Parachinar Current Affairs
Parachinar Current Affairs
February 17, 2025 at 03:38 PM
لوئر کرم کے علاقے اوچت ڈاڈ قمر مندوری، چارخیل اور بگن میں فورسز کی نگرانی میں پاراچنار جانے والی اشیاء خوردونوش ودیگر ٹرکوں پر مسلح افراد نے خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں ایک ڈرائیوراور فورسز کا ایک اہلکار شہید جبکہ چار ڈرائیوروں اور ایک پولیس اہلکار سمیت پندرہ افراد زخمی ہوگئے جن میں حواتین و بچے بھی شامل ہیں جو کہ فائرنگ کی زد میں اگئے زحمی ڈرائیور گل فراز نے بتایا کہ مساجد سے گاڑیاں لوٹنے اور مال غنیمت حاصل کرنے کے اعلانات شروع ہوئے تو ہر طرف سے لوگ نکلنا شروع ہوگئےاور ٹرکوں کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کرنا شروع کردیا حملے کے بعد علاقے میں 35 سے زائد گاڑیاں علاقے میں پھنس گئے ہیں جبکہ نو گاڑی علیزئی بحفاظت پہنچ گئی ہیں اورتقریبآ بیس گاڑی واپس ٹل پہنچائے گئے ہیں جن میں زیادہ ترگاڑیوں سے سامان لوٹ لیا گیا ہے آخری اطلاعات کے مطابق جہاں جہاں کانوائی پر آج حملے کئے گئے تھے فورسز نے بڑی کاراوائی شروع کردی ہے واقعے کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹریڈ یونین کے رہنماؤں حاجی امداد علی اور دیگر راہنماوں نے کہا کہ فورسز کی موجودگی میں گاڑیوں کو لوٹنا اور جلانا قابل افسوس ہے اور اس سے بھی افسوس ناک واقعہ مسلح افراد کا کھلے عام گاڑیوں کی لوٹ مار جلاؤ گھیراؤ ہے تاجر راہنماوں کا کہنا ہے کہ ذمہ داران تماشائی بن رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بار بار ایک ہی علاقے میں کانوائیوں اور مسافروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے حاجی امداد کا کہنا تھا کہ گن شپ ہیلی کاپٹر نے بھی فورسز اہلکاروں کے علاقے سے نکلنے کے بعد شیلنگ بند کردی جس کے بعد حملہ اوروں نے آزادانہ طور پر گاڑیاں لوٹی اور جلائی گئیں ڈرائیور اکرم خان نے بتایا کہ مقامی ابادی سے ان پر فائرنگ کی جارہی تھی اور اب تک متعدد ڈرائیوروں کی لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے طوری بنگش قبائل کے رہنما جلال بنگش نے بتایا کہ دہشت گردی کے اس واقعے کو امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ سے محصور عوام کا مزید صبر کا امتحان نہ لیا جائے اگر کانوائے محفوظ نہیں تو ایسی سیکورٹی انتظامات کا اللہ ہی حافظ جلال بنگش نے ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ بناکر مستقل بنیادوں پر کھولنے کا مطالبہ کیا
😢 2

Comments