Quran Va Etrat
February 10, 2025 at 01:51 PM
*انقلاب کا پینتالیس سالہ سفر*
تحریر:ڈاکٹرمحمدحسین چمن آبادی
اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی پینتالیسویں سالگرہ کے موقعہ پر ہم مختلف شعبوں میں اس کی کامیابیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
جتنا ہم 1979ء سے دور ہوتے جارہے ہیں، اسی حساب سے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ترقی کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ سیاسی آزادی حاصل کرنے، عوامی شعور اور سیاسی شرکت میں اضافے، اور آٹھ سالہ دفاع مقدس میں پائیداری کے بعد، ایران نے مختلف میدانوں میں ایسی ترقی کی ہے جو ایک انقلابی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران کے نوجوانوں نے ۴ دہائیوں کی ظالمانہ اور کمر شکن پابندیوں کے باوجود، چیلنجز کو فرصت میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے کئی شعبوں میں عالمی سطح پر اعلیٰ مقام حاصل کر سکا ہے۔
*امریکی پابندیوں کی ناکامی*
انقلاب کے بعد ایران نے نانو تولید کر کے دنیا میں ساتواں اور جدید نانو علم میں چوتھا مقام حاصل کیا، نیز دنیا میں ہیموفیلی فیکٹر ۷ اور ۸ کی نئی ترکیبی ادویات پیدا کرنے والا دوسرا بڑا بن گیا ہے۔ ایران نے دنیا میں طاقتور لیزر بنانے والے ۵ ممالک میں اپنی جگہ بنائی لی ہے۔ اسی طرح حمل نہ ٹھہرنے کے علاج کے شعبے میں دنیا میں چوتھا اور آنکھوں کی بیماری کے علاج میں پندرہواں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ان صلاحیتوں کے ساتھ ایران دل کی سرجری اور دل کی وال کی جراحی کے معاملے میں دنیا کے ۱۰ بہترین ممالک میں شامل ہے، اس طرح اس ملک نے امریکہ کی پابندی کو ناکام بنا دیا ہے۔
*علمی ترقی میں پہلا رتبہ*
شاید ان لوگوں کے لیے جو ایران کو صنعتی اور علمی پیداوار میں ناکام سمجھتے ہیں، یہ تصور کرنا عجیب ہو کہ یہ ملک روبوٹکس کے علم میں دنیا کے چوتھے مقام پر کھڑا ہے اور اسٹیل کی صنعت میں دنیا کا دسواں مقام حاصل کر چکا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ صنعت میں بھی ایران ان چند ممالک میں شامل ہے جو سمندری سازوسامان کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے اور بحری صنعت میں بھی دنیا میں تیرہواں مقام حاصل کیا ہے۔ اس کے ساتھ، دنیا میں علم کی ترقی میں دوسرے نمبر پر ہے۔
*ایٹمی ایندھن کی پیداوار*
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، ایران نے پیٹرول امپورٹ کی فہرست نکل کر ایکسپورٹ کرنے والے ملکوں میں اپنا نام شامل کیا۔ ایٹمی صنعت میں بھی ایٹمی ایندھن کی پیداوار کے دائرے میں داخل ہوگیا ہے۔ ایران کی عسکری طاقت کے لحاظ سے تیرہواں اور میزائل سسٹم کے اعتبار سے دسواں بڑا ملک بن گیا ہے۔
*توانائی میں بڑی ترقی*
جیوتھرمل توانائی کی پیداوار میں علاقائی سطح پر پہلے اور مشرق وسطی میں پہلے اور عالمی سطح پر چودہویں مقام پر ہے۔ دوسری طرف، دنیا میں چین اور ترکی کے بعد ڈیم بنانے میں تیسرے نمبر پر کھڑا ہے، جو کہ ایک بڑی اور اہم پیشرفت تصور کی جاتی ہے۔
*21000 خواتین ٹیچرز*
ایران کی یونیورسٹیوں میں ۲۱ ہزار خواتین کی تدریس کر رہی ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی خواتین اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آزاد علمی فضاء میں ترقی کر رہی ہیں۔
انقلاب کے بعد، ایران دنیا میں زراعت کی مصنوعات کی پیداوار میں خودکفالت کے اعتبار سے تیرہویں مقام پر ہے۔ چالیس سال کی تمام پابندیوں کے باوجود، دنیا کی بڑے معیشتوں میں اٹھارہواں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
*ایران، دنیا کی ساتویں بڑی طاقت*
فضائی ترقی کے میدان میں، ایران آٹھواں بڑا ملک بن چکا ہے، البتہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس ملک کی سب سے بڑی ترقی، ملک کا سکیورٹی سسٹم ہے جس نے مشرق وسطیٰ جیسے بحران زدہ اپنے ملک کو بہترین انداز میں سکیور رکھا ہوا ہے۔ عسکری میدان میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران کئی شعبوں میں خودکفالت کا مرحلہ طے کر چکا ہے۔ امریکی جریدہ "امریکن اینٹرسٹ" لکھتا ہے کہ ایران دفاعی اور میزائل کے لحاظ سے ساتواں بڑا ملک بن چکا ہے"۔
بات صرف علم، معیشت اور فوجی طاقت کی نہیں ہے، بلکہ نسلی اعتبار سے ایران کے لوگ غیرت مند اور متمدن اقوام میں سے شمار ہوتے ہیں۔
*دشمنوں کا پروپیگنڈہ*
انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں سے ہی ایران کے دشمن اسلامی انقلاب کو توڑنے کی سر توڑ کوشش کوشش کر رہے ہیں۔ انھیں پتہ چل گیا ہے کہ عسکری جنگ کے ذریعے انقلاب اور نظام کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، لہذا وہ نرم جنگ کے ذریعہ لوگوں کے ذہنی تصورات کو مخدوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہاں تک کہ پچھلے ۴۵ سالوں میں دشمن کی حکمت عملی یہ رہی ہےکہ لوگوں کی سیاہ نمائی، مشکلات کی بڑی تصویر کشی اور انقلاب کی کامیابیوں کو چھوٹا بتا کر لوگوں کو مایوس اور ناامید کرے اور اسلامی حکومت کو ناکام دکھائے۔ دشمن فارسی نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے سیاہ نمائی کے منصوبے کو نافذ کرتے ہیں تاکہ اس طرح دوبارہ شہنشاہی اور طاغوتی نظام کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔
حالیہ برسوں میں مختلف بہانوں کے ذریعے ایرانی عوام کو سڑکوں پر لائے گئے تاکہ وہ افراد تفری پھیلائے اور اسلامی نظام کے خلاف نعرے لگا کر ملک میں بحران پیدا کریں، اور چونکہ آج کے نوجوانوں نے پہلوی دور کے سختیوں کو نہیں دیکھا، کبھی کبھار وہ ان سیاہ نمائی کے زیر اثر آجاتے ہیں اور ناخواستہ دشمن کے کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں۔
11 فروری 1979ء کو اسلامی انقلاب نے دنیا میں طاقت کے نظام کو برباد کیا، نظام طاغوت کو مات دی اور یہ دکھایا کہ غلامی کے زنجیروں کو کیسے اتار پھینکتے ہیں۔ اب ایران، دنیا کی بیس طاقتور ممالک میں شامل ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ان 45 سالوں میں اسلامی انقلاب نے اپنی ترقی کا سفر جاری رکھا۔ یہ انقلاب اپنی خود اعتمادی اور انقلابی جرأت کے ساتھ اقوام عالم میں سربلند اور عزت مند قوم کی حیثیت سے جی رہا ہے اور امریکی سفیروں، وزیروں، جرنیلوں کے تلوے نہیں چاٹتا ہے۔