🍃🌹مسلم امہ کی پکار🌹🍃
June 6, 2025 at 05:06 PM
🌙 دعوت برائے جشنِ عیدالاضحی 🌙
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته،
*اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک بار پھر ہمارے درمیان عیدالاضحی کی بابرکت ساعتیں آ پہنچی ہیں۔*
یہ دن قربانی، اخلاص، ایثار اور خوشیوں کا دن ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے اہلِ خانہ ہماری خوشیوں میں شریک ہوں اور اس پرمسرت موقع پر ہمیں اپنی دعاؤں اور محبتوں سے نوازیں۔
قرآنی اور حدیث کی روشنی میں:
قرآن مجید:
"فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ" (سورہ الکوثر: 2)
یعنی اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
حدیث شریف:
رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جس نے خوش دلی سے قربانی کی، وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جاتی ہے۔" (طبرانی)
نتیجہ:
قربانی ایک عظیم عبادت ہے جو اللہ کی اطاعت، ایثار اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے شرعی احکام پر عمل کرکے اس کی برکتوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے
قربانی عید الاضحیٰ کا ایک اہم رکن ہے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق سنت ابراہیمی کی یادگار ہے۔ اس کے کئی روحانی، سماجی اور نفسیاتی فوائد ہیں، جو درج ذیل ہیں:
1. روحانی فوائد:
اللہ سے قربت: قربانی اللہ کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل کا ذریعہ ہے، جو بندے کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے۔
تقویٰ میں اضافہ: قربانی کا مقصد اللہ کے لیے اپنی پسندیدہ چیز قربان کرنا ہے، جو تقویٰ اور ایثار کے جذبے کو بڑھاتا ہے۔
گناہوں کی معافی: قربانی ایک نیک عمل ہے، جس کے ذریعے اللہ سے مغفرت مانگی جا سکتی ہے۔ حدیث کے مطابق، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے (سنن ابن ماجہ)۔
سنت ابراہیمی کی پیروی: حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اطاعت اور قربانی کی یاد کو زندہ رکھتا ہے، جو ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔
2. سماجی فوائد:
غریبوں کی مدد: قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے (خود کے لیے، رشتہ داروں اور غریبوں کے لیے)، جس سے معاشرے میں غریب اور نادار لوگوں کی مدد ہوتی ہے۔
اخوت اور بھائی چارہ: گوشت کی تقسیم سے رشتوں میں گرمجوشی، اتحاد اور محبت بڑھتی ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
خوشیوں کا اشتراک: قربانی کے موقع پر لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں جمع ہوتے ہیں، جو سماجی روابط کو مضبوط کرتا ہے۔
3. نفسیاتی فوائد:
ایثار اور قربانی کا جذبہ: قربانی انسان کو مال و دولت سے زیادہ اللہ کی رضا کو ترجیح دینے کی ترغیب دیتی ہے، جو نفس پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔
خوشی اور اطمینان: نیک عمل اور دوسروں کی مدد کرنے سے دلی سکون ملتا ہے، جو ذہنی صحت کے لیے مفید ہے۔
مشترکہ خوشی: عید الاضحیٰ اور قربانی کے موقع پر خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا خوشی اور مثبت جذبات کو بڑھاتا ہے۔
4. معاشی فوائد:
مقامی معیشت کی ترقی: قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت سے مقامی بازاروں میں معاشی سرگرمی بڑھتی ہے۔
غربت کے خاتمے میں کردار: گوشت کی تقسیم سے معاشرے کے کمزور طبقات کو خوراک ملتی ہے، جو غذائی تحفظ کو بہتر بناتا ہے۔
5. ماحولیاتی اور صحت کے فوائد:
صحت مند گوشت: قربانی کے جانور عموماً صحت مند ہوتے ہیں، اور تازہ گوشت کی تقسیم سے لوگوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک ملتی ہے۔
ماحولیاتی توازن: اگر قربانی کے عمل کو مناسب طریقے سے منظم کیا جائے، جیسے کہ جانوروں کی باقیات کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، تو یہ ماحول کو نقصان سے بچاتا ہے۔
شرعی اہمیت:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"لَنْ یَنَالَ اللّٰہَ لُحُومُھَا وَلَا دِمَاؤُھَا وَلٰکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنْکُمْ"
(سورہ الحج: 37)
یعنی اللہ کو نہ تو گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ اور نیک نیتی پہنچتی ہے۔
نتیجہ:
قربانی صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ایک ایسی عبادت ہے جو روحانی ترقی، سماجی ہم آہنگی، اور معاشی و نفسیاتی فوائد کا باعث بنتی ہے۔ یہ عمل ہمیں ایثار، سخاوت اور اللہ کی اطاعت کا درس دیتا ہے
*عمر فاروق مدنی*