کے مزار والے حصے میں داخل ہوئے، جہاں دیگر زائرین اور محبین بھی موجود تھے۔ مزار پر ایک نابینا صاحب کھڑے تھے، انہوں نے سوال کیا کہ آپ سب کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ جواب دیا گیا کہ ہم ممبئی سے آئے ہوئے ہیں۔ اس پر انہوں نے بلند آواز میں حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کی تاریخ بیان کرنی شروع کر دی— وہ کون تھے، کہاں پیدا ہوئے، اور کس طرح یہاں پہنچے۔ ہم سب نے فاتحہ خوانی اور ایصالِ ثواب کیا۔ حضرت شیخ یونس چودھری صاحب نے اپنی جیبِ خاص سے نابینا شخص کو کچھ رقم دی، جو ہم سب کی طرف سے کفارہ ہو گیا۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کی قبر مبارک آج بھی ان کی وصیت کے مطابق کچی ہے، اگرچہ حال ہی میں اس کے ارد گرد سفید سنگِ مرمر لگایا گیا ہے۔ تصویر لینے کا ارادہ کیا، مگر وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے تصویر لینے سے منع کر دیا۔ اسی مزار کے قریب حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے پیرہن وغیرہ بھی محفوظ ہیں، جن کا مشاہدہ کرکے دل کو سکون ملا۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ ہندوستان کے ایک جلیل القدر بادشاہ تھے، نہایت نیک، متقی، پرہیزگار اور صاحبِ علم۔ انہوں نے کبھی سرکاری خزانے سے ایک حبہ بھی نہیں لیا، بلکہ ٹوپیاں سی کر اور قرآنِ مجید اپنے ہاتھ سے لکھ کر اپنا گزارا کرتے تھے۔ ان کے جمع کردہ اور مرتب کروائے گئے فتاوے، جنہیں "فتاویٰ عالمگیری" یا "فتاویٰ ہندیہ" کہا جاتا ہے، ان کی نجات کے لیے کافی ہیں۔ آج بھی پوری دنیا میں ان فتاوے کو مستند اور مرجع کی حیثیت حاصل ہے، اور یقیناً اس کا ثواب حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کو پہنچتا ہوگا۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کا سب سے نمایاں وصف عدل، حلال و حرام میں تمیز، اور تقویٰ تھا، جو انہیں دیگر بادشاہوں سے ممتاز کرتا ہے۔ مغرب کے بعد حضرت مولانا محفوظ الرحمن صاحب قاسمی، مہتمم دارالعلوم امدادیہ، کے یہاں دعائیہ نشست طے تھی، اور انہیں انتظام و انصرام بھی کرنا تھا۔ ان کے اصرار پر ہم لوگ جلدی واپس ہوئے۔ راستے میں ایک انوکھے تالاب اور ایک وسیع پہاڑ کو دیکھا، جس کے اندر حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے زمانے میں چھاؤنی بنی تھی۔ یہاں ایک پارلیمنٹ ہاؤس بھی تھا اور دیگر تاریخی آثار بھی موجود تھے، مگر اوپر چڑھنا دشوار تھا۔ میرِ کارواں حضرت قاری محمد یونس چودھری صاحب نے یہ کہہ کر ارادہ ملتوی کر دیا کہ "آئندہ کبھی آئیں گے تو دیکھیں گے، ان شاءاللہ۔" ہمت ہارنا کچھ اچھا نہیں لگا، مگر حضرت مولانا محفوظ الرحمن صاحب کی محبت اور رعایت میں انہوں نے ایسا کہا۔ واپسی کے سفر میں ہم لوگ اپنے متعینہ کار میں بیٹھے۔ راستے میں ایک بڑا ڈھابہ نظر آیا، جس کا نام "بلو اسٹار ڈھابہ" تھا۔ چونکہ دوپہر کا وقت ہو چکا تھا، ہم لوگ یہاں رکے اور بہت ہی نفیس قسم کا کھانا تناول کیا۔ اس دوران علمی و فکری گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ رات کی خاموشی میں ہوا مدھم سرگوشیاں کر رہی تھی، درختوں کی شاخیں جیسے کوئی ان کہی داستان سنانے کو بے تاب تھیں۔ اور ہم، اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے مزار کی زیارت سے لوٹ رہے تھے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا، جو تاریخ کی گہرائیوں میں لے جانے کے لیے کافی تھا۔ دل کی کیفیت کچھ عجیب سی تھی—ایک روحانی سرشاری، ایک خاموش عقیدت۔ تھکن کے باوجود دل کو قرار تھا۔ کچھ دیر آرام کیا، پھر مغرب کی اذان نے بیدار کر دیا۔ وضو کے پانی نے سفر کی گرد دھو دی اور ہم ایک نئے عزم کے ساتھ دارالعلوم امدادیہ، ہرسول ساؤنگی اورنگ آباد کی طرف روانہ ہوئے، جہاں ایک روح پرور محفل ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ دارالعلوم پہنچے تو ماحول پرنور تھا، چراغاں کی مدھم روشنی، طلبہ کے پرجوش چہرے، علما کی باوقار موجودگی—سب کچھ ایک روحانی محفل کا منظر پیش کر رہا تھا۔ صدارت کی مسند پر حضرت مولانا قاری محمد یونس صاحب چودھری دامت برکاتہم العالیہ، نائب خازن جمعیت علماء مہاراشٹرا جلوہ افروز تھے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے قاری عبد الرشید صاحب اندھیری، رکن جمعیت علماء مہاراشٹرا، حافظ شیر صاحب صدر جمعیت علماء اورنگ آباد، اور مولانا ابرار صاحب امام وخطیب جامع مسجد نیا نگر بھی رونق بخش رہے تھے۔ نظامت کی ذمہ داری ناچیز کے سپرد ہوئی، اور میں نے لرزتے الفاظ مگر مضبوط ارادے کے ساتھ اس بابرکت محفل کا آغاز کیا۔ پروگرام کا پہلا مرحلہ طلبہ کے رنگا رنگ مظاہرے پر مشتمل تھا۔ قرآن کی تلاوت سے نور برسا، نعتوں کی خوشبو سے فضا مہک اٹھی، تقاریر نے علم و فکر کی شمعیں روشن کیں، اور مکالموں نے سامعین کو محظوظ کر دیا۔ ہر پہلو دلکش تھا، ہر لمحہ یادگار۔ سامعین ہمہ تن گوش تھے، خوشی اور مسرت ہر چہرے سے عیاں تھی۔ پھر بیان کا سلسلہ شروع ہوا۔ حافظ شیر صاحب نے نہایت عمدہ اور جامع انداز میں مخاطب کیا، مولانا ابرار صاحب کے پُرتاثیر کلمات نے محفل کو مزید سنوارا، اور آخر میں حضرت مولانا قاری محمد یونس صاحب چودھری نے اپنے پرجوش اور مدلل خطاب سے محفل میں جان ڈال دی۔ انہوں نے مدارس کی اہمیت کو اجاگر کیا اور فرمایا کہ تعصب ایک فطری امر ہے، مگر جب اس میں شدت پیدا ہو جائے تو یہ زہرِ ہلاہل بن جاتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ایک خاص تاثیر تھی، جو سننے والوں کے دل پر گہرا اثر چھوڑ گئی۔ پھر چادر پوشی کے ذریعے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اور وہ لمحہ آیا جس کا بچوں کو بے حد انتظار تھا—تقسیم انعامات! کامیاب طلبہ کے چہروں پر خوشی کی روشنی پھیل گئی، جب ان کے ہاتھوں میں انعامات سجے۔ سامعین نے بھی دل کھول کر بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔ ہر ایک بچے کے چہرے پر خوشی اور فخر کے رنگ بکھرتے دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ آخر میں دعا ہوئی، پھر عشائیہ کا اہتمام تھا۔ مہمانوں اور میزبانوں نے مل بیٹھ کر محبتوں کا یہ سفر مکمل کیا۔ مگر میرے لیے واپسی کا وقت آ چکا تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے کی بس لی، اور صبح چھ بجے بورولی پہنچا۔ جسم تھکاوٹ سے چور تھا، مگر دل یادوں کے لطیف لمس سے معمور۔ حضرت مولانا قاری محمد یونس صاحب چودھری اور قاری عبد الرشید صاحب کی رفاقت ہمیشہ یاد رہے گی، یہ ایک مثالی صحبت تھی، جس نے دل پر نقش چھوڑ دیے۔ اللہ ان سب کو ان کے حسنِ ظن کے مطابق بہترین اجر عطا فرمائے، اور ہمیں بار بار ایسے روحانی اور علمی سفر نصیب فرمائے، آمین۔ سرحدی عقاب

Comments