Mufti Touqueer Badar Alqasmi Alazhari
February 4, 2025 at 07:15 AM
کیا فرماتے ہیں علماء دین و شرع متین!
زید خود تاجر ہے اس نے ملکی سطح پر اکسپورٹ امپورٹ کا کاروبار کرنے والے تاجر کو بیرون ملک رقم دیا،رقم دینے کی وجہ یہ ہوئی کہ تاجر کو رقم کی ضرورت تھی ،بجائے قرض لینے کے اس نے زید کو تجارت میں شریک کیا دونوں کے درمیان یہ معاہد ہ ہوا کہ سامان تجارت ملک پہنچتے ہی رقم مع منافع زید کو ادا کرے گا، کیوں کہ زید آگے کے مراحل میں نہیں جانا چاہتا ، کہ مال آئے فروخت ہو پھر تم اور منافع ملے ۔
واضح رہے کہ شریک غیر ایمان والا ہے، زید کو اب فکر ہوئی کہ اس طرح معاہدہ کر کے نفع حاصل کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ ۔
یا جواز کی کیا صورت ہو سکتی ہے، معاملہ کے باقی رکھنے کے ساتھ ۔ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں ۔
اس صورت میں اسلامی فقہ و شریعت کیا کہتی ہے بتائیں!
مہربانی ہوگی!
اے سلام ثاقبی کلکتہ
=====
الجواب۔۔۔۔۔۔باسم یلھم الصواب!
مذکورہ سوال کا تفصیلی جواب اسلامی فقہ کی روشنی میں جواز و عدم جواز دونوں صورت کی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے ۔
زید نے مذکورہ تاجر کو جو پیسے دییے ہیں اور واپسی میں اسے جو نفع مل رہا ہے ،پہلے اسکی حیثیت متعین کرنا ہوگی۔
ایسا اس لیے کیونکہ یہ معاملہ سرمایہ کاری (مضاربت یا شرکت) اور قرض کے درمیان کوئی ایک مخصوص صورت معلوم ہو رہا ہے۔ چونکہ زید نے ایک غیر مسلم تاجر کو سرمایہ فراہم کیا ہے اور یہ طے پایا کہ سامان ملک پہنچنے پر اصل رقم کے ساتھ منافع بھی ملے گا، تو شرعی اصولوں کے مطابق اس میں درج ذیل شرعی نکات غور طلب ہونگے:
آیا زید نے یہ قرض کے طور پر دی ہے یا سرمایہ کاری کی نیت سے ؟
اگر زید نے یہ رقم بطور قرض دی ہے اور اس پر مشروط نفع حاصل کر رہا ہے، تو یہ سود (ربا) ہوگا،جو کہ شرعا ناجائز وحرام ہے۔
اگر زید نے سرمایہ کاری کی نیت سے رقم دی ہے اور نفع و نقصان میں شرکت ہے، تو پھر معاملہ شرکت یا مضاربت کے اصولوں کے تحت آ سکتا ہے۔
چنانچہ شرعاً اس ڈیل و کاروبار کو شرعی دائرے میں رکھنے کے لیے درج ذیل اصلاحات کی جا سکتی ہیں:
الف) مضاربت کا معاہدہ
زید کو یہ معاملہ مضاربت کی بنیاد پر کرنا ہوگا،جس میں وہ سرمایہ کار (رب المال) ہوگا اور غیر مسلم تاجر کام کرنے والا (مضارب) ہوگا۔
اس معاہدے میں نفع طے شدہ فیصد کے مطابق تقسیم ہوگا، نہ کہ فکسڈ رقم کے طور پر۔
نقصان کی صورت میں زید کو نقصان برداشت کرنا ہوگا (بشرطیکہ تاجر نے بددیانتی یا غفلت نہ کی ہو)۔
ب) مرابحہ بشکل عینہ کا معاہدہ
زید اگر چاہے تو مرابحہ کا طریقہ اپنا سکتا ہے،یعنی وہ تاجر،جسے اس نے پیسے دییے ،اس سے پہلے ہی وہ مال خرید لے اور پھر آگے اسے ہی واپس نفع پر بیچ دے،اس میں نفع پہلے سے طے کیا جا سکتا ہے۔یہ اصلا عینہ ہے۔اسکی بھی مخصوص صورت میں اجازت ہے۔
اسی سے ملتا جلتا جائز صورت ایک یہ بھی ہے کہ زید ،اس تاجر کو مخصوص مال خریدنے کے لئے اپنا وکیل بنائے اور اسے رقم ادا کردے ۔ یہ تاجر زید کے لئے مال خرید کر اپنے قبضے میں لے لے۔
قبضے میں لینے کے بعد یہ تاجر زید کو خبر دے کہ میں نے مخصوص مال آپ کے لئے خرید کر اپنے قبضے میں لے لیا ہے ، اور اب میں وہ مال آپ سے ادھار خریدتا ہوں۔
یہ خبر ملنے کے بعد زید تاجر کو وہ مال نفع کے ساتھ ادھار فروخت کردے اور ادائگی کی تاریخ طے کردے۔اور تاجر کو بتادے کہ وہ مال میں نے آپ کو اتنی رقم کے عوض ادھار فروخت کردیا ہے ، قیمت کی ادائیگی فلاں تاریخ تک کردیں ۔
تاجر اس کے جواب میں زید کو کہے کہ میں نے وہ مال اتنے میں خرید لیا اور مال پر میں نے اپنے لئے قبضہ بھی کرلیا ،اب وہ مال میرے رسک پر ہے۔
اس طرح ترتیب سے معاملہ کرنے سے حاصل شدہ نفع جائز ہوگا۔
ج) شرکتِ عقد (پارٹنرشپ)
اگر زید شرکت کرنا چاہتا ہے تو اسے باقاعدہ پارٹنر بننا ہوگا اور کاروبار کے نفع و نقصان میں شریک ہونا ہوگا۔
اسلامی فقہ کے مطابق کسی غیر مسلم کے ساتھ تجارتی شرکت جائز ہے، بشرطیکہ کاروبار جائز اشیاء پر مشتمل ہو اور شرعی اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔
خلاصہ بحث!
اگر زید نے یہ رقم قرض کے طور پر دی ہے اور اس قرض پر نفع لینا چاہتا ہے، تو یہ اضافی رقم بشکل نفع حرام ہوگا کیونکہ یہ سود کے زمرے میں آئے گا۔
لیکن اگر زید مضاربت یا شرکت، یا مرابحہ کے اصول کے مطابق معاہدہ کرتا ہے تو یہ جائز ہوگا۔
لہٰذا زید کو چاہیے کہ وہ غیر مسلم تاجر کے ساتھ مضاربت، شرکت یا مرابحہ کا شرعی معاہدہ کرے، تاکہ اس کی کمائی حلال ہو۔
________
ھذا عندی والصواب عنداللہ
توقیر بدر القاسمی الازہری ڈائریکٹر المرکز العلمی للافتاء والتحقیق سوپول دربھنگہ بہار سابق لیکچرار المعھد العالی للتدریب فی القضاء والافتا امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ انڈیا
٠٤/٠٢/٢٠٢٥