United State Jammu & Kashmir
February 8, 2025 at 10:26 AM
1990ء میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی تحریک عروج پر تھی پوری دنیا میں مسلہ کشمیر ڈسکس ہو رہا تھا پوری دنیا میں خود مختار جموں کشمیر کے ڈنکے بج رہے تھے انٹرنیشنل میڈیا کوریج دیتا تھا بی بی سی ، سی این این ، وی او اے کوریج دیتے تھے لبریشن فرنٹ کے کمانڈر انچیف اشفاق مجید وانی جب شہید ہوئے تو 15 لاکھ لوگ انکے جنازے پر ائے جس کی کوریج بی بی سی اور سی این این نے دی تب اس بین الاقوامی حمایت یافتہ تحریک کو روکنے کے لیے پھر انڈیا اور پاکستان نے سر جوڑے اور اِدھر اسوقت کی نئی نویلی وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے خفیہ اداروں کا اجلاس بلایا جس میں اس نے کہا کہ تم اُس کشمیر کی بات کرتے ہو یہ کشمیر بھی ہاتھہ سے جا رہا ہے یعنی کشمیر خود مختار ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے کیونکہ لبریشن فرنٹ نے بھی میڈیا پر اعلان کیا ہوا تھا کہ ہم 5 سال میں کشمیر آزاد کروا دیں گے ابھی دو سال ہی گزرے تھے کہ پاکستان کی حکومت اور خفیہ اداروں کی مشاورت سے جماعت اسلامی کو ایک پلان کے تحت ٹاسک دیا گیا اور اسکی ذہلی تنظیم حزب المجاہدین وادی میں لانچ کی گئی جس نے سب سے پہلے وادی میں جے کے ایل ایف کے مجاہدین کے خلاف محاذ کھولا اور 6 مہینے کے اندر سولہ سو لبریشن فرنٹ کے مجاہد انہوں نے شہید کیے ہزاروں کی تعداد میں مخبریاں کر کے شہید کروائے یہ انڈیا کی مدد نہیں تھی تو اور کیا تھا اور انڈین میڈیا پر خبریں نشر ہوئیں کہ پاکستان نے حزب لانچ کر کے مدد کی ورنہ سرینگر سے ہمارے پاؤں اکھڑ گئے تھے جب لبریشن فرنٹ کے سنئیر وائس چئرمین رؤف کشمیری بھی گرفتار ہو گئے یاسین ملک نے بھی بعد میں ان کے کہنے پہ گن سٹریگل سے سرینڈر کر دیا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لبریشن فرنٹ کے لوگ شہید ہو گئے جن کے سامنے ایک طرف بھارتی فوج کی گن تھی اور پیٹھہ کے پیچھے پاکستان کی گن تھی تب سے عالمی شہرت و حمایت یافتہ تحریک منافقوں قاتلوں نے پاکستانی رنگ میں بدل دی اور لاشوں پر پاکستانی جھنڈے لپیٹ کر دفن کرنے لگے یوں 5 فروری 1990 کو جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے اپنی اس منافقانہ کامیابی پر پاکستان میں ہڑتال کی کال دی جس کی حمایت اسوقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور وزیراعلی پنجاب نواز شریف نے بھی کی اور کشمیریوں کے ساتھہ یکجہتی کا نیا ڈرامہ چلایا جس کی اب تک 35 اقساط چلائی جا چکی ہیں
ذہلی ویڈیو سری نگر کی ہے جس سے عہد حاضر کے یزیدوں کو بخوبی پہچانا جا سکتا ہے
14سو سال گزرنے کے باوجود یزید کا دربار پوری شان و شوکت سے آباد ہے
❤️
👍
5