BNC OFFICIAL
BNC OFFICIAL
February 25, 2025 at 01:27 PM
تربت۔بلوچستان گرینڈ الائنس نے کہاہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کے منہ سے نوالہ چھیننے کے بجائے افسر شاہی کے شاہی اخراجات،ان کے پروٹوکول اورکرپشن کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے کرپشن، بدانتظامی اور خراب طرز حکمرانی کو ٹھیک کرنے کی جو شرط رکھی ہے اسے غریب ملازمین پر لاگو کرنے سے گریز کیاجائے، حکومت اپنا قبلہ درست کرے، پنشن پالیسی پر ہماری بات سنے اور اس پر عمل کرے، ان خیالات کااظہار بلوچستان گرینڈ الائنس کیچ کے قائدین نے تربت پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، قبل ازیں بلوچستان گرینڈ الائنس کے زیراہتمام گورنمنٹ بوائز ماڈل اسکول تربت سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں گرینڈ الائنس میں شامل تمام ملازم تنظیموں کے نمائندوں سمیت سرکاری ملازمین کی ایک کثیرتعداد شریک تھی، بلوچستان گرینڈ الائنس کیچ کے ضلعی آرگنائزر (سیسا) کیچ کے صدر حاجی اخترایاز بلوچ، ڈپٹی آرگنائزر (بی پی ایل اے) کے شعیب سمین، فنانس سیکرٹری (پی ایم اے) کے ڈاکٹر عبدالغنی بلوچ، پریس سیکرٹری (ڈبلیو ٹی اے) کے صالح بلوچ نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کی سطح پر تمام ملازم یونینز اور ایسوسی ایشنز نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے نام سے بلوچستان کے ملازمین کا سب سے بڑا اتحاد قائم کیا ہے جس میں تمام تنظیموں کی غالب اکثریت موجود ہے،بلوچستان گرینڈ الائنس کی تشکیل خالصتاً تعمیری اور اخلاص پر مبنی جذبے سے کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ گزشتہ ایک عرصے سے ایک سوچے سمجھے منصوبے اور سازش کے تحت حکمرانوں نے سرکاری ملازمین کے خلاف جھوٹا اورمنفی بیانیہ تشکیل دے کر اپنی ذاتی جیبیں بھرنے اور عالمی مالیاتی اداروں کی خوشنودی کا سلسلہ جاری رکھا ہے، ایک طرف ابتر معیشت اور خالی خزانے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے ملازمین کی پنشن والاؤنسز اور مراعات کو ختم کیا جارہا ہے دوسری جانب پارلیمنٹرینز اپنی مراعات اور الاؤنسز میں کئی گنا اضافہ کر رہے ہیں ہمیں عدلیہ انتظامیہ اور متفقہ کسی کی تنخواہوں سے کوئی غرض نہیں ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ خدارا غریب اور مڈل کلاس طبقے کا بھی خیال رکھیں، اس وقت بیورو کریسی اور سیاستدان آئی ایم ایف کی شرائط کا ڈھنڈورا پیٹ کر یہ غلط بیانی کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ معاملات ٹھیک کئے جائیں حالانکہ آئی ایم ایف نے کرپشن، بدانتظامی اور خراب طرز حکمرانی کوٹھیک کرنے کی شرط رکھی ہے آئی ایم ایف کہتا ہے کہ صوبوں میں سیاستدان اور افسران مل کے کر ہر سال روپے کی جو کرپشن کرتے ہیں اس کو ٹھیک کیا جائے، افسر شاہی کے شاہی اخراجات اور پروٹوکول کم کئے جائیں، سیاستدانوں کے اللے تللے ختم کئے جائیں، غیر ضروری اخراجات پر کٹ لگائے جائیں، لگژری گاڑیاں، ترقیاتی مد میں کرپشن کو ختم کیا جائے آئی ایم ایف نے یہ نہیں کہا کہ آپ ملازمین سے ان کی چھت اور ان کے بچوں کا رزق چھین کر اپنی چوریوں کو چھپائیں،اس وقت باقی ملک میں بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص ملازمین کو طرح طرح کے مسائل چیلنجز اور بحرانوں کا سامنا ہے، اس موجودہ حکومت۔ انتہائی شاطر چال چلتے ہوئے جب سے نئی پنشن پالیسی کا شوشہ چھوڑا ہے باقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں، ایک سرکاری ملازم تعلیمی سلسلے کے بعد جب سرکار کی نوکری حاصل کرتا ہے تو وہ انتہائی مستعد چاک و چوبند اور اعلی صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے عرصہ پچیس سال تک وہ اپنی جوانی، اپنی صلاحیتیں، استعداد اور اپنا قیمتی وقت دے کر کام کرتا ہے صرف اور صرف اس نیت سے کہ کل کو جب وہ ریٹائر ہوگا تو عمر کے آخری حصے میں اسے معاشی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا مگر اب حکومت یہ پالیسی ہی ختم کرنے کے درپے ہیں جو لیبر قوانین اور انصاف کے برخلاف عمل ہے اس کا محکموں کی کارکردگی پر انتہائی منفی اثر پڑے گا، اگر کسی محکمے یا ادارے کی کارکردگی خراب ہے تو خدارا اس کا نزلہ آپ ملازمین پر کیوں گرا رہے ہیں؟ ملازمین تو خود لیبر ہیں وہ پالیسی ساز تو نہیں ہیں کہ ان کی پالیسی کی وجہ سے ادارے تباہ ہوئے، 78 سالوں سے افسر شاہی کی مرضی اور منشاء سے ایئر گنڈیشن کمروں میں پالیسیاں بنتی آئی ہیں یا پھر اس میں سیاسی پارٹیوں کی کمپرومائز کار کردگی شامل ہے، آپ نے آج تک ہمیں اعتماد میں لے کرپالیسی بنائی ہی نہیں تو نا کامی کا نزلہ ملازمین پر کیوں گرارہے ہیں، ہم اصلاح احوال کے خلاف نہیں مگر اصلاحات کی آڑ میں ایک مخصوص بالا دست طبقے کی چوری کو چھپانے اور نچلے وکمزور طبقات کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر اداروں کو تباہ کرنے کی اجازت کسی بھی رجیم کو نہیں دی جاسکتی بھلے وہ جتنی بھی فرعونیت دکھا ئیں، اگر حکومت نیک نیتی سے گورننس کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور ریفارمز لانا چاہتی ہے تو پہلے تمام شعبوں اور محکموں کے اصل اسٹیک ہولڈرز کو اصلاحاتی مراحل میں اعتماد میں لیا جائے اور ان کو فیصلہ سازی کے امور میں شامل کیا جائے، ملازمین تنظیموں اور اصل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر اصلاحات کا عمل ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں، بلوچستان میں سرکاری ملازمین کو در پیش مسائل، صلاحات کے نام پر اداروں کا بیڑا غرق کرنے، ملازمین ایسوسی ایشنز کے خلاف انتقامی کارروائیوں، مختلف فورمز سے پر امن آئینی احتجاج کرنے والے رہنماؤں کے خلاف کیسز کے اندراج، پنشن پالیسی، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے خوش نما لبادے میں اداروں کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے سمیت دیگر اقدامات پر ہمیں گہری تشویش ہے اور اسی لئے اب ہم حکومت کی سنجیدگی اور بصیرت کا امتحان لیتے ہوئے کچھ دن انتظار کرتے ہیں کہ حکومت کسی قدر سنجیدہ اور ذمہ دار ہے اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی تو لازمی بات ہے کہ ہم احتجاج کی طرف جائیں گے، حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک بالخصوص صوبے کے معروضی حالات اور پہلے سے موجود مسائل کو نظر میں رکھے اور ملازمین کو سخت احتجاج پر مجبور نہ کریں اگر حکومت یا چند افسران اپنی ہٹ دھرمی کے باعث ملازمین کو دیوار سے لگائیں گے تو اس سے صوبہ ایک نئے بحران سے دو چار ہو سکتا ہے جس کے حوالے سے ہم پہلے انہیں پہلے سے خبر دار کر رہے ہیں کہ حکومت ان چیزوں کو مد نظر رکھے، بلوچستان گرینڈ الائنس کی ہدایت کے مطابق بلوچستان کے تمام اضلاع میں گرینڈالائنس کے ضلعی ایکشن کمیٹیوں کے پریس کانفرنسز ہورہے ہیں اسی طرح ضلع تربت کے ملازمین بھی اپنے قائدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کررہے ہیں، انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنا قبلہ درست کرے، پنشن پالیسی پر ہماری بات سنے اور اس پر عمل کرے، ملازمین کے خلاف استحصال، بد نیتی اور ظلم پرمبنی پالیسیاں ترک کرتے ہوئے تعلیم،صحت اور دیگر شعبوں میں سیاسی بدنیتی پرمبنی اقدامات کا سلسلہ ترک کرے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے خوش نما لبادے میں اداروں کی پرائیویٹائزیشن اور نظام کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے کے فیصلے واپس لے ہماری تجاویز اور مطالبات پر عملدرآمد کرے اور ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جس سے صوبے کا انتظامی ماحول متاثر ہو، علاوہ ازیں ملازمین کو بھی چاہیے کہ وہ اب ہر چیز سے بالاتر ہو کر متحد ہوں، اپنے بچوں کے منہ سے نوالہ چھینے کی کوششوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بنیں اور بلوچستان گرینڈ الائنس کی ہر کال پر لبیک کہتے ہوئے نکلیں ذاتی گروہی مفادات اور اختلافات کو بالائے طاق رکھیں اور سخت سے سخت حالات کے مقابلے کے لئے تیار رہیں، پہلی صف میں قائدین ہوں گے مگر قائدین آپ کے بغیر کچھ بھی نہیں آپ نے متحد و متفق ہو کر ساتھ دینا ہے، اس موقع پر جی ٹی اے کیچ کے صدر اکبر علی اکبر، ایپکا کے رہنما سبزل خان بلوچ، پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے ظریف علیان، جونیئر ٹیچرز ایسوسی ایشن کے محمد قاسم، پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے سبزل خان کولواہی، ینگ ڈاکٹرزکے ڈاکٹر حیات بلوچ، فشریز یونین کے یاسین ظہیر سمیت دیگرملازمین تنظیموں کے نمائندگان بھی موجودتھے۔

Comments