KOH NOVELS URDU
KOH NOVELS URDU
February 3, 2025 at 05:49 PM
میرا یار بےدردی "از اقرا شیخ "قسط 19 """""""""""""""""""""""""""""""""" do not copy paste without my permission """""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""اس نے لیپ اسٹیک ڈریسنگ پہ رکھ کر اب آخری بار اپنا جائزہ لیا ... "ریڈ کلر کے کا سوٹ جس پر خوبصورتی سے گولڈن کام کیا ہو تھا ہلکے ہلکے میک اپ میں وہ غضب ڈہا رہی تھی اپنا مکمل جائزہ لینے کے بعد اب وہ اپنے بال بنانے لگی تھی بال بناتے بناتے اسکا دھیان زر کی طرف گیا تو ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اسکے ہونٹھوں کو چھوا تھا.. "آج وہ پہلی بار زر کے لئے دل سے اتنی تیار ہوئی تھی اسکا یہ انداز تھا اپنی محبت کا اظہار کرنے کا ورنہ زر کے سامنے تو اسکی بولتی ہی بند ہی جاتی تھی جبکہ ذر اسکو بار بار بولنے کے لئے اکساتا رہتا تھا پر ایک لفظ وہ بول نہیں پاتی تھی ورنہ وہ اسکو بتانا چاہتی تھی کہ وہ اسکے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے وہ اسکا عشق تھا اسکا سب کچھ حور سوچتے سوچتے ایک بار پھر مسکرا دی تھی... "زر جیسے ہی روم میں داخل ہوا تو ایک لمحے کے لئے اپنی جگہ پر کھڑا ہی رہ گیا تھا.. "حور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی خود ہی مسکرا رہی تھی کئی لمحے تو زر بس اسکو دیکھتا ہی رہا تھا .. "حور جو کھڑے خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھی کسی کی نظروں کی تپش سے اس نے گردن موڑ کے دیکھا زر سامنے ہی کھڑا اسکو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا اسکے اس طرح سے دیکھنے پر حور کی دھڑکن ایکدم بہت تیز ہوئی تھی .. "جبکہ زر اپنا کوٹ اتار کر اسکو صوفہ پر پھینکتے ہوئے اسکے بےحد قریب آ کر کھڑا ہوا تھا اسکو حور کو یوں اسکے لئے تیار ہوتے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی تھی.. ""زر نے ہاتھ بڑھا کر حور کے چہرے پہ آۓ بالوں کو پیچھے کیا اور اس کے کان کے پاس جاکر تھوڑا جھکا تھا .. "کس کے لئے اتنا تیار ہوا جا رہا ہے یا کہیں جا رہی ہو... "زر اپنی ہنسی کو روکتا حور سے انجان بنتا ہوا پوچھا اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا تھا.. ""حور جو اسکے جھکنے پہ اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی اسکی بات سن کر حور نے فورن اپنی آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا .. "آپکو لگ رہا ہے کہ میں کسی اور کہ لئے تیار ہوئی ہوں .. حور اسکی بات سن کر منہ بناتی ہوئی اس سے دور ہوئی تھی وہ جو زر کے منہ سے اپنے لئے کوئی تعریف کی توقع کر رہی تھی زر کہ الفاظ سن کر اسکو غصّہ آیا تھا... "ہاں یار تو اور کس کے لئے تیار ہوئی ہو.. "" اسکے اس طرح سے منہ بنانے پر زر کو اس پر بےحد پیار آیا تھا اسکا دل کیا کہ وہ حور کو اپنی باہوں میں بھر لے لیکن وہ اسکو تھوڑا تنگ کرنا چاہتا تھا اس لئے خود پر قابو پاتے ہوئے بولا تھا.. "کہاں جا رہی ہو."" اسکی بات سن کر حور منہ بناتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تھی کہ تبھی زر نے اسکے دوپٹہ کو کھنچ کر اپنی گرفت میں لیا تھا جس وجہ سے حور کے چلتے قدم رکے تھے .. "" میرا دوپٹہ واپس کریں مجھے چینج کرنے جانا ہے .. حور اسکے اس طرح سے اسکا دوپٹہ کھیچنے پر تھوڑا گھبراتی ہوئی بولی تھی۔۔۔ اسکو اس وقت زر سے بہت شرم آ رہی تھی.. "کیوں ابھی اسکو تو ٹھیک سے دیکھنے دو جسکے لئے تم اتنا تیار ہوئی ہو۔۔۔۔ زر حور کے پاس جاکر اسکو کمر سے پکڑ کے خود سے قریب کرتا ہوا بولا اور اسکی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسکے چہرے کو اوپر کیا تھا .. "حور اسکے ایکدم اتنا قریب آ جانے پر گھبرائی تھی زر اسکے چہرے کے ایک ایک نکوش کو دیکھ رہا تھا اسلیے اب حور کو مزید تنگ کرنا نہیں چاہا تھا.. "کس نے بولا کہ میں آپکے لئے یہ سب کیا ہے میرا تو بس دل کر رہا تھا تو بس اس لئے میں ....... "اس سے پہلے کہ حور مزید کچھ بولتی زر اس پہ جھکا تھا اور اسکا باقی کا جملہ اسکے منہ میں ہی رہ گیا تھا... ""زر کی اس حرکت پہ حور نے سختی سے اسکا کالر اپنی مٹھی میں دبوچا تھا جبکہ زر نے اس پہ اپنی پکڑ سخت کی تھی ... "آج تم نے خود مجھے اپنے قریب بلایا ہے اور میں یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا.. زر کچھ کے پل بعد اس سے الگ ہوتے ہوئے بولا تھا اور حور کو اپنی باہوں میں اٹھایا تھا... "زر کی قربت اور اسکے الفاظ سے حور خود میں ہی سمٹی تھی۔۔۔۔ وہ صحیح تو کہ رہا تھا آج پر اس میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ زر کی طرف دیکھ سکے. ""زر. ..زر اسکو بیڈ پہ لیٹا کر جب اس پر جھکا تو حور نے کانپتی آواز میں اسکو پکارا تھا اس وقت اسکا دل اس وقت بہت تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا چہرے پر اسکے حیا کی لالی تھی. "ہاں بولو جان .. زر اسکے لبوں کو چھوتے ہوئے بولا تھا... "میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں زر ... حور اسکے چہرے کو چھوتی ہوئی بولی تھی .. ""اسکا اظہار سن کر زر کھل کر مسکرایا تھا اور اسکا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر اپنے لبوں سے لگایا تھا... ""اب میں بتاتا ہوں کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں محبت نہیں بلکی عشق... اپنی بات کہ کے اس پر جھکا تھا اور اسکے چہرے کے ایک ایک نکوش کو چوم نے لگا تھا حور نے اپنے ہاتھ زر کے سینے پر رکھے تھے جن کو زر نے اپنے دونوں ہاتھوں میں قید کیا تھا... اور پھر حور نے خود کو زر کے سپرد کر دیا تھا جس پہ زر مسکرایا اور پھر اس پہ جھکتا چلا گیا تھا اور اپنی محبتیں۔۔۔شدتیں اس کے نازک وجود پر پھیلانے لگا تھا۔۔""""""" """"""""'""""''''''""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""" """""""""""پلیز آپی مجھے بس ایک بار ملنے دیں امی سے میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز بس ایک بار ملنے دیں... "گل روتے روتے سامنے کھڑی اپنی بہن سے فریاد کر رہی تھی جو اس وقت پتھر کی بنی کھڑی تھی اسکے اپر گل کے آنسو کا کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا.. ""میں آخری بار کہ رہی ہوں گل یہاں سے چلی جاؤ اور ہمارا مزید تماشہ مت بناؤ جتنا تماشہ تم بنا چکی ہو وہ کافی ہے.. ""ناز نفرت سے اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی اور نفرت ہوتی بھی کیوں نہ اس نے ان لوگوں کا مان توڑا تھا بھروسہ تھوڑا تھا جسکی تکلیف آج انکی ماں ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی اٹھا رہی تھی.. ""ناز کی باتیں سن کر گل کو لگا تھا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر چکی ہے لیکن اب تو وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا وہ اب کچھ نہیں کر سکتی تھی.. ""اس دن کے بعد سے اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ غلط نہیں ہونے دے گی اور یہی سب سوچتے ہوئے وہ شادی کے ایک ہفتہ پہلے ہی وہ اپنی فیملی کی عزت روند کر ثاقب کے سات چلی گئی تھی جس وجہ سے انکی بہت بدنامی ہوئی تھی ... اور آمنہ بیگم جو گل ناز اور عمر کی والدہ تھی یہ سب برداشت نہیں کر سکی اور آج ہسپتال میں اپنی آخری سانسیں لے رہیں تھی جب گل کو خبر ملی تو وہ دوڑتی ہوئی وہاں آئی تھی پر ناز اور عمر اسکو ان سے ملنے نہیں دے رہے تھے اور وہ کب سے انکی منت کر رہی تھی ان دونوں کا کہنا تھا کہ آج انکی امی کی جو حالت ہوئی ہے اسکی ذمیدار وہ تھی اور وہ لوگ ٹھیک بھی کہ رہے تھے .. ""تایا ابو آپ ہی کچھ بولے نہ ان لوگوں کو بولے کے ایک بار مجھے بس امی سے ملنے دیں... گل روتی ہوئی مصطفیٰ صاحب کے پاس آئی تھی جو بہت ہی نرم طبیعت کے مالک تھے انہوں نے کبھی بھی ان تینوں بہن بھائی اور سکندر اور راحت میں کوئی فرق نہیں رکھا تھا وہ انکو اپنی ہی اولاد کی طرح مانتے تھے... "تم نے تو کچھ کہنے اور سننے کے لئے چھوڑا ہی نہیں ہے میری بیٹی میں اب کیا کہ سکتا ہوں وہ لوگ میری بھی نہیں سنے گے... مصطفیٰ صاحب بےبسی سے بولے تھے انکو بھی گل پر بہت غصّہ تھا مگر اسکو آج اپنی ماں کے لئے تڑپتا دیکھ کر انکے لہجے میں نرمی آئی تھی ۔۔ "مل گیا تمھیں جواب اب دفع ہو جاو گل یہاں سے اور اپنی شکل کبھی مت دکھانا ہمیں اور اگر تمہاری وجہ سے میری امی کو کچھ ہوا نہ تو یاد رکھنا گل میری بددعا ہے تمھیں کہ تم کبھی خوش نہیں رہوگی تم نے ایک ماں کا دل دکھایا ہے ہمارا بھروسہ توڑا ہے یاد رکھنا گل تم کبھی خوش نہیں رہو گی ناز چیختے ہوئے بولی تھی سکندر اور راحت بولنا چاہتے تھے پر بول نہیں سکے تھے انکو گل کی حالت پر رحم آ رہا تھا... ""گل ناز کے منہ سے اپنے لئے بددعا سن کر تڑپ اٹھی تھی اور منہ پہ ہاتھ رکھتی ہوئی ہسپتال سے باہر بھاگی تھی آج اس نے سب کچھ کھو دیا تھا اپنی زندگی میں وہ ایسی نہیں تھی پر وہ تو سب کو خوش دیکھ کر خوش ہونے والو میں سے تھی پر کہتے ہے نہ کہ انسان جب شیطان کی باتوں میں آتا ہے تو وہ صحیح اور غلط کا فرق بھول جاتا ہے ایسا ہی کچھ گل کے ساتھ ہوا تھا اپنو کا دل توڑ کر اس نے جو قدم اٹھایا تھا اسکے بعد گل کے پاس پچھتاوے کے سوہ اور کچھ نہ تھا""""""""" '""""""""""""""""""""""""""""""""""""""" """"""""""صبح اسکی آنکھ کھلی تو اسکو اپنے اپر وزن سا محسوس ہوا حور نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو زر اسکو پوری طرح اپنی باہوں میں قید کئے سو رہا تھا اسکو سوتا دیکھ کر حور ہلکے سے مسکرائی تھی اور پھر رات کا ایک ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگا تھا اور رات کا منظر یاد کر کے حور خود میں ہی شرمائی تھی. ""اس نے جلدی سے گردن موڑ کے دیکھا کے کہیں زر جاگ تو نہیں رہا ہے پر اسکو سوتا پاکر اسکو سکون ملا تھا اگر وہ اسکو اس طرح خود میں مسکراتا دیکھ لیتا تو اس سے سوال ضرور کرتا جسکا جواب اسکے پاس نہیں تھا اور بتاتی بھی کیا .. "حور بہت ہی آرام سے خود کو اسکی پکڑ سے آزاد کراتی ہوئی اٹھی اور جلدی سے واشروم میں گھس گئی تھی ... ""کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئی تو زر ابھی بھی سو رہا تھا وہ چلتی ہوئی ڈریسنگ کے پاس آکر رکی اپنے گیلے بالوں کو ٹاول سے آزاد کر کے انکو سلجھانے لگی تھی ... "کتنی ظالم بیوی ہو تم میں تھوڑی دیر کے لئے کیا سویا تمھیں تو بہانہ مل گیا مجھ سے دور جانے کا "" "وہ ابھی بال ہی سلجھا رہی تھی جب اٹھا اور اسکو پیچھے سے اپنے باہوں میں قید کرتا ہوا بولا تھا... ""آپ اٹھے ہوئے تھے... حور تھوڑا شرماتی ہوئی بولی تھی . "تمہارے دور جانے پر ہی میری آنکھ کھلی ہے ورنہ جب تک تم میرے پاس تھی میں سکون سے لیٹا تھا .. زر اسکے بالوں میں سے آتی ہوئی خوشبوں کو اپنے اندر اتارتے ہوئے بولا تھا اور اسکے بالوں سے ایک سائیڈ پہ کر کے اسکی گردن پہ اپنے لب رکھ دئیے تھے.. "حور اسکی اس گستاخی پر شرم سے لال ہوئی تھی دھڑکن ایک دم تیز ہوئی تھی.. "زر .. اس نے پھر سے بہت آہستگی سے اسکو پکارا تھا جبکہ زر تو بس کھڑا اس پر اپنی محبت کی بارش کر رہا تھا.. "زر مجھے یونی کے لئے دیر ہو رہی ہے.۔۔ "اسکو پھر سے شروع ہوتا دیکھ کر حور اپنی دھڑکنوں پہ قابو کرتی ہوئی بولی تھی.. "کوئی کہیں نہیں جا رہا ہے آج ... زر اسکا رخ اپنی طرف کر کے اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے بےخودی کے عالم میں بولا تھا حور نے سختی سے اسکی شرٹ کو پکڑا ہوا تھا زر کی گستاخیاں بڑھتی ہی جا رہی تھی ... ""زر مجھے بھوک لگ رہی ہے پلیز جانے دیں... حور اسکو رکتا ہوا نہ دیکھ کر پھر سے بولی تھی اسکو لگ رہا تھا کہ اب زر اسکو کسی حال میں چھوڑنے والا نہیں ہے.... ""اسکی بات سن کر زر نے اپنا چہرہ اٹھا کر اسکو دیکھا جو اسکی قربت میں پوری طرح کانپ رہی تھی اسکو ایک پل اسکی حالت پر رحم تو آیا تھا پر وہ اسکو آج چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا... ""بھوک تو مجھے بھی بہت لگی ہے زر ذومعنی لہجے میں بولا تھا اور پھر سے اسکے لبوں پہ جھک گیا تھا حور اسکی شدت پر اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی... "حور تم نے مجھے اپنا اتنا دیوانہ بنا لیا ہے کہ میں ایک پل بھی تم سے دور رہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں .... "زر اسکے لبوں کو آزاد کرتا ہوا بولا تھا اور پھر سے جھک کے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے ... "اسکی بات سن کر حور محبت بھری نظروں سے اسکو دیکھنے لگی تھی .. "اس طرح سے نہ دیکھو یار ورنہ... زر اپنی بات ادھوری چھوڑتا شرارت سے اسکے اوپر جھکا تو حور شرما کے اسکے سینے پر سر رکھ گئی تھی جس پہ زر مسکراتا ہوا اس پر اپنا گھیرا تنگ کر گیا تھا""""""""""""""""" """""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""__"" """""""""اسکے ہسپتال سے جانے کے بعد آمنہ بیگم اس دنیا سے ہی رخصت ہو گئی تھی اور انکے جانے کے بعد سب ٹوٹ چکے تھے ایک بہت بڑا صدمہ تھا جو سب کو لگا تھا وقت کا کام ہے گزرنا تو گزرتا گیا اس کے بعد راحت بیگم بھی اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اپنی چار سالہ بیٹی کو لیکر اپنے گھر واپس آ گئی تھی مصطفیٰ صاحب اپنی بیٹی کا غم برداشت نہیں کر سکے اور وہ بھی سب کو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے. "اور ناز بیگم کی نفرت گل کے لئے کبھی کم نہ ہوئی تھی لیکن اس درمیان سکندر صاحب نے بہت کوشش کی تھی گل کو ڈھونڈھنے کی پر وہ انکو کہیں نہ ملی تھی .. "اور پھر ایک دن اچانک ملی بھی تھی کس حال میں ملی تھی اور پھر انکی حالت دیکھ کر انہوں نے حور کو اپنی بہو بنا لیا تھا مگر گل نے ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ کسی کو یہ نہیں بتائے گے کہ حور کس کی بیٹی ہیں وہ نہیں چاہتی تھی کہ انکے حصّے کی نفرت وہ اسکی بیٹی سے کرتے اور پھر انہوں نے وہ ہی کیا تھا جو گل نے کہا تھا اتنا وقت بیت گیا تھا مگر نہ تو ناز بیگم نے کبھی اپنی بہن کے بارے میں ذکر کیا تھا اور نہ ہی عمر نے یہاں تک کہ انہو نے یہ تک جاننے کی کوشش نہیں کی کہ انکی بہن زندہ بھی یا نہیں .....پر جب وہ حور کو اس گھر میں لے کر آۓ تھے تو انہونے راحت بیگم سے کچھ نہیں چھپایا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کہیں نہ کہیں راحت گل کے بارے میں سوچتی رہتی ہے اور پھر جب راحت بیگم کو بہت دکھ ہوا تھا گل کے بارے میں سن کر پھر انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ حور کو کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گی اور انہوں نے ایسا ہی کیا تھا.. "" سکندر صاحب سوچتے تھے کہ کوئی اتنا پتھر دل بھی ہوتا ہے کیا اور ناز بیگم کو دیکھ کر انکو یقین ہو جاتا تھا وہ اس بات کو مانتے تھے کہ گل سے غلطی ہوئی ہے پر اسکو اسکی غلطی کی سزا زندگی میں ہی مل گئی تھی وہ آج بھی جب بھی وہ گل کے بارے میں سوچتے تو ایک درد انکے دل میں تھا جس کو وہ صرف راحت بیگم کے سامنے ہی بیان کرتے تھے""""""جاری ہے """""""" ""''''''''''''''''''""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""
❤️ 💜 🕊️ 🧌 7

Comments