Majlisulftawa
May 31, 2025 at 09:01 AM
✨❄️ *اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح*❄️✨ 🌻 *کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد اجتماعی دعا کا حکم* 📿 *کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد اجتماعی دعا کا حکم:* آجکل بعض جگہوں میں کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد اجتماعی دعا مانگنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ اس حوالے سے شرعی حکم یہ ہے کہ احادیث سے اس موقع پر اجتماعی دعا کا اہتمام اور معمول ثابت نہیں، نیز حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا معمول ثابت نہیں، اس لیے اس کو سنت یا مستحب کہنا درست نہیں، مزید یہ کہ اس کو لازم سمجھنا، اس کو معمول بنانا اور اس کی عادت بنا کر اس کا خصوصی اہتمام کرنا، اس پر اصرار کرنا حتی کہ اجتماعی دعا نہ کرنے والوں یا اس میں شرکت نہ کرنے والوں کو طعن وملامت کرنا؛ یہ سب بلادلیل اور ناجائز ہے جس سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کبھی اجتماعی کھانے کے موقع پر کسی وجہ سے ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرلی جائے تو اس میں فی نفسہٖ کوئی حرج بھی نہیں، اس شرط کے ساتھ کہ اس کو سنت یا لازم نہ سمجھا جائے، اس پر ایسی مداومت اور اصرار نہ کیا جائے جس کی وجہ سے اس کے سنت یا واجب ہونے کا گمان ہو اور اس کے ترک پر ملامت کیا جانے لگے، کیونکہ یہ شرعی حدود سے تجاوز کے زمرے میں آئے گا جس کا ناجائز ہونا واضح ہے۔ ☀️ سنن الترمذي: 2641- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بني إسرائيل حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بني إسرائيل تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً»، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي». ☀️ البدع لابن وضاح القرطبي: 11- حَدَّثَنَا أَسَدٌ قَالَ: أخبرنا أَبُو هِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: اتَّبِعُوا آثَارَنَا، وَلَا تَبْتَدِعُوا، فَقَدْ كُفِيتُمْ. (بَابُ مَا يَكُونُ بِدْعَةً) ☀️ مجمع بحار الأنوار في غرائب التنزيل ولطائف الأخبار: [جعل]: «لا يجعل أحدكم للشيطان شيئا من صلاته يرى أن لا ينصرف إلا عن يمينه»، فيه: من أصر على مندوب ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان منه الإضلال، فكيف بمن أصر على البدعة، فقد روي أن الله يحب أن تؤتى رخصه. ☀️ الدر المختار: وَسَجْدَةُ الشُّكْرِ: مُسْتَحَبَّةٌ بِهِ يُفْتَى، لَكِنَّهَا تُكْرَهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّ الْجَهَلَةَ يَعْتَقِدُونَهَا سُنَّةً أَوْ وَاجِبَةً وَكُلُّ مُبَاحٍ يُؤَدِّي إلَيْهِ فَمَكْرُوهٌ. ☀️ رد المحتار: (قَوْلُهُ: لَكِنَّهَا تُكْرَهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ) الضَّمِيرُ لِلسَّجْدَةِ مُطْلَقًا. قَالَ فِي «شَرْحِ الْمُنْيَةِ» آخِرَ الْكِتَابِ عَن «شَرْحِ الْقُدُورِيِّ» لِلزَّاهِدِيِّ: أَمَّا بِغَيْرِ سَبَبٍ فَلَيْسَ بِقُرْبَةٍ وَلَا مَكْرُوهٍ، وَمَا يُفْعَلُ عَقِيبَ الصَّلَاةِ فَمَكْرُوهٌ؛ لِأَنَّ الْجُهَّالَ يَعْتَقِدُونَهَا سُنَّةً أَوْ وَاجِبَةً، وَكُلُّ مُبَاحٍ يُؤَدِّي إلَيْهِ فَمَكْرُوهٌ، انْتَهَى. وَحَاصِلُهُ: أَنَّ مَا لَيْسَ لَهَا سَبَبٌ لَا تُكْرَهُ مَا لَمْ يُؤَدِّ فِعْلُهَا إلَى اعْتِقَادِ الْجَهَلَةِ سُنِّيَّتَهَا كَالَّتِي يَفْعَلُهَا بَعْضُ النَّاسِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ...... (قَوْلُهُ: فَمَكْرُوهٌ) الظَّاهِرُ أَنَّهَا تَحْرِيمِيَّةٌ؛ لِأَنَّهُ يُدْخِلُ فِي الدِّينِ مَا لَيْسَ مِنْهُ، ط. (مَطْلَبٌ فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ) ✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم فاضل جامعہ دار العلوم کراچی محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی 3 ذو الحجہ 1446ھ/ 31 مئی 2025

Comments