🦋࿇━✥◈ اردو تحاریر ◈✥━࿇🦋
June 4, 2025 at 08:10 AM
جنسیت کا وہ بھیانک رُخ جس پر ہم سب نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں! - بلال شوکت آزاد
ہم اس وقت تاریخ کے اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں انسان نے مادّی لحاظ سے ترقی کی آخری حدیں عبور کر لی ہیں، مگر روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی سطح پر وہ اپنی نوع کی سب سے پست ترین حالت میں گر چکا ہے۔ خلا میں بستیوں کی بات ہو رہی ہے، مگر زمین پر نفس کے اندر پھیلتی گندگی کا کوئی بندوبست نہیں۔ اکیسویں صدی کے آدمی نے جسم کو تو جہاز کی مانند تیز رفتار بنا دیا، مگر اس روح کو حیوانی جبلّتوں کے ہاتھ گروی رکھ دیا جسے کبھی "احسنِ تقویم" کا لباس پہنایا گیا تھا۔
اور یہ سب یوں ہوا جیسے کسی کو سانس لیتے لیتے نیند آ جائے۔ کچھ لوگ کھل کر برائی کرنے لگے، کچھ خاموشی سے دیکھنے لگے، اور باقیوں نے شرم کے مارے پلکیں جھکا لیں۔ مگر یاد رکھو! جس فتنے کی لپیٹ میں معاشرہ آ جائے اور اہلِ دانش، اہلِ قلم اور اہلِ ایمان اس پر خاموش رہیں، وہ فتنہ چپ چاپ نہیں جاتا, بلکہ جب جاتا ہے تو اپنے پیچھے ناسور چھوڑ جاتا ہے۔
آج کی یہ تحریر اور اسی سلسلے کی آنے والی باقی تحاریر ایک ایسی شرمناک حقیقت پر ہیں، جو اتنی گھناؤنی ہے کہ شاید اس کے بارے میں بات کرنا بھی ناپسندیدہ لگے۔ لیکن "بلال شوکت آزاد" کا یعنی میرا قلم اس وقت خاموشی اختیار نہیں کرے گا جب قوم کے بیٹے اندھیروں میں ایسی پستیوں میں جا رہے ہوں جن کا کوئی انجام نہیں۔ یہ تحریر ایک چیخ ہے، ایک پکار ہے، اور ایک زخم ہے۔ اس میں بیزاری بھی ہے، نفرت بھی، لیکن درد سب سے زیادہ ہے۔
جنس, وہ فطری جذبہ جو خدا نے محبت، تعلق، قربت اور افزائشِ نسل کے لیے انسان کو عطا کیا۔ لیکن یہی جذبہ اگر بگڑ جائے، راہ سے ہٹ جائے، اور شیطان کے نقشِ قدم پر چل پڑے تو وہ انسانی شکل میں موجود ایک ایسے درندے کو جنم دیتا ہے جو نہ عورت کا لحاظ کرتا ہے، نہ بچے کی معصومیت کو پہچانتا ہے، نہ مرد کی غیرت کو سمجھتا ہے، اور نہ رشتوں کی حرمت کو۔
آج میں بات کرنے جا رہا ہوں "Paraphilia" پر۔ یہ وہ جنسی کج روی ہے جو انسان کو حیوان سے بھی بدتر بنا دیتی ہے۔ یہ کوئی فلسفہ نہیں، نہ کوئی نایاب دماغی کیفیت۔ یہ ہمارے گردوپیش موجود ہے, بلکہ ہم میں سے اکثر کے موبائل فونز میں چھپی ہوئی ہے۔ یہ وہ ناسور ہے جو انٹرنیٹ کی گمنام گلیوں سے نکل کر ہمارے بیڈ رومز، بچوں کے کمروں، اور اسکولوں کے دروازوں تک آ چکا ہے۔
یہ "Paraphilia" کوئی مغربی اصطلاح نہیں جسے نظرانداز کر دیا جائے۔ یہ ایک نفسیاتی اور معاشرتی حقیقت ہے۔ یہ اس وقت جنسی رویے کی وہ بگڑی ہوئی شکل ہے جہاں فرد نارمل انسانی کشش اور تعلق کے بجائے غیر فطری، غیر اخلاقی، اور بعض اوقات غیر قانونی چیزوں یا اعمال میں جنسی تسکین تلاش کرتا ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب مرد عورت کے جسم سے نہیں بلکہ اس کی تکلیف سے مزہ لیتا ہے، جب عورت محبت سے نہیں بلکہ ذلت سے تسکین پاتی ہے، جب بچے محفوظ نہیں رہتے، جب جانور خطرے میں آ جاتے ہیں، جب لاشیں بے چین ہو جاتی ہیں، اور جب رشتے ایک کاروباری سودے کی طرح بکنے لگتے ہیں۔
خیر, Paraphilia کی دنیا کوئی ایک یا دو طرح کے رویوں تک محدود نہیں۔ یہ وہ اندھا کنواں ہے جس کی تہہ میں شیطان بھی حیران بیٹھا ہے کہ انسان کہاں تک گر سکتا ہے۔
اس گندگی کے بیسیوں روپ ہیں۔ چند مثالیں دیکھیے:
1. تانک جھانک Voyeurism: کسی کی اجازت کے بغیر اس کو برہنہ دیکھنے، یا جنسی عمل میں مشغول دیکھنے کی لذت۔ آپ کے معاشرے میں ایسے درجنوں مرد ہیں جو کھڑکیوں، درزوں اور کیمروں سے چھپ کر دوسروں کو دیکھ کر مشت زنی کرتے ہیں۔
2. جنسی نمائش Exhibitionism: اپنی جنسیت کا فخریہ اظہار، جنسی اعضاء کی نمائش۔ آپ کو فیس بک, ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر لڑکے لڑکیاں بے شرمی سے کپڑے اتارتے اور Likes کے بدلے اپنے جسم بیچتے نظر آئیں گے۔
3.ٹھرک Frotteurism: بھیڑ میں بدن کو دوسروں سے رگڑ کر جنسی تسکین حاصل کرنا۔ یہ ہمارے بازاروں، بسوں، اور میٹرو اسٹیشنز کا معمول بن چکا ہے۔
4. فیٹشزم Fetishism: غیر جنسی اشیاء جیسے جوتے، موزے، اندرونی لباس، یا حتیٰ کہ تصاویر کو دیکھ کر لذت لینا۔ یہ پورن کے "foot fetish", "panty sniffing" اور "leather porn" کی شکل میں موجود ہے۔
5.جنسی تشدد Sexual Sadism: کسی کو اذیت دے کر مزہ لینا۔ مرد اپنی بیوی کو مار کر، چیخیں سن کر خوش ہوتا ہے۔
6.میسوچزم Masochism: خود کو ذلیل کروانا یا زخمی کروا کر تسکین لینا۔
7.ککولڈری Cuckoldry: اپنی بیوی کو کسی اور مرد کے ساتھ دیکھ کر جنسی لذت لینا۔
8. پیڈوفیلیاء Pedophilia: بچوں کی طرف کشش رکھنا۔ یہ وہ زہر ہے جس نے معصوموں کو داغدار کیا، اسکولوں کو گندہ کیا، اور والدین کی نیندیں حرام کر دی۔ (ایک تازہ سکینڈل سامنے آیا ہے مظفر گڑھ کا جہاں پورای بستی کے بچے اس کا شکار ہیں, یہاں تک کے ماں باپ رشتے داروں کا اس کے عوض مالی فائدہ لینے کی خبر ہے)
9. نیکروفیلیاء Necrophilia: لاشوں سے جنسی تعلق۔ اس پستی کا تصور بھی دل دہلا دیتا ہے۔
10. زووفیلیاء Zoophilia: جانوروں کے ساتھ جنسی عمل۔ خدا کی پناہ!
11. اوبجیکٹوفیلیاء Objectophilia: غیر جاندار اشیاء سے محبت یا جنسی تعلق۔ عمارتیں، کاریں، درخت. سب اس گندگی کے نشانے پر ہیں۔
12. انفینٹیلزم Infantilism: بالغ انسان کا خود کو بچہ سمجھنا اور ڈائپر پہن کر تسکین لینا۔
13. ڈیکری فیلیاء Dacryphilia: کسی کو روتا دیکھ کر شہوت محسوس کرنا۔
یہ صرف چند نام ہیں۔ دنیا بھر میں Paraphilia کی 500 سے زائد اقسام ریکارڈ ہو چکی ہیں۔ اور بدقسمتی سے، ان میں سے اکثر کے لیے پورن ویب سائٹس پر کیٹیگریز موجود ہیں، جہاں لاکھوں لوگ روزانہ ان ویڈیوز کو دیکھ کر اپنے نفس کی آگ بھجانے کی کوشش کرتے ہیں, اور دراصل اپنے ضمیر کو جلا رہے ہوتے ہیں۔
یہ سب محض جنسی گمراہی نہیں، یہ انسانیت کی شکست ہے۔ جب انسان کی شہوت اسے جانوروں سے بھی بدتر بنا دے، تو سمجھ لو کہ وہ اب اشرف المخلوقات نہیں رہا، بلکہ اشر المخلوقات بن چکا ہے۔
یہ Paraphilia ایک نفسیاتی زہر ہے۔ یہ وہ سڑک ہے جو کبھی Masturbation سے شروع ہوتی ہے، پھر Pornography پر جاتی ہے، پھر Fetishism، پھر Voyeurism، پھر Real-life abuse، پھر Child abuse، پھر Zoophilia، پھر Necrophilia تک پہنچتی ہے۔ شیطان نے اس راستے کو اتنا "تھوڑا تھوڑا" کر کے تقسیم کیا ہے کہ ہر قدم معصوم لگتا ہے، مگر انجام جہنم سے بھی بدتر ہوتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جاپان میں 40 فیصد سے زیادہ مرد عورتوں کے جسم سے نہیں بلکہ ان کے جوتوں سے مزہ لیتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکا میں Necrophilia کے باقاعدہ کلچر ہیں؟
اور کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بھی Paraphilia کے مختلف خفیہ گروپس واٹس ایپ اور ٹیلیگرام پر فعال ہیں، جہاں لڑکیوں کو جانوروں سے ریپ کرایا جاتا ہے اور اس کی ویڈیو بیچی جاتی ہے؟
یہ سب کہانیاں نہیں ہیں, یہ سب ہو رہا ہے, مگر ہم خاموش ہیں۔
ہم نے مذہب کو صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود کر دیا۔ ہم نے تعلیم کو صرف نمبر لینے کی دوڑ بنا دیا۔ ہم نے تربیت کو ماں کی گود سے نکال کر یوٹیوب پر ڈال دیا۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب بچے اپنے بزرگوں سے حیاء سیکھتے تھے۔ اب وہ وقت ہے کہ بچہ اپنا پہلا فحش منظر پورن ہب پر دیکھتا ہے اور ماں کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔
کیا یہ وہی قوم ہے جس کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ شرم ایمان کا حصہ ہے؟
کیا یہ وہی ملت ہے جس کے قرآن نے زنا کے قریب جانے سے بھی منع کیا؟
ہم اسکی روک تھام کیسے کرسکتے ہیں؟
آئیے جانتے ہیں!
1. والدین بچوں کو 20 سال کی عمر تک موبائل نہ دیں، اور اگر دیں تو اس پر کنٹرولڈ ماحول میں دیں۔
2. اساتذہ طلباء سے صرف تعلیمی نہیں، اخلاقی تعلق بھی رکھیں۔ ان کے رویوں کو پڑھیں، ان کی باتیں سنیں، ان کے دماغ کی دنیا کو جانیں۔
3. ریاست سائبر کرائم کا دائرہ وسیع کرے, Paraphilic مواد پر مکمل پابندی ہو۔
4. علماء کرام مساجد میں صرف طہارت کے مسائل نہیں، نفس کی طہارت پر بھی خطبے دیں۔
5. سوشل میڈیا پرسنز حیاء، حجاب، عزت نفس، اور نفس کی جنگ پر ویڈیوز بنائیں، بجائے اس کے کہ بے حیائی کو "پیار" کہہ کر بیچا جائے۔
جسمانی کثافت تو نہا کر دور ہو سکتی ہے، مگر جب ذہن گندہ ہو جائے تو اس کا کوئی غسل نہیں۔ جب دل پر حیوانیت غالب آ جائے، تو نماز بھی کام نہیں آتی۔ جب Paraphilia ایک کلچر بن جائے، تو قومیں زوال کی طرف لپکتی ہیں۔
یاد رکھو! آج تم اپنے موبائل میں ایک Fetish ویڈیو دیکھ کر لطف لے رہے ہو، کل تمہارا بچہ اسی کو سچ سمجھ کر اپنے بہن یا بیٹی کی عزت تار تار کرے گا۔ پھر تم ہاتھ ملتے رہو گے، مگر وقت واپس نہیں آئے گا۔
آج کا سوال صرف ایک ہے۔
کیا آپ واقعی اپنے بیٹے کو اس قابل چھوڑ سکتے ہیں کہ وہ جانوروں سے محبت کرے، بچوں سے کھیلنے کی بجائے ان کو کھانے لگے، اور آپ کی بیٹی کو اپنی بیوی سے کم نا سمجھے؟
اگر نہیں، تو خدا کے لیے خاموشی چھوڑو۔ بات کرو، تربیت کرو، جنگ لڑو۔
کیونکہ جنس اگر فطرت کے خلاف ہو جائے تو وہ صرف نفس کی گندگی نہیں، نسلوں کی تباہی بن جاتی ہے۔
نوٹ: اس سلسلے کی دو سے تین تحاریر اور آئیں گی۔ احباب اس نازک مسئلے کی آگاہی اور تدراک میں میرا ساتھ دیں۔ تحاریر کو پڑھیں, سمجھیں اور شیئر کریں۔
بلال شوکت آزاد
👍
❤️
💓
😢
😭
🤔
🥹
15