🦋࿇━✥◈ اردو تحاریر ◈✥━࿇🦋
🦋࿇━✥◈ اردو تحاریر ◈✥━࿇🦋
May 20, 2025 at 07:28 AM
کیا ہم واقعی وہی ہیں جو ہم کہتے ہیں؟ کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے کسی کام کو غلط کہا ہو لیکن وقت آیا، تو خود وہی کام کر گزرے؟ یا کسی کو نصیحت کی ہو اور پھر خود ہی اسی بات پر عمل نہ کر سکے؟ اور پھر دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سی بےچینی، شرمندگی، یا اندرونی الجھن محسوس ہونے لگی ہو؟ یہ کوئی غیرمعمولی کیفیت نہیں بلکہ ایک نفسیاتی عمل ہے، جسے "Cognitive Dissonance" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہماری سوچ، عقیدہ یا نظریہ ایک طرف ہوتا ہے، اور ہمارا عمل دوسری طرف۔ ایک اندرونی تصادم، جو بظاہر نظر نہیں آتا… مگر دل و دماغ کے اندر ایک جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر: ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ایک دن کسی ذاتی فائدے کے لیے جھوٹ بول دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کو صحت کا مشورہ دیتے ہیں مگر خود رات بھر موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ وقت کی پابندی اہم ہے مگر اکثر خود دیر سے پہنچتے ہیں۔ پھر ہمارے اندر ایک آواز ابھرتی ہے: "کیا میں منافق ہوں؟" "کیا میرے اصول صرف دکھاوے کے لیے تھے؟" "یا کیا میں بھی اُنہی لوگوں جیسا ہوں جنہیں میں تنقید کا نشانہ بناتا ہوں؟" اسی کیفیت سے بچنے کے لیے ہم بہانے تراشتے ہیں، خود کو تسلیاں دیتے ہیں، یا اصول ہی بدل لیتے ہیں تاکہ ذہن کا بوجھ کم ہو جائے۔ مگر اصل حل کبھی بہانوں میں نہیں ہوتا… بلکہ سچ کو تسلیم کرنے میں ہوتا ہے۔ یاد رکھیں: یہی Cognitive Dissonance ایک نعمت بھی بن سکتی ہے اگر آپ اس پر غور کریں، خود سے سوال کریں، اور اپنی سوچ و عمل میں ہم آہنگی پیدا کریں۔ یہ احساس آپ کے کردار کو بہتر بنانے کا دروازہ ہے۔ یہ اندر کی جنگ، اگر پہچانی جائے، تو خودی کی روشنی بن جاتی ہے۔ یہ تضاد، اگر تسلیم کیا جائے، تو اصلاح کا پہلا اور سب سے بڑا قدم بن سکتا ہے۔ کیونکہ سب سے بڑی آزادی اس لمحے ملتی ہے، جب ہم خود سے جھوٹ بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔ توصیف اکرم نیازی
❤️ 👍 5

Comments