HR Media House
February 24, 2025 at 09:45 AM
گرمی کی دستک
از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
25 شعبان 1446ھ 24 فروری 2025ء
بنگلور میں موسم دو ماہ آگے رہتا ہے، وسط فروری میں نمود رکھنے والی تپش مارچ میں بڑھ جاتی ہے اور اپریل میں نازکانِ بنگلور کی چیخیں نکال کر اگلی منزل کے لیے راہِ کوچ اختیار کر تی ہے، مئی جون میں جب ہندوستان جلتا ہے تو شہرِ گلستاں بارشوں میں بھیگ کر نمائش حسن میں محوِ انگڑائی ہو جاتا ہے اور شمالی ہند کی جہنمی گرمی سے متعلق خبریں جان کر اپنی مختصر گرمی کو "منصوبۂ حباب" کے طور پر لیتا ہے اور رب کے حضور شکر بجا لاتا ہے۔
اپریل کی گرمی بھی حالیہ سالوں میں متعارف ہوئی ہے، ورنہ ربع صدی قبل یہاں ٹمپریچر کے لیے تیس بتیس ڈگری سرخ لکیر تھی اور بارشیں کم از کم نو ماہ ہوتی تھیں، شہر بھر میں چھائی باغبانی اور سڑکوں پر قائم دو رویہ سبز صف کی بہاروں میں ان بارشوں کا ایک کردار ہے، نئے موسم میں وہ رعنائی بتدریج ماند پڑ رہی ہے، غیر تعلیم یافتہ طبقے کے نزدیک اس کی وجہ راقم سطور ہے، جو یوپی کی گرمی یہاں درآمد کر رہا ہے؛ جب کہ تعلیم یافتہ طبقہ اسے گلوبل وارمنگ سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔
موسمی تبدیلی اگر دونوں معانی میں مساوی ہے، یعنی گرم علاقے سرد اور سرد خطے برعکس ہو جائیں گے تو دیوبند سوئٹزرلینڈ بننے والا ہے، محلہ بڑ ضیاء الحق میں قیام کے دور کی بات ہے، حاجی یاسین صاحب کہتے تھے کہ میں نے بڑوں سے سنا ہے، ایک وقت دیوبند کا موسم شملہ کی طرح خنک ہوجائے گا، ناچیز نے ان کا یہ "تکیہ کلام جملہ" مفتی کوکب عالم استاذ دارالعلوم دیوبند کے سامنے رکھا، انھوں نے اس کو سنجیدگی سے لیتے ہوے مادر علمی کے کسی بزرگ کی نسبت سے فرمایا کہ انھوں نے بھی یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔
حاجی یاسین اور "دارالعلوم ہستی" سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبدیلی موسم کا مضمون بیان فرما گئے ہیں، مجھے حالیہ خلیجی دورے کے دوران یہ مغالطہ ہوا کہ عربوں نے پیٹرول کمائی کی طاقت پر جو جبری سبزہ اگا لیا ہے اور سمندری پانی کو کھینچ کر نہریں بنا لی ہیں احادیث میں وہی مراد ہیں؛ کیوں کہ نہر اور سبزے والا کام بڑے پیمانے پر ہوا ہے، "دبئی ابو ظبی شاہ راہ" کی شجر کاری غیر معمولی ہے، "بزنس بئے" میں نکالی گئی نہر بہت خاص ہے، قطر نے بھی پرل قطر میں نازک اور خوب صورت نہر بنائی ہے، سعودی عرب، قطر اور امارات؛ ہر جگہ مصنوعی ہریالی پر خوب کام ہوا ہے؛ مگر جب احادیث کے الفاظ اور تعبیر وادا کو دیکھا تو غلط فہمی دور ہو گئی، وہ الفاظ فطری اور قدرتی تبدیلی سے ہم کلام ہیں اور نصوص کا وہی مطلب درست ہے جو ماہرِ زبان کو بے تکلف معلوم ہو، خارجی تاثر کے تحت اخذ کردہ معانی خارجی ہی ہوتے ہیں، یعنی موسمی تبدیلی کا پہیہ 360 گھومنے والا ہے، اس درجہ کہ عرب صحرا مرغ زاروں میں، نیز خشک سالی اور قحط زدگی کی روایات بارشوں اور ژالہ باری کے مناظر میں بدل جائیں۔
بات بکھر گئی، مدعا یہ تھا کہ اس سال بنگلور کا رمضان گرم اور دیوبند کے روزے سرد ہونے والے ہیں، یہ مژدہ ایک خاص دوست کے لیے ہے، جن کا اقامتی خیمہ سرزمین دیوبند میں نصب ہے اور کیا ہی نصب ہے! نیز وہ دارالعلوم سے باہر؛ مگر دارالعلوم کے زیر سایہ اپنا ذاتی چراغ روشن کرنے میں کام یاب رہے ہیں، وہ مئی جون کے رمضان میں دھمکیاں وضع کرتے تھے کہ روزوں کے لیے بنگلور جانے والا ہوں، رمضان یہاں نہیں گزاروں گا، پروگرام تیار ہے، بندوبست ہو گیا ہے، فلاں اور فلاں استقبال میں ہیں، ان کو بتانا ہے کہ در پیش رمضان میں سہولت کی نسبت تبدیل ہو گئی ہے، دیوبند کی گرمی بنگلور اور بنگلور کا اعتدال دیوبند پہنچ گیا ہے، واقعی مارچ ہمارا مثالی موسم ہے، رنگین، پر لطف اور مزے دار۔
مگر بنگلور والوں کے پاس اس کا بھی تریاق ہے، یہاں کے مسلمان عموما دس یا بارہ بجے تک سوتے ہیں، رمضان میں بحق سحری امتداد نافذ ہو جائے گا اور نیند کو تا ظہر یا مابعد ظہر دراز کریں گے، باقی ماندہ چند ساعتیں افطار کی تیاری میں گذر جاتی ہیں، دن کا دورانیہ شمال کی بہ نسبت بنگلور میں ایک سے دو گھنٹے کم ہوتا ہے، اس طرح صائم روزے کے احساس سے گذرے، اس سے قبل ہی "وعلی رزقک أفطرت" ہو جاتا ہے، ضابطے میں بنگلور کا روزہ کم قیمت ہے؛ مگر مالک چوں کہ کریم ہے؛ اس لیے کٹوتی نہیں کرتا اور شمالی احتجاج پر کہتا ہے کہ تمھاری اجرت میں کوئی کمی ہوئی؟ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں نہال کروں! گرمی کے ذکر میں نہاں اور رواں آمد رمضان بھی سب کو مبارک!
نوٹ:
راقم نے یومیہ فیسبک دل لگی سوار کر لی ہے، علمی اشتغال کا یہ خراب متبادل ہے، جواں سال محقق اور شیخ الحدیث مفتی شکیل منصور قاسمی صاحب کی معرکۃ الآرا تصنیف "اجماع امت" کئی دنوں سے نظر نواز بنی ہوئی ہے، اظہار رائے کے تعلق سے برادر محترم کی فرمائش بھی میری توقیر بڑھا رہی ہے، ہر دن خیال گذرتا ہے کہ آج عرض ومعروض بن جائے گا؛ لیکن چور طبیعت پھر کسی تفریحی موضوع کی طرف جھک جاتی ہے، دیکھیے کب دن پھریں قلمِ خاکسار کے!
❤️
1