Fiqh al Qulub | Understanding of Hearts
Fiqh al Qulub | Understanding of Hearts
February 4, 2025 at 01:11 PM
*قلب / دل قرآن وحدیث کی نظر میں* عربی زبان میں "قلب "بمعنی دل کا لفظ *متعدد معانی* کے لیے استعمال ہوتاہے: (1) گوشت کا ٹکڑا جو ،سینے کے بائیں جانب موجود ہے۔ (2) عقل (3) جوہر نورانی (4) کسی چیز کا وسط (5) کسی چیز کا خلاصہ اور مغز (6) رائے اور تدبیر (7) معرفت (8) فہم ، ادراک وتعقل۔ *قلب* انسانی جسم کا اہم عضو ہے، جو جسم انسانی کی طرح فکر وعمل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے،اس لیے قرآن وحدیث کی نظر میں قلب کی درستی پر انسانی عمل کی درستی کا مدار ہےاورقرآن وحدیث میں قلب بمعنی دل کو ذہانت کا منبع، غور وفکر اور تدبر وبصیرت کی صلاحیت رکھنے والا قرار دیا گیا ہے۔ ✨ *رسول اللہ ﷺ نے فرمایا* سنو! انسانی جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ جائے گا۔ جان لو کہ یہ قلب ہے‘‘ (بخاری، مسلم ) اللہ تعالیٰ کا نور جو زمینوں و آسمانوں میں نہیں سما سکتا وہ مومن کے قلب میں سما سکتا ہے الفاظ زبان پر ہوتے ہیں لیکن ان کا اصل یعنی کیفیت قلب میں ہوتی ہے یہی تصدیق قلبی کہلاتی ہے – یہ کیفیات ایک قلب سے دوسرے قلب میں نفوذ کرتی ہیں جس طرح رسول اللہ ﷺ کی صحبت نے ایمان والوں کو شرف صحابیت سے نوازا آج بھی اللہ والوں کی محبت و صحبت ایمان اور یقین میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ تزکیہ کی ابتدا اور انتہا سبھی "قلب" کی اصلاح پر موقوف ہے- عقائد کا یقین ، تسلیم و رضا کی کیفیت ، صبر و شکر کے جذبے ، اطمینان و سکون ، توکل ، اخلاص اور تقویٰ سبھی کا دار و مدار قلب کی اصلاح پر ہے۔ *اللہ تعالٰی نے قرآن میں قلب کی مختلف اقسام بیان کی ہیں* ‼️اپنا جائزہ لینا کہ ان میں سے میرا دل کون سا ہے۔۔۔ *سخت قلب* یہ ایسے دل ہیں جو عبرت کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی سخت ہی رہتے ہیں۔ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ‎﴿البقرة: ٧٤﴾‏ *زنگ آلود قلب* برے اعمال کی وجہ سے دلوں پر زنگ چڑھ جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے انسانوں کو حق بات نظر ہی نہیں آتی ۔ كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ‘۔ (المطففین۔١٤) *گناہ آلود قلب* ۔ جو لوگ شہادت کو چھپاتے ہیں اور حق بات کہنے سے گریز کرتے ہیں ،ان کے دل گناہ آلود ہوتے ہیں۔ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ‎البقرة: ٢٨٣﴾‏ *ٹیڑھے قلب* جو لوگ فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں جان لو کہ ان کے دلوں میں ٹیڑھ ہے۔ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ (ال عمران۔٧) *نہ سوچنے والے قلب* ۖ لَـهُـمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِـهَاۖ وَلَـهُـمْ اَعْيُـنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِـهَاۖ وَلَـهُـمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْـمَعُوْنَ بِـهَا ۚ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُـمْ اَضَلُّ ۚ اُولٰٓئِكَ هُـمُ الْغَافِلُوْنَ( الاعراف) حقیقت یہ ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔‘ ‘ان کے پاس دل ہیں مگر سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں مگر سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں۔ *مہر لگے ہوئے قلب* جو حد سے گزر جائے گا اس کے دل پر ٹھپہ لگ جائے گا یعنی ہدایت حاصل نہ کر سکے گا. فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ‌ ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۞(يونس۔ 74) *اندھےقلب* جو عبرت حاصل نہ کرے، اس کا دل اندھا ہوتا ہے۔۔؟فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰـكِنۡ تَعۡمَى الۡـقُلُوۡبُ الَّتِىۡ فِى الصُّدُوۡرِ ۞ *متکبر قلب* ۔ اللہ ہر متکبر اور جبار کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔۔۔كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ۞(غافر۔ 35) 🌸 *قلب سلیم* : سلامت دل یعنی وہ دل جس کا مالک شبہات و شہوات کا شکار ہونے سے بچا ہوا ہو اور احکامِ الٰہیہ پر استقامت سے قائم ہو، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سنّتوں پر عامل اور اسلافِ کرام کی پیروی کرنے والا ہو۔ سورۃ الشعراء میں فرمایا:یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ۔۔۔ وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ *قلبِ سلیم جو کہ احکامِ الٰہیہ پر کاربند اور معصیت و گناہ سے دور رہنے والا ہوتاہے، اسے قراٰنِ کریم میں کئی صفات سے موسوم کیا گیا ہے۔* 🌸 *قلبِ مطمئن* :یادِ الٰہی سے چین پانے والا دل قلبِ مطمئن کہلاتا ہے۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) الرعد 🌸 *قلبِ مُنیب* اللہ کریم سے ڈرنے اور خشیت رکھنے والا دل قلبِ منیب ہے جیسا کہ سورۂ قٓ میں ہے:۔۔۔مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ(۳۳) قلبِ منیب لانے والے کا انعام .. اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ(۳۴) لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ(۳۵) 🌸 *قلبِ وجِل* سلامتی والے دل کی ایک قسم قلبِ وجِل یعنی ڈرنے والا دل بھی ہے، اہلِ ایمان کی خاص علامات میں سے ایک علامت یاِدِ الٰہی کے وقت دل کا ڈرجانا بھی ہے ۔۔اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ (الانفال) سورۃ الحج میں ڈرنے والا دل رکھنے والوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے ۔۔وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ...۔۔اسی طرح فرمایا وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ۔ (مؤمنون) *🌸قلبِ لِین* لین کے معنیٰ نرمی کے ہیں، قرآنِ کریم میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے دلوں کے نرم ہونے کا ارشاد فرمایا گیاہے، چنانچہ سورۃ الزمر میں ہے: اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ﳓ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ-ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِؕ-۔۔ 🌸 *قلبِ خاشِع* یادِ الٰہی سے خشیت پانے والے دل کو قلبِ خاشع کہتے ہیں، اس کے بارے میں سورۃ الحدید میں فرمایا:۔۔اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ- 🌸 *قلبِ سکینہ* اللہ کریم نے جن اہلِ ایمان کے دلوں پر سکینہ نازل فرمایا، انہیں قلبِ سکینہ سے تعبیر کرسکتے ہیں ، جن کے دلوں پر سکینہ نازل فرمایا گیا انہیں ایمان و یقین کے بڑھنے اور رضائے الٰہی کی نوید بھی سنائی گئی، سورۃ الفتح میں ہے: هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْؕ- 🌸 *قلبِ مَربوط* ربّ کریم کی ثنا و توصیف کرنے اور صرف اسی کو معبود ماننے والوں کے دلوں کو مضبوط کیے جانے کی قرآنی نوید ہے، وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا الکہف) 🌸 *قلبِ مُخبِت* مخبت کہتے ہیں جھکنے والے کو، قراٰنِ کریم میں ”دلوں کا جھک جانا“ ایمان کا تقاضا بیان کیا گیا ہے، وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْؕ ۔۔(الحج) *اللہم انا نسئلک قلبا سلیما*
❤️ 👍 27

Comments