Mufti Touqueer Badar Alqasmi Alazhari
Mufti Touqueer Badar Alqasmi Alazhari
March 1, 2025 at 02:01 PM
السلام علیکم ورحمت اللہ مفتی صاحب!مسلمان پر کن‌کن مال و اشیاء پر زکاۃ نکالنا فرض ہے۔ تفصیل سے مثال و حوالے کے ساتھ بتائیں! مہربانی ہوگی امام اعظم بلاہی سنگھیا سمستی پور ------- وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ! اسلام میں زکاۃ ایک مالی اہم و عظیم الشان مالی عبادت ہے،جو ہر بالغ صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے۔ زکاۃ ان اموال اور اشیاء پر فرض ہوتی ہے،جو مخصوص شرائط پوری کرتے ہوں۔ ذیل میں تفصیل، سے شرائط ،شکلیں ،مثالیں اور حوالہ جات دیے جا رہے ہیں: --- 1.زکاۃ کن اموال پر فرض ہے؟ زکاۃ ان اموال پر فرض ہوتی ہے جو درج ذیل شرائط پوری کریں: 1.ملکیت: مال یا اشیاء کسی مسلمان کی ملکیت میں ہوں۔ 2.نصاب: مال شرعی نصاب کو پہنچا ہو (یعنی کم از کم حد جس پر زکاۃ فرض ہوتی ہے)۔ 3.سال کا گزرنا: مال پر ایک اسلامی سال (قمری سال) گزر چکا ہو۔ 4.ضروریات سے زائد: وہ مال اور اشیاء بنیادی ضروریات (مثلاً رہائش، لباس، کھانے پینے کی اشیاء، سواری) سے زائد ہوں۔ --- 2.کن اشیاء پر زکاۃ فرض ہے؟ ذیل میں وہ اموال درج کیے جا رہے ہیں جن پر زکاۃ فرض ہوتی ہے: (1)نقدی اور سونا چاندی سونا:اگر کسی کے پاس 87.48 گرام (7.5 تولے) یا زیادہ سونا ہو، تو اس پر زکاۃ واجب ہے۔ چاندی: اگر کسی کے پاس 612.36 گرام (52.5 تولے) یا زیادہ چاندی ہو، تو اس پر زکاۃ واجب ہے۔ نقد رقم:اگر کسی کے پاس اتنی رقم ہو جو سونے یا چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے، تو اس پر زکاۃ واجب ہے۔ مثال: اگر کسی کے پاس 100 گرام سونا ہو، تو اسے اس پر 2.5% کے حساب سے زکاۃ نکالنی ہوگی۔ حوالہ: القرآن: "وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ" (التوبہ: 34) --- (2) تجارتی مال جو چیزیں خرید و فروخت کے لیے رکھی گئی ہوں، ان پر نصاب کے مطابق ہوتے ہی سال گزرنے پر زکاۃ فرض ہے۔ ان کی مالیت سال کے آخر میں مارکیٹ کے مطابق لگائی جائے گی اور اس کا 2.5% زکاۃ نکالی جائے گی۔ مثال: اگر ایک دکاندار کے پاس 5 لاکھ روپے کا تجارتی مال ہو، تو اسے 12,500 روپے زکاۃ ادا کرنی ہوگی۔ حوالہ: الحدیث: "تجارت کے مال میں بھی زکاۃ ہے" (ابو داؤد، حدیث: 1562) --- (3) مویشی (گائے، بھینس، بکری، اونٹ) اگر کسی کے پاس درج ذیل تعداد میں جانور ہوں اور وہ سال بھر چرنے والے ہوں، تو ان پر زکاۃ فرض ہے: بکریاں: 40 بکریوں پر 1 بکری زکاۃ۔ گائے: 30 گایوں پر 1 سالہ بچھڑا زکاۃ۔ اونٹ: 5 اونٹوں پر 1 بکری زکاۃ۔ حوالہ: الحدیث: نبی کریمﷺ نے فرمایا: "ہر چالیس بکریوں پر ایک بکری زکاۃ ہے" (ترمذی، حدیث: 621) --- (4) زمین کی پیداوار (زرعی پیداوار) زمین سے نکلنے والی پیداوار پر 5% یا 10% زکاۃ فرض ہے: اگر پانی بغیر کسی خرچ کے (بارش یا دریائی پانی) استعمال ہو، تو 10% زکاۃ۔ اگر پانی خرید کر یا مشقت سے استعمال کیا جائے، تو 5% زکاۃ۔ حوالہ: الحدیث: "جس زمین کو آسمان (بارش) اور چشمے سیراب کریں، اس کی پیداوار پر عشر (10%) ہے، اور جو پانی مشقت سے دیا جائے، اس پر نصف عشر (5%) ہے" (بخاری، حدیث: 1483) --- (5) کرایہ پر دی گئی جائیداد یا کاروبار اگر کسی کی جائیداد (مثلاً مکان، دکان، فیکٹری) کرایہ پر دی گئی ہو، تو اصل جائیداد پر زکاۃ نہیں، بلکہ جو آمدنی ہو، اگر وہ نصاب کو پہنچے اور سال گزر جائے، تو اس پر 2.5% زکاۃ واجب ہوگی۔ مثال: اگر کسی کو کرایے سے سال بھر میں 3 لاکھ روپے آمدنی ہو، تو اس پر 7,500 روپے زکاۃ واجب ہوگی۔ --- 3.زکاۃ کن چیزوں پر فرض نہیں؟ ذاتی استعمال کی چیزیں جیسے رہائشی مکان، سواری، کپڑے، اور گھر کا سامان۔ ایسی زمین یا جائیداد جو صرف ذاتی استعمال کے لیے ہو۔ قیمتی پتھر جیسے ہیرے، اگر تجارت کے لیے نہ ہوں۔ --- "خلاصہ بحث" زکاۃ ایک اہم مالی عبادت ہے جو مخصوص اموال اور اشیاء پر فرض ہے۔ اس کی ادائیگی سے مال کی پاکیزگی ہوتی ہے اور معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے مال کی زکاۃ وقت پر ادا کرے تاکہ اللہ کی رضا حاصل کرے اور غرباء کی مدد کرے۔ قرآنی ہدایت یاد رکھیں! "وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا" (المزمل: 20) (ترجمہ: اور نماز قائم کرو، زکاۃ دو، اور اللہ کو اچھا قرض دو) رب کریم ہمیں حلال مال کمانے اور زکاۃ نکالنے کی بھرپور توفیق دے آمین _____ توقیر بدر القاسمی الازہری ڈائریکٹر المرکز العالمی للافتاء والتحقیق سوپول بازار دربھنگہ بہار +918789554895

Comments